ایک زمانہ تھا جب ہر شے خالص ہوا کرتی تھی۔ سوچ بھی خالص ہوتی تھی اور جذبے بھی سچے۔ خالص سوچ اور خالص جذبے کا مرکب ایسی تحریر کو جنم دیتا تھا جو پڑھنے والے کے دل و دماغ میں اتر کر ہلچل مچا دیتی تھی۔ مگر اب حالات و واقعات بدل چکے ہیں۔ اب الفاظ چاہییں، چاہے وہ جذبات سے عاری ہی کیوں نہ ہوں۔ لفظوں کی گونج ہے، شور ہے، مگر معنی اور فہم کی کمی محسوس ہوتی ہے۔
آج کل سب کچھ لفظوں سے متعلق ہے۔ الفاظ ہماری آواز اور لہجے کے ذریعے دوسروں کی سماعتوں سے ٹکراتے ہیں اور اپنے انتخاب اور اہمیت کے باعث ہمارے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ اچھے الفاظ ہوں یا برے، ٹیلی ویژن میڈیا ہو یا سوشل میڈیا، ہر جگہ لفظوں کا جال بچھا ہوا ہے اور ہم سب کسی نہ کسی حد تک اس میں الجھے ہوئے ہیں۔قدرت نے ہم سب کے اندر ایک “فلٹر” نصب کیا ہوا ہے جو ہمیں اچھے اور برے، درست اور غلط میں تمیز کرنا سکھاتا ہے۔ آگے یہ ہماری مرضی ہے کہ ہم اس فلٹر کو اہمیت دیتے ہیں یا نہیں۔ اس فلٹر کی کارکردگی اس کے مسلسل استعمال میں ہے، ورنہ یہ ماند پڑ جاتا ہے اور اپنی افادیت کھو بیٹھتا ہے۔
ہم لفظوں کی مدد سے اپنے خیالات دوسروں تک منتقل کرتے ہیں۔ الفاظ اور آواز مل کر ابلاغ کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ الفاظ نہ صرف ہماری شخصیت بلکہ مخاطب کی اہمیت اور مقام کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم یہ سمجھنا آسان نہیں کہ کون کس نظریے اور پیرائے میں بات کر رہا ہے، کس بات کے پسِ پردہ کیا مقصد یا راز پوشیدہ ہے، اور آیا وہ کسی خاص فکر یا ایجنڈے کی نمائندگی کر رہا ہے یا نہیں۔بولنے والا بولتا رہے اور سننے والے محض سنتے رہیں، تو یہ عمل وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں۔ ایک مشہور کہاوت ہے:
“ہر بات کی گہرائی میں ایک بات ہوتی ہے، اور وہی اصل بات ہوتی ہے۔”
لیکن گہرائی میں جانے کی فرصت ہر کسی کو میسر نہیں۔ دو وقت کی روٹی کی جدوجہد انسان کو اس قدر تھکا دیتی ہے کہ اسے نیند کی گہرائی تو مطلوب ہوتی ہے، مگر فکر کی گہرائی سے خوف آنے لگتا ہے۔ہم اکثر اپنی مرضی کی بات سنتے، سمجھتے اور پھر اپنی پسند و ناپسند شامل کرکے اسے آگے بڑھا دیتے ہیں۔ یوں وہ بات اپنا اصل مفہوم کھو دیتی ہے اور ایک نئی سوچ یا نئی ذہن سازی کی مہم کا حصہ بن جاتی ہے۔ کسی بات کی تہہ تک پہنچنا ہر ذہن کے بس کی بات نہیں۔ سننے والے کی اپنی فہم، ذہنی استعداد اور تجربات ہوتے ہیں، جبکہ کہنے والے کی اپنی سوچ، اہلیت اور ترجیحات۔
لفظوں کی طاقت کا اندازہ لگانا آسان نہیں، کیونکہ جب تک وہ ادا نہ ہوں، ان کے اثرات پوری طرح ظاہر نہیں ہوتے۔ اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ الفاظ انتہائی طاقتور ہوتے ہیں۔ یہی الفاظ زنجیر بن کر ہاتھ پاؤں کی بیڑیاں بھی بن سکتے ہیں اور یہی آزادی اور شعور کا راستہ بھی ہموار کر سکتے ہیں۔بہت معذرت کے ساتھ، کوئی مانے یا نہ مانے، ہم مفادات کے غلام بنتے جا رہے ہیں۔ جہاں ہمیں اپنا فائدہ نظر آتا ہے، ہمارا رجحان اور دھیان خودبخود اسی طرف مائل ہو جاتا ہے۔
کچھ لوگوں کے قلم میں قدرت نے ایسی تاثیر رکھی ہوتی ہے کہ وہ جو بھی لکھیں، پڑھنے والا نہ صرف اسے پڑھتا ہے بلکہ اس کے سحر میں بھی گرفتار ہو جاتا ہے۔ لکھنے والے دراصل معاشروں کی ذہن سازی کرتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے عہد میں لوگ مختلف نظاموں کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں؛ تعلیمی نظام، سیاسی نظام، معاشی نظام، مذہبی تعبیرات، میڈیا، اور دیگر کئی عوامل انسانوں کو تقسیم کرکے اپنے مقاصد کے لیے بروئے کار لا رہے ہیں۔
جس شخص کا قد ذرا نمایاں ہوتا ہے، اس کی بولی لگ جاتی ہے۔ پھر وہ کسی نہ کسی طاقت یا مفاد کے لیے استعمال ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اپنی خداداد صلاحیتوں کو کسی مخصوص مقصد کے تابع کر دیتا ہے۔ کبھی اس کی وجہ مفادات ہوتے ہیں اور کبھی جذباتی وابستگیاں یا ہمدردیاں۔کسی بھی کام کو خوش اسلوبی سے انجام دینے کے لیے جہاں علمی قابلیت ضروری ہے، وہیں اس کام سے وابستہ خلوص، جذبہ اور احساسِ ذمہ داری بھی بے حد اہم ہوتے ہیں۔
یہی الفاظ تھے جن کی بنیاد پر تحریکیں اٹھتی تھیں، انہی کی مدد سے انقلابی شاعری جنم لیتی تھی اور بڑے بڑے مقرر قوموں کے ضمیر کو جھنجھوڑتے تھے۔ انہی الفاظ کے ذریعے مردہ اور سوئی ہوئی قوموں میں روح پھونکی گئی اور انہوں نے تاریخ کے دھارے کا رخ موڑ دیا۔ ایسی ہی ایک قوم نے پاکستان کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا۔مگر آج صورتِ حال مختلف ہے۔ اب الفاظ بکتے ہیں؛ بے روح، بے اثر اور بے جان۔ ایک شور ہر وقت ہمارے کانوں سے ٹکراتا رہتا ہے، مگر کوئی ایسا لفظ سنائی نہیں دیتا جو دل میں اتر جائے۔ ہر شخص اپنے مفاد کی زبان بول رہا ہے۔ لفظوں کی بولیاں لگ رہی ہیں، اور جو جتنا بڑا لفظوں کا سوداگر ہے، وہ اتنا ہی زیادہ قیمت وصول کر رہا ہے۔
دکھ اس بات کا ہے کہ جذبات اور احساسات سے عاری الفاظ مخصوص نظریات اور مفادات کی ترجمانی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ آج پوری دنیا میں لفظوں کی منڈی سجی ہوئی ہے، جہاں خیالات، بیانیے اور جذبات سب فروخت کے لیے موجود ہیں۔ اور شاید یہی اس عہد کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ جب ہر چیز بکنے لگی ہو تو الفاظ کا بک جانا کوئی حیرت کی بات نہیں رہتی۔



تبصرہ لکھیے