ہم قدم سے قدم ملا کر چل رہے تھے۔ اس نے میری طرف دیکھا اور بولنا شروع کیا:
“رات ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئی ہوتی۔ آسمان پر تارے اپنی آخری پہر کی ڈیوٹی نبھا رہے ہوتے ہیں کہ میرے کمرے کے دروازے پر کوئی زور سے دستک دیتا ہے۔ نیند ابھی تک میری پلکوں سے لپٹی ہوتی ہے، مگر مزدور کی زندگی میں نیند کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی۔ وہ صرف چند گھنٹوں کی مہمان ہوتی ہے، جسے وقت پورا ہونے سے پہلے ہی رخصت ہونا پڑتا ہے۔
چہرے پر پانی کے چند چھینٹے مار کر، جلدی سے کپڑے بدل کر، خاموش گلیوں سے گزرتا ہوا مل کی طرف چل پڑتا ہوں۔ شہر ابھی سو رہا ہوتا ہے، مگر دھاگے کی مل جاگ چکی ہوتی ہے۔ دور ہی سے اس کی بلند عمارت کسی دیو کی مانند دکھائی دیتی ہے، جو ہر صبح ہزاروں انسانوں کی توانائی نگل کر شام کو تھکن اور چند روپے واپس لوٹاتی ہے۔ گیٹ کے اندر قدم رکھتے ہی ایک عجیب دنیا میرا استقبال کرتی ہے۔ یہاں نہ پرندوں کی آواز سنائی دیتی ہے، نہ درختوں کی سرسراہٹ۔ اگر کچھ سنائی دیتا ہے تو وہ ہے مشینوں کا شور، ایسا شور جو پہلے کانوں پر حملہ کرتا ہے، پھر آہستہ آہستہ انسان کے وجود کا حصہ بن جاتا ہے۔ جلد ہی آدمی بولنے سے زیادہ اشاروں میں بات کرنا سیکھ لیتا ہے، کیونکہ یہاں ہونٹ کم اور ہاتھ زیادہ حرکت کرتے ہیں۔
ہال میں داخل ہوتے ہی روئی کی باریک، ریزہ دار گرد فضا میں تیرتی دکھائی دیتی ہے۔ روشنی کی کرنیں جب اس گرد سے ٹکراتی ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بے شمار ننھے ذرات ہوا میں معلق ہوں۔ مگر یہ منظر صرف تصور کرنے والے کو خوبصورت لگ سکتا ہے۔ جو اسے روز سانس کے ساتھ اندر اتارتا ہے، وہ جانتا ہے کہ اس کی قیمت پھیپھڑے ادا کرتے ہیں۔ مشینیں چل پڑتی ہیں۔ کہیں روئی سلور کی صورت آگے بڑھ رہی ہے، کہیں باریک ہوتی ہوئی دھاگے میں ڈھل رہی ہے، کہیں ٹوٹا ہوا دھاگا جوڑنا ہے، کہیں کون بدلنا ہے۔ ایک لمحے کی غفلت کئی گھنٹوں کا نقصان بن سکتی ہے۔ اس لیے آنکھیں مسلسل مشین پر، ہاتھ مسلسل حرکت میں، اور دماغ ہر وقت چوکنا رہتا ہے۔
گھنٹوں بیت جاتے ہیں۔ وقت یہاں گھڑی کی سوئیوں کے بجائے جسم کی تھکن سے پہچانا جاتا ہے۔ کندھوں میں اکڑاؤ اترنے لگتا ہے، ٹانگیں بوجھ محسوس کرنے لگتی ہیں، مگر مشینیں کسی کی تھکن نہیں سمجھتیں۔ ان کے لیے ہر لمحہ صرف پیداوار کا لمحہ ہے۔دس بجے ناشتے کی گھنٹی بجتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے کسی قیدی کو چند لمحوں کے لیے کھلی ہوا نصیب ہو گئی ہو۔ سب مزدور اپنے اپنے ڈبے نکالتے ہیں۔ کسی کے پاس خشک روٹی کے ساتھ آلو کی سبزی ہوتی ہے، اور کسی کے پاس اچار۔ مگر اس وقت وہی سادہ نوالہ کسی شاہی دسترخوان سے کم محسوس نہیں ہوتا۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے ہیں، ہنستے بھی ہیں، شکایت بھی کرتے ہیں، اور پھر چند ہی منٹوں بعد دوبارہ انہی مشینوں کے سپرد ہو جاتے ہیں۔
ناشتے کے بعد جسم پہلے سے زیادہ بوجھل ہو جاتا ہے۔ نیند آنکھوں کے کناروں پر دستک دیتی ہے، مگر یہاں جمائی لینے کی بھی پوری مہلت نہیں ملتی۔ دھاگا اگر ٹوٹ جائے تو فوراً جوڑنا پڑتا ہے، ورنہ سپروائزر کی نگاہ ایک لمحے میں آپ تک پہنچ جاتی ہے۔
جناب!
