اردو زبان قوم سے ناراض - ثمینہ اقبال

اردو جو پاکستان کی قومی زبان ہے .جسے چاروں صوبوں کی زبان پر فوقیت دی گئ ..آج زوال کاشکار ہے ...اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو قیام پاکستان سےپہلے اس زبان کا مستقبل کافی روشن اور پائیدار نظر آتا تها ..ایسٹ انڈیا کمپنی کے 80 فیصد زائد انگریزوں نے اردو سیکهه لی تهی۔

وه یہ جانتے تهے کہ جنوبی ایشیاء اور خصوصی برصغیر میں کسطرح سے اپنی حکومت قائم کرنی ہے ۔اس لئے زبان کی اہمیت کو سمجهتے ہوئے بہت چالاکی سے مغل بادشاہوں کے تجارتی ایجنٹ بن کر برصغیر کے حاکم بن بیٹهے۔اردو مٹهاس لہجے کی سادگی .سلاست سے متاثر ہو کر اردو کو دنیا کے مختلف علاقون میں استعمال کیا جانے لگا ۔

اردو پاکستان کے علاوه انڈیا ..بنگلادیش..سری لنکا .میانمار .نیپال میں بولی اور سمجهی جاتی ہے ...اردو .. جسے شیرین اور تہزیب یافتہ زبان ہونے کا اعزاز حاصل ہے اب وه حیثیت کهوتی جارہی ہے ..اگر هم اپنے ارد گرد کا جائزه لیں تو ہمیں اندازه ہوگا .کہ آج کل کے نوجوان ایسے الفاظ بول کر فخر محسوس کرتے ہیں.جنکا اردو سے دور کا بهی واسطہ نہیں ہے .یا وه تہذیب یافته زبان کا حصہ نہیں ۔

مثلا" یار دیکهه ٹوپی مت کرا ؛؛ گهر پہنچ کر مس کال مار دیو ؛؛ٹیچر نے آج ادهم لیکچر دیا واٹ لگا دی دماغ کی چٹنی بنا دی...اب تو بزرگوں کے سامنے بهی بات کرتے ہوئے الفاظ کے استعمال کا خیال نہیں کرتے ..یہ سب همارے پڑوسی ملک کی کارستانی ہے ..وهی سے یہ الفاظ کی گولا باری ہوتی ہے..جو هماری اردو زبان کی شان وشوکت کیلئے نہایت نقصان دے ہے .زیاده تر زو معنی الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں....هماری زبان کےساتهه یہ سب کچه کیا ہو رہا ہے ؟؟؟

اب ہم اگر اردو زبان کے عروج کی بات کریں.تو ایک وقت تها کہ اردو کے شاعر..ادیب اور فنون لطیفہ سے تعلق رکهنے والے دنیا میں پہچانے جاتے تهے ...بعض ممالک خاص کر انڈیا .بنگلادیش ..آزاد کشمیر.سری لنکا .نیپال میں همارے ادیب.شاعر .فنکار .مصنف.کو وهاں اتنی پزیرائی ملتی تهی جتنی وهاں کے لوگ اپنوں کو نہیں دیتے تهے ۔همارا المیہ.یہ ہے کہ ہم تخلیق نہیں کرتے اور دوسروں کی نقل کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے ..بس اسٹائل فیشن کے نام پر ہم غیر ملکیوں کے رسم ورواجاور طریقوں کی اندهی تقلید کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ہنرمند نوجوان اور معاشرے میں ان کی اہمیت - شیراز علی

کسی بهی قوم کی پہچان اس کی تہزیب وتمدن اور بول چال کے انداز ہعنی زبان سے ہوتی ہے ۔.ہماری پہچان بحیثیت پاکستانی ..اردو ..ہے ..کیونکہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے ..دیگر زبانیں بهی صوبائی اور علاقائ سطح پر بولی اور سمجهی جاتی ہیں....مگر ان کو وه مقام حاصل نہیں جو ارود کو حاصل ہے ...اب اگر ہم خود اسکا مزاق اڑائیں گیں تو دنیا کے دیگر ممالک کے لوگ کیونکر همارئ روایات اور زبان کو اپنانے کی کوشش کرے گیں ...همارا آج کا نوجوان اردو میں تعلیم حاصل کرنے کے بجائے انگریزی میں تعلیم حاصل کرنے کو اہمیت دیتا ہے۔

کیونکہ کسی جگہ انٹرویو کےلئے پہلا سوال ہی انگریزی کی مہارت .کے بارے میں کیا جاتا ہے ...ہم نے کبهی سوچا ہے ..کہ انگلش کیوں اتنی مقبول ہوتی جارہی ہے .100 سال پرانی اردو زبان آج بهی وه مقبولیت حاصل نہ کر سکی جسکی وه حقدار ہے ....اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی روایات اور زبان چهوڑ کر دوسروں کی زبان اور روایات اپنا لیں ہیں ...ہم نے ..فراغت ..کے بجائے (فری ) .قیلولہ ..کے بجائے (ریسٹ )..آداب کے بجائے ( ہیلو ) کہنا شروع کر دیا ہے۔

یہی نہیں ہم نے .خالہ ..پهوپهی .ماموں..چچا کو بهی انکل .آنٹی کہنا شروع کردیا ہے ...کیونکہ ہمیں اردو بولنا عیب لگتا ہے ...باورچی خانے کی جگہ ..کچن ..نعمت خانے کی جگہ ..ڈیواڈر..کے الفاظ نے لے لی ہے ...نعمت خانے کی طرح اردو زبان کے بہت سے الفاظ گمشده ہوتے جارہے ہیں ۔

جیسے .رکابی.قمقمے ..روشنائی....پیراہن....دوات وغیره جیسے بے شمار الفاظ ہیں.جن کو سننے کے لئے کان ترس گئے ہیں ...اب بهی اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو ہمارا حال بهی بہت جلد اس کوئے کی طرح ہو گا.جو ہنس کی چال چلنے کے چکر میں اپنی بهی چال بهلا بیٹهتا ہے ۔