فواد چودھری پر مفتی منیب الرحمان صاحب کی تنقید - ڈاکٹر محمد مشتاق

کئی سال پرانی بات ہے۔ عید کے دن ہمارے حجرے میں جب اچھا خاصا جمگھٹا ہوتا ہے، ایک صاحب جو ایک ہائی سکول میں اردو کے استاد تھے آئے ہوئے تھے اور فکرِ پرویز کی روشنی میں دانش کے موتی بکھیر رہے تھے۔ ایک بے چارے مولوی صاحب ان کے ہتھے چڑھ گئے تھے۔ مولوی صاحب کا دینی علوم پہ اچھا عبور تھا لیکن فکرِ پرویز سے متاثر ماسٹر صاحب کی طرح چرب زبان نہیں تھے۔ چونکہ ماسٹر صاحب کے کئی شاگرد بھی حلقے میں بیٹھے ہوئے تھے تو ویسے بھی ان کا پلڑا بھاری تھا۔ عام لوگ انگشت بدنداں کبھی ایک طرف تو کبھی دوسری طرف دیکھ رہے تھے۔ ہمارے بزرگ دیگر مہمانوں کی آؤ بھگت میں لگے ہوئے تھے۔

اتنے میں میرے ایک چچا نے دیکھا کہ حجرے میں اس طرف کوئی گرما گرم بحث ہورہی تھی۔ وہ آئے اور جب ماسٹر صاحب کو دیکھا تو فوراً ہی جان گئے کہ وہ فکرِ پرویز کی پرچار کررہے ہوں گے۔ انھوں نے مولوی صاحب کو مخاطب کرکے کہا:
مولوی صاحب، آپ بھی کس بحث میں الجھے ہوئے ہیں؛ ماسٹر صاحب سے صرف اتنا پوچھیے کہ پرویز عید کی نماز پڑھتا تھا؟ اگر ہاں ،تو قرآن میں عید کی نماز کہاں ہے؟

یہ سن کر ماسٹر صاحب کا رنگ اڑ گیا۔ ابھی تک وہ کارل مارکس، لینن، مذہب ایک چلا ہوا کارتوس ، مذہب افیون، اور پتہ نہیں کیا کیا فلسفہ بیان کررہے تھے۔ اب اچانک ہی جب یہ حملہ ہوا تو انھوں نے کہا: اس پر بعد میں بات کریں گے؛ میں اپنی بات مکمل کرتا ہوں۔

میرے چچا نے کہا:
ٹھیک ہے جب آپ اس پر بات کریں گے تو ساتھ ہی یہ بھی بتادیجیے گا کہ کیا پرویز کی نماز جنازہ پڑھائی گئی تھی؟ اگر ہاں، تو قرآن میں نماز جنازہ کہاں ہے؟

اب ماسٹر صاحب کی طبیعت مزید خراب ہوگئی۔ ایک حاجی صاحب، جو چٹے ان پڑھ تھے، اٹھ کر کہنے لگے:
خدائے دے خوار کہ، جنازہ نہ منی ، د اختر مونز نہ منی او تہ مونگ تہ ھغہ قیصے کئ؟
(خدا تمھیں خوار کرے، وہ جنازہ نہیں مانتا، عید کی نماز نہیں مانتا اور تم ہمیں اس کے قصے سنارہے ہو؟!)

اس کے ساتھ ہی ماسٹر صاحب کی محفل برخاست ہوگئی۔ سب لوگ کپڑے جھاڑ کر اٹھ گئے۔ میرے چچا نے مولوی صاحب کو مخاطب کرکے کہا: ایسوں سے دلیل سے بات نہیں کی جاتی؛ اس طرح صاف اور کھرے الفاظ میں پوچھا جاتا ہےتو عام لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی گمراہیوں کی اصل زد کہاں پڑتی ہے!

مفتی منیب الرحمان صاحب نے کل فواد چودھری سے روزوں کے متعلق پوچھا ہے تو بالکل درست پوچھا ہے۔ یہ نیکی کا تکبر نہیں ہے، نہ ہی یہ کوئی بداخلاقی تھی، بلکہ یہ ظاہری فسق کے متعلق، جو عام طور پر لوگوں کو معلوم بھی ہے، ایک سیدھا سادہ سوال تھا ، اور بالکل برمحل تھا۔ زاہد مغل صاحب کے الفاظ میں مفتی صاحب نے چودھری صاحب کو عوام کی نظر میں "ڈس کریڈٹ" کیا اور انھیں ایسا ہی کرنا چاہیے تھا۔ آخر چودھری صاحب نے بھی تو اپنے حلقۂ اثر (یعنی ہر وقت براے فروخت دستیاب لبرل دانشوروں اور مذہب بیزاروں) کی نظر میں سائنس سائنس کی تکرار کرکے مفتی صاحب، اور علماے کرام کے پورے طبقے کو، ڈس کریڈٹ کرنے ہی کی تو کوشش کی تھی۔ (یہ الگ بات ہے کہ چودھری صاحب کو خود سائنس، بالخصوص فلکیات ، کی ابجد کا بھی علم نہیں، جیسا کہ ان کے انٹرویوز میں واضح طور پر نظر آیا۔)

پھر یہ بھی تو حقیقت ہے کہ فواد چودھری نے پچھلے کچھ عرصے سے مسلسل رویتِ ہلال کے مسئلے اور دیگر مذہبی امور میں ٹانگ اَڑانے، دینی طبقے کا مضحکہ اُڑانے اور پشتو مقولے کے مطابق "ما مہ شمیرہ درگڈ یم" کا سلسلہ شروع کررکھا تھا۔ اب اچانک ہی سرمایہ دارانہ اخلاقیات کے علم برداروں کو اخلاقی تقاضے یاد آنے لگے ہیں ، بلکہ بعض تو یہاں تک کہنے لگے ہیں کہ چودھری صاحب تو محض مشورہ دے رہے تھے۔ ان اخلاقی بلیک میلرز کو یاد دلائیں کہ چودھری صاحب اب محض وکیل، یا کسی جج کے ٹاؤٹ ، نہیں بلکہ وفاقی وزیر ہیں اور وہ جو بھی مشورہ دینا چاہتے، وہ مذہبی امور کی وزارت کو باقاعدہ مراسلے کی صورت میں دے سکتے تھے؛ لیکن نہیں، انھوں نے تو تماشا کرنا تھا ؛ سو انھوں نے میڈیا کا سرکس سجا دیا؛ اب جواباً ان سے ایک سیدھا سادہ سوال پوچھا گیا، جس کا جواب چودھری صاحب کو جاننے والے تقریباً سبھی لوگ جانتے ہیں، تو اچانک ہی اخلاقی بلیک میلنگ شروع ہوگئی! کمال ہے بھئی ویسے!

مکرّر سن لیجیے۔ جو ہٹا کٹا انسان روزے رکھنے سے ڈرتا ہو ، وہ عید کی فکر نہ کرے اور جو سورۃ الاخلاص بھی نہ پڑھ سکے وہ کسی دینی موضوع پر بات کرنے کی جرات نہ کرے، خواہ وہ اعتزاز احسن کی طرح سپریم کورٹ کا سینیئر وکیل اور خود اپنی نظر میں کتنا ہی بڑا دانشور ہو۔
لکھ دیا تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آوے!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */