ہوم << خالق ارض و سموات اور حفاظتِ قرآن – عبدالسلام فیصل
600x314

خالق ارض و سموات اور حفاظتِ قرآن – عبدالسلام فیصل

حفاظت قرآن پر میری تحریر پر ایک ملحد اعتراض کیا کہ
” اگر قرآن مجید آخری ، دائمی و حتمی کتاب الٰہی ہے ، تو اس کو انسانوں تک لانے کے لئے 1 لاکھ 24 ہزار انبیاء کو بھیجنے کی کیا ضرورت تھی؟ اللہ سیدنا آدم علیہ السلام کو ہی عطا کر دیتے تاکہ وقت اور انسانوں کا اتنا ضیائع ہی نہ ہوتا؟”

جواب عرض ہے :
خالق کے افعال کو مخلوق کے افعال پر ( قیاس خالق علی المخلوق ) قیاس نہیں کیا جا سکتا ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات رب العالمین ہے ، وہ بے نیاز ہے ۔ وہ کسی کمپنی یا کارپوریٹ سیکٹر کے سی ای او یا مینیجر کا طرح نہیں معاذ اللہ کہ جس سے پراڈکٹ لانچنگ میں تاخیر پر ہائیر اتھارٹیز اس سے جواب طلب کریں گی یا اس کا احتساب کریں گی ۔ وہ بذات خود سب سے بڑی اتھارٹی ہے ۔ دنیا کی تمام اتھارٹیاں اس کے سامنے جوابدہ ہیں ۔ سو یہ قیاس بھی قیاس فاسد ہی ہے ۔ وہ” خالق کل شئی” ہے ، مخلوق کا اپنے خالق پر ایسا قیاس فاس قائم کرنا کئی پہلوئوں سے مضحکہ خیز ، توھین آمیر اور جہالت پر مبنی ہے ؟

مثلا پہلے تو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ کیا 1 لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی تعداد والی حدیث صحیح ترین ہے ؟ جبکہ اس کی سند پر محدثین کا اختلاف ہے اور اس کو بعض نے ضعیف بھی کہا ہے ، لیکن اگر بالفرض اس کو درست مان بھی لیا جائے ۔ تو یہ کیسے ثابت ہو گا کہ یہ اعداد معاذ اللہ اللہ کی ناکام کوششوں کی فہرست ہے ؟
بلکہ یہ تو وسعت الٰہی کی بہت بڑی دلیل ہے کہ اس نے ہر قوم کو بغیر خبر دار کئے نہیں چھوڑا ۔ سوال تو یہ ہے کہ اگر کوئی استاد ، 30 برس تک ، ہر سال نیا پیج پڑھائے (اس بنیاد پر کہ تعلیمی نظام میں ہر سال نصاب میں کچھ تبدیلیاں آتی ہیں ؟) تو کیا اس استاد کو ” ناکام استاد ” کہا جائے گا ؟

ایک اور پہلو تو یہ تھا کہ انبیاء کرام کا کام دعوت و تبلیغ تھا ، لوگوں کو جبرا مومن بنانا نہیں ، کیونکہ ایمان کی بنیاد ہی اختیار اور آزمائش پر ہے۔ ہر نبی اپنے مقصد میں کامیاب رہا ، چاہے اس کی قوم نے دعوت کو قبول کیا یا نہیں کیا ، ملحد کا “ناکامی” کا معیار دراصل اس مفروضے پر مبنی ہے کہ نبوت کا مقصد جبری اجتماعی قبولیت تھا، جو خود اسلامی تصورِ نبوت کے خلاف ہے ، یعنی وہ اعتراض کر رہا ہے ایک ایسی چیز پر جو کبھی دعویٰ ہی نہیں کی گئی۔

ایک اصول کو سمجھنا یوں بھی ضروری ہے کہ تدریج کبھی بھی نقص نہیں ہوا کرتا ، اگر ایسا ہوتا تو قرآن مجید میں حرمت شراب ، نماز کی فرضیت جیسے احکامات مرحلہ وار کیوں نازل ہوتے ؟ الا یہ کہ قرآن میں رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان کو شرط بنا دیا گیا . اور اب قرآن کے بعد کوئی نئی شریعت ، نیا قانون ، نئی وحی نازل نہ ہو گی ۔ یہ خود اسلام کا اصول ہے کہ حکمت کا تقاضا بتدریج تربیت ہے، یکبارگی نہیں۔ سو جو اصول خود قرآن میں موجود ہے اس پر اعتراض کرنا گویا اپنے ہی سوال کے جواب سے لاعلمی کا اعلان ہے اور جہالت کا مظاہرہ ہے ۔

اللہ کریم نے قرآن مجید کے تحفظ کے لئے ، تہذیبی ، لسانی اور مواصلاتی تیاری کروائی تاکہ انسانوں کی ایک بڑی تعداد حتمی قانون الٰہی سے مستفید ہو سکے ۔ آخری، دائمی اور محفوظ کتاب کے لیے ایسی زبان، ایسا حافظہ کا نظام (حفظ کی روایت)، اور ایسی عالمی رابطہ کاری (تجارتی راستے، لکھائی کا وسیع رواج) درکار تھی جو اسے قیامت تک محفوظ رکھ سکے۔ ساتویں صدی عیسوی میں عرب، روم اور فارس کے درمیان تجارتی و ثقافتی رابطے، لکھائی کا فروغ، اور عربی زبان کی بلاغت کی معراج ، یہ سب وہ سازگار ماحول تھا جو پیغام کی حفاظت اور نشرواشاعت کے لیے موزوں تھا۔ کیا ملحد صاحب چاہتے تھے کہ قرآن پتھر کے زمانے میں نازل ہو جسے پڑھنے والا کوئی خواندہ شخص ہی میسر نہ ہو؟

سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ ” محدود عقل کبھی بھی لا محدود حکمت و دانائی ” پر فیصلہ نہیں کر سکتی ۔ ملحد صاحب سے اگر پوچھا جائے کہ ان کے موبائل کی سوفٹ وئیر اپ ڈیٹ کا حتمی علم انہیں کیوں نہیں ہوتا تو وہ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں ، جواب نہیں دے پاتے ، اور بات کرتے ہیں اذلی و ابدی منصوبہ الٰہی پر . دنیا کا مقصد “زیادہ سے زیادہ پیداوار کم سے کم وقت میں” نہیں بلکہ آزمائش ہے ، سورۃ الملک کی آیت ۲ کا مفہوم: جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے عمل میں کون بہتر ہے۔ ملحد نے مابعدالطبیعات کو کارپوریٹ کارکردگی رپورٹ سمجھ لیا ہے، حالانکہ یہاں سوال کارکردگی کے اعداد کا نہیں، امتحان کی حکمت کا ہے۔

ایک منطقی جہالت
اگر دیکھا جائے تو ، ایک طرف کہا جا رہا ہے “پہلے ہی کیوں نہ بھیج دیا”، دوسری طرف اعتراض ہے “تیاری، یعنی متعدد انبیاء کی بعثت، کیوں ناکام رہی”۔ یہ دونوں مطالبات ایک ساتھ ناقابلِ جمع ہیں ، اگر تیاری درکار تھی تو فوری ارسال کا مطالبہ باطل، اور اگر فوری ارسال ممکن تھا تو تیاری پر اعتراض بےمعنی۔ منطقیوں اور ملحدین کے سوالات اکثر ایسی جھوٹی دو راہیں کھڑی کرتے ہیں جن کا حقیقت سے تعلق نہیں ہوتا۔ سوائے دماغوں میں انتشار و تشکیک پیدا کرنے کے ۔

“پیشگی نہ جاننا” کا تصور اللہ پر لاگو ہی نہیں ہوتا
سوال کا آخری حصہ، یعنی کیا اللہ اپنی کاوشوں کے نتائج پیشگی جاننے سے قاصر تھا، دراصل کھلا مغالطہ ہے، کیونکہ یہ اللہ کی صفتِ علمِ محیط کے منافی سوچ ہے۔ اللہ کا علم ازلی، ابدی اور کامل ہے، اس پر آزمائش و خطا کے تصور کا اطلاق کرنا ویسے ہی باطل ہے جیسے سورج پر تاریکی کا الزام لگانا۔ متعدد انبیاء کا بھیجا جانا “ناکام تجربات” نہیں بلکہ ایک از قبل طے شدہ، حکمت پر مبنی تدریجی منصوبے کا حصہ تھا ، بالکل جیسے ایک ماہر معمار پہلے سے مکمل نقشہ رکھتے ہوئے بھی عمارت مرحلہ وار تعمیر کرتا ہے، اسے “ناکام معمار” نہیں کہا جاتا۔

ملحد صاحب نے یہ سوال ایسے فخر سے پیش کیا گویا وہ کولمبس بن کر کوئی نیا فکری براعظم دریافت کر رہے ہوں۔ حالانکہ یہ براعظم صدیوں پہلے ہی امام ابن تیمیہ کے علمی نقشے میں دریافت شدہ اور مسمار شدہ پڑا ہے۔ یہی سوال قدیم دہریوں اور معتزلہ کی صفوں سے اٹھتا رہا اور ہر بار عقل و نقل دونوں کے میزان پر تولا اور رد کیا گیا۔ ملحد صاحب کی “نئی دریافت” دراصل سات سو سالہ باسی مغالطے کو نئی پیکنگ میں فروخت کرنے کی کوشش ہے۔

ایک عام سادہ انداز کی مثال سے اس سوال کا جواب اختتام کرتا ہوں ، سوال یہ ہے کہ اگر ملحد صاحب کے ہاں بیٹا یا بیٹی پیدا ہو ؟ تو کیا اس کی پیدائش کے فوری بعد ہی اس کو کسی بھی یونیورسٹی کی پی ایچ ڈی ڈگری الاٹ کر دی جائے ، یعنی نومولود بچہ ، جس نے ابھی غوں غاں کرنا بھی ٹھیک سے نہیں سیکھا اس کو ایک علم کا ماہر بنا کر پیش کر دیا جائے ، جب دنیاوی علوم میں ایسی مثال دینا حماقت ہے تو ، آدم علیہ السلام کی پیدائش کے فوری بعد ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ماسٹر پلان جو انہوں نے خلقت جن و انس کے لئے ترتیب دیا پکڑا دیا جائے ، تو آزمائش و ابتلاء کے فلسفہ ، جنت و جہنم ، سزا و جزاء کے سارے پیمانے ، سارے نظریئے دم توڑ جاتے ۔ بحرحال میں نے ایسا معجزہ نہیں دیکھا کہ کوئی نومولود بچہ ، پی ایچ ڈی اسکالر ہو اور وہ دنیا کی کسی عظیم یونیورسٹی میں پروفیسر ہو اور لوگوں کو ایک خاص علم میں مہارت سیکھا رہا ہو ؟؟

مجموعی طور پر یہ اعتراض ایک ایسی عمارت ہے جس کی بنیاد میں پانچ سے زائد سقم ہیں: غلط قیاس یعنی خالق کو مخلوق پر ناپنا، غلط مفروضہ یعنی “کامیابی” کا غلط معیار، خود تضاد یعنی دو متضاد مطالبات، صفتِ علم کا انکار، اور تاریخی و منطقی مغالطوں کا اعادہ۔ حقیقتاً جو “ذلت” اس اعتراض میں تلاش کی جا رہی ہے وہ انسانیت کی نہیں بلکہ اس عقل کی ہے جو خالقِ کائنات کو اپنے تنگ نظر، وقتی اور محدود پیمانوں میں تولنے کی جسارت کر بیٹھی ، اور بقول امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ، جب عقلِ محض نقلِ صحیح اور حکمتِ الٰہی کے مقابل آ کھڑی ہو تو غلطی ہمیشہ عقل کے محدود ہونے میں ہوتی ہے، نہ کہ حکمتِ الٰہی میں۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

عبدالسلام فیصل

حافظ عبدالسلام فیصل کا تعلق پہلوانوں کے شہر گوجرانوالہ سے ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات اور فلسفہ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ہفت روزہ اہلحدیث سے بطور لکھاری وابستہ ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ الحاد پر انھیں گہرا درک حاصل ہے، اس کے خلاف تحریر کے میدان میں سرگرم عمل ہیں۔

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment