رب کی آغوش - افشاں شاہد

ایک شخص ایک بزرگ کے پاس گیا ۔ اور بہت پریشانی کی حالت میں سوال کرنے لگا" با با جی میرے دل کو سکون نہیں ملتاکسی صورت۔دعاکر دیں میرے لیے"فرمایا"دل کا سکون تو رب نے اپنی یاد میں رکھا ہےبیٹا۔تو کہاں تلاش کر رہاہے؟

میری تھکن ساری دنیا

میرا سکون ذکر الہی

بزرگ اس شخص کے کندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھتے ہوئے فرمانے لگے" بیٹا ایک بچہ ماں کی گود میں آتے ہی سکون محسوس کرنے لگتا ہے ایسے ہی جب بندے کو سکون چاہیے تو اس کو بھی ستر ماؤں سے بڑھ کر پیار کرنے والی ذات کی آغوش میں آ جانا چاہیے" وہ شخص حیرت سے بزرگ کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے بولا" باباجی رب کی بھی آغوش ہوتی ہے بھلا؟ بزرگ آہستگی سے مسکراتےہوئے فرمانے لگے" ہاں بیٹا ہوتی ہے اور پتہ ہے رب کی آغوش کیا ہے توبہ، توبہ ہے رب کی آغوش۔ بندے کو سکون اس لیے نہیں ملتا کیوں کہ اس کے گناہ اس کو بے چین کیے رکھتے ہیں اور جب وہ سچے دل سے رب کی بارگاہ میں گڑگڑاتے ہوئے ،روتے ہوئے اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے تو سکون اس کے اندر اترتا چلا جاتا ہےاور ایک مومن توبہ کرکے اللہ کی پناہ حاصل کر لیتا ہے

گناہ چھوٹا ہو یا بڑا ایک مومن کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کا رب بڑا غفور الرحیم ہے ، معاف کرنے والا ہے ،اپنےبندوں کو مہلت دیے رکھتا ہے وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرکے ان کی برائیوں کو نیکیوں میں بدلنے والا ہے، کوئی سچے دل سے بخشش کا طلب گار ہوتو سہی۔

بزرگ فرمانے لگے" بیٹا کمزور ایمان والے لوگ شیطان کےتمام حربوں کا شکار ہو جاتے ہیں شیطان کمزور ایمان والوں کو اپنے جال میں پھنسانے میں کامیاب ہوجاتا ہے ان کے دلوں میں وسوسے ڈال دیتا ہے جس سے خود کو بچانا ہی اصل کامیابی ہے۔قرآن میں اللہ فرماتا ہے کہ خدا ہر اس شخص کو معاف کرے گا جو خلوص دل کے ساتھ توبہ کرتا ہے، بخشش طلب کرتا ہے اور پھر اسی گناہ کےارتکاب سے بچنے کی کوشش بھی کرتا ہے"اور جو شخص گناہ کے بعد توبہ کرے اور نیکوکار ہو جائے تو خدااس کومعاف کردے گا کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے۔" (5:39)

بابا جی فرمانے لگے بیٹا جب تنہائی میں ندامت کے آنسوؤں کے ساتھ توبہ کرکے اپنے رب سے باتیں کرو گے تو تمہیں لگے گا کہ رب صرف میرا ہی ہے اور میری ہی سن رہا ہے ،اس سکون کے ساتھ تمہیں احساس ہوگا کہ رب تم سے کتنا پیار کرتا ہے۔یہی سکون ہم سب کے لئے دنیا اور آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے اور یہ سکون ہمیں تب ہی ملے گا جب ہم اس کی آغوش میں آجائیں گے، اس کی توبہ کی آغوش میں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */