وہ بھٹو جو اپنی بہن کے دور حکومت میں مارے گئے

جب دنیا میں سیاسی خاندانوں کی بات آتی ہے تو سب سے پہلے کینیڈی خاندان کا نام لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد انڈیا کے نہرو گاندھی خاندان اور پاکستان کے بھٹو خاندان کا نام آتا ہے۔ ان تینوں گھرانوں میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ ان کے بیشتر افراد طبی موت نہیں مرے۔ جان ایف کینیڈی، رابرٹ کینیڈی، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو، اور ان کے بھائی شاہنواز بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کی موت فطری نہیں تھی۔

مرتضیٰ بھٹو کی کہانی کی ابتدا چار اپریل سنہ 1979 کو ہوتی ہے جب پاکستان کے فوجی آمر جنرل ضیا الحق نے پوری دنیا کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے پہلے منتخب رہنما ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی تھی۔


لندن میں جلاوطنی کی زندگی
ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بینظیر نے پاکستان میں ہی رہ کر جنرل ضیا کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن ان کے دونوں بیٹے شاہنواز اور مرتضیٰ بھٹو پاکستان سے باہر چلے گئے اور اپنے والد کو بچانے کی مہم چلائی جو کہ بے سود ثابت ہوئی۔ جب بھٹو کو پھانسی دی گئی تو مرتضیٰ اور شاہنواز بھٹو لندن کے ایک فلیٹ میں رہ رہے تھے۔ جیسے ہی انھیں یہ خبر ملی وہ باہر آئے اور دنیا بھر کی میڈیا کے سامنے کہا ’اس (ضیا) نے دو برس تک انھیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کا سیاسی نام ختم کرنے کی کوشش کی اور اب اس نے انھیں مار ڈالا۔ ہمیں کسی بھی چیز پر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے آج ایک شہید کو دفن کیا ہے۔‘


اندرا گاندھی سے ملاقات
ذوالفقار علی بھٹو کی موت کا انتقام لینے کے لیے بھٹو کے دونوں بیٹوں نے ہتھیار اٹھا لیے اور الذوالفقار نامی تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ دونوں پہلے افغانستان اور شام میں ایک ساتھ رہے لیکن بعد میں شاہنواز اپنی اہلیہ کے ساتھ فرانس میں رہنے لگے۔ اسی دوران دونوں بھائی خفیہ طور پر انڈیا آئے اور اندرا گاندھی سے ملے۔

مرتضیٰ بھٹو کے دوست اور معروف صحافی شیام بھاٹیا اپنی کتاب ’گڈ بائی شہزادی‘ میں لکھتے ہیں کہ 'اندرا گاندھی نے حزبِ اختلاف میں رہتے ہوئے مرتضیٰ اور شاہنواز بھٹو سے دو بار اپنی دلی کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی۔ انڈین ذرائع کا کہنا ہے کہ بھٹو برادران نے مالی مدد کا مطالبہ کیا تھا اور اندرا گاندھی کی وجہ سے انھیں یہ مدد ملی تھی۔‘


شاہنواز کی پراسرار حالات میں موت
سنہ 1985 میں شاہنواز بھٹو مردہ حالت میں پائے گئے اور یہ شبہ ظاہر کیا گیا کہ انھیں زہر دیا گیا تھا۔ بعدازاں مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی فاطمہ بھٹو نے اپنی کتاب 'سانگز آف بلڈ اینڈ سورڈ' میں لکھا کہ 'جب میرے والد کمرے میں داخل ہوئے تو انھوں نے شاہنواز کے جسم کو کمرے میں صوفے اور کافی ٹیبل کے درمیان منھ کے بل اوندھا پڑے دیکھا۔ مرتضیٰ نے بعد میں کہا کہ اسی وقت انھیں احساس ہو گیا کہ وہ زندہ نہیں ہیں۔

’جب مرتضیٰ نے ان کے جسم پر نیلے رنگ کے دھبے دیکھے تو انھیں لگا کہ ان کے ساتھ کوئی غیر فطری واقعہ پیش آيا ہے۔ انھیں شک تھا کہ انھیں زہر دیا گیا ہے۔ مرتضیٰ نے پورے گھر کی تلاشی لی تو انھیں کچن کے کوڑے دان میں ایک شیشی ملی جس پر 'پینٹرکسائڈ' لکھا تھا۔‘

’بعد میں پولیس نے تصدیق کی کہ انھیں شاہنواز کے 'جسم' میں زہر ملا تھا اور یہ زہر ان کے جسم میں خون کے ذریعے نہیں بلکہ نتھنے کے ذریعے پہنچا تھا۔ لیکن کوئی یہ نہیں بتا سکا کہ انھیں یہ زہر کیسے دیا گیا۔‘

ان کی ہلاکت پر ان کی بڑی بہن بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ 'مجھے نہیں لگتا کہ ان کی موت گھریلو جھگڑے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ وہ ایک سیاسی کارکن اور مارشل لا کے بھی سخت مخالف تھے۔ جس طرح کی زندگی وہ گزار رہے تھے وہ کافی خطرناک تھی۔ میرا خیال ہے کہ ان کی موت کو ایک وسیع تر سیاسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔‘


بینظیر کو بھٹو کی وراثت ملنے پر ناخوش

جنرل ضیا الحق کی موت کے بعد جب بینظیر بھٹو وزیر اعظم بنیں تو اس وقت مرتضیٰ بھٹو شام میں تھے۔ انھیں کہا گیا کہ ان کے خلاف پاکستان میں طیارے کے اغوا کا مقدمہ چل رہا ہے۔ اس لیے ان کا وہاں آنا ٹھیک نہیں ہو گا۔ لیکن جو کچھ ہو رہا تھا مرتضیٰ بھٹو اس سے خوش نہیں تھے۔

ان کے ایک پرانے دوست شیام بھاٹیا نے اپنی کتاب میں لکھا 'میں مرتضیٰ کو آکسفورڈ کے زمانے سے جانتا تھا۔ درحقیقت جب ہم انڈیا اور پاکستان کے جوہری پروگرام پر تحقیق کر رہے تھے اس وقت ہمارے نگران ایک ہوتے تھے۔‘

'سنہ 1989 میں وہ مجھے دمشق کے شیریٹن ہوٹل میں ملے اور اگلے گیارہ گھنٹے باتیں کرتے رہے اور صبح کے چھ بج گئے۔ مرتضیٰ نے مجھے بتایا کہ ان کے والد ذوالفقار نے بینظیر کے بجائے انھیں اپنا سیاسی جانشین بنایا تھا۔ 1977 میں بھٹو نے انھیں اپنے لاڑکانہ کے انتخابی حلقے کی دیکھ بھال کے لیے منتخب کیا تھا۔'

'اس کی تصدیق بھٹو کے قریبی دوست یوسف بُچ نے اپنے صحافی دوست خالد حسن سے بھی کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ بھٹو اپنی بیٹی کو سیاست کی پتھریلی زمین پر نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔ اگر ان کا بس چلتا تو وہ انھیں پاکستان کی خارجہ سروس کا افسر بناتے۔‘


نصرت بھٹو نے مرتضیٰ کی حمایت کی
لیکن بینظیر کی والدہ نصرت بھٹو نے اپنے بیٹے کی حمایت کی اور ان کی واپسی کے لیے باقاعدہ مہم چلائی۔ مرتضیٰ واپس آئے اور آتے ہی ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ 'مجھے ایک طویل عرصے تک اپنے ملک سے دور رکھا گیا۔ مجھے دو چیزیں بتائی گئیں۔ ایک یہ کہ میری زندگی یہاں محفوظ نہیں ہے اور دوسری یہ کہ اگر میں واپس آیا تو میری بہن کی سیاسی پوزیشن خراب ہو جائے گی۔‘

'یعنی کہ انھوں نے خوف اور ندامت کے احساس کا استعمال کیا۔ خوف کے میرے لیے کوئی معنی نہیں تھے کیونکہ میں جانتا تھا کہ میں بے قصور ہوں۔‘ 'ہاں ندامت کا احساس تھا کیونکہ وہ پہلی بار وزیر اعظم بنی تھیں اور میں اس خیال کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا تھا کہ اگر میں لوٹ آیا اور حکومت گر گئی تو مجھے اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔' 'لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ میرے لیے مزید باہر رہنا ممکن نہیں تھا۔ میری والدہ شروع ہی سے کہہ رہی تھیں کہ مجھے واپس آنا چاہیے۔'


نصرت کا غصہ
مرتضیٰ کے واپس آتے ہی ان کے آبائی شہر لاڑکانہ میں پولیس نے ان کے حامیوں پر فائرنگ کر دی۔ ان کی والدہ نصرت بھٹو اس سے اتنی برہم ہوئیں کہ انھوں نے اس کے لیے اپنی بیٹی بینظیر کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ وہ انھیں بینظیر کی بجائے 'مسز زرداری' کہنے لگیں۔ نصرت بھٹو نے کہا کہ 'بینظیر کہا کرتی تھی کہ نواز شریف کی حکومت پولیس سٹیٹ ہے۔ لیکن موجودہ حکومت پولیس کی حکومت نہیں تو اور کیا ہے؟ نواز شریف اور ضیا الحق جیسے آمر جو کام کر رہے تھے وہ بھی وہی کر رہی ہیں۔'

