اپنا آپ اللہ کو سونپ دو - قراۃ العین اشرف

انسان کے لیے مشکل اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اپنی اور اللہ کی چاہت کے درمیان کھڑا اپنی کامیابی کو غبار راہ میں لپٹا دیکھ کر منزل تک پہنچنے کی خواہش کرتا رہتا ہے۔ انسان خواب دیکھتا ہے، سراب بناتا ہے، غبار کو خوبصورت تتلی سمجھ کر اس کے پیچھے بھاگتا ہے، جبکہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ انھی سب سے دور جب وہ اپنی ایک ہی شے سپردگی کے بغیر اللہ سے مانگتا رہتا ہے تو نہ جانے کیوں وہ ایک ضد سی لگا کر بیٹھ جاتا ہے۔ انسان ٹوٹتا کب ہے جب اللہ کے فیصلے سے انحراف کرتا ہے، جبکہ اللہ ہم سے ہمارا اپنا آپ چاہتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ اپنی چاہت کو پس پشت ڈال کر خود کو اس کی سپرد کر دیا جائے، اور انسان سے یہ کرنا مشکل ہوتا ہے، جبکہ اللہ بڑے اطمینان اور آرام سے یہ بتا دیتا ہے کہ میں حاکم ہوں فیصلہ کرنے والا میں ہوں، تم کون ہو۔

ایسا صرف سپردگی نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے، انسان ایک راگ الاپتا ہے، جبکہ ہر شے اس کے سامنے فنا ہو رہی ہے۔ کالی دلدل میں رشتے، انسان، خواہشات ، ان کی تکمیل آئے دن روز بہ روز سب بہتا جا رہا ہے۔ انسان سوچنے سمجھنے مان لینے سے قاصر ہے۔ آخر وہ ٹوٹتا کب ہے جب اللہ کے حکم سے منحرف ہوتا ہے۔ اللہ جا بجا فرماتا ہے کہ "اللہ ظلم نہیں کرتا"، "اللہ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے' تو انسان کو کشمکش، تنگی، جبر، اور بےچینی نے کیوں مضطرب رکھا، کیونکہ وہ اپنی خواھش کے پیچھے چلا، وہ آنے والے کل کا فیصلہ رب کا فیصلہ جان کر قبول نہیں کرتا، انسان اس کیفیت میں پہنچتا ہی نہیں کہ اللہ دے دے تو بھی ٹھیک نہ دے تو بھی ٹھیک، کیوں ؟ کیونکہ اس کی خواہش اسے نفس پسندی اور خود پسندی کی جانب لے جاتی ہے، اور جب ایسا نہیں ہوتا تو الزام اللہ کو دینے لگتا ہے کہ تکمیل نہ ہوئی۔ جبکہ اللہ بار بار فرماتا ہے "خواہش کے پیچھے نہ چلنا"، "دنیا کی زندگی کچھ نہیں مگر ایک کھیل تماشہ" اور "شیطان کے راستے پر نہ چلنا". لیکن انسان چلتا ہے اسی راستے پر چل کر وہ اپنے پاؤں زخمی کرتا ہے، آخر کار تھک کر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چلنے کے بھی قابل نہیں رہتا۔

یہ بھی پڑھیں:   کچھ قابل توجہ باتیں - علی عبداللہ

اللہ غفور رحیم ہے، بات یہ ہے کہ وہ انسان کو پھنسانا نہیں چاہتا، دلدل میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ وہ آپ کو بچانا چاہتا ہے۔ وہ فرماتا ہے "تم آگ کے گھڑے کے دہانے پر تھے اور اس نے تمھیں بچا لیا" اس دنیا میں رہ کر انسان کیا آگ کے گھڑے کو دیکھ سکتا ہے؟ کیا وہ مستقبل کی خبر رکھ سکتا ہے؟ کیا آنے والے کل کے بارے میں کوئی رائے دے سکتا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں، بلکہ وہ تو اندازہ بھی نہیں کر سکتا، اس کے اختیار میں نہیں، تو اللہ کتنا رحیم و کریم ہے کہ وہ اسی مستقبل سے، اس کے اندیشے، اس کی آگ سے انسان کو بچا لیتا ہے جس سے انسان بے خبر ہے۔ بالکل ایسے جیسے انسان اس آگ کے دہانے سے بے خبر ہے جسے اللہ دیکھتا ہے، انسان نہیں دیکھ سکتا۔ روشنی، تاریکی، آگ، پانی، ٹھنڈک سب اسی کی تخلیق ہیں، اور اگر آگ انسان کو چھو جائے تو وہ جینے کے قابل نہیں رہتا۔ اللہ اسی آگ سے انسان کو محفوظ رکھتا ہے لیکن کیسے وہ اسی تخلیق کو اپنے بندے کے لیے راحت کا سامان بناتا ہے۔ کتنا بڑا راز ہے کہ ایک طرف ایک شے سے وہ بچاتا ہے اور دوسری جانب اسی کو راحت کا سامان بناتا ہے۔ اسی طرح وہ ایک شے سے آپ کو بچاتا ہے اور اس کے بدلے میں کسی دوسری شے یا اسی شے کو کسی اور طریقے سے آپ کے لیے راحت کا سامان بناتا ہے لیکن انسان اپنی کم عقل کے باعث اسے جان نہیں پاتا، بس وقت آنے پر سمجھتا ہے۔

اللہ پاک ہے، اور بچانے والا صرف وہی ہے، وہ ہمیں آزمائش دیتا ہے تو اسی میں سے نکال بھی لیتا ہے کیونکہ دینے والا بھی وہی ہے جس کے کرم سے انسان جینے کے قابل ہوا۔ اللہ اپنے بندوں پر رحم کی نگاہ کیے رکھتا ہے، وہ کبھی اپنے بندے پر ظلم نہیں کرتا، وہ جو تمام علوم کا مالک ہے اس کے فیصلے غلط نہیں ہوتے، نہ ہو سکتے ہیں، کیونکہ انسان اپنے فیصلے اپنی منشا، اپنے تجربے کی بنیاد پر کرتا ہے، لیکن اللہ ان سب سے پاک عظیم ہے، وہ خالق کل عالم ہے۔ وہ اپنے بندے پر مہربانی اور شفقت کی نگاہ کرتا ہے، اسی کی رحمت کے حصار میں انسان کو پناہ ملتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   غلام اور غلامی - مدیحہ مدثر

خواہش کا پورا ہونے سے شیطان خوش ہوتا ہے، وہ ایسے کہ انسان کا نفس خوش اور مطمئن ہو جاتا ہے، اور شیطان انسان کا نفس ہی تو ہے، لیکن اس میں دل کا اطمینان شامل نہیں ہوتا کیونکہ اللہ کی مرضی شامل حال نہیں ہوتی۔ اصل سکون سپردگی سے ملتا ہے، اپنا آپ اللہ کے حوالے کرنے سے ملتا ہے۔ وہ جو رحیم، کریم، غفور، عظیم، کبیر، اور ودود ہے، انسان پر رحم کرتا ہے۔ "ودود" کی صفت پر غور کرو ، بے حد محبت کرنے والا۔ اس محبت والے سے انحراف نہ کرنا کیونکہ جب تمام دنیاوی سہارے چھوٹ جائیں تب بھی وہ ساتھ نہیں چھوڑتا، اور وہ غبار راہ بڑی آسانی سے ہٹا کر دکھاتا ہے کہ "میں ہوں"۔ نگاہ پاک ہو جاتی ہے جب انسان کا اصل اس حاصل تک پہنچ جائے۔ جہاں اللہ ان سب راستوں سے آگے موجود ہے۔ اور ہر دن ایک گزرے ہوئے دن سے آگے ایک نئی راہ ہے، ایک نیا راستہ ہے، ایک نئی منزل ہے، جس کا ادراک انسان کو منزل پر پہنچ کر ہوگا۔ اور اللہ کی حکمت سے وہی واقف ہوتے ہیں جو عقل والے ہیں۔