اصل مشکل وقت دوپہر کی سخت گرمی میں آتا ہے۔ پسینہ قمیض کو جسم سے چپکا دیتا ہے۔ شور اب بھی ویسا ہی ہوتا ہے، مگر اب ایسا لگتا ہے جیسے وہ کانوں میں نہیں، دماغ کے اندر گونج رہا ہو۔ میں کبھی کبھی خود سے سوال کرتا ہوں کہ میں مشینوں کو چلا رہا ہوں، یا خود مشین بن چکا ہوں۔
پھر اچانک خیال آتا ہے کہ گھر میں بوڑھی ماں میری تنخواہ کا انتظار کر رہی ہوگی۔ بچے اسکول کی فیس کے لیے راستہ دیکھ رہے ہوں گے۔ شاید کسی کی دوائی ختم ہو چکی ہو۔ یہی خیال تھکے ہوئے ہاتھوں میں پھر سے جان ڈال دیتا ہے۔یہاں ایک بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ مزدور جسمانی قوت سے نہیں، بلکہ امیدوں سے کام کرتا ہے۔ شام قریب آتی ہے۔ مشینیں آہستہ آہستہ خاموش ہونے لگتی ہیں، مگر ان کا شور کانوں کے اندر زندہ رہتا ہے۔ مل سے باہر نکلتا ہوں تو کھلی ہوا عجیب لگتی ہے۔ پرندوں کی آوازیں غیر مانوس محسوس ہوتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے میں کسی اور سیارے سے واپس آیا ہوں۔
گھر کی طرف جاتے ہوئے سڑک پر لوگ صاف ستھرے کپڑوں میں گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔ مگر وہ کبھی یہ نہ سوچیں گے کہ ان کپڑوں کے ہر دھاگے میں کسی مزدور کی نیند کے ادھورے ٹکڑے بھی بُنے ہوئے ہیں، کسی کی کمر کا درد بھی شامل ہے، کسی کی ہتھیلیوں کی سختی بھی، اور کسی کی خاموش قربانی بھی۔ رات کو بستر پر لیٹتے ہی جسم جواب دے دیتا ہے۔ آنکھیں بند ہونے لگتی ہیں، مگر ذہن میں مشینوں کی مسلسل گونج باقی رہتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سینکڑوں سپنڈل اب بھی گھوم رہے ہوں، اور میں اب بھی ان کے درمیان کھڑا ہوں۔”
وہ خاموش ہو گیا۔ میں نے نوٹ بک بند کی، قلم جیب میں رکھا، اور اس کی طرف دیکھا۔ وہ خاموش بیٹھا تھا۔ شاید اسے احساس بھی نہیں تھا کہ اس نے ابھی چند لمحوں میں اپنی پوری زندگی میرے سامنے رکھ دی ہے۔
میں نے مسکرا کر اس سے ہاتھ ملایا۔
“آپ کا بہت شکریہ! آج آپ سے بات کر کے بہت کچھ جاننے کو ملا۔”
وہ ہلکا سا مسکرایا، اپنے کھردرے ہاتھوں سے ماتھے کا پسینہ پونچھا، اور اگلی شفٹ کے شور میں کہیں گم ہو گیا۔ میں دیر تک اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا۔ میرے ذہن میں ایک ہی خیال بار بار گردش کرتا رہا:
بلاشبہ کپڑے صرف روئی کے دھاگوں سے نہیں بنتے، بلکہ ان میں ایک مزدور کی ادھوری نیند، اس کے بدن کی ٹوٹ پھوٹ، اور اس کی خاموش قربانیاں بھی بُنی ہوتی ہیں۔ ہر لباس اپنے اندر ایک ایسے انسان کی داستان سمیٹے ہوتا ہے جس کا نام تو کوئی نہیں جانتا، مگر اس کی محنت ہر شخص اپنے جسم پر اوڑھے پھرتا ہے۔”



تبصرہ لکھیے