مرتضیٰ اور ان کی بہن کے درمیان تلخی بڑھنے لگی۔ مرتضیٰ کی زبان تیز ہوتی گئی اور اس کا نشانہ اس وقت کی حکومت بنی۔ مرتضیٰ نے کہا 'میں کہتا ہوں سوچ لو۔ اپنا حساب کتاب رکھو۔ میرے کارکنوں کو ہاتھ مت لگاؤ۔ انھیں تنگ مت کرو۔ میں وہ مسیحی نہیں ہوں کہ کوئئ ایک گال پر تھپڑ مارے تو میں دوسرا آگے کر دوں۔ اگر کسی نے ہمیں تھپڑ مارا تو ہم اس کی ٹانگیں توڑ دیں گے۔‘


گولیوں کی آواز
20 ستمبر 1996 کو انھوں نے ایک اور پریس کانفرنس کی اور پولیس پر زیادتیوں کا الزام لگایا۔ مرتضیٰ نے کہا 'پولیس حکام ریاستی یونیفارم پہننے کے قابل نہیں ہیں۔ وہ مجرم ہیں۔ انھوں نے کراچی میں قتل عام کیا ہے۔ ان کا وقت ختم ہونے والا ہے۔ میں انھیں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ مجھے گرفتار کریں اگر وہ اس کے سیاسی نتائج برداشت کرنے کی ہمت رکھتے ہیں تو۔‘ مرتضیٰ بھٹو اسی دن شام کو آٹھ بجے ریلی اور پریس کانفرنس کے بعد اپنے گھر لوٹ رہے تھے۔

ان کی بیٹی فاطمہ بھٹو اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ 'میری والدہ کچن میں کھانا بنا رہی تھیں۔ میں اپنے چھوٹے بھائی زلفی کے ساتھ اپنے والدین کے بیڈ روم میں ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ اسی وقت میری ایک دوست نوریا کا فون آیا۔ ابھی ہم بات کر ہی رہے تھے کہ مجھے ایک گولی چلنے کی آواز سنائی دی۔'

'اس کے بعد تو گولیوں کی بوچھاڑ ہونے لگی۔ میں نے نوریا سے کہا کہ میں تھوڑی دیر بعد فون کرتی ہوں۔ میں زلفی کو گود میں لیے ڈرائنگ روم کی طرف بھاگی۔ ماں بھی دوڑتی ہوئی وہاں پہنچی۔ ہم وہاں آدھے گھنٹے بیٹھے رہے۔ ہم نے اپنے چوکیدار کو باہر یہ دیکھنے کے لیے بھیج دیا کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔' 'انھوں نے بتایا کہ باہر پولیس پھیلی ہوئی ہے۔ پولیس نے مجھے گھر سے باہر نہیں نکلنے دیا۔ انھوں نے کہا کہ باہر ڈکیتی ہو رہی ہے۔ صورتحال کے ٹھیک ہونے تک آپ اندر ہی رہیں۔'


بے نظیر بھٹو کو فون
جیسے جیسے وقت گزرتا گیا فاطمہ اور غنویٰ بھٹو کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ بعد میں انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا: 'میرے گھر کے آس پاس بہت ساری پولیس تعینات تھی۔ جب میرے والد زیادہ دیر تک نہیں آئے تو میں نے اپنی پھوپھی کو فون کرنے کا فیصلہ کیا۔ کافی دیر بعد ان کے شوہر آصف زرداری فون پر آئے۔'

'انھوں نے کہا کہ میں پھوپھی سے بات نہیں کر سکتی۔ جب میں نے کہا کہ یہ بہت ضروری ہے تو انھوں نے کہا کہ وہ فون پر نہیں آ سکتیں۔ جب میں نے بہت زور دیا تو انھوں نے بہت سرد مہری سے کہا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ تمہارے والد کو گولی لگ گئی ہے۔'


گلے میں خون بھرا
فاطمہ اور ان کی والدہ غنویٰ کار میں بیٹھ کر جلدی سے مڈ ایسٹ ہسپتال پہنچیں۔ بعد میں فاطمہ بھٹو نے اپنی سوانح عمری میں لکھا 'مجھے یاد ہے جب میں ہسپتال میں داخل ہوئی تو میں نے اپنے والد کے پاؤں دیکھے۔ مجھے لگا کہ میں گر جاؤں گی۔ ممی دوڑ کر پاپا کے پاس گئیں۔ وہ ایک بیڈ پر بیہوش لیٹے تھے۔ میری والدہ زور سے چیخ پڑیں، 'جاگو میر جاگو!'

'میں نے پاپا کے چہرے کو چھوا۔ میری انگلیوں پر ان کا خون لگ گیا۔ ان کا چہرہ اب بھی گرم تھا۔ میں اتنا گھبرا گئی کہ میں سانس نہیں لے پا رہی تھی۔ بعد میں ڈاکٹر غفار نے مجھے بتایا کہ پاپا سانس لینے کی کوشش کر رہے تھے لیکن لے نہیں پا رہے تھے۔'

'ان کے گلے میں اتنا خون بھرا ہوا تھا کہ ان کے پھیپھڑوں میں ہوا پہنچانے کے لیے ٹیوب نہیں ڈالی جا سکی۔ بعد میں ان کے گلے میں ایک ٹیوب ڈالنے کے لیے سوراخ کیا گیا تاکہ وہ سانس لے سکیں۔ یہ ہو ہی رہا تھا کہ انھیں دل کا دورہ پڑ گيا۔‘

ڈاکٹر انھیں بچا نہ سکے۔
فاطمہ نے اپنی کتاب میں ان کے آخری وقت کی کیفیت یوں بیان کی ہے 'پاپا کے بال ہمیشہ قرینے سے سجے ہوتے تھے۔ وہ صرف اس وقت ذرا خراب ہوتے جب وہ سو کر اٹھتے تھے۔ میں اپنے والد کی لاش کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی اور میں نے ان کے چہرے، گالوں اور ہونٹوں کو چوما۔ 'میں نے داہنستہ طور پر ان کی آنکھوں کو نہیں چوما کیونکہ لبنان میں یہ توہم پرستی ہے کہ اگر آپ کے ہونٹوں سے کسی کی پلکیں چھو جائیں تو وہ ہمیشہ کے لیے آپ سے دور ہو جاتا ہے۔ میں اپنے پاپا سے دور نہیں ہونا چاہتی تھی۔'


بینظیر ننگے پاؤں ہسپتال پہنچیں
اپنے بھائی کی موت کی خبر سنتے ہی وزیر اعظم بینظیر بھٹو فوری طور پر کراچی پہنچ گئیں اور اپنے مردہ بھائی کو دیکھنے کے لیے ننگے پاؤں مڈ ایسٹ ہسپتال گئیں۔ بعد میں لاڑکانہ میں انھوں نے ایک تقریر کرتے ہوئے کہا '1977 میں جب مارشل لا نافذ ہوا اور فوج برسر اقتدار آئی تو میر مرتضیٰ بھٹو جوان تھے۔ انھیں ملک چھوڑنا پڑا۔ فوج کی وجہ سے وہ وطن واپس نہیں آ سکے۔ وہ اپنے والد کے آخری دیدار سے محروم رہے۔‘

'وہ اپنے چھوٹے بھائی شاہنواز کو دفنانے کے لیے بھی نہیں آ سکے اور وہ خود آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں۔ میر مرتضیٰ بھٹو اس دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن وہ ہمارے دلوں میں زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے کیونکہ شہید کبھی مرتے نہیں۔'


پولیس پر قتل کا الزام
مرتضیٰ بھٹو کے حامیوں نے الزام لگایا کہ مرتضیٰ کو کراچی پولیس نے منصوبہ بنا کر قتل کیا ہے۔ پولیس نے پہلے سٹریٹ لائٹس کو بند کیا اور پھر مرتضیٰ کے قافلے پر فائرنگ کر دی۔ پولیس نے اس کی تردید کی۔ پولیس کے ایک سینیئر افسر شعیب سڈل نے کہا کہ 'پولیس بھٹو کے ساتھ آنے والے بندوق برداروں کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔ جیسے ہی انھیں رکنے کا اشارہ کیا گیا، انھوں نے پولیس پر فائرنگ کر دی اور پولیس کو اپنے دفاع میں گولی کا جواب دینا پڑا۔'


کئی جواب طلب سوالات
مرتضیٰ کی موت نے بہت سے سوالات کو جنم دیا جن کے آج تک جواب نہیں مل سکے۔ پانچ دسمبر 2013 کو قتل سے وابستہ بہت سے افراد کو بری کر دیا گیا لیکن مرتضیٰ کی بیٹی فاطمہ اقتدار سے منسلک چند لوگوں کو مورد الزام ٹھہراتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ 'ذوالفقار علی بھٹو کو سنہ 1979 میں پھانسی دی گئی لیکن انھیں کبھی انصاف نہیں ملا۔ شاہنواز 1985 میں مارے گئے لیکن کسی کو بھی ان کی موت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔' 'میرے والد مرتضیٰ کو 1996 میں قتل کیا گیا اور ایک پاکستانی عدالت نے سنہ 2009 میں کہا انھیں کسی نے بھی نہیں مارا۔ سنہ 2007 میں بینظیر راولپنڈی میں ایک ریلی میں ماری گئیں اور اس پر کوئی پولیس رپورٹ بھی نہیں کی گئی۔'