پاکستانی ڈرامے - ہادیہ امین.

فیسبک پہ پاکستانی ڈراموں میں گهروں میں دکهائے جانے والے بتوں کے خلاف پوسٹ نظر سے گزری، "نام نہاد پیمرا کہاں چلا گیا" اور فیسبک پوسٹس کا روایتی جملہ "لعنت بهیج کر شیئر کریں" بهی دیکهنے میں آئے..ایسا کرنے اور دکهانے والے حقیقتا لعنت کے مستحق ہیں یا نہیں،میرا اتنا علم تو نہیں کہ میں اس بحث میں پڑوں مگر میں اتنا ضرور جانتی ہوں کہ اب محض لعنت بهیجنے سے حجت تمام نہ ہوگی۔

نہ پہلے کبهی ہوئی ہے..یہ صرف پاکستانی کلچر پر نامحسوس طریقے سے کیا جانے والا حملہ نہیں،یہ دینی اور نظریاتی بنیادوں کو ہلا ڈالنے والی چیز ہے..کچه آزاد خیال لبرلز اسکا دفاع کرتے بهی نظر آئے،کہ گهر کی ڈیکوریشن کے لئے کیا گیا ہے،باقی انکا اور انکے اللہ کا معاملہ ہے..جس امت کے قائد نے بتوں کے خلاف اور حق کو نافذ کرنے کے لیے سالوں جدوجہد کری اور فتح مکہ کے دن بیت اللہ میں نصب تین سو ساٹه بتوں کو کچوکے لگائے،اس امت کے لوگ کہ رہے ہیں کہ بت رکهنا ذاتی معاملہ ہے؟ گویا ایمان کا سب سے آخری درجہ "یعنی دل سے برا جاننا"، لوگ اتنے بهی نہ رہے؟؟،

یہ امت وه بہترین امت ہے جو لوگوں کی بهلائی کے لیے نکالی گئی ہے،امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ،نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا اس امت کی شان ہے،کیا گهروں کو ڈیکوریٹ کرنے کے لیے پاکستانی کلچر میں نعوذبااللہ صرف بت ہی ره گئے ہیں؟ یہ ڈرامے دکهانے اور دیکهنے والوں کا ذاتی معاملہ نہیں،یہ اس قوم کی نسلوں کے ایمان کا معاملہ ہے،اسکو ہلکا نہ سمجهیں،غیر محسوس طریقے سے نگاہوں کو اسکا عادی بنانا ہی اسکا مقصد ہے،یاد داشت میں وه ڈرامے بهی موجود ہیں جب خواتین دوپٹے میں ہوتی تهیں،آستینیں پوری ہوتی تهیں،پهر آہستہ آہستہ اسمیں کمی ہوتی گئی اور معذرت کے ساته،ان کے خلاف وه مضبوط آواز نہیں اٹهی جو اٹهنی چاہیئے تهی۔

اور یوں آج نگاہیں انکی عادی ہوگئیں،اور بڑهتی ہوئی بےحیائی نے معاشرے کا جو حال کیا،"زینب قتل کیس" اسکی ایک چهوٹی سی مثال ہے،خاندانی نظام جو مشرقی گهرانوں کی شان تها،آج جس ٹوٹ پهوٹ کا شکار ہے اسمیں دیگر عوامل کے ساته دکهائے جانے والے بےمقصد ڈرامے بهی اہم ترین مجرم ہیں. مگر اب مسئلہ غیرت ایمانی،نظریاتی بنیادوں کا ہے،اسکے خلاف مضبوط اور مستحکم آواز اٹهائی جانی چاہیئے. پانی سر سے اونچا ہو جائے تو صرف "شیئر" پہ کلک کرنے سے بات نہیں بنتی۔اللہ تعالٰی کهلے اور چهپے تمام فتن سے حفاظت فرمائے (آمین)