آج کا مسلمان یونانی نژاد فارسی تصوف کی دھندلی وادیوں میں بلا مقصد گھومنے پھرنے کو ترجیح دیتا ہے جو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم گرد و نواح کی ٹھوس حقیقت کی طرف سے آنکھیں موند لیں اور اپنی نظریں ان روشنیوں پر گاڑ دیں جنہیں یہ نیلی، سرخ اور پیلی بیان کرتا ہے۔ یہ حقیقت ایک تھکے ماندے ذہن کے خلیوں سے ابھرتی ہے۔
میرے نزدیک یہ خود پر اسراریت یہ عدمیت یعنی حقیقت کی ان حلقوں میں جستجو جہاں وہ موجود نہیں عضویاتی علامت ہے جو مجھے عالم اسلام کے مائل بہ تنزل ہونے کا پتہ دیتی ہے۔ قدیم دنیا کی دانشورانہ تاریخ یہ آشکار کرے گی کہ تمام زمانوں میں زوال نے خود پر اسراریت اور مذہب سے انکار کے پیچھے پناہ لی ہے۔ دنیاوی معاملات سے نبرد آزما ہونے کی توانائی کھو دینے کے بعد یہ پیغمبران زوال فرضی لافانیت کی تلاش شروع کر دیتے ہیں اور بتدریج روحانیت کے افلاس کی تحمیل کر دیتے ہیں اور بظاہر زندگی کے ایک دلکش تصور کو اپنا کر اپنے معاشرے کے جسمانی اضمحلال کو اس انداز میں مکمل کر دیتے ہیں کہ ایک صحت مند اور توانا شخص بھی موت کی آرزو کرتا ہے۔ اسلام کی طرح کے خاص طور سے تشکیل شدہ معاشرے کو جذباتی تحقیق و اصلاح کے مخالفین نے حد درجہ نقصان پہنچایا ہے۔
معاشرے کے طور پر ہماری آفرنیش معاشرتی تعمیر نو کے لئے نسل اور زبان کے اصولوں کی نفی کرتے ہوئے جو صرف اس سبب سے تھی کہ ہم نے خود کو قانون کے ایک نظام کے تابع کر لیا تھا۔ جس کی اصل کے بارے میں عقیدہ یہ تھا کہ من جانب اللہ ہے تاہم قدیم تصوف نے واضح طور پر یہ عقیدہ بنا لیا اور خفیہ طریقے سے اس کی تبلیغ کی کہ یہ محض مظاہراتی ہے۔ حقیقت کے چھلکے سے زیادہ کچھ نہیں جسے دیگر ذرائع (قانون خدا کے علاوہ) سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ بیشتر معاملات میں صرف معاشرے کی لعنت ملامت سے بچنے کے لئے قانون کی پیروی کی جاتی تھی اگرچہ کہتے اسے مظاہراتی تھے لیکن مسلم فکر اور ادب کا کوئی طالب علم اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ قانون کو نظر انداز کرنے کا رجحان واحد قوت جو مسلم معاشرے کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اس جھوٹے تصوف کا لازمی نتیجہ تھا جو فارس کے دل و دماغ کا آفریدہ تھا۔ اس طرح مسلم جمہوریت بتدریج تبدیل ہوئی اور ایک طرح کی روحانی امراء کی کثیر بنا دی گئی ہو یہ اعمال کرتے تھے کہ ان کے پاس ایسا علم اور ایسی طاقت ہے۔ جو اوسط درجے کے مسلمان کے پاس نہیں ہے۔ اسلام کو واضح طور پر فارس کا غلام بنانے کے خطرے کو عظیم مسلم لی اللہ شیخ اور رفاعی (اللہ ان کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے) نے واضح طریقے سے بھانپ لیا تو عبد السمع ہاشمی کو لکھتے ہوئے وہ کہتے ہیں۔
”خبردار ! اہل عجم کی زیادتیوں سے دھوکہ نہ کھاتا کہ ان میں سے بعض حد سے گزرگئے ہیں۔“
کسی اور جگہ عظیم ولی اللہ فارسی تصوف کی بنیاد پر ضرب لگاتے ہیں (یعنی ظاہر اور باطن مظاہراتی اور حقیقی میں فرق جس کی طرف میں پہلے ہی اشارہ کر چکا ہوں) اور کہتے ہیں۔
« شیخ وہ ہے جس کا ظاہر و باطن شرع ہو۔ طریقت عین شریعت ہے۔ جھوٹا اس فرقے کو نجاست سے آلودہ کرتا ہے اور کہتا ہے باطن اور ہے اور ظاہر اور ہے۔“ (رسالہ الکلمالرفاعیہ – ترجمہ مولانا عبد الحلیم شرر)
مسلمانان ہسپانیہ، ارسطا طاپسی جذبے کے ساتھ اور مغربی اور وسطی ایشیا کے انکارکے اثرات سے دور ملائشیا کی مسلمان نسلوں کے مقابلے میں اسلام کی روح سے قریب نو تھے جنہوں نے عربی اسلام کو عجم کے محلول میں سے گزار کر حتمی طور پر اسے اسکے اصل کردار سے محروم کر دیا۔ فارس (ایران) کی فتح سے مراد فارس کا مشرف بہ اسلام ہونا نہیں ہے بلکہ اسلام کا مشرف بہ فارسیت ہوتا ہے۔ مغربی اور وسطی ایشیا کے مسلمانوں دانش درداں کی تاریخ دسویں صدی سے نیچے تک پڑھ لیجئے اور آپ دیکھیں گے کہ میں نے جو کچھ اوپرلکھا ہے اسکی حرف بحرف تصدیق ہو جائے گی۔ زوال کی رعنائیاں کچھ اس طرح کی ہوتی ہیں کہ ہم زہر نوش جاں کرتے ہیں اور جو پلانے والے ہیں ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیتے ہیں۔ یاد رکھئے کہ اسلام کی ولادت تاریخ ؟
ایک روشن باب ہے۔ عظیم جمہوریت پسند پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذہین لوگوں کےساتھ زندگی بسر کی اور کام کیا جنہوں نے ان کے لب ہائے مبارک سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ آنے والی نسلوں کو منتقل کر دیا۔ ان کی تعلیم میں مطلقاً” کچھ بھی پر اسرار یا مخفی نہ تھا۔ قرآن کریم کا ہر لفظ روشنی اور زندگی کی سرعت سے لبریز ہے۔ تصوف کی قنوطیت پسند تاریکی کو جواز بخشنے کی بجائے اس نے کھلم کھلا ان مذہبی تعلیمات پر کاری ضرب لگائی جو صدیوں سے نی نوع انسان کو پر اسرار بنائے ہوئے تھیں۔ پھر اس دنیا کی حقیقت کو مسکراتے ہوئے قبول کر لیتے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت اور بڑائی کے لئے اس سے ہمکنار ہو جائے۔ اس کی بات نہ سنئے جو لکھتا ہے کہ اسلام میں ایک خفیہ نظریہ ہے جے ناواقفوں پر آشکار نہیں کیا جا سکتا۔ اسی میں اس مدعی کی طاقت اور آپ کی تابعداری مخفی ہے۔ آپ دیکھیں کہ وہ کس طرح رومہ کی مسیحیت کے جذبہ کے ساتھ اپنے گرد حفاظتی حصار تعمیر کرتا چلا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی تاریک اقلیم کو مورخ کی دست برد سے محفوظ رکھ سکے۔
وہ آپ کی تاریخ اسلام سے عدم واقفیت کا استحصال کر کے آپ کو اپنا غلام بنا لیتا ہے۔ لیکن واضح طور سے یہ دیکھتے ہوئے کہ ہو سکتا ہے کہ کسی وقت تاریخ کی روشنی اس کی تعلیمات کی دھند کو آپ کے دانشوارانہ ماحول سے چھانٹ دے وہ آپکو سکھاتا ہے کہ جس لوراک کو عظیم ترین نقاب پر محمول کیجئے۔ اس طرح حقیقت جس کا یہ دشمن آپ کی حیثیت کے شعور کو کند کر دیتا ہے اور علم تاریخ کی اساس کو ہلا دیتا ہے۔
اے نوجواناں اسلام..!
اخفا اور سریت کے پرچارک سے خبردار رہیے۔ آپ کی گردن کے گرد اس کا پھندا کافی عرصے سے پڑا ہوا ہے۔ عالم اسلام کا احیاء منحصر ہے مضبوط غیر مصالحت پسند اخلاقی وحدت پرستی پر جس کی ۱۳ سو برس قبل عربوں میں تبلیغ کی گئی تھی۔ تب فارسیت کے دھندلکوں سے باہ اسے باہر نکل آؤ اور عرب کی صحرائی روشنی روشنی کی طرف قدیم بڑھاؤ۔
بحوالہ
اقبال تحریریں تقریریں از اقبال احمد صدیقی
شاملو از لطیف احمد شیروانی
حرف اقبال



تبصرہ لکھیے