محبت کی قضا نہیں ہوتی - عارف انیس ملک

برادرم قاسم علی شاہ نے میری کتاب "آئی ایم پاسیبل" سے ایک جملہ پوسٹ کیا تو بہت سے لوگوں نے پوری کہانی پڑھنے کی فرمائش کی. پیش خدمت ہے. مجھے یاد ہے کہ جب میں نے لکھتے لکھتے ختم کیا تھا تو کاغذ میرے آنسوؤں سے بھیگ چکے تھے. قدرے طویل ہے، لیکن محبت کرنے والوں کے اندر کچھ سلگا دے گی.

محبت کی قضا نہیں ہوتی!!!

اس روز میں نے ایک دن میں تیسری مرتبہ اپنا سر پیٹا تھا۔ لکھنے کی میز پر روشنائی کی دوات الٹی ہوئی تھی۔ نفسیات پر سیمینار کے حوالے سے لکھی ہوئی رپورٹ ورق ورق ہو چکی تھی۔ ٹیبل کلاک کے سیل نکلے پڑے تھے اور موبائل فون اوندھے منہ گرا ہوا تھا۔ میز کے دونوں دراز کھلے ہوئے تھے۔ نچلے دراز میں پڑی ہوئی فائلوں پر گندے رومال کے ساتھ ہی کیچڑسے بھرا ہوا ایک جوتا پڑا تھا۔

میں تھوڑی دیر سکتے میں کھڑا غصہ چبا تا رہا۔ ”بی بی! میری میز پر دوات تم نے الٹی ہے؟“ میں نے مٹھیاں بھینچتے ہوئے اپنی بیوی عظمیٰ، جسے پیار سے سب بی بی کہتے تھے، سے پوچھا، وہ اس وقت ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی بال خشک کر رہی تھی۔

”نہیں بھئی مثال نے الٹی ہو گی“ اس نے میرے طنز کو سمجھے بغیر پاٹ دار لہجے میں جواب دیا۔ میں نے ایک لمبی سانس بھری اور اسی وقت فیصلہ کیا کہ اب میں اپنی ڈیڑھ سالہ سالہ بیٹی "مثال" سے نپٹ لوں گا۔

لیکن خیر یہ توکل کی بات تھی۔ آج میں پھر اسی ٹیبل پر کچھ کاغذ اور قلم سنبھالے بیٹھا ہوں۔ مجھے دو دن بعد بچوں کی نفسیات کے سلسلے میں منعقد ایک کانفرنس میں مقالہ پڑھنا ہے۔ میرے سامنے تین چار کتابیں کھلی ہوئی ہیں اور میں ہونٹ چباتے ہوئے کچھ سوچنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ بی بی میری بہنوں رفعت اور امےّ کے ساتھ اپنے بھائی کی شادی کی تیاری کے لیے خریداری کرنے گئی ہوئی ہے اور میں گھر میں اکیلا....... ناں جی ناں، میں اکیلا کہاں ہوں؟ میری بیٹی مثال میرے ساتھ ہی گھر میں موجود ہے۔

”لیکن وہ ہے کہاں؟ میں نے اس کا خیال آتے ہی اس کی تلاش میں نظریں دوڑائیں۔ کمرہ خالی ہے۔ مثال ضرور دوسرے کمرے میں لڑھکتی پھر رہی ہو گی۔ ا س کے ہاتھ میں کیلنڈر سے پھاڑا ہوا کچھ حصہ یا شاید فون کا ریسیور یا وائی فائی کا پلگ ہو گا جو وہ اکثر کھینچ کر تاروں کو ڈبیا سے اُکھاڑ لاتی ہے۔ ہو سکتا ہے وہ اپنے چھوٹے پیانو پر کہنیاں یا پاؤں چلا کر کھلکھلا رہی ہو۔ بہر حال اطمینان کی بات یہ ہے کہ وہ دوسرے کمرے میں ہے۔ لیکن.......لگتا یہی ہے کہ یہ اطمینان عارضی ہے۔ لگتا ہے کہ آج بھی مثال کا اور میرا ٹکراؤ ہو کر رہے گا۔

مثال کے روزمرہ کے اکثر معمولات میرے پلان سے الجھ جاتے ہیں، وہ اس وقت ٹی وی کی پوری آواز کھول دیتی ہے جب میں لکھنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہوں اور معمولی سی چاپ سننے کا بھی رودار نہیں ہوتا۔ جب میں تھک ہار کر گھنٹے دوگھنٹے کے لیے قیلولہ کرنے کے لیے لیٹتا ہوں تو وہ اس وقت اپنا ننھا جھاڑو قالین اور صوفے پر مارتے مارتے میرے سر اور کپڑوں سے بھی مٹی جھاڑنا شروع کر دیتی ہے۔ اگر دفتر کے کوئی ساتھی اپنی بیگم کے ہمراہ ہمارے ڈرائینگ روم میں بیٹھے چائے پی رہے ہوں تو وہ بڑے اطمینان سے اپنا دودھ کا کپ ان کے کپڑوں یا قالین پر خالی کر دیتی ہے۔ کبھی کبھی وہ میری کتابوں کے شیلف کے کسی خانے میں گھس کر آرام کرتی ہوئی پائی جاتی ہے. شیلف میں لیٹنے کے لیے وہ کتابوں کو کان پکڑ کر باہر نکالتی ہے تو کان اس کے ہاتھوں میں رہ جاتے ہیں۔ جب میں اپنے باس یا کسی دوست سے فون پر ضروری گفتگو میں محو ہوتا ہوں تو وہ خاصی تگ ودو سے فون کی تاریں سوئچ سے باہر کھینچ کر میرے ہاتھ میں پکڑا دیتی ہے۔ صوفوں کی تاروں کی لچک کی پڑتال کے لیے وہ اکثر ان پر چھلانگیں لگاتی ہی رہتی ہے۔

ارے صاحب، پھر وہ منحوس ہامون گڈا...... جو اپنی زندگی کے عروج کے دن گزار چکا ہے۔ ایک سال پہلے طارق بھائی نے مثال کی سالگرہ پر اسے وہ کنگ سائز گڈا تحفے کے طور پر دیا تھا۔ اس وقت اس کا نام ”ڈمپٹی“تھا اور سرپر سنہرے بالوں کے علاوہ ہونٹوں پر دل آویز مسکراہٹ تھی۔ گڈے سے مثال کی فوراََ دوستی ہو گئی۔ سب سے پہلے اس نے ڈمپٹی کا نام تبدیل کرکے اسے کسی ٹی وی ڈرامے کے کردار ہامون کا نام دے دیا، پھر اس نے اس کے سنہری بال کالے کرنے کی کوشش کی۔ خیر..... ہامون سے اس کی گاڑھی چھننے لگی۔ اکثر وہ اس کے کانوں میں سرگوشاں کرتی ہوئی اور اس کی باتوں کے جواب میں سرہلاتی ہوئی پائی جاتی ہے۔ تین دن پہلے میں نے ہامون کا حلیہ دیکھا تو اس کی حالت غیر تھی۔ سر سے آدھے بال اور ایک گال غائب تھا۔ داہنی آنکھ کی جگہ گڑھا پڑا ہوا تھا اور وردی لیرولیر ہو چکی تھی، ٹانگوں اور بازؤں پر چھترول کے واضح نشان موجود تھے اور اس سے بھیڑوں جیسی بو آرہی تھی۔ میری بیوی نے اس کی صفائی ستھرائی کے لیے اسے واشنگ مشین میں ڈال دیا۔ جب اسے مشین سے باہر نکالا گیا تو اس کی بائیں ٹانگ اور دایاں بازو اُڑچکا تھا۔ پیٹ سے نکلی ہوئی فوم ادھر اُدھر بکھری پڑتی تھی۔ بی بی نے دو گھنٹے کی مشقت کے بعد فوم واپس ٹھونس کر سی دیا۔ہمارا خیال تھا کہ مثال اس مجروح اور معذور ہامون کو پھینک دے گی، لیکن ہمارا خیال حسبِ معمول غلط ثابت ہوا۔ اب وہ جھاڑو دیتے وقت ہامون کو ایک ٹانگ سے زیادہ آسانی سے اُٹھا لیتی ہے۔

خیر تو میں اس وقت خالی ذہن لیے سادہ صفحے کو گھورہا ہوں کچھ دیر بعد مجھے بچوں کی نشو ونماکے سلسلے میں فرانسیسی ماہر نفسیات پیاچے کی تحقیق کے بارے میں ایک نکتہ سوجھتا ہے۔ میں جیسے ہی ایک سطر لکھ چکتا ہوں میز پر دستک کے ساتھ ہی بب بب کی آواز گونجتی ہے۔ مثال دوسرے کمرے سے آچکی ہے۔

”بب،بب،بب، بب“ اس کی آنکھیں چمک رہی ہیں اور وہ قالین پر پاؤں پٹخ رہی ہے۔ بب، بب اس کا متوجہ کرنے کا کوڈ ہے۔ جب مجھے کوئی چیز دکھانا چاہتی ہو تو اس لہجے میں سگنل دیتی ہے۔

”دیکھو مثال! پیاجے نے تم جیسے بچوں کے بارے میں کچھ باتیں لکھی ہیں۔ تم نے کبھی پیاجے کا نام سنا؟“ میں نے خود کو پُرسکون رکھتے ہوئے اس سے پوچھا۔
”بب، بب، بب“ وہ قلقاری مار کر ہنستی ہے۔ اس کے ہونٹوں سے رال کے قطرے ٹپک کر گلے کے ساتھ لٹکے ہوئے گیلے رومال میں جذب ہو جاتے ہیں پھر وہ انگلی پکڑ کر کھینچتی ہے اور پاؤں پٹخنا جاری رکھتی ہے۔ مجھے اس کے ساتھ کھڑکی تک جانا ہی پڑتا ہے۔

کھڑکی کے بالکل سامنے والے درخت پر چار پانچ طوطے بیٹھے ہیں۔ ان کی چونچیں اتنی سرخ ہیں کہ لگتا ہے انہوں نے انتہائی تیز لپ سٹک لگائی ہوئی ہے۔ وہ باری باری پر پھڑ پھڑاتے ہوئے درخت کے گرد چکر کاٹتے ہیں۔ مثال کے چہرے پر خوشی نے بھنگڑا ڈال رکھا ہے۔ بب بب کی مسلسل آواز آرہی ہے۔ میں سوچتا ہوں ”پیاجے کی تحقیق کے مطابق...... اوہ میرے خدایا میں نے بی بی کے جانے کے بعد ابھی تک دروازہ ہی نہیں بند کیا“۔ میری نظر کھلے ہوئے گیٹ پر پڑتی ہے۔ مثال اچانک فراٹے بھرتی ہوئی دروازے سے باہر نکل جاتی ہے۔ اس کے پاؤں کی دھپ دھپ ابھی تک مجھے سنائی دے رہی ہے۔ پھر وہ اسی طرح کدکڑے لگاتی ہوئی واپس آتی ہے۔ اس نے ہامون کو بالوں سے پکڑ ہوا ہے۔ ہامون کو کھڑکی کے شیشے سے لگا کر وہ ننھے منے ہاتھ سے طوطوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کے کان میں بڑ بڑاتی ہے۔بب، بب اور پھر شیشہ پیٹتے ہوئے ہنستی ہے۔ مجھے لگتا ہے جیسے ایک گال والا بدمعاش ہامون بھی مسکرا رہا ہے۔

میں اسے ہامون کے ساتھ باتیں کرتا ہوا چھوڑ کر گیٹ کا دروازہ بند کرنے کے بعد واپس میز کے سامنے آبیٹھتا ہوں۔ تقریباََ پانچ منٹ بعد مجھے دوبارہ دھپ دھپ کی بجائے ٹک ٹک کی آواز سنائی دیتی ہے۔ مثال اپنی ماں کے جوتے پہنے پھونک پھونک کر قدم رکھتی ہوئی آرہی ہے۔ اس کے دائیں ہاتھ میں نیلا مارکر ہے جس کی ٹوپی غائب ہے۔ اب وہ یقینا لکھنے میں میری مدد کرنا چاہتی ہے۔

”شکریہ مثال۔ میں اپنا کام کر لوں گا۔ تم جا کر بب بب دیکھو“ میں خطرہ بھانپ کر کھڑکی کی طرف اشارہ کرتا ہوں، لیکن مثال بہتر جانتی ہے کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔ وہ بھاگتی ہوئی چھوٹے دروازے سے کچن میں جا گھستی ہے۔

”چھن، چھن چھناک“ شاید شیشے کا کوئی برتن گرا ہے۔ اچانک مجھے نئے ڈنر سیٹ کا خیال آتا ہے۔ جسے میں اور بی بی پچھلے ہفتے صنعتی نمائش سے خرید کر لائے تھے۔ میں بجلی کی سی تیزی سے کچن میں پہنچتا ہوں لیکن تب تک شیشے کا بڑا جگ سائیڈ ٹیبل سے گر کر کئی حصوں میں بٹ چکا ہے۔ مثال دونوں ہاتھ باندھے میرے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مجھے مضمون لکھنے کی اتنی جلدی ہے کہ جگ ٹوٹنے پر بھی مجھے غصہ نہیں آتا۔ مجھے صرف یہ ڈر لگا کہ وہ کہیں اپنے پاؤں زخمی نہ کر لے سو اسے کچن سے نکال کر دروازہ بند کرتا ہوں اور واپس آکر کاغذ قلم سنبھال لیتا ہوں۔

”...... نشوونما کئی مختلف مراحل میں جا کر مکمل ہوتی ہے۔ اس حوالے سے کئی آراء پائی جاتی ہیں.......“

میں اس سطر تک پہنچتا ہوں کہ ایک ننھا سا ہاتھ میرے کوٹ کے بٹن کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ میرے سامنے مثال کھڑی ہے۔ اس کے ایک ہاتھ میں ٹاؤں، ٹاؤں کرنے والے جوتے ہیں جن کے اندر جرابیں لٹک رہی ہیں۔

اب میں آسانی سے اندازہ لگا سکتا ہوں کہ آگے کیا ہو گا۔ پہلے پہل وہ جوتے اور جرابیں گھسیٹ لاتی ہے پھر وہ میرے کالر کھینچتی ہے۔ میں جا کر بچہ گاڑی اُٹھا لاتا ہوں اور پانچ دس منٹ بعد ہم گھر کے سامنے والے پارک میں پہنچ جاتے ہیں۔ مثال ہاتھ میں پکڑی ہوئی گیند ادھر اُدھر دے مارتی ہے تاکہ میں اسے واپس اُٹھا کر پکڑا دوں۔ وہ یہ بھی تو قع کرتی ہے کہ میں اسےشہتوت یا پیپل کے درخت سے ایک دو پتے توڑ کر لادوں گا۔ وہ ان پتوں کو مٹھی میں جکڑ لیتی ہے اور پھر ڈگمگاتی ہوئی پھولوں کی روشوں کے درمیان بھاگتی ہے۔

میں اس کے ”طریقہ واردات“ سے اچھی طرح باخبر ہوں۔ میں وقتی طور پر اس کے مطالبے کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی بے ترتیب سوچوں پر زین کسنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اب وہ میرے گھٹنے پر اپنا سر رکھ دیتی ہے۔ یہ اس کا آزمودہ حربہ ہے۔ جب میں اسے توجہ نہ دوں تو وہ کوئی کنگھی، برش یا ٹوتھ برش اُٹھا کر میرے گھٹنوں پر سر رگڑ نے لگتی ہے۔ مجھے مجبوراََ اپنا کام روک کر اس کے بالوں میں کنگھی کرنی پڑتی ہے۔ پھر وہ بھاگ کر جوتے اور جرابیں اُٹھالاتی ہے...... بچہ گاڑی..... پارک...... لیکن نہیں، آج ایسا نہیں ہوگا۔ مجھے کانفرنس میں لازماََ مضمون پڑھنا ہے اور میرے پاس یہی دوتین گھنٹے فارغ ہیں۔ میں جی کڑا کر کے بیٹھا رہتا ہوں، وہ میرے گھٹنے سے سر رگڑتی رہتی ہے اور پھر کوشش ترک کر دیتی ہے۔میں اسے جاتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ وہ مجھ سے کچھ فاصلے پر بیٹھ کر جرابوں اور جوتوں سے نبردآزما ہو جاتی ہے۔ جھنجھلاہٹ کے آثار اس کے چہرے سے نمایاں ہیں۔ اس کے ہونٹ بھنچے ہوئے ہیں اور نتھنے تیزی سے پھول اور سکڑ رہے ہیں۔ وہ الٹی سیدھی جرابیں پہننے کی ہر ممکن کوشش کر ڈالتی ہے لیکن کامیاب نہیں ہوتی۔ اسی دوران وہ میری طرف آنکھیں اٹھاتی ہے۔ ہماری نظریں ملتی ہیں۔ میں جلدی سے نظریں چرا کر پھر اپنے کام کی طرف متوجہ ہو جاتا ہوں۔

میں چند ثانیے تک کاغذ کو گھورتا رہتا ہوں اور پھر ایک اور کتاب کھول کر ریفرنس دیکھتا ہوں۔ میری نظریں پھر مثال پر جم جاتی ہیں۔ وہ آرام کرسی پر پڑی ہوئی کارٹونوں کی کتابیں اور میگزین کھینچ رہی ہے۔ وہ ایک ایک کرکے چار پانچ میگزین اُٹھا لیتی ہے۔

کچھ دیر بعد وہ دوبارہ میرے کوٹ کے بٹن کھینچتی ہے۔ ’مثال‘ میں گرجتا ہوں۔ ”خدا کے لیے میری جان چھوڑ دو اور مجھے کوئی ڈھنگ کا کام کرنے دو۔ اپنی اس لائبریری کو لے کر چلی جاؤ یہاں سے“۔ میری چنگھاڑ اثر کر دکھاتی ہے۔ وہ ڈھیلے ڈھالے قدموں سے واپس چلی جاتی ہے، جب بھی میں اسے ڈانٹتا ہوں وہ دوبارہ مجھے تنگ کرنے سے گریز کرتی ہے۔ نہ میرے گھٹنوں پر سر رکھتی ہے، نہ میری کمر پر دستک دیتی ہے اور نہ ہی اپنے مارکر سے مجھے لکھنے میں مدد دیتی ہے۔

اب میں ایک دو پیرا گراف مزید گھسیٹتا ہوں۔ مضمون کے دو تین صفحے لکھے جا چکے ہیں لیکن ابھی ڈھیر سارا کام باقی ہے۔ میں لکھتے لکھتے پھر کنکھیوں سے مثال کی طرف دیکھتا ہوں۔ وہ صوفے سے اپنی پشت لگائے چپ چاپ کھڑی ہے۔ اس کے چہرے پر اداسی نے خیمہ لگایا ہوا ہے۔ وہ اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیاں منہ میں ڈالے انہیں چبا رہی ہے۔ اس کی پلکوں پر آنسو لرز رہے ہیں۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس کی آنکھوں سے دوموٹے موٹے قطرے ٹپکتے ہیں اور اس کے گالوں پر ہل چلاتے ہوئے فراک میں کہیں غائب ہو جاتے ہیں۔ ہامون اس کے بائیں ہاتھ میں موجود ہے۔ وہ دکھی چہرے والے ہامون کو اوپر اُٹھاتی ہے اور اس کی بچ جانے والی گال پر ہونٹ رگڑتے ہوئے اس کے واحد ہاتھ کو پکڑ کر اپنے گال پر تھپکی دیتی ہے۔ میں ایک طویل سانس لے کر اپنی کمر کو کرسی کے ساتھ ٹکاتے ہوئے چھت کی طرف دیکھتا ہوں۔

مجھے لگتا ہے کہ اوپر اللہ میاں بڑی توجہ سے یہ سارا کھیل دیکھ رہے ہیں۔ ایک ننھی منی لڑکی گڈے کو اُٹھائے رو رہی ہے کیونکہ اس کے باپ کے پاس اس کے لیے وقت نہیں ہے۔ بھلا کسی انسان کے لیے کسی دوسرے کی توجہ اتنی اہم ہو سکتی ہے؟ میں تخیل میں وہ لمحہ سوچتا ہوں جب میں اس معصوم روح کو قرآن کے سائے تلے اپنے گھر سے رخصت کر رہا ہوں گا۔ جب میری بچی بڑی ہو جائے گی تو چار چپھیرے کی ڈگڈگیاں اسے گھیر لیں گی۔ میں اس کے لیے اتنا اہم نہیں رہوں گا کہ وہ پورا دن مجھ سے کہانی سننے کے لیے میرا انتظار کرے۔ وہ اپنے بکھیڑوں میں اتنی مصروف ہو جائے گی کہ اسے میرے آنے اور جانے کا پتہ ہی نہیں چلے گا۔ کٹا پھٹا، ہامون اس کی زندگی سے غائب ہو جائے گا اور وہ ایک بااعتماد، حوصلہ مند اور پر عزم خاتون کا روپ دھار لے گی۔ اس وقت شاید مجھے اس کی توجہ کی ضرورت ہو گی۔ لیکن آج....... اس کی زندگی کی سب سے اہم ترین شخصیت میں ہوں۔ میری توجہ اس کے لیے دنیا جہاں کی ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہے۔

مجھے دل ہی دل میں ہامون گڈے پر سخت غصہ آیا۔ وہ میری بیٹی کو دلاسہ دے رہا ہے حالانکہ یہ میرا حق ہے. مجھے سوچ آئی ایک باپ اور بیٹی کے خالص ترین پیار کے دن تو یہی ہیں۔ بعد میں تو سب کو اپنی اپنی سوجھتی ہے.... ممکن ہے دس، بیس، تیس سال کے بعد بیٹی کو باپ کے ساتھ پارک میں جانا، جھولا جھولنا اور پیپل کے پتوں کو پکڑنا ہی یاد رہ جائے، باقی سب کچھ بھول جائے لیکن اگر اس کا باپ اس لمحے اسے نظرانداز کر کے مقالہ یا مضمون لکھتا رہا، تو اس کے ہاتھ کیا آئے گا۔ زیادہ سے زیادہ سو دو سولوگ جمائیاں لیتے ہوئے اس کی بور گفتگو سنیں گے، سرگوشیاں کریں گے کہ کیا گھٹیا چیز لکھی ہے اور کانفرنس ختم ہونے کا انتظار کریں گے تاکہ کیک اور چائے کا صفایا کر سکیں۔

”دئیر از اے سیزن فار ایوری تھنگ. نماز کی طرح محبت کا بھی ایک وقت ہے جب سب کچھ چھوڑ کر صرف محبت کرنی چاہیے. محبت کو اس کے جائز لمحے اورجائز وقت پر لوٹانا ہی اس کا حق ہے۔ محبت کا اصل لمحہ بیت جائے تو جذبات کھنڈر ہو جاتے ہیں۔ کھنڈروں میں کبھی بھی چاہت کے پھول نہیں اُگتے“ میں سوچتا رہا۔ ”مثال! مجھے ابھی ابھی خیال آیا ہے کہ ہمیں پارک چلنا چاہئے۔ میرا خیال ہے کہ تم جھولا جھولتے ہوئے بہت اچھی لگو گی۔ ہم پیپل کے پتے اور تتلیاں بھی پکڑیں گے۔ تم گیند بھی لے لو اور اپنا سرخ سویٹر بھی اُٹھالو کیونکہ آج تیز ہوا چل رہی ہے“ میں نے کرسی پرے دھکیلتے اور چٹکی بجاتے ہوئے یہ الفاظ کہے۔ پارک کا لفظ سنتے ہی مثال منہ سے انگلیاں نکال لیتی ہے۔ اس کا چہرہ پھول کی طرح کھل اُٹھتا ہے اور وہ بھاگ کر جرابیں اور جوتے اُٹھالاتی ہے۔

فرانسیسی ماہر نفسیات پیاجے - یار تجھے تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا۔ میں پارک جاؤں گا۔ مثال کے ساتھ کھیلوں گا اور پھر واپس آکر بچوں کے بارے میں تمہاری تحقیق پر لکھوں گا۔ سوری پیاجے، مجھے یقین ہے تم برا نہیں مناؤ گے۔ تمہی نے تو کہا تھا کہ ’

’اگر مجھے دوبارہ زندگی دی گئی تو میں اسی طرح سے زندگی گزار دوں گا۔ ہاں البتہ اپنی آنکھیں پہلے سے زیادہ کھلی رکھوں گا“۔

دوبارہ زندگی ملے تو تب دیکھیں گے، آنکھیں تو اب بھی پہلے سے زیادہ کھولی جاسکتی ہیں۔

محبت اپنا خراج مانگتی ہے۔ محبت کو پوری توجہ کے ساتھ اس کا خراج اسی وقت ادا ہونا چاہیے کہ محبت کی تو ویسے بھی قضا نہیں ہوتی.

Comments

عارف انیس ملک

عارف انیس ملک

عارف انیس ملک معروف تھنک ٹینکر، بین الا قوامی سطح پر معروف ماہر نفسیات اور پاکستان سول سروس سے وابستہ ہیں۔ نفسیات، لیڈرشپ اور پرسنل ڈیویلپمنٹ پران کی تین عدد کتابیں شائع ہو کرقبول عام حاصل کر چکی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */