واقعہ کشمور - ناہید خان

واقعہ کشمور پر ہر آنکھ اشکبار ہے پچھلا واقعہ ذہن سے محو ہوتا نہیں کہ دوسرا پہلے سے بھی زیادہ لرزہ خیز بن کر سامنے آجاتا ہے کیا وجہ ہے کہ ہم ہر بار رو دھو کر لعن طعن کرکےمطمعن و خاموش ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ میڈیا پر اتنا شور مچنے اہل اقتدار کے دھواں دھار بیان کے بعد آئندہ کوئی ایسا واقعہ ظہور پذیر نہیں ہوگا اور ایسے بیانات سے مجرموں کے ہوش ٹھکانے آ گئے ہونگے اور اب کوئ ایسی جرأت کا سوچے گا بھی نہیں مگر ہوتا یہ ہے کہ موجودہ واقعہ پچھلے واقعے سے بھی زیادہ خوفناکی کے ساتھ آموجود ہوتا ہے اور واقعے کے رونما ہوتے ہی ایک بار پھر میڈیا پر ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی اک دوڑ سی لگ جاتی ہے کچھ دن بعد یہ نورا کشتی بغیر کسی پیش رفت کے اپنے انجام کو پہنچتی ہے (جیسے تھک کر آئندہ کی تیاری میں ہوں) اور ہم بھولی عوام اسی انتظار میں رہتے ہیں کہ اب کوئی بل یا کوئی ایسی سزا عمل میں آئے گی جو آئندہ ایسے جرائم کو روکنے کا سدباب بن سکے۔

غور کا مقام ہے کہ مجرموں کی اس دیدہ دلیری کے پیچھے کون سے عوامل کار فرما ہیں جو مجرم اتنے شور و لتاڑ کے باوجود اتنے نڈر اور بے باک ہو جاتے ہیں کہ محسوس ھوتا ھے یہ سب زبانی و میڈیائی اکھاڑ پچھاڑ مجرمان کے لۓ دہشت کے بجاۓ ہر زاوۓ سے اگلا جرم کرنے کی motivational talk ھوں ملک میں اس قسم کے بڑھتے ہوۓ واقعات اس کا بیّن ثبوت ھیں ۔ایک طرف ایسے اندوہناک حادثات کی بڑی وجہ ریاستی قانون میں قرار واقعی سزاؤں میں نرمی اور چھوٹ ھے تو دوسری طرف کلمہ کی رو سے حاصل کئے گئے ملک میں جہاں منبر ومحراب کلیدی حیثیت رکھتے ہوں جہاں عوام کا ایمان علماء کے منہ سے نکلے ہوۓ الفاظ ہوں وہاں ایسے مشائخ کی خاموشی مجرمانہ غفلت کے برابر ہے علمائے کرام نے اپنے پیرؤوں کو صرف جُزوی عبادات تک محدود رکھا ھوا ھےجن میں سے اکثریت صرف ایک دوسرے سے مذہبی مقابلے کے لۓ کشت وگریباں ھیں دینی و اخلاقی تربیت تو انہی منبروں سے نکلنی تھی مگر افسوس وہاں اہم ہے تو یہ ہے کہ چاند رات کب ہوگی جشن نبوی منایا جائے یا نہیں شب قدر کے روزے زیادہ اہم ہے یا شب معراج ہوئی تھی یا نہیں ہر کسی کو آسانی سے کافر کہہ دینا عبادت کا درجہ بنا لیا گیا ہے جبکہ اسوہْ رسولﷺ کی طرف دیکھیں تو مسجد نبوی ﷺ عبادات کے ساتھ بیک وقت پارلیمنٹ بھی ہے جہاں لوگوں کے مسائل بھی حل کیے جاتے ہیں دینی و اخلاقی تربیت بھی کی جاتی ہے جنگ و حرب کی تیاری بھی وہیں ہوتی ہے اس طریقے کا شائبہ بھی کیا آج ہمیں نظر آتا ہے ؟ کیا آج ہمارے بڑے مسائل صفائی، بےروزگاری ،تعلیم، کرپشن،سود وغیرہ نہیں ہیں؟ ان کے ماخذ پر منبر سے انگلی کیوں نہیں اٹھتی یہ قوم اتنی جنونی جو ہورہی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حیائی و بے حجابی ہے جنسی بے راہ روی اس کا ہی پیش خیمہ ہے جو میڈیا کے ذریعے ہر سو پھیلا دی گئی ہے۔ہمارا ملک پاکستان لا الہ الا اللہ پر ہے اور ہمارا طریقہ رسولﷺ کی سنت ہے تو یہ طریقہ کب اور کہاں نافذ ہوگا ؟

جو کہتے ہیں کہ اسلامی سزائیں ظلم ہیں تو وہ ذرا اپنی آنکھیں کھولیں اور ظلم ہوتا کیا ہے وہ اس معصوم بچی سے پوچھیں (کشمور واقعہ) جو اپنی معصومیت کے بنا پر خود پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹنے کے باوجود بھی درندہ صفت انسان کو انکل کہہ رہی ہے ظلم دیکھنا ہے تو رات کے وقت شہر کےمخصوص چوراہوں پر چلے جائیے جہاں پیٹ سے مجبور کمسن لڑکے اپنی عزت بیچ رہے ہیں یا ظلم دیکھنا ہے تو ان خاندانوں کو دیکھیں جن کی اس ہوشربا مہنگائی نے چیخیں نکال دی ہیں( حالیہ کشمور واقعہ میں ماں اور بچی روزگار کے جھانسے کی وجہ سے اس ظلم کا شکار ہوئی ہیں ) بے روزگاری سے تنگ آکر لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں ظلم کی بے شمار داستانیں ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہوتیں۔ جنسی ہوس بڑھانے کے عوامل میڈیا پر ڈراموں فلموں ،کمرشلزکی صورت ہمارے سامنے موجود ہیں جن سے "فیض یاب "ہماری خواتین بے حجابی کا مرقع بنی نظر آتی ہیں اور درندہ صفت انسانوں کا ہیجان ڈرامے اور کمرشلز دیکھ کر دوچند ہورہا ہے اور ایسے شرمناک واقعات کو جنم دیے رہا ہے۔واقعہ کشمور جہاں دکھ کا باعث ہے وہاں اس سوال کا جواب بھی چاہتا ہے کہ اس قسم کے پے درپے واقعات عوام کی کس قسم کی ذہن سازی چاہتے ہیں بار بار ایسے مناظر کے ذریعے عوام کو ذہنی بے حسی کی طرف کیوں گھسیٹا جا رہا ہے ایسے میں حکومت ہے کہ اعلان و بیان سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں اور منبرومحراب اپنی پسند و فائدے والے دین پر قائم ہیں بیشتر ذرائع ابلاغ فحاشی پھیلانے کے اڈے بنے ہوئے ہیں سوال یہ ہے کہ ایسے میں معاشرے کے اخلاق و کردار کو کون سنوارے گا۔

پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے اور اسلام صرف ایک مذہب نہیں بلکہ دین ہے ایسا شاندار طریقہ جو زندگی کے ہر معاملے میں اعتدال کے ساتھ رہنمائی کرتا ہے چاہے وہ مذہبی ہوں معاشی ہوں یا معاشرتی ہر مسئلے کا حل اس میں موجود ہے ۔اب حالات ایسے ہیں کہ صاحب اقتداران کو اس پر سنجیدگی سے سوچنے اور ایسے بدبودار نظام جس میں ایسے مجرمین کو تحفظ ملے بدلنے کی فوری ضرورت ہے اس لۓ اسلامی قوانین و سزائیں ناگزیر ہیں اور تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی ان پر عمل ہوا اس کے فیوض و برکات دنیا نے دیکھے ہیں اور ہم جو اس دین کے جانشین ہیں اگر آج انہیں اپنالیں تو آپ ﷺ کے فرمان کے مطابق صنعا سے حضر موت تک ایک عورت سونا اچھالتی جائے گی مگر اسے کسی گا ڈر نہ ہوگا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */