خدا کو homosexuality کیوں بری لگتی ہے؟ - عظیم الرحمن عثمانی

سوال: خدا کو homosexuality کیوں بری لگتی ہے؟ یا اسے کیا مسئلہ درپیش ہے ہم جنس پرستی سے؟

جواب: اگر کوئی خدا کو نہیں مانتا یا خدا کو تو مانتا ہے اس کے دین اسلام کو نہیں مانتا۔ تب وہ بھلے ہم جنس بنے یا بنا نکاح بچے پیدا کرے۔ اس کا معاملہ الگ ہے اور یہ خالص اس کی چوائس پر مبنی ہے۔ جس کے ممکنہ اخروی نتائج کا بھی وہی ذمہ دار ہوگا۔

مگر اگر کوئی دعوی کرتا ہے کہ وہ مسلم ہے یعنی دینی احکام کے سامنے اپنی مرضی کو سرینڈر کرنے والا ہے۔ تب اس کے لیے ہم جنسی سمیت بہت سی پابندیاں منتظر ہیں۔ اب وہ من مانی نہیں کرسکتا بلکہ وہ احکام الہی پر سر تسلیم خم کرتا ہے۔ ایک ہے حکم کی "علت" اور دوسری شے ہے اس حکم کی "حکمت". "علت" اس بنیادی وجہ یا نتیجے کو کہتے ہیں جس کی بنیاد پر حکم صادر کیا گیا. جبکہ حکمت ان ممکنہ فوائد کا نام ہے جو اس حکم کی بجاآوری سے عامل کو حاصل ہوسکتے ہوں.
.
الہامی حکم کی "علت" قران و سنت کے نصوص سے ہی معلوم ہوسکتی ہے. اسے فقط غور و فکر سے گھڑا نہیں جاسکتا. دین میں رب العزت نے کچھ احکامات کی "علت" بیان فرمادی ہے اور کچھ کی نہیں. جن کی بیان فرمادی انہیں ہم کسی کمی و بیشی کے بغیر من و عن تسلیم کرتے ہیں. جن کی نہیں بیان کی ان کے بارے میں کسی بھی خامہ فرسائی سے گریز کرتے ہیں.

دھیان رہے کہ جب آخری درجہ میں حکم کا من جانب اللہ ہونا ثابت ہوگیا تو اب ایک مسلمان کی عقل اپنے بنانے والے کی نازل کردہ وحی کی پابند ہوگئی. اب یہ احکامات کی پوشیدہ حکمت تو ضرور کھوج سکتی ہے، طالبعلمانہ سوالات تو کرسکتی ہے مگر ان احکامات کے قبول و رد کا میعار ہرگز نہیں بن سکتی. حکمت کا جاننا یا نہ جاننا اب احکام پر عمل کرنے یا نہ کرنے کی دلیل نہیں بن سکتا. اب تو بس سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کا اصول لاگو ہوگا یعنی 'ہم نے سنا اور اطاعت کی'.

ہم جنسی کی کوئی متعین علت بیان نہیں کی گئی۔ البتہ کئی حوالوں سے اس کے حرام ہونے کی حکمت نظر آتی ہے۔ پہلا اس کا "انسانی" فطرت کے اعتبار سے غیر فطری ہونا۔ حیوانات میں الگ الگ فطرت ہوسکتی ہے۔ انسانوں کے سواد اعظم نے البتہ ہمیشہ اجتماعی سطح پر مخالف جنس سے تعلق کو قبول کیا ہے۔ استثنات ہر معاملے میں ہوتی ہیں تو یہاں ہم جنسی کے حوالے سے بھی اقلیت میں یہ معاملہ نظر آجاتا ہے۔ گو ہم اسے انسانی فطرت کے مسخ ہونے سے تعبیر کرتے ہیں۔ پیدائشی طور پر اگر کوئی جسمانی مسئلہ نقص ہو جیسے دونوں جنسوں کے اعضاء ہونا تو اس کی درستگی کرنا یا پھر ایک جنس کا آپریشن سے تعین کردینا جائز ہے۔ ورنہ ہر صاحب شعور کے لیے واضح ہے کہ انسانی شرم گاہیں مخالف جنس کی تسکین کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں اور ہم جنسی کی تائید نہیں کرتی۔

اسی طرح مرد اور عورت کو "کراس ڈریسنگ" سے روکا گیا ہے کہ یہ بظاہر معصوم حرکت آگے چل کر نفسیاتی پیچیدگی میں ڈھل جاتی ہے، جس سے ایک مرد کسی عورت کی طرح اٹھنے بیٹھنے لگتا ہے۔ اسلام جہاں پردے کا خاص اہتمام ہے وہاں اس طرح کی مائنڈ کرپشن مزید پیچیدگی پیدا کردیتی ہے۔ افزائش نسل کے لیے بھی ظاہر ہے یہ ایک نقصان دہ عمل ہے۔ اگر افزائش نسل کی بجائے صرف حظ اٹھانا ہی مقصود ہو تو پھر سدھے ہوئے جانوروں سے تعلق میں بھی کوئی حرج باقی نہ رہے گا۔ پھر بچے کی تربیت کے لیے ماں اور باپ دونوں کا کردار ضروری ہے۔ جو ہم جنس جوڑوں میں ناممکن نہیں تو نہایت کٹھن ضرور ہے۔ آخری بات یہ کہ دین پاکیزگی کی جانب بلاتا ہے۔ غلاظت نکالنے کی جگہ سے دخول کو ناپسند کرتا ہے۔ بھلے وہ بیوی ہی کیوں نہ ہو۔

یہ دین سے متعلق چند بنیادی باتیں ہیں جو میں نے درج کردیں۔ باقی میں جانتا ہوں کہ جس نے نہیں ماننا یا جو پہلے ہی ملحد یا شدید متشکک ہے اس نے ہر بات کی کوئی نہ کوئی نفی یا تاویل ڈھونڈ نکالنی ہے۔ اسی لئے عمومی طور پر گفتگو ان ضمنی موضوعات پر پہلے کبھی نہیں کی جاتی۔ بلکہ پہلے اصولی ایمانیات پر گفتگو ہوتی ہے جیسے کیا خدا ہے؟ یا کیا قران اللہ کی کتاب ہے؟ یا کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوی نبوت واقعی سچا ہے؟ وغیرہ یہ واضح ہوجائے تو پھر اس طرح کی موشگافیاں خود ہی دم توڑ دیتی ہیں۔ ورنہ ایک کے بعد دوسرا سوال کسی نہ ختم ہونے والے سلسلے کی مانند منتظر رہتا ہے۔

Comments

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمن عثمانی

کے خیال میں وہ عالم ہیں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ ان کا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ ’طالب علم‘. خود کو کتاب اللہ قرآن کا اور دین اللہ اسلام کا معمولی طالب علم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */