خلافت امت کے مسائل کا واحد حل - اعجاز رسول

یہ حقیقت ہر کسی پر عیاں ہے کہ مسلمان انڈونیشیا سے لے کر مراکش تک زوال سے گزر رہے ہیں۔ بے شمار وسائل' عظیم تہذیب اور ایک تانباک تاریخ ہونے کے باوجود بھی مسلمان اس انتہائی مشکل دور سے گزر رہے ہیں اور اٌس پے ستم یہ کہ ان مشکلات کو حل کرنے سے بھی ہم قاصر ہیں۔ اب چاہے یہ مسائل چھوٹے ہوں یا بڑے ہمارے پاس تماشا دیکھنے اور اپنی قسمت پر ماتم کرنے کے بغیر اور کوئی راہ نظر نہیں آتی۔ یہی وہ مطلق حقیقت ہے جس سے پوری امت مسلمہ کو سامنا ہے اور اس وقت ہمارے سامنے یہ بڑا چلینج ہے کہ ہم اس تاریک حقیقت کو کیسے اٌلٹ دیں، کیسے ہم اپنے معاشرے کو تبدیل کریں اور کیسے پوری امت کو اس دلدل سے نکالیں باہر کریں۔ یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ جب کبھی بھی اس زمین پر ﷲ تعالی کے دین کے نام لیواؤں نے اس خالق کائنات کی ہدائت سے روگردانی کی تو ناکامی، ذلت، عذاب اور بربادی ان کا مقدر بن گئی اور پوری انسانی تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہی۔ اسی لئے عبرت کے بطور قرآن حکیم میں ﷲ تعالی نے پچھلی اقوام کا بار بار ذکر بھی کیا ہی۔اسباب زوال کے اس عمومی بیانئے کے بعد اسکے سدباب کیلئے اسکے دقیق محرکات اور عوامل کا ادراک لازمی ہے کیونکہ انکے متعلق صحیح رائے تک پہنچے بغیر احیاء کے عمل کو اسکے حقیقی سبب اورنتیجے سے جوڑنا دشوار ہی نہیں بلکہ ایک ناممکن عمل ہے۔

چناچہ ہم محسوس کر رہے ہیں کہ کس طرح مسلمان اس وقت مادی اور فکری پستی کے ساتھ ساتھ سیاسی زوال کی بدترین مثال بن چکے ہیں جسکا ایک مظہر کہ ہمارے معاشرے میں اسلام سے تعلق مفقود ہوکر اسکی جگہ سیکولر افکار اور نظام نے لی ہی۔ سرمایہ دارانہ افراد کے افکار و جزبات کی طرح مسلمان بھی ایک زرپرست حیوان بن چکا ہی۔ جہاں ایک طرف حکم شرعی کے بجائے مفاد اور مصالح نے حکمت کے نام پر جگہ لی ہے اور وہیں دوسری طرف مسلمان اسلامی اخوت سے کٹ کر مغرب کے کفریہ نظام سے فکری اور عملی طور پر وابستہ ہوچکے ہیں۔ کہیں پر اسکا الہ قوم پرستی بن گئی ہے تو کہیں پر وطن پرستی، کہیں برادری پر وفاداریاں لٹائی جارہی ہیں، تو کہیں پر مسالک اسکے حق کا پیمانا بن چکے ہیں، کہیں پر اسکا شعور علاقائت میں ظم ہوچکا ہے تو کہی پر اسکے وجدان پر رہبانی روحانیت کا بوت چھایا ہوا ہی۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلامی افکار کے نام پر ہمارے پاس عبادات کے سوا کچھ نہیں اور جزباتی تسکین مولویوں سے پوری کی جارہی ہی۔ ہماری سوچ کا منبح سیکولرزم بن چکا ہے جس نے ہمیں زہنی طور پر مفلوج کرکے ہمارے تشخص کو مٹاکے رکھ دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی کے عین مطابق آج کفار ہم پر مسلط ہونے کیلئے ایک دوسرے کو دعوت دے رہے ہیں اور ہم ایک ایک کر کے انکے تر نوالے بنتے جا رہے ہیں۔

امت واحدہ کی حثیت سے امت مسلمہ اور کفار کے درمیان یہ تصادم تیرہ سو سال پرانا ہے۔ اسلام بحثیت دین اور ایک منفرد نظام زندگی اور کفر کے درمیان کشمکش بھی تیرہ سو سالوں میں برابر جاری رہی۔ تیرھویں صدی ہجری انیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں سرمایا دارانہ نظام نے اسلامی نظام کو فکر اور جزبہ دونوں تعلق سے چلینج کیا۔ کچھ ہی عرصہ میں مسلمان شکستہ خوردہ ہوگئے، زہنی طور پر مرعوب اور سیاسی محکومی کا شکار ہوگئے۔ تاہم شکست اسلام نے نہیں بلکہ مسلمانوں نے کھائی۔ آج کافر اقوام مسلمانوں سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ اپنے مسائل کا حل اٌنکے بتائے ہوئے طریقوں پر کریں، مسلمان اپنے احکام اور اٌنکے نفاذ کے طریقے نئے اور بدلتے ہوئے زمانے کے مطابق اختیار کریں۔ ہماری زمینوں پر ظالمانہ قبضہ کرنے کے بعد کفریہ ایوان (اقوام متحدہ) کے پیچیدہ حل کو ہم پر مسلط کرتے ہیں تاکہ ہم اپنی زمینوں کو واپس نہ لے پائیں۔ مسلمان حالات کو بدلنے کے بجائے خود کو حالات کے مطابق بدل چکے ہیں اور یہ اٌس زہنی اور فکری پستی کا نتیجہ ہے جو مغرب کی ثقافتی غلامی نے مسلمانوں کی رگ و پئے میں انجکٹ کر دی ہی۔ فکری زوال نے مسلمانوں کی سوچ کو اتنا منتشر اور مبہم کر کے رکھ دیا ہے کہ انکے لئے اسلامی اور کفریہ عقائد, افکار اور مفاہیم کے درمیان تفریق ختم ہوچکی ہی۔ ایسے زوال شدہ ازہان کے لئے کبھی سوشلزم مسلم بن جاتا ہے، تو کبھی جمہوریت اسلامی قرار پاتی ہے، کبھی شورا پارلیمنٹ کے موافق بن جاتی ہے، تو کبھی بینکنگ اسلامی بن جاتی ہے، کبھی اپنی مقبوضات کی بازیابی کیلئے استعماری برادری ( عالمی برادری) سے منت و سماجت کرتے ہیں، تو کبھی حربی کفار سے اتحاد کیلئے صلاح حدیبیہ سے دلائل نکالتے ہیں۔

یہ پستی اور زوال کی وہ صورت حال ہے جس نے مسلمانوں کو مغرب کی کفریہ فکری، ثقافتی اور سیاسی یلگار کے سامنے پسپا کردیا ہی۔ ایک وہ وقت تھا جب مغرب کو مذہب نے دور جہالت (Dark Ages) میں ڈال دیا تھا اور ایک دور یہ ہے کہ مسلمان اسلام کے نہ ہونے کی وجہ سے ذلیل و خوار ہوچکے ہیں۔مذہبی استحصال کے خلاف جب یورپی مفکرین, سائنس داں اور فلسفی کلیسا کے خلاف بغاوت پر اتر آئے تو حل کے طور پر عیسائت کو انفرادی زندگی کے زاوئے تک محدود کردیا گیا جسکے نتیجے میں اجتعماعی زندگی کیلئے انسانی عقل کو ہدائت کا سرچشمہ قرار دیا گیا جس سے سیکولرزم کے عقیدے کی بنیاد پڑھ گئ۔ یورپ نے اسی سیکولر عقیدہ کو اپنی نظریاتی بنیاد بناکر افکار، مفاہیم، قوانین اور نظام اخذ کئے۔ چونکہ انسانی عقل بذات خود محدود ہونے کے ساتھ ساتھ زماں و مکاں کے حدود کی مقید ہے جس کی وجہ سے عین فطرت کے مطابق اس سے ماخوذ شدہ نظریات اپنی اساس میں ہی اختلاف، تعصب، تفریق اور جانبداری کا پلندہ بن کر سامنے آجاتے ہیں ۔ ناقص انسانی زہن سے پھوٹنے والے اسی غلط عقیدہ سیکولرزم پر اس غیر انسانی آئیڈیلوجی (Capitalism) کی بنیاد پڑی جس پر منحصر امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک غریب اور محتاج ممالک کے وسائل لوٹ رہے ہیں اور اس لوٹ مار کی راہ ہموار کرنے کیلئے کبھی دہشتگردی کے خلاف جنگ کا لبادہ اوڈھا جاتا ہے، تو کبھی کثیر تباہی پیھلانے والے ہتھیاروں کی روک تھام کا اور جب اس رہزنی کو برقرار رکھنے کی باری آتی ہے تو اس کیلئے مغرب کے سیکولر افکار جیسے جمہوریت اور انسانی حقوق کو نافظ کرنے کے نام کا چونا لگایا جاتا ہے۔ اس استحصالی اور ظالم سرمایہ دارانہ نظام نے دنیا کو آج اس سمندر کی مانند بنادیا ہے جہاں بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو نگل رہی ہیں ہی۔

سیکولزم پر مبنی سرمایا دارانہ نظریہ جب مادہ پرست اشتراکی نظرئے کو مات دے کر فارغ ہوا تو اسکا فطری تصادم وحی الہی سے پھوٹنے والے اسلام کے سچے اور حقیقی نظریے سے ہوا۔ یہ واحد اسلام کا فطری اور فکری عقیدہ ہی ہے جس نے نشاتہ ثانیہ حاصل کرنے کے عمل کیلئے انسان کے سب سے بڑے سوال ( عقیدہ الکبرا) کے حل کو لازمی قرار دیا ہے جسکے ذریعے ایک شخص کائنات کی تین مطلق حقیقتوں انسان، حیات، کائنات اور اسے قبل اور اسے بعد اور ماقبل اور ما بعد کے ساتھ انکے تعلق کے بارے میں درست کلی فکر تک پہنچاتا ہے۔ پس قرون اولی کے مسلمانوں نے اسی کلی فکر کو بنیاد کر عقیدہ اختیار کیا اور اس روشن عقیدہ سے مکی دور میں افکار اور مفاہیم حاصل کرنے کے بعد مدینہ میں ریاست اوراسلامی نظام کی بنیاد ڈالی جس نے دعوت اور جہاد کے زریعے اسلام کی اس مستنیر فکر کو ( enlightenedthought) کو پوری انسانیت تک پہنچانے کے مشن کو سر انجام دیا۔ اسلام کا یہ فکری طریقہ چار عناصر پر مشتمل تھا: دماغ ( جس میں غور و فکر کی صلاحیت ہو)، حواس (جن کے زریعے حقیقت کا احساس ہوتا ہے)، حقیقت ( موجودات یا واقعات) اور معلومات سابقہ ( یہ حقیقت کے بارے میں وہ معلومات ہے جو پہلے سے ہی دماغ میں موجود ہو)۔ عقل، فکر یا ادراک ہم معنی الفاظ ہیں، ان کا مطلب "حقیقت کو سمجھنے کیلئے حواس کے زریعے حقیقت کے احساس کو دماغ کی طرف منتقل کرنا جہاں موجود سابقہ معلومات سے اسکو ملاکر حقیقت کی وضاحت کی جائے اور یوں حقیقت کے بارے میں رائے تک پہنچا جائے۔"

چناچہ یہی وہ فکری برتری تھی جسے امت نے اسلامی عقیدے سے افکار اور اعمال اخذ کرکے ایک عظیم شان ثقافت کی بنیاد ڈالی، جس نے آگے چل کر تیرہ سو سال تک عالم انسانیت کی قیادت سنبھالی اور دنیا کو عظیم شان سیاست داں، مفکر، مجتہد، فقہا اور قاضیوں کی فوج کے ساتھ ساتھ تجرباتی سائنس جیسے انجینئرنگ، کمیسٹری، فزکس اور طب وغیرہ میں ایسے دانشور عطا کئے کہ جنہوں نے ریاست خلافت اور امت مسلمہ کو اقوام عالم اور دیگر امتوں میں اولین ریاست بنانے کی زمہ داری اٹھائی اور خلافت کو اپنی آئیڈیلوجی کی بنیاد پر ایک بااثر اور طاقتور ریاست بنادیا جو اپنی فکر اور معیشت کے حوالے سے کسی کی تابع یا ایجنٹ نہ رہی جوکہ آج کی تمام سیکولر اور وطن پرست مسلم حکومتوں کا حال ہے۔ یہ کفریہ حکومتیں اور انکے حکمران ہی وہ مغربی ایجنٹ ہیں جنکو استعمار نے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کر کے مسلمانوں پر مسلط کر دیا جو آج تک اپنے کافر مغربی آقاؤں کی ائما پر امت پر انکی کفریہ ثقافت کو مسلط کئے ہوئے ہیں جسکے نتیجے میں مسلمان فکر اور جزبہ دونوں لحاظ سے مغربی ثقافت کے گرویدہ ہوچکے ہیں۔ مغرب کی اس مادی غلامی سے آزادی کیلئے ناگزیر بن گیا ہے کہ امت کو انکے فکری چنگل سے آزاد کیا جائے ٹھیک اسی طرح جس طرح رسولﷲﷺ نے مدینہ میں ریاست اسلامی کے قیام سے پہلے مکی دور میں مسلمانوں کو جاہل افکار اور تصورات سے پاک کرکے انکو اسلامی افکار اور تصورات سے لیس کیا۔ چناچہ یورپ عسکری میدان میں جب بار بار مسلمانوں سے پٹا تو بنجمن ڈیسرائلی نے برطانوی پار لیمنٹ میں قرآن مجید کو ہلا کر کہا کہ "جب تک مسلمانوں سے اس کتاب قران کو چھینا نہیں جاتا اٌنکو ہرانا ناممکن ہے"، اور یہی وہ گھڑی تھی کہ جسکے بعد مغرب نے مسلمانوں کی فکر کو ٹارگٹ بنایا۔

یہی وہ ہدف تھا جسکی تکمیل کیلئے مغرب نے چالاکی سے ریاست خلافت میں مشینریز کو داخل کراکے اپنی سیکولر تہذیب کو پھیلانا شروع کیا اور یہی مغربی تہذیب فی الحقیقت وہ خنجر تھا جس نے اسلامی ریاست پر حملہ کیا اور اس طرح مجروح کیا کہ ریاست نے دم ہی توڑ دیا۔ اسی خون آلود خنجر کو پھر اس ریاست کے بیٹوں کو بڑے فخر سے دکھا یا گیا کہ ہم نے اسی سے تمہاری ماں کو ختم کیا ہے کیونکہ وہ بیمار تھی اور ایک ماں ہونے کا حق نبا نہیں رہی تھی اور اب تمہارے لئے ایسی زندگی ہوگی جس میں تم خوشیوں اور خوشحالی کے مزے لوٹو گی۔ پھر ان بیٹوں نے اسی قاتل سے ہاتھ ملایا جس کے ہاتھ کے خنجر پر ابھی بھی وہ خون تھا جو کبھی انکی ماں کے جسم میں گردش کرتا تھا۔ چناچہ یہ خلافت ہی وہ ماں تھی جو تیرہ سو سال تک اپنے بچوں کی حفاظت کرتی رہی اور جب یہ دم توڑ گئی تو امت یتیمی کے اس دور میں داخل ہوئی جہاں کفار یکے بعد دیگرے ان پر چڑھ آئی۔ یہ وہی خلافت تھی جس کے سائے تلے اسکے بیٹوں نے تین برعظم فتح کئے اور یہ اسکا دم توڑنا ہی تھا کہ امت سے بیت المقدس اور بابری مسجد چھن گئی۔ ہاں یہ وہی خلافت تھی جسکے سائے تلے امت لڑتی اور اپنی حفاظت کرتی تھی اور یہ اس کی عدم موجودگی ہی ہے کہ آج امت نہ لڑھ پاتی ہے اور نا ہی اپنا دفاع کرپاتی ہے ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */