ہوم << ‏‎جب میں رچرڈز دی لائن ہارٹ سے ملنے گیا – ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ
600x314

‏‎جب میں رچرڈز دی لائن ہارٹ سے ملنے گیا – ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ

رچرڈز شیر دل سے ہر وہ شخص واقف ہے جس نے یروشلم کی تاریخ پڑھی ہے جو صلاح الدین ایوبی کو جانتا ہے. اس مضمون میں آپ کو شیر دل کی زندگی کے وہ خفیہ گوشے ملیں گے جن سے بہت کم لوگ واقف ہیں . اس شخص کا فسانہ عجائب جو انگریزی نہیں جانتاتھا صرف فرنچ بولتاتھا ۔ فرنچ میں شاعری کرتاتھا ۔فرنچ ماں باپ کا بیٹا تھا ۔ فرانس میں پیدا ہوا، فرانس میں مرا، فرانس میں دفن ہے، لیکن انگریزوں کا ہیرو ہے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تیسری صلیبی جنگ کا انجام
امن معاہدہ، جب شیر دل ہار مان گیا
تیسری صلیبی جنگ اپنے انجام کو پہنچ رہی تھی ۔ رچرڈ اب چوہے اور بلی کے اس کھیل سے اکتا گیا تھا – اس کے حوصلے پست ہو چکے تھے اور بیت المقدس کی فتح اب اسے ناممکن نظر آنے لگی تھی۔ سلطان کی چالوں اور جنگی حکمت عملی نے بھی اسے بری طرح پریشان اور ذہنی طور پر منتشر کر دیا تھا.

اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھاکہ وہ اسکے ان چھاپہ مار دستوں کاکیاعلاج کرے جو “حملہ کرو اور بھاگو “ کی پالیسی کے تحت کسی آندھی کی طرح آتے اور بگولے کی طرح نقصان پہنچاکر غائب ہو جاتے ان کے یہ حملے دن رات جاری رہتے تھے ۔ رچرڈز کی اس صورت حال اور ذہنی پریشانی کا تمام ہی مورخئین اور خاص طور پر لین پول نے بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے ۔ چنانچہ اس نے سلطان کو صلح کا پیغام بھیج دیا۔ سلطان بھی جنگ کی طوالت سے پریشان تھا – لہٰذا دونوں نے سنجیدگی سے مذاکرات شروع کر دیے۔ سلطان کا بھائی العادل کئی بار اس سلسلے میں رچرڈ سے ملاقات کر چکا تھا – اور بڑی حد تک وہ دونوں دوست بھی بن چکے تھے –

بلکہ مؤرخین نے تو یہ بھی لکھا ہے کہ رچرڈ اپنی بیوہ بہن جون کی شادی العادل سے کرنے کی پیشکش بھی کر چکا تھا – مگر اس شرط کے ساتھ کہ اگر سلطان فلسطین کی ساری ساحلی پٹی اس کی بہن کو دینے کا وعدہ کرے تو وہ اس کے بدلے میں اس کی شادی العادل سے کر دے گا۔ دونوں فوجوں میں العادل اور جون کے معاشقے کی داستانیں بھی عام تھیں۔
ابن شداد نے لکھا ہے کہ سلطان نے اس تجویز پر العادل کی بازپرس بھی کی تھی اور اس رشتے سے انکار کر دیا تھا۔ گیارہ سو بانوے عیسوی کے آخری مذاکرات دونوں اطراف کے لیے بہت مشکل ثابت ہوئے – اس کی بڑی وجہ عسقلان تھی۔ رچرڈ عکہ اور جافا کے ساتھ ساتھ عسقلان کا کنٹرول بھی چاہتا تھا – اس کے بدلے میں وہ یروشلم سے دستبردار ہونے کو تیار تھا۔

اس نے دھمکی دی:
“اگر مجھے عسقلان نہ ملا تو وہ گیارہ سو بانوے عیسوی کا موسم سرما بھی عرب ساحلوں پر ہی گزارے گا۔”

لیکن سلطان بھی عسقلان کی فوجی اہمیت سے پوری طرح واقف تھا – اور کسی صورت میں عسقلان صلیبیوں کو دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس نے جواب میں رچرڈ کو لکھا:
“عسقلان تو تمہیں کبھی نہیں ملے گا – بے شک تم اگلے دس موسم سرما یہاں شوق سے گزارو – میں تمہاری میزبانی کروں گا۔”

بالآخر دو ستمبر گیارہ سو بانوے عیسوی کو جافا میں امن معاہدہ ہو گیا۔ سلطان نے ٹائر سے لے کر عکہ اور جافا تک کے سارے ساحلی علاقے پر صلیبیوں کا قبضہ تسلیم کر لیا – دوسری طرف رچرڈ یروشلم سے دستبردار ہو گیا۔ البتہ مسیحیوں کو بیت المقدس آنے اور مقدس مقامات کی زیارت کی کھلی اجازت دے دی گئی۔ عسقلان کو کسی کے کنٹرول میں نہیں رکھا گیا تھا بلکہ اسے مکمل طور پر تباہ و برباد کر دیا گیا – یوں پانچ ہزار سال پرانا عسقلان جو صدیوں سے اس خطے کا سب سے اہم فوجی مرکز رہا تھا ہمیشہ کے لیے تاریخ کے دھندلکوں میں کھو گیا۔ یہ ایک عارضی معاہدہ تھا جس کی مدت تین سال اور آٹھ ماہ تھی – اس مدت کے خاتمے کے بعد دونوں فریق ایک دوسرے پر آزادانہ فوجی کارروائیوں کے لیے آزاد تھے۔

٭ ٭ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭

دشمنی کے دوستانہ اصول :
الوداعی دھمکیاں، جب دشمنوں نے ایک دوسرے کو خط لکھے
ابن شداد نے لکھا ہے کہ ان مذاکرات کے دوران رچرڈ شدید بیمار تھا – اس نے سلطان سے کچھ پھل اور دوائیاں بھجوانے کا کہا تو سلطان نے نہ صرف دوائیاں اور پھل بھجوائے بلکہ اپنے طبیب کو بھی اس کے علاج کے لیے بھیجا۔
دشمنی کے اصول بھی ہوا کرتے تھے اس زمانے میں۔ اس دوستانہ فضا کے باوجود رچرڈ نے انگلینڈ لوٹتے وقت سلطان کو دھمکی بھجوائی کہ وہ لوٹ کر آئے گا اور یروشلم اس سے چھین لے گا۔

جواب میں سلطان نے اسے لکھ بھیجا:
“وہ اس کا انتظار کرے گا – یروشلم کسی اور کے حوالے کرنے کی بجائے اسے خوشی ہوگی اگر وہ اسے رچرڈ کے ہاتھوں ہار جائے۔”

دو دشمن ،جو ایک دوسرے کی عزت کرتے تھے – جو ایک دوسرے کو گھوڑے بھجواتے تھے اور بیماری میں طبیب بھیجتے تھے – لیکن میدان جنگ میں شیروں کی طرح لڑتے تھے۔ ایسی دشمنی آج کے زمانے میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔

٭ ٭ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہیرو سے زیرو :
رچرڈ کی گرفتاری ، جب ہیرو زیرو بن گیا
معاہدے کے بعد رچرڈ جافا سے عکہ چلا گیا اور وہاں سے بحری جہاز پر بیٹھ کر یورپ روانہ ہوا۔ یورپ میں اسے ایک شکست خوردہ بادشاہ کی حیثیت سے دیکھا گیا – کیونکہ وہ امن معاہدے پر دستخط کر کے خود اپنے ہاتھوں سے مقدس یروشلم سلطان ایوبی کے حوالے کر کے آیا تھا۔

ناراض ہو کر واپس جانے والے فرانس کے شہنشاہ فلپس دوم اور آسٹریا کے حکمران لیوپولڈ نے بھی اپنی خفت مٹانے اور فلسطین میں ہونے والی اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے اس کے خلاف خوب فضا بنائی تھی۔ رہی سہی کسر جافا کی پسپائی کے بعد واپس جانے والے فرنچ دستوں نے پوری کر دی تھی۔ وہ جو ہیرو بننے آیا تھا اب یورپ میں زیرو بن چکا تھا۔ اٹلی کے ایک جزیرے آقویلیا کے نزدیک اس کا بحری جہاز طوفان کی نذر ہو گیا تو وہ سڑک کے ذریعے یورپ سے گزرتا انگلینڈ کی طرف چلا – جہاں دسمبر گیارہ سو بانوے عیسوی میں ویانا کے نزدیک شہنشاہ لیوپولڈ نے اسے کونارڈ آف مونٹفریٹ کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

یہ وہی کونارڈ تھا جو گئی کے مقابلے میں سلطنت یروشلم کے تخت کا دعویدار تھا اور رچرڈ نے اس کی مخالفت کی تھی۔
گیارہ سو ترانوے عیسوی میں لیوپولڈ نے پوپ کی مداخلت پر اسے شہنشاہ روم ہنری چہارم کے حوالے کر دیا — جس نے اسے جرمنی کے ایک قلعے ٹریفلز میں قید کر دیا۔ جہاں اسے بڑے سخت اور مشکل حالات میں زنجیروں سے باندھ کر رکھا جاتا تھا۔اس قید کے دوران اس نے اپنوں کی بے وفائی اور طوطا چشمی پر کئی نظمیں لکھیں — اور اپنی بے بسی اور جیل کی تکلیفوں کا ذکر کیا ہے۔ زنجیروں کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے کہ یہ زنجیریں اتنی بھاری تھیں کہ ایک گھوڑا یا گدھا بھی ان کے بوجھ تلے چلنے سے قاصر ہوتا۔

٭ ٭ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ماں کی محبت جس نے جیل کی دیواریں توڑ دیں :
مامتا کی محبت ، جب ملکہ الینور نے بیٹے کو چھڑایا
اس کی ماں ملکہ الینور نے پوپ اور شہنشاہ ہنری سے اس کی رہائی کے لیے درخواست کی – جس پر ہنری نے ڈیڑھ لاکھ مارک یعنی ایک لاکھ چاندی کے پاؤنڈ اس کی رہائی کے عوض مانگے۔ یہ وہی رقم تھی جو اس نے فلسطین جانے سے پہلے “صلاح الدین ٹیکس” کے نام سے اپنی عوام سے اکٹھی کی تھی –

ستم ظریفی دیکھیے کہ صلاح الدین کے نام پر جمع ہونے والی رقم اب رچرڈ کی اپنی رہائی پر خرچ ہو رہی تھی۔ میڈن نے ولیم آف نیو برگ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ اتنی بڑی رقم تھی جو انگلینڈ کی سالانہ آمدنی سے تین گنا زیادہ تھی۔ اس کی ماں الینور نے یہ رقم اکٹھی کرنے کے لیے دن رات ایک کر دیے – انگلینڈ کے عوام پر ٹیکس لگایا گیا، چرچوں اور کلیسائوں کی قیمتی اشیاء فروخت کی گئیں، ملکہ الینور نے اپنے گہنے اور زیورات بھی فروخت کر دیے۔یوں یہ رقم اکٹھی ہوئی اور چار فروری گیارہ سو چورانوے عیسوی کو اپنی ماں کی ان تھک کوششوں سے اسے رہائی ملی۔

ولیم آف نیو برگ نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس دوران اس کے بھائی شہنشاہ جان اور فرانس کے بادشاہ فلپس نے ہنری کو اسی ہزار پاؤنڈ کی پیشکش اس لیے کی تھی کہ اسے نہ چھوڑا جائے – جس پر پہلے تو وہ رضامند ہو گیا لیکن جب رچرڈ کی ماں نے ایک لاکھ پاؤنڈ دینے کی حامی بھری تو وہ اپنے وعدے سے مکر گیا۔ پرسر نے بیان کیا ہے کہ اس کی رہائی پر فلپس نے اس کے بھائی جان کو پیغام بھیجا کہ

“اپنی خیر منا ، شیطان آزاد ہو گیا ہے۔”

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شیردل کی موت
شیردل کی موت، جب ایک پندرہ سالہ لڑکے نے شیر مار دیا
جب وہ انگلینڈ پہنچا تو اس نے اپنے بھائی جان کو معاف کر دیا۔ اس کی گرفتاری کی خفت مٹانے کے لیے ونچسٹر میں گیارہ مارچ گیارہ سو چورانوے عیسوی کو دوبارہ اس کی تاجپوشی کی گئی۔فلوری نے اس کی زندگی کی آخری مہم کے بارے میں بڑی تفصیل دی ہے –

چھبیس مارچ گیارہ سو ننانوے عیسوی کو جب وہ مغربی فرانس کے ایک شہر شالو میں ایک فوجی مہم پر تھا تو ایک پندرہ سالہ لڑکے نے اپنے بھائی اور باپ کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے کراس بو کے ذریعے اس پر حملہ کیا جس میں وہ زخمی ہو گیا – بعد میں زخم بگڑنے کی وجہ سے چھبیس اپریل گیارہ سو ننانوے عیسوی کو اس نے اکتالیس سال کی عمر میں اپنی ماں کی بانہوں میں دم توڑ دیا۔ اس کی آنتوں اور دوسرے اجزاء کو شالو میں دفن کیا گیا جبکہ دل نارمنڈی میں دفن ہے –

اس کی ماں اس کی میت کو لے کر مغربی فرانس کے قصبے فونتوغا ایبے پہنچی اور اسے اس کے باپ شہنشاہ ہنری دوم کے پہلو میں دفن کر دیا۔ اس کی اس طرح ایک نامعلوم چھوٹے لڑکے کے ہاتھوں موت پر انگریزی میں یہ کہاوت مشہور ہوئی کہ “شیر کو چیونٹی نے مار ڈالا۔” لیکن سٹیون رینسمین نے لکھا ہے کہ جب اسے ہوش آیاتو اس نے اس ننھے لڑکے کو معاف کر دیا ۔

ملکہ الینور کو اپنے بیٹے رچرڈر سے اتنی محبت تھی کہ گیارہ سو تہتر میں جب نوجوان رچرڈز نے اپنے بات ہنری دوئم کے خلاف بغاوت کی تو اس نے خاوند کے خلاف اپنے بیٹے کا ساتھ دیا جس پر ہنری نے اسے قید میں ڈال دیا تھا جہاں سے اسے رہائی اس وقت ملی جب گیارہ سو اننانوے میں ہنری کے مرنے بعد رچرڈز انگلینڈ کے تخت پر بیٹھا ۔
تیسری صلیبی جنگ کے دوران رچرڈز کی لمبی غیر حاضری کے دوران اسی نے انگلینڈ اور فرانس میں رچرڈ کے اقتدار کی حفاظت کی تھی ۔ رچرڈ کا صرف ایک ناجائز لڑکا تھا جو کسی نامعلوم عورت کے بطن سے تھا لہذا اس کے مرنے کے بعد اس بھائی جان انگلینڈ کے تخت پر بیٹھا ۔

٭ ٭ ٭
جب میں رچرڈ شیر دل سے ملنے گیا :
فروری دو ہزار پچیس عیسوی میں جب میرا یونیسکو کی میٹنگ میں شرکت کے لیے فرانس جانا ہوا تو میں جنگ ٹورز کے مقام کو دیکھنے کے لیے پوئتیے گیا – جہاں دس اکتوبر سات سو اکتیس عیسوی کو فرانس کے بادشاہ چارلس مارٹیل اور اندلس کے گورنر عبدالرحمن الغافقی کے درمیان ایک فیصلہ کن جنگ ہوئی تھی جس نے یورپ کے مستقبل کا فیصلہ کیا تھا –

پوئتیے واپس آتے ہوئے میرے ٹیکسی ڈرائیور نے بتایا کہ ورلڈ ہیریٹیج لسٹ میں شامل، فونتوغا ایبے یہاں سے صرف پچاس کلومیٹر دور ہے جہاں رچرڈز ۔ دی لائن ہاٹ اپنے والد ہنری دوم، اور ماں طاقتور ملکہ ایلینور اپنی بھابھی اور شہنشاہ جان کی بیوی ازابیلا آف اینگولیم ۔ بہن جوآن آف انگلینڈ اور بھانجے اور جوآن کے بیٹے ریمنڈ ہفتم کے ہمراہ دفن ہے۔ اور یہ سارا علاقہ بارہویں صدی عیسوی میں رچرڈ کی ملکیت تھا جو اسے اپنی ماں الینور سے وراثت میں ملا تھا – تو میں اپنے آپ کو وہاں جانے سے نہ روک سکا۔ اور میں نے اپنے ٹیکسی ڈرائیور گبرئیل سے درخواست کی کہ مجھے فونتوغا ایبے لے چلے

میں اس شخص کو دیکھنا چاہتا تھا – جو انگریزی نہیں جانتاتھا صرف فرنچ بولتاتھا ۔ فرنچ میں شاعری کرتاتھا ۔فرنچ ماں باپ کا بیٹا تھا ۔ فرانس میں پیدا ہوا ۔ فرانس میں مرا ۔ فرانس میں دفن ہے ۔ لیکن انگریزوں کا ہیرو ہے ۔ جو تیسری صلیبی جنگ کے دوران صلاح الدین ایوبی کا سخت ترین حریف ثابت ہوا ۔ جس کی مزاحمت نے ایوبی کامیابیوں کو دھندلا دیا تھا ۔ ایوبی کے ساتھ جس کی چپقلش آج مسلمان اور عیسائی تاریخ دانوں کے لیے سب سے رومانوی داستان اختیار کر چکی ہے۔ ساٹھ سالہ گبرئیل ایک بڑا خوش مزاج فرانسیسی تھا اسے پہلے ہی میرے مشاغل کا اندازہ ہو چکا تھا اس نے حامی بھر لی اور ٹیکسی کا رخ فونتوغا کی طرف موڑ لیا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

فونتوغا ایبے ، ایک خوبصورت ترین قصبہ :
جو چرچ بھی تھا شاہی قبرستان بنا پھر جدید آرٹ کا میو زیم بن گیا :
فونتوغا ایبے چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کے دامن میں بسا ۔ دریائے لوار اور دریائے ویئن کے سنگم کے قریب واقع ایک چھوٹا سا لیکن بہت خوبصورت گاؤں ، جسے فرانس کا خوبصورت ترین گاؤں ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ اس کی آبادی پندرہ سو کے قریب ہے ۔

ہماری ٹیکسی اس کی خوبصورت اور دلکش گلیوں میں داخل ہوئی تو مجھے لگا جیسے میں جنت کی کسی بستی میں آگیا ہوں . سارا گاؤں سفید مقامی پتھروں سے بنا تھا جسے ٹفّو کہتے ہیں ۔ صاف نیلے آسمان کی چھت تلے دھوپ میں چمکتے ٹفو سے بنے مکانوں کے درودیوار ۔ ایک جیسا یکساں اور پُرسکون ماحول ، کہیں کہیں ٹہلتا ہوا کوئی راہگیر ۔۔ سر سبز دورویہ درختوں سے سجی صاف ستھری گلیاں ۔ ایک جیسے دو منزلہ مکانوں کی بالکونیوں اور کھڑکیوں میں سجے سرخ گلاب اور نیچے لٹکتی۔ رنگ برنگے پھولوں سے لدی بوگن بولیا کی بیلیں ایک عجیب اور دلفریب بہار کا منظر پیش کرتی تھیں ۔ جیسے یہ گاؤں نہ ہو کسی بہت ماہر مصور کی بنائی پینٹگ ہو جس نے فطرت کے سارے رنگ اس میں بھر دیئے تھے ۔

چھوٹے چھوٹے گرجا گھر ، مکانوں کی چمنیوں سے اٹھتا دھواں، پرانی خانقاہوں کے گھنڈرات، سفید دیواروں کے پیچھے سے جھانکتے سیب آلو بخارے سے لدے باغات فضا میں چھایا عجیب طرح کا سکوت اور خاموشی ۔ ہر طرف پھیلی قدیم تاریخ کا احساس ، لگتا تھا جیسے پھولوں بھری یہ گلیاں رازوں سے بھری ہوں ۔ ہر گلی ، ہر عمارت ، ان میں چھائی خاموشی اس گاؤں کی تاریخی داستان پیش کر رہی تھیں ۔ میں مسحور سا اس طلسم ہوش ربا اس جادونگری کو دیکھتا رہا ۔ مجھے اس طرح محو پا کر میرا ٹیکسی ڈرائیور گبرئیل مسکرایا اور اپنے مخصوص فرانسیسی لہجے میں بولا ۔

بیوٹی فل، از اینٹ
“ہاں گبرئیل میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ رچرڈز شیر دل اتنی خوبصورت جگہ اپنی آخری نیند سو رہا ہے ۔”
میں نے خوابناک انداز میں جواب دیا ۔ یہ ساری ایکویٹائن ریاست رچرڈز کی ماں ملکہ ایلینور کی تھی جو شادی کے بعد اس کے باپ ہنری دوئم کو جہیز میں ملی اور اس طرح وہ انگلستان کے ساتھ ساتھ آدھے فرانس کا بھی مالک بن گیا ۔ تاریخ میں اسے اینگوئین ایمپائر کہتے ہیں ۔ “

گبرئیل نے کہا ۔ ادھیڑ عمر گبرئیل سکول ٹیچر تھا اور ریٹائرمنٹ کے بعد ٹیکسی ڈرائیور اور ٹورسٹ گائیڈ بن گیا تھا اس لئے تاریخ سے خوب واقف معلوم ہوتا تھا . مجھے اس کی بات کچھ عجیب سی لگی ۔
“تو کیا فرانس بھی انگلستان کا حصہ رہا ہے “

ہاں اس نے کہا
“ رچرڈز شیر دل کا خاندان پلانٹیجنیٹ کہلاتا تھا جس کا بانی اس کا دادا جیفری فرانس کے علاقے انجو کا کاؤنٹ تھا ۔
اس وقت فرانس چار بڑی خودمختار ریاستوں نارمنڈی ۔۔ انجو ۔۔ برٹنی اور ایکویٹائن میں بٹا ہوا تھا ۔ جیفری کی بیوی اور ہنری کی ماں ملکہ مٹلڈا انگلستان کے بادشاہ ہنری اول کی بیٹی تھی ۔ ہنری کا کوئی اولاد نرینہ نہیں تھی لہذا ہنری دوئم کو انگلستان ماں کی طرف سے وراثت میں اور فرانس کی ریاست ایکویٹائن بیوی کی طرف سے جہیز میں ملی ۔ باپ کے مرنے کے بعد وہ اینجو کا حکمران بھی بن گیا ۔ یوں وہ انگلستان اور فرانس کا مشترکہ تاج حاصل کر کے پہلا پلانٹیجنیٹ بادشاہ بنا ۔

وہ فرانس میں پیدا ہوا، فرنچ بولتا تھا، فرانس میں رہتا تھا، اور فرانس میں دفن ہوا – لیکن قانونی طور پر وہ انگلستان کا بھی بادشاہ تھا۔ اور فرانس کا بھی ۔ اس خاندان نے انگلستان پر گیارہ سو چوون سے چودہ سو پچاسی تک تین سو سال تک حکومت کی۔ یہ یورپی تاریخ کے سب سے طاقتور اور متنازع خاندانوں میں سے ایک ہے۔
اور ملکہ ایلینور کی یہی جائداد اور ملکیت بعد میں فرانس اور انگلینڈ کے درمیان سو سالہ جنگ کی بنیاد بنی ۔
“ایبے کاکیا مطلب ہے “، میں نے پوچھا

“ایبے فرنچ میں خانقاہ کو کہتے ہیں ۔ ایسی درسگاہ جہاں عیسائی راہب رہتے ہوں “
“بارہویں صدی عیسوی میں یہاں فرنچ راہبوں اور راہبات کی ایک بہت بڑی مخلوط خانقاہ ہوا کرتی تھی ۔ یہ قصبہ ایبے کے ارد گرد بستیاں آباد ہونے سے وجود میں آیا۔” اس نے گاڑی ایک گلی میں موڑتے ہوئے کہا ۔
“یہ فونتوغا ایبے کی مین سڑیٹ ہے ۔ “

پھولوں سے لدی اس گلی میں کچھ ہلچل نظر آ رہی تھی ۔ دورویہ سڑک کے درمیان میں بلند و بالا درختوں کے نیچے بچھی گھاس پر بینچ پڑے تھے جن پر لوگ بیٹھے تھے ۔ گلی کے دونوں اطراف انواع واقسام کی دکانیں کھلی تھیں ۔ یہ گلی نہیں تھی رنگوں کی بہار تھی جس میں ہر طرف رنگ بکھرے تھے ۔ سیاحوں کی ایک بڑی تعداد بھی ان رنگوں کا موجب تھی ۔جن کے رنگ بھرنگے کپڑے اور رنگت کناروں پر لگے پھولوں سے ہم رنگ ہو کر گلی کی خوبصورتی کو دو آتشہ کر رہے تھے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تاریخ کے تین ادوار
“یہ چھوٹاسا انتہائی خوبصوت یہ گاؤں تاریخ کے تین ادوار سے گزرا ہے جس نے اسے فرانس کا سب سے منفرد اور اہم قصبہ بنا دیاہے”

اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا
“گیارہ سو عیسوی سے سترہ سو بانوے عیسوی تک قصبہ راہبوں کی اس خانقاہ کے گرد گھومتا تھا۔ یہ ایبے نہ صرف یورپ کی سب سے بڑی خانقاہی بستیوں میں سے ایک تھی، بلکہ یہ پلانٹیجنیٹ خاندان کا روحانی مرکز اور تدفین کی جگہ بھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج رچرڈ شیر دل، اس کا والد ہنری دوم، اور والدہ ایلینور آف ایکویٹائن کے مجسمے اور قبریں یہاں موجود ہیں ۔

پھر فرانسیسی انقلاب کے بعد اٹھارہ سو چار میں نپولین بوناپارٹ نے ایبے کی عظیم الشان عمارت کو ایک مرکزی جیل میں تبدیل کر دیا جو اگلے ڈیرھ سو سال تک قائم رہی یہ فرانس کی سب سے مشہور اور مضبوط ترین جیل تھی جس میں دو ہزار تک قیدی رکھے جا سکتے تھے. انیس سو تریسٹھ میں جیل کے بند ہونے کے بعد یہاں ایک عظیم بحالی کا کام شروع ہوا۔ انیس سو پچھتر سے یہ ایبے ایک ثقافتی مرکز میں تبدیل ہو گئی ۔ آج سیاحوں کو یہاں نہ صرف قرون وسطیٰ کی تاریخ سے واسطہ پڑتا ہے ۔ بلکہ عصرحاضر کے جدید آرٹ کے میوزیم میں آٹھ سو سے زائد فن پارے بھی دیکھ سکتے ہیں ۔”

یہاں کی گلیاں تاریخی پتھروں سختی پھولوں کی خوبصورتی اور خاموشی کی کہانی بیان کرتی تھیں اور گبرئیل مجھے فونتوغا کی تاریخ سنا کر ایبے کے شان و شوکت کے لیے تیار کر رہاتھا ۔اس کی اسی گفتگو کے درمیان ہم گاؤں کی پھولوں اور رنگوں سے لدی خوبصورت گلیوں سے گزرتی سر سبز اور اونچے قدیم درختوں سے گھری ایک انتہائی عظیم الشان قلعۂ نما بہت بڑی عمارت کے سامنے پہنچ گئے ۔ یہ عمارت کسی لحاظ سے بھی گرجا یا چرچ نہیں لگتی تھی ۔ بستی کی دیگر عمارتوں کی طرح یہ بھی مقامی پتھر ٹفو سے بنی تھی جو ڈھلتے سورج کی روشنی میں سنہری اور سفید چمک پیدا کر رہا تھا.

اس کے سامنے ایبے کا دو میناروں والا انتہائی اونچا اور شاندار رومن اور گوتھک طرز کا مرکزی چرچ ہے جس کے پیچھے عمارات کا ایک سلسلہ پھیلا ہوا نظر آتا تھا ۔ مجھے ایبے کے مرکزی چرچ پر اتار تے ہوئے گبرئیل نے کہا ۔
“ ایبے کا کل رقبہ پنتیس ایکڑ ہے اور یہ یورپ کا سب سے بڑا عبادت خانہ ہے اس میں کئی باغ اور پانچ مرکزی عمارتیں ہیں جن میں سے اکٹر جیل خانے کے طور پر استعمال ہوتی رہیں ۔
ڈاکٹر میں تمہارے ساتھ اندر نہیں جاؤں گا یہاں قریب ہی میری خالہ رہتی ہے میں سوچ رہا ہوں کہ یہاں آیا ہوں تو اسے مل لوں تم جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے کال کر لینا ۔ لیکن زیادہ دیر نہ لگانا ہمیں واپس پوئیٹے بھی پہنچنا ہے ۔”

گبرئیل نے مجھے اپنا فون نمبر دیا اور رخصت ہو گیا ۔میں اکیلا ہی چرچ کے بلند وبالا گیٹ کی طرف بڑھ گیا یہاں خوب رونق تھی سیاحوں کی بڑی تعداد تاریخ کے اس انوکھے باب کو پڑھنے آئی ہوئی تھی . مرکزی گیٹ کے باہر سے ایک بہت بڑا چوکور مینار اور آٹھ چھوٹے برج جھانک رہے تھے یہ برج دیواروں پر ایک تاج کی طرح دِکھتے تھے . ان سے پیچھے شاہی باورچی خانے کی چھت پر مچھلی کے فلس جیسی بناوٹ والے چھ برج تھے جو بالکل شطرنج کے مہروں کی طرح لگتے تھے .

سڑک کے پار دوسری طرف کئی منزلہ بیرک نما عمارتیں نپولین کی بنائی جیل کی باقیات لگتی تھیں ۔ اس ساخت اور بناوٹ والی ایسی عمارت میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

رچرڈز شیر دل سے آمنا سامنا :
گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی لگا جیسے وقت رک گیا ہو ۔ آنکھیں چند سیکنڈ کے لیے چندھیا گئیں باہر سورج کا اجالا تھا لیکن اندر مصنوعی روشنی کا جادو ۔ مدھم سنہری روشنی ۔ پتھر کی دیواروں سے ٹکراتی ہوئی پوری عمارت میں پھیلی
یہ روشنی باہر کے اجالے اور اندر ماحول کے درمیان کا وہ مقام تھا جس میں داخل ہو کر لگا میں زمین پر نہیں، کسی اور جہان میں پہنچ گیا ہوں

جب اپنا سر اٹھا کر چھت کی طرف دیکھا تو سانس رک سی گئی ۔ یہ چرچ اتنا اونچا تھا کہ چھت کہیں آسمانوں میں کھو گئی تھی .رومن اور گوتھک طرز کی انتہائی اونچی محرابیں archesاحساس دلاتی تھیں کہ انسان کتنا چھوٹا ہے اور یہ عمارت کتنی بڑی . یہاں بہت لوگ تھے ان کی آوازوں کی گونج اس بڑے ہال کی خاموشی پر غالب تھیں ہر آواز ایک باز گشت بن کر گونجتی تھی لیکن مجھے لگا یہ خاموشی کا شور ہے ۔ درودیوار کی خاموشی ۔ تاریخ کی خاموشی جسے صرف میں محسوس کر سکتاتھا جس کی اپنی گونج تھی ۔ جس میں ساری آوازیں گم ہوتی محسوس ہوتی تھیں .

مجھے اپنے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی رہی لیکن پھر یہ آہٹ بھی کہیں دب گئی اور یہ خاموشی اتنی گہری ہو گئی کہ مجھے اپنے دل کی دھڑکن سنائی دینے لگی ۔میرے پیروں کے نیچے پتھر کا ٹھنڈا فرش تھا لیکن اس میں ایک عجیب حرارت تھی ۔ تاریخ کی تمازت ۔۔ وقت کی تپش . وہی پتھر جن پر نو سو سال پہلے راہب چلتے تھے، جہاں بادشاہ اپنے گھٹنوں کے بل گرتے تھے، جہاں قیدی اپنی آخری سانسیں لیتے تھے۔ پتھر مجھے اپنے پیروں تلے جلتے محسوس ہوئے ۔
یہ پتھر مجھے بتا رہے تھے کہ کو “ تم صرف ایک لمحے کے لیے ہو، ہم صدیوں سے ہیں۔”

جب میں نے اپنی نظر سیدھی کرکے سامنے دیکھا تو مجھے چار لیٹے ہوئے مجسمے نظر آئے دو قطاروں میں ۔ یہ رچرڈ شیر دل، اس کا کا باپ ہنری دوم، اس کی ماں ایلینور، اور اس کی بھابی ازابیلا تھیں ۔ چار پتھر کے تابوت ( سارگوفکس ) اور ان پر لیٹے چار قد آدم پتھر کے مجسمے جن کے گرد ایک ریلنگ لگی تھی . میں دبے قدموں آگے بڑھا . میرے پاؤں خود بخود سست ہو گئے مجھے لگا جیسے میں ایک زندہ شہنشاہ کے کمرے میں داخل ہو رہا ہوں جو سو رہا ہے۔ میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا رچرڈ شیر دل کے تابوت کے سامنے جا کر کھڑاہو گیا .

میری سانسیں خود بخود گہری ہوتی گئیں مجھے لگا جیسے یہ ماحول یہ جگہ مجھے اپنے اندر اندر کھینچ رہی ہے۔ جیسے یہ فونتوغا ایبے کا مرکزی چرچ میں نہیں میوزیم نہیں بلکہ تاریخ کی جادونگری ہے گہری کھائی جیسی ۔ اور میں اس میں اترتا چلا جا رہاہوں ۔ میرے سامنے رچرڈز کا تابوت تھا .اصل تابوت جس میں کبھی اس جسم دفنایا گیا تھا . میں نے لندن میں ویسٹ منسٹر کے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے اس کا گھڑ سوار مجسمہ بھی دیکھا تھا ۔ اسے زرہ بکتر میں تلوار اٹھائے ایک طاقتور گھوڑے پر سوار دکھایا گیا ہے ۔ میں نے وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم لندن میں فونتوغا والے اس اصل پتھر کے مجسمے کی پینٹ شدہ رنگین پلاسٹر کی بنی نقل بھی دیکھی تھی ۔ لیکن جو کفیت آج اس کے تابوت کے سامنے کھڑے ہو کر محسوس ہوئی تھی وہ بڑی انوکھی تھی .

رچرڈ شیر دل کا مجسمہ دیکھنے میں خوفناک حد تک زندہ، شاہانہ اور دبدبے والا لگتا تھا جسے یہ صرف ایک مجسمہ نہیں بلکہ ایک ایسا پتھر ہے جس میں تاریخ کی روح پھونک دی گئی ہو ۔ تابوت پر لیٹا ہوا ساڑھے چھ فٹ لمبا ۔ پتھر کا بنا ایک بادشاہ جو اپنی ہمیشہ کی نیند سو رہا تھا لیکن پھر بھی اس کے اندر وہی طاقت محسوس ہوتی تھی جس نے پورے یورپ کو دہلا دیا تھا . سر پر شاہی تاج ۔ جس پر پتھر کے پتے اور پھول بنے ہوئے تھے
·اس کے ہاتھ میں ایک بڑی تلوار تھی ۔ صلیب کی شکل کا دستہ جو عیسائیت اور بہادری کی علامت ہے۔
·اس کے پاؤں ایک شیر کے اوپر رکھے تھے جو اس کے عرف “شیر دل “ ہونے کی علامت ہے۔

اس مجسمے اور تابوت کے اصلی رنگ گو کہ امتداد زمانہ کی نظر ہو چکے ہیں یہ بے رنگ اور سرمئی سا نظر آتا تھا لیکن میں نے اس کے رنگ لندن کے میوزیم والی نقل پر دیکھے تھے جو تیرہویں صدی میں اس پر پینٹ کئے گئے تھے ۔
جس میں تابوت اور مجسمے کو سرخ، نیلے اور سنہری رنگوں سے پینٹ کیا گیا تھا:

· اس کا چہرہ گلابی سرخ تھا۔
· اس کے بال سنہری تھے۔
· اس کا تاج اور تلوار سنہری تھے۔
· اس کا لباس نیلا تھا۔
· اس کی ڈھال (جس پر تین شیر بنے ہیں) سنہری اور سرخ تھی۔

یہ ایک ایسا شاندار منظر تھا جسے دیکھ کر ہر کوئی دنگ رہ جا جاتا ہے ۔ سترہ سو ترانوے میں انقلاب فرانس کے دوران اگرچہ یہ مجسمے تو محفوظ رہ گئے، لیکن ان کے اصل پتھر کے مقبروں کو توڑ دیا گیا اور ان کے اندر رکھی ہڈیوں کو زمین پر بکھیر دیا گیا
اور انہیں ایبے کے تہہ خانوں پھینک دیا گیا ۔ جب نپولین نے اٹھارہ سو چار میں اس عمارت کو جیل میں تبدیل کر دیا، تو ان مجسموں کو دوبارہ چرچ میں رکھ دیا گیا، لیکن کوئی خاص مقام نہیں دیا گیا ۔ یہاں تک کہ بڑے عرصے تک یہ ایک دیوار کے ساتھ اوپر نیچے پڑے رہے ۔

اٹھارہ سو چونتیس میں فرانسیسی مصنف اور تاریخی یادگاروں کے ماہر پروسپر میرمی نے ان مجسموں کو تاریخی حیثیت میں درج کرایا ۔ اس کے بعد انہیں بحالی کے لیے پیرس بھیجا گیا ۔انیس سو چودہ میں معمار لوسین میگن نے چرچ کی بحالی کے دوران ان مجسموں کو دوبارہ ان کی اصل جگہ پر نصب کیا ۔آج یہ چاروں مجسمے (ہنری دوم، ایلینور، رچرڈ شیر دل، اور ازابیلا) دو قطاروں میں چرچ کے جنوبی حصے میں رکھے ہیں ۔ اصل ہڈیاں گردش دوراں کی نذر ہوچکیں اصل ہتھر کے تابوت بھی انقلابیوں کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچے لیکن یہ پتھر کے مجسمے آج بھی پلانٹیجنیٹ خاندان کی عظمت کی خاموش گواہی دے رہے ہیں میرے جیسے تاریخ کے کھوجی یہاں پہنچتے ہیں ان سے ملاقات کرتے ہیں ۔

انہیں محسوس کرتے ہیں ۔ اور میرے لئے ان سے ملنا میری زندگی اہم ترین ملاقات تھی رچرڈز شیر دل سے ملاقات جس کے تذکرے میں بچپن سے سنتا آیا تھا ۔ جسے ہمیشہ میں نے سلطان صلاح ایوبی کے ساتھ جوڑ کر دیکھا تھا لیکن آج اس کی اجڑی قبر پر کھڑے ہو کر احساس ہوا میں صرف رچرڈزسے ہی نہیں ملا میں نے خود سے بھی ملاقات کی ہے اور تاریخ سے بھی ۔ فونتوغا ایبے کے مرکزی چرچ میں داخل ہونا کسی میوزیم میں جانے جیسا نہیں تھا بلکہ تاریخ کے دل میں اترنے جیسا تھا ۔ یہاں آکر میرے دل نے کہا “ یہاں رک جاؤ، ٹھہر جاؤ، اس جگہ کو محسوس کرو۔”

اور میں رک گیا ۔ بڑی دیر وہیں کھڑا رہا جہاں صدیوں پہلے بادشاہ اور راہب اور قیدی کھڑے ہوتے تھے۔ اور ماضی کے بادشاہوں کو محسوس کرتا رہا جیل کے قیدیوں کی آہیں سنتا رہا ۔ راہباؤں کی خاموش عبادت میں شریک رہا اور جدید آرٹ کی تخلیقی توانائی کو چھوتا رہا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ایک جگہ ایک عمارت لیکن تاریخ کے چار رنگ :
یہ صرف ایک عمارت نہیں، وقت کا ایک ایسا غار تھا جہاں پتھر بولتے ہیں۔ خاموشی سر گوشیاں کرتی تھی ۔ در ودیوار گزرے وقت کی گواہی دیتے تھے ۔ ایک عجیب احساس ۔۔ عجیب کفیت جو خاموشی، شور اور تاریکی کا عجیب امتزاج تھی

یہ عمارت چار ادوار کی کہانی بھی سناتی ہے اور ان چارادوار کی گواہ بھی ہے . پہلے حصے میں راہبانہ سکون اور خاموشی ہے ۔ ایسی خاموشی جو طبیعت پر بھاری گذرتی تھی وہی راہداریاں ۔ روح کو سکون محسوس ہوتا تھا ۔ لیکن اس سکون میں بھی ایک خالی پن تھا . یہ چرچ آج خالی ہے۔ کوئی راہب نہیں، کوئی عبادت نہیں، کوئی گانا نہیں۔ لیکن یہ خالی پن بولتا تھا ۔ یہ خالی پن مجھے بتا رہا تھا کہ ایک زمانے میں یہاں ہزاروں راہب اور راہبائیں گھٹنے ٹیک کر خدا سے دعائیں مانگا کرتی تھیں۔ ان کی آوازیں آج بھی ان پتھروں میں گونجتی ہیں، بھلے وہ سنائی نہ دیں۔

ایبے کے دوسرے حصے میں ہرچرڈ شیر دل اپنے سارے خاندان کے درمیان سو رہا تھا ۔ ان لیٹے ہوئے مجسموں کے سامنے کھڑے ہو کر لگا جیسے وقت رک گیا ہو۔ ان پتھروں کے نیچے سوئے لوگ وہ تھے جنہوں نے یورپ کا نقشہ بدل دیا، صلیبی جنگیں لڑیں، اور انگلستان کی بنیاد رکھی۔ ان کے سامنے کھڑا ہونا کسی قبرستان میں نہیں، بلکہ ایک تاریخی عدالت میں کھڑے ہونے جیسا تھا ۔ پتھر کے یہ مجسمے بولنے لگے تھے دنیا کی بے ثباتی اور وقت کے ظلم کی کہانی سنانے لگے تھے ۔ وقت جو کسی کو نہیں بخشتا ۔۔ ہر چیز کو ۔ ہر عمارت کو ۔۔ ہر سلطان کو ۔۔ ہر شہنشاہ کو روندتا ہوا گذر جاتاہے ۔

اور جیسے ہی میں تاریخی گرجا سے باہر نکل کر جیل والے حصے میں گیا۔۔ فرانس کی بدترین جیلوں میں سے ایک ۔ تو احساس ہوا کہ یہی چرچ کبھی جیل بھی رہا ہے۔ نپولین نے اس چرچ میں پانچ اضافی منزلیں بنا دی تھیں، جہاں قیدی رکھے جاتے تھے۔ اگرچہ وہ منزلیں آج ہٹا دی گئی ہیں، لیکن ان کے نشانات اب بھی دیواروں پر موجود ہیں۔ صاف لگتا ہے کہ خوبصورتی اور ظلم کبھی اسی جگہ پر اکٹھے رہتے تھے۔ یہاں انسانوں کو جانوروں کی طرح رکھا جاتا تھا۔ اس ماحول نے دل کو یکدم افسردہ سا کر دیا ۔۔ در ودیوار دکھ درد کی کہانی سنانے لگے ۔۔ پتھر کی موٹی دیواروں کی خاموشی سے اٹھتی مظلوم قیدیوں کی چیخیں ۔

اندھیروں میں ڈوبے مرغی کے پنجروں اور ڈربوں جیسے انتہائی چھوٹے چھوٹے سیل ۔ کھڑکیوں پر لگی موٹے لوہے کی سلاخیں ۔ تہہ خانوں میں بنے ۔ زمین کے اندر کھدے غار نما چھوٹے چھوٹے قید تنہائی کے کمرے ۔ اور ان کے اوہر بنی گشت کی راہداریاں۔ دیواروں پر انیسویں صدی کی دہائی کے قیدیوں کی لکھی ہوئی تحریریں دیکھ کر روح کانپ اٹھی۔

ہر تحریر ایک کہانی تھی ہر لفظ ایک داستان تھا
کہیں صرف اپنا نام لکھا تھا تو کہیں محبوبہ یا بیوی کا نام ۔۔ کسی جگہ نظم تھی تو کہیں خدا سے دعائیں۔ کسی دیوار پر دنوں کی گنتی تھی کہیں تصویریں بنا کر اپنی حالت زار کی منظر کشی کی گئی تھی یہ تحریریں نہیں تھیں ان قیدیوں کی آہیں تھیں ۔۔ التجائیں تھیں ان کے نوحے تھے دعائیں تھیں جو ان بے رحم دیواروں کے پیچھے قید رہے ۔

سب سے عجیب بات یہ تھی کہ اسی تاریخی اور المناک جگہ پر اسی عمارت کے ایک حصے میں پھر اچانک جدید آرٹ کی نمائشیں نظر آنے لگیں ۔ جیسے کسی فلم کا منظر اچانک بدل جائے ۔۔ نیا سین شروع ہو جائے دھاتی مجسمے ۔۔۔ عجیب و غریب تنصیبات۔ جدید آرٹ کے نمونے ۔۔۔ خوبصورت رنگوں والی پینٹگز ۔۔۔ ٹولوز-لوٹریک، ڈیگا، اور ڈیرین جیسے مشہور فنکاروں کے فن پارے دیکھ کر لگا میں کسی اور دنیا میں آگیا ہوں . ایک ہی جگہ پر بیک وقت راہبانہ زندگی کا سکون ۔ انگلینڈ کے شاہی خاندان کی فرانس میں لکھی تاریخ کی حیرت ۔

جیل کے ظلم وستم کی ہولناکی اور جدید آرٹ کی تخلیقی صلاحیت میں نے اپنی پوری زندگی میں ایک چھت کے نیچے زندگی کے اتنے رنگ ۔ ایسا انوکھا سنگم پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ یہ تضاد یہ اختلاف یہ رنگی ایک ایسا سفر تھا جس نے مجھے اندر ہلا کر رکھ دیا تھا ۔ میں واپس تو لوٹ آیا لیکن ایبے کے سفر سے کبھی واپس نہ آ سکا ۔

٭ ٭ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

رچرڈ کا اصل چہرہ
رچرڈ کا اصل چہرہ ، تین شیروں والا نشان
رچرڈ کی ماں فرنچ تھی – اس کا باپ اور دادا بھی فرنچ تھے ۔ اس کے بچپن کا زیادہ حصہ فرانس میں اپنی ماں کی جاگیر پر گزرا۔ وہ ریاست آنگوین کا بادشاہ تھا ماں کی طرف سے ملنے والی ماں کی جاگیر کا بھی مالک تھا – جو بارہویں صدی عیسوی میں انگلینڈ اور فرانس کے مشترکہ علاقوں پر مشتمل تھیں ۔ اپنے دس سالہ دور حکومت میں اس نے بمشکل چھ ماہ انگلینڈ کی سرزمین پر گزارے ہوں گے – وہ انگلش سے زیادہ فرنچ زبان بولتا تھا فرنچ میں شاعری کرتا تھا ۔

وہ فرانس میں پیدا ہوا فرانس میں مرا آج فرانس میں ہی دفن ہے لیکن اس کے باوجود وہ آج انگلینڈ کا سب سے مشہور شہنشاہ سمجھا جاتا ہے۔انگلینڈ کا ہیرو ۔ انگلش لوگوں کا رول ماڈل ۔ عام آدمی کا افسانوی ہیرو ۔اس کا فوجی نشان جس پر تین شیر کندہ ہیں آج انگلینڈ کا سرکاری فوجی نشان ہے – اور انگلینڈ کی تمام کھیلوں کی ٹیموں کا سرکاری نشان بھی۔
ے نہ حیرت کی بات ۔ میرے لئے یہ سب اتنا بڑا انکشاف تھا کہ تاریخ کا یہ باب میں بڑی دیر تک ہضم نہ کر سکا ۔لیکن مغربی مورخ، جدید اور قدیم اس کے بارے میں بڑا مختلف نقطہ نظر بھی رکھتے ہیں شائید یہی اس کا اصل چہرہ ہے ۔
سر سٹیون رنسی مین نے اپنی کتاب “ہسٹری آف کروسیڈز” میں اس کے بارے میں تبصرہ کیا ہے “کہ وہ برا بیٹا تھا، برا خاوند تھا، برا باپ تھا اور برا بادشاہ تھا – لیکن ایک بہادر اور شاندار سپاہی تھا۔”

ولیم سٹبز نے بھی اسی طرح لکھا:
“برا بیٹا، برا خاوند، خود غرض حکمران اور بدکردار انسان – رچرڈ کو اپنی رعایا سے نہ ہمدردی تھی اور نہ پیار – وہ انگریز نہیں تھا اور اس کی خواہش محض ایک جنگجو کی تھی۔ اور انگلستان محض جنگیں جنگ کے اخراجات پورا کرنے کا ذریعہ ۔”

جان گلنگھم نے لکھا کہ اپنے دس سالہ دور حکومت میں رچرڈ چھ ماہ سے زیادہ انگلینڈ میں نہیں رہا اور آخری پانچ سال تو بالکل غیر حاضر رہا۔

ہیوم اور گبن نے بھی اس پر انگلستان کا معاشی استحصال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کے دور میں انگلینڈ دو بار دیوالیہ ہوا ۔ رالف ٹرنر اور رچرڈ ہیزر کا کہنا ہے کہ “وہ انگلینڈ کے لئے ایک تباہ کن بادشاہ ثابت ہوا ۔ اس کی لڑائیاں مذہبی جوش سے زیادہ اپنی ساکھ اور فرانس میں اپنی زمینوں کو بچانے کے لیے تھیں۔ لیکن وہ ایک اچھا کمانڈر اور بہادر سپاہی تھا ۔

سٹیفن جے سپینسر کہتا ہے :
“ رچرڈ اول کے بارے میں ایک واضح تضاد پایا جاتا ہے: ایک طرف وہ افسانوی ہیرو ہے بہادر سپاہی تو دوسری طرف ایک متنازع نااہل اور مشکل حکمران ۔ اس نے اسے بے قابو غصے” والا شخص کہا ہے ۔”

بہت سے مغربی مورخین نے اس پر ہم جنس پرست ہونے کا بھی الزام لگایا ہے ۔ لیکن اکثر مسلم اور مغربی تاریخ دانوں نے تیسری صلیبی جنگ میں اس کے کردار کے حوالے سے اس کی تعریف کی ہے – اور یہی کردار اسے تاریخ میں زندہ رکھے ہوئے ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ صلاح الدین کا سب بڑا دشمن ثابت ہواتھا وہ حملہ آور تھا اور فلسطین کی سرزمین اور موسم کے لئے بلکل اجنبی تھا جبکہ سلطان مقامی تھا اور اپنی سرزمین کا دفاع کر رہاتھا فلسطین کے موسم کا عادی تھا .

لیکن اس کے باوجود رچرڈ نے اپنی جواں مردی اور ہمت سے سلطان کی منزل اس طرح کھوٹی کر دی کہ اگر وہ تیسری صلیبی جنگ کی قیادت نہ کر رہا ہوتا تو صلاح الدین فلسطین شام اور لبنان سے صلیبیوں کا نام ونشان تک مٹا دیتا ۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران جب جنرل ایلن بی نے یروشلم فتح کیا تو برطانیہ کی اخبارات نے شہ سرخیاں لگائیں: “آج ایلن بی نے رچرڈ شیردل کا ادھورا کام مکمل کر دیا۔”

٭ ٭ ٭٭٭٭٭٭٭٭ؔ

سن ژو کی گواہی :
سن ژو کا فیصلہ، جب سلطان نے بغیر لڑے میدان مار لیا ۔
تیسری صلیبی جنگ کا مقصد یروشلم پر دوبارہ عیسائی تسلط قائم کرنا تھا – لیکن اس جنگ میں کوئی بھی فریق فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔ سلطان ایوبی نے بیت المقدس کا کامیاب دفاع کیا – اس کی شاندار دفاعی حکمت عملی کی وجہ سے رچرڈ کبھی یروشلم کی فصیل تک بھی نہ پہنچ پایا۔ سلطان نے صلیبیوں کو بغیر بڑی لڑائی کے ہی ان کا سب سے بڑا مقصد حاصل کرنے سے روک دیا۔

عظیم چینی ملٹری ایکسپرٹ سن ژو نے کہا تھا:
“سب سے زیادہ کامیاب جنرل وہ ہے جو جنگ کے بغیر ہی دشمن کو یقین دلا دے کہ وہ جیت نہیں سکتا۔”

تو پھر رچرڈ کا یروشلم پر حملے کے لیے دو بار آنا اور پھر دفاع دیکھ کر حملہ کیے بغیر واپس چلے جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ سلطان ایوبی بہترین جرنیل تھا – خاص طور پر انتہائی نامساعد حالات میں جب وہ خود بھی بیمار تھا اور فوج کا ایک بڑا حصہ جنگ جاری رکھنے پر تیار نہیں تھا۔لیکن رچرڈ کی کامیابی یہ تھی کہ اس نے جافا سے عکہ تک کی ساحلی پٹی پر قبضہ کر کے سلطنت یروشلم کو مکمل تباہ ہونے سے بچا لیا – نئی سلطنت یروشلم کا دارالحکومت اب یروشلم کی بجائے عکہ قرار دیا گیا۔ تریپولی اور انطاکیہ کی صلیبی ریاستیں بھی قائم رہیں – اور اگلے ایک سو سال تک مسلسل پانچ مزید صلیبی جنگوں کے لیے لانچنگ پیڈ کا کردار ادا کرتی رہیں۔ اور بیت المقدس کے لیے خطرہ بنی رہیں –

ان ساحلی ریاستوں کو سو سال بعد مملوک سلطانوں نے فتح کر کے اہل فلسطین کی جان اس ناسور سے چھڑائی۔

مصنف کے بارے میں

ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment