ایف ۔35 لڑاکا طیاروں کا متبادل تلاش کرنا نا گزیر بنتا جا رہا ہے، ترک صدر

ہمارے وطن کو دہشت گردی کے خطرات کے مکمل طور پر خاتمے تک ہم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف نبردِ آزما رہیں گے . صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ متحدہ امریکہ کے ایف ۔35 لڑاکا طیاروں کے معاملے میں عدم مصالحت کے جاری رہنے کی صورت میں ترکی کسی دوسرے متبادل کی تلاش پر مجبور ہو جائیگا۔

صدر ترکی و آک پارٹی کے رہنما رجب طیب ایردوان نے ترک قومی اسمبلی میں اپنی پارٹی کے پارلیمانی گروپ سے خطاب کیا ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بارے میں صدر ایردوان نے بتایا کہ " ہم باہمی مذاکرات میں ہمارے بیچ موجود مسائل کا بنیادی حل تلاش نہیں کرسکے تا ہم ، ہم نے ان مسائل کو ہمارے باہمی تعلقات کو اسیر بنانے کی اجازت نہ دینے کا دنیا بھر کے سامنے مظاہرہ کیا ہے۔ " صدر نے بتایا کہ " ہم نے مذاکرات میں ایف ۔35 جنگی طیاروں کے معاملے میں اگر امریکہ کا موجودہ موقف جاری رہا تو پھر ترکی درمیانی مدت کی حامل ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کسی دوسرے متبادل کی تلاش کرنے پر مجبور ہو جائیگا کو بھی زیر ِ لب لایا ہے ۔ " انہوں نے زور دیتے ہوئے بتایا کہ علیحدگی پسند تنظیم وائے پی جی/PKK کو داعش مخالف جنگ کرنے والے ایک ڈھانچے کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں میں ہونے والے آج اسی تنظیم کی جانب سے شہریوں کے قتلِ عام پر پردہ ڈالنے کے درپے ہیں۔

شمالی شام میں چشمہ امن عسکری کاروائی کے دائرہ عمل میں زیر ِ کنٹرول لیے جانے والے رہائشی علاقوں کی تعداد 600 سے زائد ہے تو ناکارہ بنائے جانے والے دہشت گردوں کی تعداد کے 1200 کے قریب پہنچنے کا ذکر کرنے والے جناب ایردوان کا کہنا ہے کہ " ہمارے وطن کو دہشت گردی کے خطرات کے مکمل طور پر خاتمے تک ہم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف نبردِ آزما رہیں گے۔ صدر ایردوان نے مزید بتایا کہ امریکہ اور روس کے ساتھ طے پانے والی مطابقت کے مطابق تعین کردہ علاقوں کو دہشت گردوں سے مکمل طور پر صاف نہ کیے جانے کی حقیقت عیاں ہے۔