ایک قلم کار کا قلمی کردار کس قدر اہم ہے؟ شاید اس سوال پر ہم نے اتنی سنجیدگی سے غور نہیں کیا جتنا اس کا حق ہے۔ قلم کی صدا خواہ نظم کی صورت میں ہو یا نثر کے قالب میں، اس کے اثرات نہایت گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کا تقاضا ہے کہ اہلِ قلم صرف لکھنے والے نہ ہوں بلکہ قلم کے حقیقی پاسبان بھی بنیں۔
جب بھی حرمتِ قلم کا ذکر ہوتا ہے تو ذمہ داری کا احساس مزید بڑھ جاتا ہے۔ مثبت سوچ اور تعمیری فکر ہی عقل و شعور کے نئے دریچے کھولتی ہے اور معاشرے میں فلاح و بہبود کی راہیں ہموار کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق قلم کی طاقت ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ یہ دو دھاری تلوار کی مانند ہے، اس لیے اس کا استعمال انتہائی احتیاط، دیانت اور ذمہ داری کے ساتھ ہونا چاہیے۔ افکار کی بلندی انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہے۔ موجودہ دور کے تقاضے بھی یہی ہیں کہ اہلِ قلم حالات کا گہرا جائزہ لیں اور ایسے موضوعات کا انتخاب کریں جن سے امید، شعور، محبت اور بہتری کے چراغ روشن ہوں۔ قلم سے ایسے موتی بکھیرے جائیں جو دلوں کو جوڑیں، نفرتوں کو کم کریں اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنیں۔ ایک اچھا قلم کار اپنے احساسات کو سچائی کے ساتھ الفاظ کا روپ دیتا ہے۔ وہ اپنی فکر کے رنگوں سے محبت، اخوت، رواداری اور انسان دوستی کے پھول کھلاتا ہے۔ الفاظ کی تاثیر سے کون واقف نہیں؟
ایک اچھا جملہ کسی مایوس دل میں امید جگا سکتا ہے اور ایک منفی تحریر معاشرے میں انتشار بھی پھیلا سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قلم ہمیشہ خیر، حق اور انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال ہو۔ درحقیقت قلم کار معاشرے کا ترجمان ہوتا ہے۔ معاشرتی برائیوں کا خاتمہ، جرائم کی حوصلہ شکنی، نسلی و لسانی تعصبات کی نفی، اخلاقی اقدار کا فروغ اور قومی یکجہتی کا پیغام عام کرنا اس کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ایک سچا قلم کار اپنی زندگی کو جہدِ مسلسل کا استعارہ بنا دیتا ہے اور اپنے قلم سے معاشرے کی رہنمائی کرتا ہے۔ ادب کے روشن ستارے ہوں یا نثر نگار، ان کی تحریریں ہر دور میں روشنی کا چراغ ثابت ہوئی ہیں۔ دنیا میں امن و آشتی کے قیام سے لے کر جنگ و جدل کی تباہ کاریوں کو بے نقاب کرنے تک اہلِ قلم کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ وہ قوم کی آواز بنتے ہیں، سچ کا علم بلند کرتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے فکری سرمایہ چھوڑ جاتے ہیں۔
آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ قلم کو ذاتی مفادات، تعصبات اور نفرتوں کے فروغ کے بجائے سچائی، عدل، محبت، برداشت اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کیا جائے۔ یہی قلم کی اصل حرمت ہے اور یہی ایک حقیقی قلم کار کی پہچان۔ بے شک، درحقیقت قلم کا پاسبان ہونا ہی اہلِ قلم کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔



تبصرہ لکھیے