کیا آپ اپنے بچوں پر چیختے ہیں - جویریہ سعید

پاکستان میں پریکٹس کے دوران ڈیپریشن کی اسکریننگ کرتے ہوئے ایک سوال پوچھا کرتی تھی، " کیا آپ اپنے بچوں پر چیختی چلاتی ہیں یا ان کو مارتی بھی ہیں؟"
دوسری کچھ علامات کے ساتھ اگر یہ صورتحال بھی موجود ہو تو کلینیکل ڈیپریشن کی تشخیص میں مدد ملتی ہے۔ گویا اگر کوئی بچوں پر تشدد کرتا ہے تو عین ممکن ہے کہ اسے کلینکل ڈیپریشن یا کلینکل اینزائٹی کا مسئلہ ہو۔

ہمارے لاشعور میں ایک ڈیفنس میکنزم ہے جسے Displacement کہا جاتا ہے۔ اپنے سے زیادہ بااختیار شخص کی طرف سے ملنے والے ذہنی دباؤ کا غصہ اور گھٹن انسان اپنے سے کمزور فرد یا شے پر نکالتا ہے۔ مرد جائے ملازمت پر اور باس سے چخ چخ سن کر آتے ہیں تو گھر میں خواتین اور بچوں پر اپنی فرسٹریشن نکالتے ہیں۔ مائیں شوہروں، سسرالیوں یا معاشی پریشانیوں کی تکلیف پر دل کا غبار بچوں پر چیخ چلا کر اور مار پیٹ کر نکالتی ہیں۔ ساسیں اپنے شوہر اور سسرال بھگت کر آئی ہوتی ہیں۔ ایک عرصے بعد خود اقتدار مل جانے کے بعد ان کے اندر پلنے والی کڑواہٹ کو باہر نکلنے کا موقع ایک نئی نئی جگہ بنانے والی کی صورت میں ملتا ہے۔ یہ نئی آنے والی اگر پہلے سے ہوشیار اور تیز ہو تو جوابی حملے شروع ہوجاتے ہیں، اور معرکہ گرم ہوتا ہے، اور اس معرکے کے کمزور فریق یعنی بچے فساد اور طعنہ زنی، کھینچا تانی اور جسمانی و جذباتی تشدد برداشت کرنے کے لیے دونوں فریقوں کا آسان ہدف یا ہتھیار بن جاتے ہیں۔

اساتذہ کو اپنے گھریلو یا معاشی و پیشہ ورانہ مسائل کا چڑچڑا پن نکالنے کے لیے بچے آسان ہدف معلوم ہوتے ہیں۔ میٹرک اور کالج تک آتے آتے یہ بچے یا تو ڈھیٹ اور اذیت پسند بن کر اسی ڈس پلیسمنٹ کے لیے اپنے سے کمزور شکار تلاش کر لیتے ہیں، یا احساس کمتری اور خوف کی گہری خندق میں مقید ہوجاتے ہیں۔ صورتحال اس کے بین بین بھی ہوسکتی ہے۔ اور کچھ ایسی پیچیدہ شخصیات بھی پنپ سکتی ہیں جو کسی معاملے میں بزدل اور کسی پہلو سے اذیت پسند ہوں۔

پہلے تو یہ بات تسلیم کر لیجیے کہ آپ کو کسی سے پہچنے والی کوئی اذیت اس بات کا لائسنس نہیں ہے کہ اب آپ بھی کسی دوسرے کو اسی قسم کے آزار پہنچانے کے لیے آزاد ہیں۔ ہر موقع پر ہمارے پاس ایک سے زائد راستے ہوتے ہیں۔ یہ کہ برائی کے جواب میں آپ بھی برا رویہ اختیار کریں یا کسی بہتر متبادل راستے اور طریقہ کو سیکھنے کی کوشش کریں۔ قربانی کا راستہ اگرچہ مشکل ہوتا ہے مگر برائی کے تسلسل کو قائم رکھنے سے بھی ضروری نہیں کہ انسان کو ذہنی سکون مل جائے۔ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ اذیت رسانی کے اس شیطانی چکر کو روک دیجیے اور رحم دلی اور نفع پہنچانے والے کسی سلسلے کی ابتدا کردیجیے۔

یہ بھی پڑھیں:   جنت کے پھول - ڈاکٹر بشری تسنیم

ڈس پلیسمنٹ ایک منفی ڈیفنس میکنزم ہے اور اپنے سے کمتر پر اپنی فرسٹریشن نکالنا ایک منفی Coping stretgey ہے۔ یہ صرف اس بچے کو ہی نقصان نہیں پہنچا رہی بلکہ آپ کو بھی اپنے ذہنی دباؤ کو مینیج کرنے کے ممکنہ صحت مند طریقے استعمال کرنے سے روک رہی ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آپ کے زیرنگیں موجود یہ مخلوق جسے آپ فرسٹریشن نکالنے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں، آپ کی پریشانی کو بھلانے اور آپ کو ذہنی و جذباتی آسودگی پہنچانے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے؟

ذرا انداز بدل کر دیکھیے۔ آپ کو کسی نے اذیت پہنچائی، آپ گھر آکر بیوی بچوں پر چیخنے چلانے کے بجائے ان سے کہیں کہ چلو کہیں باہر چلتے ہیں یا باہر سے کچھ منگوا کر مل کر ساتھ کھاتے ہیں۔ ساتھ مل کر ہلکی پھلکی گپ شپ کیجیے، ہنسیے، مذاق کیجیے، کوئی اچھی سی کتاب ساتھ مل کر پڑھیے، کچھ مزاحیہ وڈیوز مل کر ساتھ دیکھ لیجیے۔ ایسی تفریح اور بیوی سے دل لگی اور بچوں کی معصومانہ باتوں سے آپ کی تھکن اور ذہنی دباؤ جاتے رہیں گے۔ اور آپ تازہ دم ہوجائیں گے۔

کسی خاتون کو ساس کی کڑوی کسیلی سننی پڑتی ہیں۔ بچوں کو مارنے پیٹنے کے بجائے کمرہ بند کرکے ان کو کہانی سنائیں، باتیں کریں، ان سے کہانی سنیں، ان کے ساتھ مل کر کارٹون یا کوئی فلم دیکھ لیں، بچے چھوٹے ہوں تو ان سے کہیں کہ مما کے اوپر چڑھ کر بیٹھ جاؤ، امی کو پیار کرو۔

اور پھر دیکھیے ان کے پیاری پیاری باتوں اور کھلکھلاہٹوں اور قہقہوں سے آپ کا درد کم ہوجائے گا، آپ کو ہنسنے کا موقع ملے گا، آپ کو ان بچوں کی شکل میں امید نظر آئے گی کہ جو آج آپ کے درد سے کانپتے بدن کو اپنے ننھے ہاتھوں اور پیاری باتوں سے سکون پہنچا رہے ہیں۔ اگر آپ ان کے ساتھ محبت بھرا تعلق رکھیں اور ان ہر مثبت انداز میں محنت کریں تو یہ کل بھی آپ کی زندگی کو خوبصورت بنائیں گے۔ ان شاءاللہ۔ اور یہ بھی ہے کہ آپ کو تکلیف دینے والوں کو بھی شکست ہوجائے گی کہ وہ آپ سے آپ کے خوش ہونے کا اختیار اور آپ کا اپنے بچوں پر اختیار نہیں چھین سکے۔

یہ بھی پڑھیں:   بچے اور مسجد - سعدیہ طاہر

اگر آپ کو کلینیکل ڈیپریشن ہے تو اپنے آپ اور اپنے ماحول کو مزید گھٹن زدہ بناتے رہنے کے بجائے ایکسپرٹ سے ملاقات کیجیے۔ دوا لیجیے، ٹاک تھراپی کروائیے، ذہنی دباؤ سے آزادی کے صحت مند طریقے اختیار کیجیے مثلا تعوذ پڑھیے، پانی پیجیے، کھانا نہیں کھایا تو کھانا کھائیے، غسل کر لیجیے، تلاوت، نماز، اذکار، درود شریف کا اہتمام کیجیے۔

کھلی ہوا میں باقاعدگی سے تیز قدموں سے چلیے یا کوئی ورزش کیجیے۔ قریبی پارک میں جانا ممکن ہو تو وہیں جائیے، ورنہ گھر کی چھت یا صحن کو استعمال کریں۔ روزانہ ورزش جذبات میں بہت مثبت تبدیلی لاتی ہے، اور ہر وقت محسوس ہونے والی تھکن اور اداسی میں بھی واضح طور پر کمی آتی ہے۔

جیسے بھی حالات ہوں، کوئی بھی ایسا مشغلہ اپنائیے جس سے آپ کو خوشی ملتی ہو، باغبانی، جانور پالنا، مطالعہ کرنا، مصوری کرنا۔ یاد رکھیے سوشل میڈیا کی مصروفیت ان مشاغل میں شامل نہیں اور یہ مشاغل کے ضمن میں بالکل بھی کفایت نہیں کرتی۔ کسی فلاحی تنظیم یا ادارے کے لیے جتنا ممکن ہو رضاکارانہ کام کرنا۔

جو لوگ آپ کی زندگی میں زہر گھولتے ہیں، ان کو جتنا ممکن ہو نظرانداز کرنا شروع کردیجیے اور یاد رکھیے کہ آپ کو اپنی صلاحیتوں اور وقت کو مثبت انداز میں استعمال ہونے سے روکنے کی اجازت کسی کو بھی نہیں۔ آپ لوگوں کا خیال کرتے ہیں، اچھی بات ہے، مگر اس سے بڑھ کر ان کو یہ اختیار نہیں کہ وہ آپ کے زندگی کے معمولات میں اپنی رائے مسلط کریں۔ اس لیے ان تجاویز پر عمل در آمد کرنے سے خود کو روکنے کے لیے یہ عذر نہ دیجیے کہ حالات اور لوگ اجازت نہیں دیتے۔ کینسر کے باعث ایک ٹانگ سے معذور شخص نے کینیڈا کے گرد چکر لگا کر کینسر کے مریضوں کے لیے فنڈ جمع کیا اور پھر جلد ہی نوعمری میں ہی مر گیا۔ مگر آج بھی ہر سال پورے ملک کے اسکولوں میں طلبہ اور بڑے "ٹیری فاکس ڈے" پر بھاگتے ہیں اور کینسر کے مریضوں کے لیے چندہ جمع کرتے ہیں۔

یقین رکھیے آپ کے اندر بھی ایک جگنو چھپا ہے، جو اپنے نور سے دنیا کو چمکانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ بھی اس وقت جب ہر طرف تاریکی ہو۔