مقرر: ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد اسلام آباد
درس بعد نمازِ ظہر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ *رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
ایمان کی ستر سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں ان میں سب سے افضل شاخ لا الٰہ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے ادنیٰ شاخ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے اور حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔ حوالہ: صحیح بخاری و صحیح مسلم۔
ایمان صرف زبان سے کلمہ پڑھنے کا نام نہیں
ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب نے حدیثِ مبارکہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم قربان جائیں نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس پر، جنہوں نے ہمیں صرف زبانی طور پر تعلیمات نہیں دیں بلکہ اپنی پوری زندگی کے ذریعے ان تعلیمات پر عمل کرکے دکھایا۔یہ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل اور اعزاز ہے کہ اس نے ہمیں اپنے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا۔ آپ ﷺ کا مبارک نام سنتے ہی ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ دل میں محبت پیدا ہوتی ہے اور انسان کا دل چاہتا ہے کہ بار بار آپ ﷺ کا ذکر سنے اور آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجتا رہے۔حدیثِ مبارکہ ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ ایمان محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ اس کے بے شمار تقاضے اور شعبے ہیں۔ ایمان کا آغاز کلمۂ طیبہ سے ہوتا ہے۔ جب انسان کلمہ پڑھتا ہے تو وہ درحقیقت اپنے آپ کو اسلام کے تابع کرنے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کا عہد کرتا ہے۔
ایمان کی ادنیٰ شاخ بھی معمولی نہیں
نبی کریم ﷺ نے ایمان کی ایک شاخ یہ بیان فرمائی کہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دیا جائے۔بظاہر یہ ایک چھوٹا سا عمل محسوس ہوتا ہے لیکن اسلام کے نزدیک اس کی بڑی اہمیت ہے۔ راستے میں پڑا ہوا پتھر ہو کوئی کانٹا ہو یا ایسی چیز جس سے گزرنے والے انسان کو نقصان پہنچ سکتا ہو اسے راستے سے ہٹا دینا بھی ایمان کا حصہ ہے۔لیکن اس تعلیم کو صرف راستے میں پڑے ہوئے پتھر تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔مسلمان کا کردار ایسا ہونا چاہیے کہ اس کی ذات سے کسی دوسرے انسان کو تکلیف نہ پہنچے۔
مسلمان کو تکلیف پہنچانے سے بچنا بھی ایمان ہے
اگر کسی مسلمان بھائی کے ساتھ حسد کیا جائے اس کی غیبت کی جائے اس کی عزت کو نقصان پہنچایا جائے۔ اسے دوسروں کی نظروں میں گرانے کے لیے پروپیگنڈا کیا جائے یا اس کے خلاف ایسی باتیں پھیلائی جائیں جن کا مقصد اس کی تحقیر اور بدنامی ہو تو یہ بھی اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔اسی طرح اگر کوئی شخص نیکی کا راستہ اختیار کر رہا ہو اور کوئی دوسرا شخص نیکی کرنے والے کی حوصلہ شکنی کرے اسے اس راستے سے ہٹانے کے لیے سازشیں یا پروپیگنڈا کرے۔ جبکہ برائی کرنے والے کا حمایتی بن کر کھڑا ہو جائے تو یہ بھی ایک مسلمان کو تکلیف پہنچانے ہی کی صورت ہے۔اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہماری زبان، ہمارے ہاتھ، ہمارے رویے اور ہمارے معاملات سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔لہٰذا حدیث میں راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کا جو ذکر ہے اسے صرف مادی چیزوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔بلکہ ہر وہ عمل جس سے کسی انسان کو بلاوجہ اذیت، تکلیف، ذلت یا نقصان پہنچے، اس سے بچنا مسلمان کے ایمان کا تقاضا ہے۔
حیا ایمان کی ایک اہم شاخ
ڈاکٹر صاحب نے حدیث کے دوسرے اہم حصے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ
“حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔”
حیا ایک ایسی صفت ہے جس کا گہرا تعلق انسان کی روح اور کردار سے ہے۔ جس انسان کے اندر حیا باقی نہ رہے وہ بہت سی بھلائیوں سے محروم ہو جاتا ہے۔حیا انسان کے اندر ایک ایسی داخلی قوت پیدا کرتی ہے جو اسے برائی سے روکتی ہے اور اچھائی کی طرف لے جاتی ہے۔ جب انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور حیا موجود ہو تو وہ تنہائی میں بھی گناہ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ہر حال میں دیکھ رہا ہے۔
جب حیا ختم ہو جائے تو انسان جو چاہے کرتا ہے
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ
“جب تم میں حیا نہ رہے تو پھر جو چاہو کرو۔”
یہ حدیث انسان کو انتہائی خطرناک انجام سے آگاہ کرتی ہے۔ جب انسان کے اندر حیا ختم ہو جاتی ہے تو پھر اسے والدین کی نافرمانی کرتے ہوئے کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی۔ استاد کے ساتھ بدتمیزی کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی، عام لوگوں کے ساتھ بد اخلاقی کرنے، لڑائی جھگڑا اور فساد برپا کرنے یا برائیوں میں مبتلا ہونے سے بھی اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔حیا ختم ہونے کے بعد انسان کے اندر اچھائی اور برائی کی تمیز بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ پھر وہ ایسے کام کر گزرتا ہے جنہیں کبھی وہ خود بھی برا سمجھتا تھا۔ لیکن جب دل سے حیا کا احساس رخصت ہو جائے تو گناہ بھی معمولی محسوس ہونے لگتا ہے۔
معاشرے کے سنگین جرائم اور حیا کا فقدان
ڈاکٹر صاحب نے موجودہ معاشرتی حالات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ آئے روز غنڈہ گردی، قتل و غارت، معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی اور دیگر سنگین جرائم کے واقعات سامنے آتے ہیں۔یہ ایسے انسانوں کے برے اعمال ہیں جو شرم و حیا کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں اور انسان کا روپ اختیار کرکے ایسی سفاک حرکتیں کرتے ہیں جن کے ارتکاب کے بعد بھی ان کے اندر ندامت اور خوف باقی نہیں رہتا۔جب حیا دل سے نکل جائے تو انسان خواہشات اور شیطانی ترغیبات کے پیچھے چلنے لگتا ہے اور اسے اس بات کی پروا نہیں رہتی کہ اس کے عمل سے کسی کی عزت، جان، مال یا زندگی تباہ ہو رہی ہے۔اسی لیے معاشرے کی اصلاح کے لیے صرف قوانین کافی نہیں بلکہ دلوں میں ایمان، اللہ کا خوف، آخرت کا یقین اور حیا پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔
سیرتِ نبوی ﷺ ہی ہماری حقیقی رہنمائی ہے
ڈاکٹر صاحب نے زور دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر ہم نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو پڑھیں۔ انہیں سمجھیں اور اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں تو ہماری زندگیوں میں حقیقی تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی فرمائی۔ آپ ﷺ کی سیرت ہمارے لیے محض تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم آپ ﷺ کی تعلیمات کو سیکھیں، اپنے اخلاق درست کریں، اپنی زبان کو دوسروں کی عزت کے لیے استعمال کریں، کسی کو تکلیف نہ دیں، برائی سے بچیں۔ حیا کو اپنائیں اور اپنے کردار کو سنتِ نبوی ﷺکے مطابق ڈھالیں۔
مسلمان کی پہچان اس کا کردار ہے
ایک حقیقی مسلمان کی شان یہ ہونی چاہیے کہ اس کے کردار، اخلاق، معاملات اور برتاؤ سے سیرتِ رسول ﷺ کی خوشبو محسوس ہو۔اس کا اخلاق ایسا ہو کہ جو شخص اسلامی تعلیمات سے دور ہے وہ اس مسلمان کے کردار کو دیکھ کر اسلام کی خوبصورتی محسوس کرے اور نیکی کی طرف آنے پر آمادہ ہو۔مسلمان کی زبان سے دوسروں کو امن ملے، اس کے ہاتھ سے کسی کو نقصان نہ پہنچے، اس کے معاملات میں دیانت ہو۔اس کے دل میں دوسروں کے لیے خیر خواہی ہو اور اس کے کردار میں حیا، عاجزی، شرافت اور پاکیزگی نمایاں ہو۔یہی وہ عملی نمونہ ہے جس کے ذریعے ہم نبی کریم ﷺ کی سیرت کو اپنی زندگی میں زندہ کر سکتے ہیں۔
دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ
اگر ہم نبی کریم ﷺ کی سیرت کو سمجھیں اسے اپنائیں اور اپنی زندگیوں کو آپ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں۔ تو اس دنیا میں بھی ہمیں سعادت، سکون اور خوشحالی والی زندگی نصیب ہو سکتی ہے اور آخرت میں بھی کامیابی حاصل ہوگی۔ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہمارا ہر عمل اس بات کی گواہی دے کہ ہم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت سے ہیں۔ ہمارے اخلاق، ہماری گفتگو، ہمارے معاملات، ہماری حیا اور دوسروں کے ساتھ ہمارا برتاؤ سیرتِ نبوی ﷺ کی عملی تصویر بن جائے۔
دعا
اے اللہ! ہمیں اپنے پیارے محبوب، حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرت کو صحیح معنوں میں سمجھنے، اسے اپنی زندگیوں میں اپنانے، دوسروں تک پہنچانے اور اس کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی توفیق عطا فرما۔اے اللہ! ہمارے دلوں میں ایمان کی محبت، نبی کریم ﷺ کی محبت، حیا، تقویٰ، اخلاص اور حسنِ اخلاق پیدا فرما۔ ہمیں اپنی زبان اور ہاتھ سے دوسروں کو تکلیف پہنچانے سے محفوظ فرما۔ ہمارے معاشرے کو ہر قسم کے ظلم، زیادتی، بے حیائی، قتل و غارت اور فساد سے محفوظ فرما۔ اے اللہ! ہمیں دنیا میں سعادت و کامیابی عطا فرما اور آخرت میں اپنے محبوب نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب فرما۔
آمین یا رب العالمین۔



تبصرہ لکھیے