زمانے کی تیز رفتاری نے زندگی کے ہر شعبہ پر اثرڈالا ہے، خواہ وہ نوکری ہو، تعلیم ہو یا پھر گھریلو معاملات۔ اب سب ہی کے لیے اپنے مقاصد کا حصول ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے ۔اس میں کامیابی وہی حاصل کرتے ہیں جو منصوبہ بندی کی اہمیت سے واقف ہوتے ہیں۔
منصوبہ بندی وقت کا بہترین استعمال کرنے ،مقاصد کا حصول آسان بنانے اور ترجیحات کا تعین کرنے کا سنہری ذریعہ ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق جو 2011 ء میں ہوئی ،ناکامی کی 60 فیصد وجہ منصوبہ بندی کا نہ ہونا ہے اورصاف نظر آتا ہے کہ وقت کی پابندی اور نظم و ضبط میں ہماری قوم کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔
منصوبہ بندی کرنے کے کئی کارآمد طریقے ہیں۔ لیکن تمام طریقوں میں چند باتیں مشترک ہیں۔ آپ کاروباری انسان ہیں یا گھریلو خاتون، طالب علم ہیں یا معلم، نوکری پیشہ ہیں صحت کے مسائل سے نبرد آزما ایک بزرگ، آپ کو اپنے وقت کی منصوبہ بندی کیسے کرنی چاہیے، چلیں سیکھتے ہیں۔
اہداف کا تعین:
منصوبہ بندی میں سر فہرست اہداف کا تعین کرنا ہے ۔ اور اسے لکھ لینا بہتر ہے۔ طالب علم اپنے اہداف کو واضح کریں، یعنی محض اچھا، بہتر جیسے الفاظ کے بجائے ان مضامین اور امتحانات کو لکھیں جس میں کامیابی مقصود ہو۔ اسی طرح مقاصد قابل پیمائش اور قابل حصول بنائیں۔ یعنی اگر آپ آج تک تیسرے درجےمیں پاس ہوتے رہے ہیں تو یکدم اول درجہ میں پاس ہونا قریباً ناممکن ہے، چناچہ درجہ بہ درجہ بہتری کے منصوبے کو بنانا چاہیے کہ اگلے امتحان میں کتنے فیصد زیادہ لینا ہے۔
اس ضمن میں اسمارٹ ہدف بہت مددگار ہوسکتا ہے۔ یہ انگریزی کا لفظ اسمارٹ ہے جس میں ہر حرف ایک الگ لفظ کو ظاہر کرتا ہے۔
S. Specific
M. Measurable
A. Accessable
R. Relatable
T. Time bound
اپنے اہداف کو واضح رکھ کر کام کو تقسیم کر کے چھوٹے ہدف بنائیں ،وقت مقرر کریں اور کام کو مقررہ وقت میں مکمل کریں۔
مدت کا تعین:
منصوبہ بندی چار طرح کی ہوتی ہے۔
۱۔ قلیل مدتی ۔جو مختصر کاموں کے لیے ہو۔
۲۔ طویل مدتی ۔جو لمبی مدت کے کاموں کے لیے بنائی جائے اور بڑے کاموں کو چھوٹے کاموں میں تقسیم کیا جائے ۔
۳۔ذاتی۔ جو اپنے کاموں کے لیے کی جائے۔
۴۔ پیشہ ورانہ ۔جو کاروباری کام سر انجام دینے کے لیے کی جائے۔
اپنے ذاتی اور پیشہ ورانہ، دونوں طرح کے کاموں کے لیے قلیل مدتی اور طویل مدتی منصوبے بنائیں۔
ترجیحات کا جدول:
اہمیت کے لحاظ سے کاموں کو ترتیب دیں۔ ضروری کام پہلے اور غیر ضروری کام بعد میں کریں۔ وقت مختص کریں ہر کام کے لیے۔یاد رکھیں، آپ ہر کام نہیں کرسکتے ، چناچہ کم اہمیت کے کاموں کو وقت نہ ملنے پر چھوڑا جاسکتا ہے، مگر اہمیت والے کام چھوڑدینے سے آپ کا نقصان ہوگا۔ لہذارکاوٹوں سے نہ گھبرائیں اور مشکلات کا حل تلاش کریں۔
ایک تحقیق کے مطابق اگر کام کرنے سے پہلے جدول (ٹیبل )بنا لیا جائے تو کام ترتیب سے ہوتا ہے اور وقت پر ہوتا ہے۔ صبح کے وقت ایک کاغذ پر اپنے کاموں کی فہرست ترجیح کے مطابق بنائیں اور پھر وقت مقرر کریں ۔بیچ میں وقفہ دیں تاکہ نظم و ضبط برقرار رہے ۔تبدیلی کی ضرورت ہو تو ساتھ ساتھ کرتے رہیں اس سے مت گھبرائیں۔
وقت کا جدول:
یومیہ وقت کا جدول بنانا منصوبہ بندی میں نہایت اہم ہے۔ اس میں وقفہ بھی رکھا جائے اور ذہنی سکون کے لیے تفریح کا وقت بھی مقرر ہو ۔مزید برآں ترجیحات کو طے کیا اور اہمیت کے لحاظ سے کاموں کو انجام دیا جائے۔ مخصوص کاموں کے لیے وقت مختص کر لیا جائے ۔ہمیں چاہیے کہ ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال کریں اور وقت تقسیم کر کے الارم لگائیں ۔کیلنڈریا پلانر کا استعمال کرکے دن بھرکے کاموں کو لکھا جائے چاہے اس کےلیے ڈیجیٹل نوٹ بک ہی کیوں نہ استعمال کی جائے۔ اس طرح موٹیویشن برقرار رہتی ہے۔
۸۔۸۔۸۔کا قانون۔
آٹھ۔ آٹھ ۔ آٹھ کا قانون منصوبہ بندی میں نہایت کارگر ثابت رہا ہے۔ یعنی
آٹھ گھنٹے کام کے لیے جو پڑھائی یا نوکری کے متعلق ہو سکتا ہے ۔
آٹھ گھنٹہ ذاتی زندگی کے لیے جس میں گھر والوں کو وقت دینا، تفریح کرنا، دوستوں سے ملنا اور ورزش کرنا شامل ہے ۔
آٹھ گھنٹے نیند پوری کرنا ضروری ہے تاکہ صحت اچھی ہو اورآپ باقی کام کرنے کے قابل رہ سکیں۔
اس طرح منصوبہ بندی کرنے سے ہم ذہنی دباؤکا شکار نہیں ہوتے، ہماری کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے، بڑے مقاصد کا حصول ممکن ہو جاتا ہے ،فیصلہ سازی میں آسانی ہوتی ہے اور ہمارے کاموں میں توازن برقرار رہتا ہے۔یہ سچ ہے کہ جو لوگ منصوبہ بندی سے کام لیتے ہیں وہ کم وقت میں زیادہ بہتر کام کرتے ہیں اور یہ ہی ان کی کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے۔
تبصرہ لکھیے