کشمیر - افسانہ مہر

احساس برتری میں بھی کم تر چلے گئے
حسساس معاملوں میں سراسر چلے گئے
وہ جن کے زاویوں پہ بناتے تھے زائچے
خود اپنے زائچہ کو مِٹا کر چلے گئے
ارمان دل میں آنے کا پھیلا کے چار سو
جب آۓ تو گھر میرا جلا کر چلے گئے
دشمن نہیں وہ ، ہم کو گماں بھی کوئ نہیں
لیکن سب ہی حصار گرا کر چلے گئے
اب آ گئے تو ختم کہانی بھی کر ہی دو
مقتل سجا رہا اور ۔۔۔ سوداگر چلے گئے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com