اقبال کے نزدیک حیات نام ہے مسلسل جدو جہد اور پیکار کا ۔جس زندگی میں کشمکش نہ ہو وہ ان کے لایعنی اور بے مقصد ہے۔وہ فکرو عمل کی دنیا میں ہر لحظہ انقلاب کے داعی ہیں ۔جمود ان کے خیال میں موت ہی کا دوسرا نام ہے۔
برگساں کی طرح اقبال کے نزدیک زندگی ایک مسلسل بہائو اور وفور بے پناہ(Flux)ہے جس میں سکون کا کوئی لمحہ نہیں ۔اس موضوع پر پہلے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے مگر ہم یہاں مختصراًیہ دیکھیں گے کہ ہیگل اور اقبال کے تصوراتِ جہد و عمل میں کہاں تک مطابقت ہے۔ہیگل کا جدلیاتی فلسفہ یہ کہتا ہے کہ فکر اور وجود دونوں ہی تضادات اور تناقضات کا سمندر پار کرتے ہوئے مسلسل ارتقا اور تکوین (Becoming)کی حالت میں ہیں ۔ اس سمندر کی لہریں مسلسل ایک دوسرے سے ٹکرا رہی ہیں ۔
اس میں انسان اپنی جان جوکھوں میں ڈال کرتیر رہا ہے۔وہ کبھی پانی میں اپنا دایاں ہاتھ چلاتا ہے یہ دعویٰ (Thesis) ہے۔پھر وہ اپنا بایاں ہاتھ چلاتا ہے یہ جواب دعویٰ (Anti-thesis)ہے۔وہ دونوں ہاتھوں کی حرکات کے درمیان ترکیب و تالیف پیدا کرتے ہوئے آگے سے آگے بڑھتا ہے۔چناں چہ زندگی تصادم ہی تصادم ہے ،تنائو ہی تنائو ہے۔انسانی شخصیت و کردار کی آزمائش اسی تصادم میں ہے۔انسانی زندگی کی صلابت اور اس کا سلجھائو الجھن کی کٹھنائیوں سے گزرے بغیر ممکن نہیں۔ہیگل کے مطابق ہستی متناقض اور تضادات کے مجموعہ کا نام ہے۔الجھنا، سلجھنا ،سلجھ کر الجھنا،یہی زندگی کا دستور ہے۔
آزادی جو زندگی کا ایک بڑا مقصد ہے مجبوریوں اور پابندیوں کے ایک طویل سلسلے سے گزرکر ہی حاصل ہوتی ہے۔اقبال کے نزدیک بھی صنوبر کی آزادی اس کے پابہ گل ہوئے بغیر ممکن نہیں ۔ول ڈیوراں ہیگل کے حوالے سے لکھتا ہے:
“Struggle is the law of growth; character is built in the storm and stress of the world; and man reaches his full height only through compulsions, responsibilities, and suffering.”< br />
اقبال کے نزدیک بھی حیات خطرات میں جینے اورمسلسل پیکار کا نام ہے۔
میارا بزم بر ساحل کہ آنجا
نوائے زندگانی نرم خیز است
بدریا غلط و باموجش در آویز
حیات جاوداںاندر ستیز است
ہیگل دکھ درد کو بھی زندگی کے لیے ناگزیر خیال کرتاہے۔
“Even pain has its rationale; it is a sign of life and stimulus of reconstuction”
ہیگل کے نزدیک زندگی ہرگزایک نشاط انگیز طربیہ نہیں۔چناں چہ اس کا تصور تاریخ یہ ہے کہ تاریخ کے وہ ادوار جو فکری و عملی حرکیات اور تصادم سے محروم ہیں ان کی حیثیت محض خالی صفحات کی سی ہے۔وہ ـ’’فلاسفی آف ہسٹری‘‘میں لکھتا ہے:
“The history of the world is not the theatre of happiness; periods of happiness are blank pages in it for they are periods of harmony.”
اقبال کے نزدیک بھی مئے حیات جس قدر تلخ ہو اتنی ہی اچھی ہے:
پرسیدم از بلند نگاہے حیات چیست
گفتا مئے کہ تلخ تر او نکو تر است



تبصرہ لکھیے