سُرنگ سے سرنج تک کا سفر ۔ عبدالخالق بٹ

وزیراعظم درویش انسان ہیں۔’نیازی‘ نام کا جُزاور’بے نیازی‘ ان کا وصف ہے۔ میرزا غالب کا ’بے نیازی حد سے گزری‘ والا شعرانہیں کی شان میں ہے۔ بَھول پن اور بُھلکڑپنا طبیعت کاخاصا ہے۔ وزیراعظم کہتے ہیں: ’گھبرانا نہیں‘ ۔۔۔ ’سکون صرف قبر میں ہے‘۔ اورخلق خدا کہہ رہی ہے:

اب توگھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے - مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
عوام سمجھداری برتیں تو کہیں نہ جائیں اور وہ ’ٹیکا‘ لگوائیں جس کے بعد وزیر اعظم کو نرسیں بھی حوریں دکھائی دینے لگیں تھیں۔ چوں کہ ہم غیرسیاسی آدمی ہیں اس لیے’ٹیکے‘ کےاثرات کے بجائے اس کے معنی سے بحث کریں گے۔ ’ٹیکا‘ ہندی زبان کا لفظ ہے۔آج کی اردو زبان میں ’ٹیکا کی نسبت سے لفظ انجیکشن، سوئی، سرنج اور ویکسینیشن‘ کے معنی گڈ مڈ ہوگئے ہیں۔ ٹیکا کہہ کرانجیکشن اور انجیکشن کہہ کر سوئی اور سرنج مراد لی جاتی ہے۔ اس قضیے میں ہمیں صرف سِرنج (syringe) سے دلچسپی ہے۔ دوا سرنج سے گزر کرجسم میں پہنچتی ہے۔ اب اس ’سرنج‘ کو ذہن میں رکھیں اورہندی لفظ ’سُرنگ‘ پر غور کریں۔ بات آسانی سے سمجھ آجائے گی۔ سُرنگ قدرتی بھی ہوتی ہے اور وہ بھی جو انسان یا جانوربناتے ہیں۔ یہ پہاڑ،زیرزمین یا زیرآب بنایا جانے والا ایسا راستہ ہوتا جس میں سے گزرکردوسری طرف پہنچا جاسکے۔ ایسا ہی کچھ ’سرنج‘ میں بھی ہوتا ہے جس میں گزرکے دوا جسم تک پہنچتی ہے۔ چونکہ اکثرموقعوں پرحرف ’گاف‘ اور ’جیم‘ ایک دوسرے سے بدل جاتے ہیں۔

جیسے جوہر سے گوہر، گمل سے جمل یا پلنگ سے بلنجہ وغیرہ۔ چنانچہ ہندی کی ’سُرنگ‘ انگریزی میں پہنچ کر سِرنج (syringe) ہوگئی۔ تاہم اس کے معنی میں اردو کی سی وسعت نہ رہی۔ دلچسپ بات یہ کہ سِرنج (syringe) جب یورپ سے ایران پہنچی تو وہاں اس ’سرنج‘ کواس کے محدود معنی کے ساتھ ’سرنگ‘ پکارا گیا۔اس سے پہلے کہ بات آگے بڑھے ’سرنگ‘ پر جناب ’منوررانا‘ کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں:
کسی غریب کی برسوں کی آرزو ہو جاؤں - میں اس ’سرنگ‘ سے نکلوں تو آب جو ہو جاؤں
سُرنگ کی اصل سنسکرت کا لفظ سُرگّا (सुरङ्गा/suragga)ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سنسکرت کے اس لفظ نے یورپی زبانوں میں سے فقط ایک معروف زبان ’یونانی‘ ہی میں راہ پائی ہے، چنانچہ سنسکرت کا ’سُرگّا‘ یونانی زبان میں’سِیراگا‘(Σήραγγα/Síranga) کی صورت میں موجود ہے۔ (واضح رہے کہ اس میں ’n‘ کی آواز نہ ہونے کے برابر ہے)۔ہندی اور اس کی رعایت سے اردو میں یہ لفظ ’سرنگ‘ ہے۔ جب کہ بنگالی زبان میں اسے مخصوص لہجے کے ساتھ ’شُورُنگا‘ کہا جاتا ہے۔
جنوبی ہند کی زبانیں ’درواڑی‘ گروہ سے متعلق ہیں تاہم ان میں بھی اس لفظ نے راہ پائی ہے۔

چنانچہ کرناٹکا کی ’کنّڈا/Kannda‘ زبان میں ’سُرنگا‘، تامل زبان میں ’سورنکم‘ اور ملیالم زبان میں’تورنگم‘ کی صورت میں مستعمل ہے۔ آپ سوال کرسکتے ہیں کہ ’گاف‘ کا حرف ’کاف‘ سے بدلنا تو معروف ہے شائد اس لیے تامل میں ’سورنکم‘ ہوگیا, مگر ملیالم میں حرف ’سین‘ حرف ’ت‘ سے بدل کر ’تورنگم‘ کیسے ہوا؟
عرض ہے کہ یہاں بھی آوازوں کا بدلاؤ (صوتی تبادل) کار فرما ہے۔ حرف’سین‘ اور حرف ’ت‘ کی آواز اکثر موقعوں پر بدل جاتی ہے اور ان دو آوازوں کی درمیانی آواز ’ث‘ ہے، جسے اہل برصغیر عام طورادا نہیں کرپاتے۔ اس لیے ’سین‘ بیشترمقامات پر براہ راست ’ت‘ کی آواز سے بدل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملیالم میں سنسکرت کا ’سُرگّا‘ کچھ تبدیلی کے بعد ’تورنگم‘ ہوگیا ہے۔ پھر یہ اثر آپ کو مشرق بعید کے بعض علاقوں میں بھی دکھائی دے گا۔ جیسا کہ مالے (malay)زبان میں، جو بورنیو،انڈونیشیا ،ملائیشیا اور سنگاپور کے بیشترعلاقوں میں بولی جاتی ہے،’سرنگ‘ کو ’تیروونگ /Terowong‘ کہتے ہیں۔ خاص انڈونیشیائی زبان میں یہ لفظ ’تیروونگان/Terowongan‘ اورمغربی جاوا(انڈنیشیا) میں رائج ’سندایی/Sundanese‘ زبان میں اس کا تلفظ ’تورونگان/Torowongan‘ ہے۔

یقیناً آپ ’سرنگ‘ کے طویل تذکرے سے اُکتا گئے ہوں گے، ایسے میں ’سرنگ‘ پر جناب رفیق سندیلوی کے شعر سے حِظ اٹھائیں اس کے بعد ہم عربی زبان کی رعایت سے منہ کا ذائقہ بدلیں گے: یہ چاپ، تیرگی، نیچے کو جا رہا زینہ - اسی سرنگ کے اندر وجود میرا ہے
پہلے بھی کہیں لکھ آئے ہیں کہ سُرنگ کو عربی میں ’نَفَقُ‘ کہتے ہیں۔ اصل میں جنگلی چوہے کے بل کوعربی زبان میں’نَفَقَ‘ کہا جاتا ہے۔ چوہا اس بل میں ایک طرف سے داخل ہوتا ہے اور خطرہ محسوس ہونے پر دوسرے رستے سے فرار ہوجاتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ کہ لفظ ’نفق‘ سے بننے والے الفاظ میں کسی نہ کسی طور پر ایک طرف سے آنے یا داخل ہونے اوردوسری طرف سے نکل جانے کا مفہوم شامل ہے۔ اول جنگلی چوہے کا بِل ’نَفَقَ‘ اور دوم سرنگ ’نَفَقُ‘ ہے۔ ان دونوں کے تلفظ میں معمولی سا فرق ہے مگر مفہوم دونوں کا یکساں ہے۔ ’نفق‘ ہی سے لفظ ’ نَفاق‘ بھی ہے۔ جس شخص میں’نفاق‘ پایا جائے اسے ’منافق‘ کہتے ہیں۔عربی زبان کے بڑے عالم لکھ گئے ہیں کہ : ’ایک دروازے سے حلقۂ اسلام میں داخل ہونے اور دوسرے دروازے سے نکل جانے کو نفاق کہتے ہیں‘۔اس سلسلہ کا ایک لفظ اِنفاق‘ بھی ہے۔

بظاہر اس میں گزرنے کا مفہوم دکھائی نہیں دیتا، مگر بغور دیکھیں تو بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے۔’ اِنفَاق ‘ کے معنی خرچ کرنے کے ہیں۔ یوں انفاق فی سبیل اللہ کا مطلب ہوا ’ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ‘۔ رہی بات لغوی معنی کی تو ’انفاق‘ کے عمل میں بندے کے پاس ایک طرف سے مال آتا ہے، جسے وہ دوسری طرف خرچ کردیتا ہے۔ اب لفظ ’نفقہ‘ کو دیکھ لیں۔ اردو میں ’نان نفقہ‘ کی ترکیب عام استعمال ہوتی ہے۔انسان اپنے گھر والوں پر جو کچھ خرچ کرتا ہے وہ نیکی میں شمار ہوتا ہے اس نسبت سے یہ خرچ ’ نفقہ ‘ کہلاتا ہے۔ عربی میں ایک لفظ ’مُنَفَّقُ‘ ہے، جسے اردو میں ’نیفہ‘ کہتے ہیں۔ اب ’نیفے‘ پر غور کریں اس میں ’ازاربند‘ ایک جانب سے داخل ہوتا ہے اور دوسرے جانب سے نکل آتا ہے۔ یوں عملی طور ’نیفہ‘ عربی کے ’نفق‘ سے جا ملتا ہے۔ عربی میں ’ازاربند‘ کو کیا کہتے ہیں اس پر ہم نے غور نہیں کیا مگر اردو عوامی زبان میں اسے ’ناڑا‘ کہا جاتا ہے اور اہل ادب اسے ’بند قبا‘ پکارتے ہیں۔بندِ قبا کی رعایت سے اردو کے ایک استاد شاعر’مصطفیٰ خاں شیفتہ‘ کا ضرب المثل شعر ملاحظہ کریں اور ہمیں اجازت دیں: اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت - دامن کو ذرا دیکھ ذرا بندِ قبا دیکھ

بشکریہ اردو نیوز

Comments

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ گزشتہ دودہائیوں سے قلم و قرطاس کووسیلہ اظہار بنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم۔اے کیا ہے۔اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، لہٰذا تاریخ، اقبالیات اور لسانیات ان کے خاص میدان ہیں۔ ملک کے مؤقر اخبارات اور جرائد میں ان کے مضامین و مقالات جات شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */