مسافر اور لنگر خانے کیوں ضروری ہیں - تصوّر حسین خیال

میرے انٹرمیڈیٹ کے امتحانات ختم ہوئے تو ایک بور کر دینے والی فراغت کا سامنا تھا۔ جہاں ہم رہتے تھے، تب کے ضلع جھنگ کا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ پڑھائی کا رجحان اس حد تک ضرور تھا کہ ہر غریب و امیر کی یہ خواہش ضرور ہوتی تھی کہ ان کے بچے کم سے کم ابتدائی تعلیم ضرور حاصل کریں۔ کچھ بچے پڑھائی ادھوری چھوڑ کے اپنے آبائی پیشے کو اپنا لیتے تھے اور بقیہ پوری کوشش کرتے تھے کہ کالج یا یونیورسٹی تک پہنچ پائیں۔ میٹرک یا ایف اے مکمل کر لینے کے بعد نوکری کے خواہش مند حضرات کی پہلی ترجیح پولیس یا فوج میں بھرتی ہوا کرتی تھی۔ اس رواج نما کیرئیر گول کو نہ نبھا سکنے والے کسی فیکٹری میں ملازم ہو جایا کرتے تھے اور اس مقصد کی تکمیل انہیں لاہور کھینچ لے جاتی تھی۔

میرے امتحان کا نتیجہ آنے میں ابھی وقت تھا۔ میری شدید خواہش تھی کہ میں اپنی آگے تعلیم جاری رکھوں لیکن جن مشکلوں سے فیصل آباد کے ایک کالج کے اخراجات ابّا جان نے برداشت کئے تھے، آگے تعلیم جاری رکھ پانا کٹھن لگ رہا تھا۔ تب گاؤں سے نوکری کے لئے لاہور جانے والوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا تھا۔ گلیوں میں اڑتی پھرتی بظاہر امید بھری معلومات کے پیش نظر ہم چار دوستوں نےبھی لاہور جانے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کی بنیاد لاہور میں ہی مقیم ایک شخص کا وعدہ تھا جو ہم چاروں میں سے کسی ایک سے کیا گیا تھا۔ ہمارے اس فیصلے کی کل اساس بس ایک وعدہ تھا۔

وہ گرمیوں کی ایک دوپہر تھی شاید کہ جس میں ہم نے رخت سفر باندھا۔ ایک بیگ ، کچھ پیسے کچھ کپڑے اور چند کتابیں ، اس کل زاد راہ کے ساتھ میں اپنے باقی تین دوستوں کے ساتھ لاہور روانہ ہوا۔ میرا مکمل انحصار اپنے دوستوں پہ تھا کیوں کہ وہاں میری کوئی جان پہچان نہیں تھی۔ وہ جس رخ ہو لیتے ، مجھے اسی سمت چلنا تھا۔

شام کے وقت ہم لاہور پہنچے اور پہلی رات کے پڑاؤ کے لئے ہماری اگلی منزل ایک مذبح خانہ تھا ۔ وہاں گاؤں سے ہی تعلق رکھنے والے ایک شخص کے پاس پہنچے۔جو وہاں ملازم تھا۔ اس نے اپنی استطاعت کے مطابق ہماری خوب آؤ بھگت کی۔ رات وہیں گزارنی تھی۔ سفر کی تھکان اور آج کی رات کے لئے چھت کا یہی آسرا ہونے کے باعث زمین پہ سونے کی تبدیلی کے بارے ذہن کو سوچنے کی فرصت ہی نہ ملی۔

اگلا دن بہت ضروری اور ساتھ ہی ساتھ پریشان کن بھی تھا۔ ضروری اس لئے کہ جس شخص نے نوکری کے لئے کہا تھا اس سے ملنا تھا اور دوسرا رات کے ٹھہرنے کا انتظام جو کہ پریشانی کا سبب تھا۔ آج کے دن کے بعد والے سبھی دنوں کا دارومدار اس شخص پہ تھا کہ وہ نوکری کی مد میں ہماری کیا مدد کر سکتا ہے۔ ہماری زندگی میں لاہور میں مزید رکنا ہے یا نہیں ، یہ آج کی ملاقات میں واضح ہونا تھا۔

ہم دیہاتی جو کہ مکھن کے پراٹھوں سے ناشتوں کے عادی تھے، ابھی تک ناشتے کا سوچ ہی نہیں سکے تھے۔ جیب میں چند روپوں کو احتیاط سے خرچ کرنا چاہتے تھے۔ کیا پتا اگلی کونسی ضرورت ناشتوں اور کھانوں سے زیادہ اہم ہو۔ اگلا ہدف اس شخص سے ملنا تھا۔ دوپہر کے وقت ہم اس کے دفتر کے باہر پہنچے۔ ہماری امیدوں کا گراف بہت بلند تھا۔ طے یہ ہوا کہ ہم میں سے جس فرد سے اس کی بات ہوئی تھی یا جس کے حوالے کی وجہ سے ہم نے گھر چھوڑ کے یہ سفر اختیار کیا تھا صرف وہی اس سے جا کے بات کرے۔ ہم باہر انتظار میں تھے۔ اپنی عادت سے مجبور میرے ذہن نے صورت حال کا تنقیدی جائزہ لینا شروع کر دیا۔ مروت کے تقاضے تھے کہ اتنی گرمی میں کسی دوسرے علاقے سے آنے والوں کو پانی تو پوچھا جاتا ۔ گو کہ یہ انتہائی ثانوی نوعیت کے معاملات تھے لیکن اس سے اس شخص کی نوکری کے حوالے سے کسی سنجیدہ کوشش کا اندازہ ضرور لگایا جا سکتا تھا۔ میں آنے والے حالات کو پڑھ چکا تھا اور وہ حوصلہ افزا بالکل نہیں تھے۔

کافی دیر اندر بیٹھے رہنے کے بعد ہمارا دوست باہر نکلا۔ اس کا چہرہ اندر ہونے والی ملاقات کی حقیقت بیان کر رہا تھا۔ میرے خدشات سچ ہونے کو تھے۔ مختصرا یہ کہ وہ کوشش کرے گا اور جیسے ہی کوئی بات بنی وہ ہمیں خبر دے گا۔ یہ وعدہ اور اس کے الفاظ ہر نوکری کے متلاشی کو بالکل سنے سنے لگے ہوں گے اور تجربہ یہ کہتا ہے کہ ایسے وعدے کرنے والے قطعا کوشش نہیں کرتے اور بھول جاتے ہیں کیوں کہ ان کی زندگی میں یاد رکھنے کو اور بھی معاملات ہوتے ہیں جو کہ یقینا چار دیہات سے بلاوجہ منہ اٹھا کے آجانے والے بدھوؤں کے لئے نوکریاں ڈھونڈنے سے زیادہ ضروری ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کسی خیرخواہ سے پوچھا ہوتا - ہارون الرشید

شام ہونے کو آئی تھی اور گھروں کو جاتے پرندے ہمیں بھی یاد دلا رہے تھے کہ ہم آج ہماری اوقات پرندوں سے بھی کم تر ہے کیوں کہ ان کے شام کی اڑانوں کی منزل گھر ہوتی ہے اور ہمارا آج کوئی گھر نہیں تھا۔ طے یہ کیا گیا کہ دو دو کی جوڑیوں میں نکل کے اپنی تھوڑی بہت جان پہچان کو استعمال کر کے رات بسر کرنے کا انتظام کیا جائے۔ میں جس کے حصے میں آیا اس دوست کے ساتھ ہمارے آبا کے بھی تعلقات تھے تو یہ خالی دوستی نہیں ، دور پار کی رشتے داری کا بھرم بھی تھا جو وہ جہاں بھی جاتا انہیں میرے ساتھ بھی نبھانا پڑتا۔

ہم چاروں دو دو کی ٹولیوں میں اپنی اپنی راہ ہو لئے۔ ان دنوں میں چوں کہ موبائل فون نہیں ہوا کرتے تھے اس لئےاگلی صبح بادشاہی مسجد کے باہر ملنے کے لئے وقت طے کیا گیا۔ ہم ایک ایسی ہستی کے گھر پہنچے جو میرے دوست کے قریبی رشتے دار تھے اور میرے والد کے ساتھ بھی ان کی کافی اچھی سلام دعا تھی۔ بہرحال اس کچے پکے تعلقات نے ہمارے لئے رات کے کھانے اور چھت کے نیچے بستر کا بندوبست کر دیا تھا۔ ان کے گھر میں ہم دو لوگوں کا اضافہ یقینا ایک بوجھ تھا مگر ہماری مجبوری ہمیں ڈھیٹ بنانے پہ تلی تھی اور ہم ڈھٹا ئی کی چادر اوڑھے سو گئے۔

اگلی صبح ناشتے کے بعد ہم طے شدہ وقت کے مطابق بادشاہی مسجد کے باہر پہنچے اور باقی دو دوستوں کا انتظار کرنے لگے۔ کچھ ہی دیر گذری تھی کہ ہم نے انہیں مسجد سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا۔ آنکھوں کی سوجن رات کے قصے بتا دینے کے لئے کافی تھی۔ وہ رات کسی کے ہاں گزارنے کی بجائے مسجد میں ہی سو گئے تھے۔ ہماے پوچھنے پہ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے سوچا کہ ایک رات ہی تو ہے۔ کسی کو تنگ کرنے سے بہتر تھا کہ ادھر ہی لیٹ جاتے۔

آج لاہور میں تیسرا دن تھا۔ جانے کتنے پردیسیوں کو گود مہیا کرنے والا یہ شہر ہمارے لئے ابھی تک اجنبی ہی ثابت ہوا تھا۔ شاید ہماری منصوبہ بندی ہی ناقص تھی۔ ہمیں کسی کے زبانی کلامی کئے گئے وعدے کو اپائنٹمنٹ لیٹر نہیں سمجھنا چاہیے تھا۔آج کا دن اگلا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے ضروری تھا۔ واپسی ایک رستہ تھی مگر گاؤں کے لوگ کیا کہیں گے والی بچگانہ شرم رکاوٹ بن رہی تھی۔ ایک حل یہ بھی تھا کہ ایک کمرہ کرائے پہ لے لیا جاتا اور کہیں اور نوکری ڈھونڈی جاتی۔ سبھی کے جیب میں موجود پیسوں کو جمع کرنے کے بعد یہ اندازہ لگایا گیا کہ کمرے کا کرایہ دینے کے بعد ہمارے پاس بمشکل اتنے بچیں گے کہ ہم بس ایک مہینہ گذار پائیں لیکن سوال پھر وہی تھا کہ ایک مہینے تک بھی اگر نوکری نہ ملی تو اس کے بعد کیا کریں گے۔ یہ چار پیسے بھی جائیں گے اور واپسی پہ پھر اسی شرم کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک بے بسی اور بےچارگی کی سی کیفیت تھی۔ ہم انسانوں کے جنگل میں اکیلے تھے اور تپتی دوپہر میں بادشاہی مسجد کے باہر ایک درخت کی چھاؤں میں اپنےاور اپنے ماں باپ کا سہارا بننے کی آرزو کی عملی شکل ڈھونڈنے کی سوچ بچار کر رہےتھےاور وہ شکل وقت گذرنے کا ساتھ ساتھ مزید دھندلی ہوتی چلی جا رہی تھی۔

اسی سوچ بچار میں پرندوں کی چہچہار نے شام ہونے کا بگل بجایا۔ شام جو اس عمر میں خصوصا ایک خاص کشش رکھتی ہوتی ہے ہمیں فکر میں مبتلا کر رہی تھی۔ ہم فیصلہ کر چکے تھے کہ ایک صرف کوشش کی بنیاد پہ یہاں رہنا بے فائدہ ثابت ہو سکتا ہے اس لئے ان حالات میں واپسی ہی بہترین حکمت عملی ہے لیکن اس وقت گاؤں کے لئے بس کا ملنا نا ممکن تھا۔ ہمیں یہ رات کہیں نہ کہیں گذارنی تھی۔ ہم اسی شش و پنج میں چو برجی آ گئے۔ ہم میں سے ہی کسی کی معلومات تھیں کہ لوگ وہاں رات کو سوتے ہیں۔ وہاں کا ماحول سونے کے لئے کہیں سے بھی سازگار نہیں تھا۔ ٹریفک کا شور، مالشیوں کے تیل کی شیشیوں کی کھڑ کھڑ ، چرس کی بدبو ، مچھروں کی بھرمار اور چیل نما انسانی آنکھیں جو شکار کو دیکھ کے مزید خوفناک ہو جایا کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   دلوں کی باتیں!ارشدزمان

ہم میں سے کوئی بھی شاید ایسے ماحول کا عادی نہیں تھا۔ نیند کے غلبے اپنی جگہ لیکن غافل ہو جانے کے بعد کے حالات کے وسوسے اپنی جگہ۔ پولیس رات کو یہاں سوئے ہوؤں کو ڈنڈے مارتی ہے۔ اپنی چادر گھاس پہ بچھا کے اس پہ لیٹے ایک شخص نے سگریٹ کا دھواں ہوا میں چھوڑتے ہوئے بتایا۔ سامان بھی چوری ہو سکتا ہے۔ میرا ہاتھ بے اختیار اپنے بیگ کی طرف گیا جو میں سر کے نیچے لے کے لیٹا تھا ۔ اس حل پہ بھی غور کیا گیا کہ دو لگ سو جائیں اور دو جاگتے رہیں اور پھر چوکیدار بدل لیں گے۔ اور اگر چوکیداروں کی بھی آنکھ لگ گئی تو؟ پینڈوؤں کو شہروں کی بتیاں بڑا بھاتی ہیں لیکن اس وقت وہ بتیاں بھی آدم خوروں کے ہاتھ میں پکڑی مشعلیں لگ رہی تھیں۔ نہ جاگا جا رہا تھا اور نہ سویا۔ ایسے لگ رہا تھا سارا شہر ہمیں لوٹنے کا منتظر ہے ۔ ویسے ہی جیسے گدھ اپنے شکار کے پاس بیٹھ کے اس کے مرنے کا انتظار کرتا ہے۔ ہم شاید بلا وجہ خوف کا شکار کر دیا کیا تھا لیکن فکر کی بات یہ تھی کہ ہم ہو گئے تھے۔

ہم سب نے ایک آخری میٹنگ شروع کی۔ تمام حالات کا جائزہ لیا اور فیصلہ یہ کیا کہ اگر تو رات جاگ کے ہی گزارنی ہے تو بہتر ہے کہ لاری اڈہ پہ ہی چلا جائے۔ وہیں انتظار کیا جائے اور پہلی ہی دستیاب بس پہ واپسی کی راہ لی جائے اور اگر بس بہت جلدی مل جاتی ہے تو ہو سکتا ہے کہ گاوں اتنی جلدی پہنچ جائیں کہ جب سب سو رہے ہوں ۔ اس طرح لوگوں کے طنزیہ سوال و جوا ب سے بھی بچا جا سکتا تھا۔ ایک رکشے والے نے ہمیں لاری اڈے پہ اتار دیا۔

بس نے صبح ۳ بجے نکلنا تھا ۔ اس حساب سے ہم تقریبا ۵ بجے گھر پہنچ جاتے ۔ چوں کہ اب کسی اور خرچے کی فکر نہیں تھی تو ہم نے دل کڑا کر کے کھانا منگوایا اور خوب سیر ہو کے کھایا۔ بس کے نکلنے تک کے باقی ٹائم کو موٹے بان کی چارپائیوں پہ کروٹیں لیتے ہوئے گذارا۔ بس نکلی توٹکٹ کلٹر کو اپنے سٹاپ کا نام بتایا تا کہ وہ ہمیں جگا دے۔ اس نے کہاں جگانا تھا۔ جس رفتار سے ڈرائیور گاڑی چلا رہا تھا۔ ہمیں عزرائیل کی آمد کے ڈر نے سونے ہی نہ دیا ۔ ہمارے سٹاپ پہ انہوں نے بس نہ روکی ۔ وجہ سیکیورٹی تھی۔ آخری سٹاپ جھنگ تھا۔ وہاں سے ایک اور بس لے کے ہمیں واپس آنا پڑا ۔ سورج کی روشنی نے پورے گاؤں کو حصار میں لے رکھا تھا۔ تمام رستے ایسا کوئی شخص نہ ملا جو سوال کرتا۔ گھر پہنچے تو کچے گھر کے سچے رشتوں نے گلے لگا کےسفر اور ناکامی کی ساری تھکان اتار دی۔ ابا جان کےزبان پہ کوئی سوال نہ تھا ، جیسے کہ جواب انہیں پہلے سے معلوم ہو اور ماں کی خوشی تو ہوتی ہی اولاد کے لوٹ آنے میں ہے ۔ وہ کبھی یہ سوال نہیں کرتی کہ بیٹا کھ کما کے لائے یا نہیں۔ اس کی کل دولت تو ہوتی ہی اولاد ہے۔

آج اس واقعے کو تقریبا اٹھارہ سال گزر گئے لیکن یہ تجربہ اتنا تلخ تھا کہ ایک بھیانک یاد بن کے رہ گیا ہے اور اس بار اس کے یاد آنے کی وجہ عمران خان کے بنائے مسافر اور لنگر خانے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ کوئی بہت بڑا کارنامہ نہ سہی لیکن اس واقعےکو سامنے رکھتے ہوئے ایک خیال ضرور آتا ہے کہ اب جب بھی کسی دور دراز گاؤں سے کچھ دوست اپنے اور اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کے خواب سجائے گھر سے نکلیں گے تو باقی کی بے انتہا فکروں کے ساتھ کم سے کم انہیں یہ فکر تو نہیں ہوگی کہ رہیں گے کہاں اور کھائیں گے کہاں سے کہ اب رہنے کو مسافر اور کھانے کو لنگر خانے موجود ہیں۔ اب شاید کسی کو بھوک اور چھت نہ ہونے کا خوف منہ چھپا کے گاؤں واپس جانے پہ مجبور نہ کرے اور اگر یہ خانے تب موجود ہوتے تو شاید آج لاہور کو میں اپنا گھر کہ سکتا کہ آج بھی دل کرتا ہےکہ اس کی پرانی گلیوں اور تاریک کوچوں میں کوئی ایک دروازہ ایسا ڈھونڈوں کہ جس کی دوسری اورتاریخ ابھی بھی زندہ ہو اور میں چوکھٹ پار کر کے اپنے پیچھے دروازہ بھیڑ کے گم ہو جاؤں۔