ہوم << ریگِ دِیروز -حماد یونس
600x314

ریگِ دِیروز -حماد یونس

بند دریچے ، کُھلی آنکھیں ، ہر آن دروازے پر ٹِکی
، دستک پر کان دھرے (یا شاید آہٹ پر!!!)…. ایک جانب اس قدر بیتاب ، اور دوسری طرف ایسے مُنہَمِک کہ آہٹ ہو تو جان ہی نکل جائے۔

یہ کون لوگ ہیں؟؟؟ پوچھو تو !!!
ہر بشر ایک الگ قصہ جیون کی گٹھری میں باندھے ، سرسراتی سانس کی تھاپ پہ گاتا چلا جارہا ہے۔ دِل ہے کہ دھڑکن کے سِوا کوئی مصرف ہی نہیں ، ان بے آواز خرابوں میں یہ دھک دھک کی آواز ،

گویا زنجیر زنی ہو!!!

یہی شاید انتظار ہے ۔ کسی آمد پر دھڑکن تیز ہونے کا انتظار ، کہیں یادِ رفتگاں میں اسی دھڑکن کے تھم جانے کا انتظار ۔ کبھی جلتے ہی چلے جانے کا

اور پھر کسی موڑ پر بجھ کے دھواں ہونے کا انتظار۔ یوں تو گھڑی انتظار کا استعارہ ، کہ گھڑی کے سہارے گھڑی بھر کا انتظار ممکن ہے۔

مگر صدیوں پہ محیط ، جنم جنم کے پُرہول سنّاٹوں مَیں کِسی کا انتظار کِس آس کے آسرے کریں ، کہ وقت تو بہرحال کٹنے کے لیے ہے ، سو اِک پل کو لگی آنکھ کا صِلہ جُھریوں بھرے چہرے اور برف پوش بالوں کی صورت بھی ملے تو سودا مہنگا کہاں ہے!!!

مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment