پاکستان کو کچرا کنڈی بننے سے کیسے بچائیں - محمد سعد صالح

میں اپنے گھر والوں کو لے کر کسی رشتے دار کے ہاں ملنے جارہا تھا۔ ہم گاڑی میں سوار تھے۔ میرے سامنے میرے تینوں چھوٹے بھائی ترتیب وار بیٹھے ہوئے تھے۔ دوران سفر آپس میں گفتگو بھی چل رہی تھی۔ اسی اثناء میں محمد اسید نے جیب سے ایک ٹافی نکالی۔ ٹافی کھا کر اس کا ریپر شیشے سے باہر کرکے ہوا میں اڑا دیا۔ میں نے فورا ہی اسے مخاطب کرکے کہا: "اسید ایک بتاؤ۔ یہ ملک کس کا ہے۔۔؟"
"ہمارا" تینوں نے مل کر جواب دیا۔
"اچھا تو یہ بتاؤ یہ شہر کس کا ہے۔۔؟"
"یہ بھی ہمارا ہے۔"
"بہت خوب ۔ اچھا یہ بتاؤ یہ علاقہ کس کا ہے۔۔؟"
"یہ بھی ہمارا ہے۔ سارا پاکستان ہمارا ہے۔"
"بہت اچھے میرے دوستو۔" میری تائید پا کر وہ خوش سے ہوگئے۔ وہ تجسس بھرے انداز میں مجھے تک رہے تھے۔

"چلو اب یہ بتاؤ۔ اپنے شہر کو گندا کرنا کیسا ہے۔۔؟"
"بہت برا ہے۔ اپنے شہر کو تو صاف رکھنا چاہیے۔"
فورا سے پہلے ان سب کی طرف سے جواب آیا۔
"بالکل صحیح جواب. زبردست۔"
میں نے پھر سے ان کی تائید کی۔

اب میں اپنے اصل مقصد کی طرف لوٹ گیا۔ میں نے اسید کو مخاطب کرکے پوچھا: "جب اپنے شہر کو صاف رکھنا چاہیے تو بتائیے آپ نے اسے گندا کیوں کیا۔۔؟؟"
"میں نے تو گندا نہیں کیا ہے۔" مجھے اسید سے اسی جواب کی توقع تھی، اس لئے فورا ہی اس سے پوچھا: "کیا آپ نے ٹافی کا ریپر باہر نہیں پھینکا۔۔؟"
"ہاں وہ تو پھینکا ہے۔"
"اسی سے تو شہر گندا ہوجاتا ہے اور ہر طرف کچرے نظر آنے لگتے ہیں۔"
آگے سے میرے توقع کے عین مطابق جواب میری طرف آیا۔
"میرے ایک ریپر پھینکنے سے کیا ہوجاتا ہے۔۔؟؟ ایک ریپر سے تو گندگی نہیں پھیلتی۔۔!"

اب وہ موقع آچکا تھا جہاں مجھے اسید کا ذہن بنانا تھا۔ اسی موقع کے انتظار میں نے ڈھیر ساری تمہیدات باندھی تھیں۔ لوہا گرم دیکھ کر میں نے بھی فیصلہ کن ضرب لگانے کا ارادہ کرلیا۔
"دیکھو اسید۔۔۔!!" اسید کے ساتھ ذکوان اور انیس بھی غور سے مجھے سن رہے تھے۔
"دیکھو میرے پیارو۔۔! اس ملک میں 22 کروڑ لوگ رہتے ہیں۔ اب اگر ان 22 کروڑ میں سے ہر ایک یہ سوچے کے میرے ایک ریپر پھینکنے سے کیا ہوگا۔ اس سے تو کوئی گندگی نہیں پھیلے گی۔ اور ہر بندہ ایک ایک ریپر پھینک دے تو بتاؤ کتنے ریپر جمع ہوجائیں گے۔۔؟؟
"22 کروڑ ریپر۔۔!" تینوں نے تعجب سے آنکھیں پھاڑ کر جواب دیا۔
"اب بتاؤ 22 کروڑ ریپروں سے کچرا پھیلے گا یا نہیں۔۔ اور ہمارا ملک گندا ہوگا یا نہیں۔۔؟؟"
"بالکل پھیلے گا بھائی جان اور سارا پاکستان کچرا کنڈی بن جائے گا۔" تینوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا۔
"اب یہ سوچو کہ اتنے سارے ریپر جمع کیوں ہوئے اور ہمارا ملک کچرا کنڈی کیوں بن گیا۔۔؟؟"
انہوں بغیر سوچے فورا سے جواب دیا: "کیوں کہ ہم سے ہر ایک نے اپنا ریپر یہ سوچ کر پھینک دیا کہ میرے ایک ریپیر پھینکنے سے کچرا نہیں پھیلے گا۔"
"ہاں میرے چندا۔۔۔ یہی ہماری غلط سوچ ہے۔ اسی غلط سوچ کی وجہ سے ہمارا ملک گندا ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہنرمند نوجوان اور معاشرے میں ان کی اہمیت - شیراز علی

"اب یہ بتاؤ ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیسے اس ملک کو گندگی سے بچایا جاسکتا ہے۔؟؟" بات کو ان کے دل و دماغ میں پختہ کرنے کے لئے اس مسئلے کا حل بھی میں نے انہی سے پوچھا۔
"ہمیں اس ملک میں کچرا نہیں پھنکنا چاہیے اور یہ سوچنا چاہیے کہ میں اکیلا اس ملک کو صاف کرسکتا ہوں۔"
"شاباش میرے پیارو۔۔۔ زندہ باد۔"

میری تھپکی سے وہ سب خوشی سے نہال ہوگئے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگیں۔ ساتھ بیٹھی میری والدہ بھی دھیرے سے مسکرا دیں۔ میں جو بات انہیں سمجھانا چاہ رہا تھا اللہ کے فضل سے وہ بہترین طریقے سے سمجھ چکے تھے۔ مجھے یقین ہوچکا تھا کہ اب وہ آئندہ ایسا کرنے سے باز رہیں گے۔ اپنی حد تک وہ گندگی نہیں پھیلائیں گے اور اس پیغام کو دوسروں تک پہنچاتے رہیں گے۔ دیے سے دیے جلتے رہیں گے۔ میں نے اپنا فرض ادا کرلیا تھا۔ اپنے حصے کی شمع میں جلا چکا تھا۔ دیے سے دیے خود ہی روشن ہوتے ہیں۔ میری جلائی گئیں تین شمعیں نجانے آگے کتنی شمعیں روشن کریں گی۔۔! اس احساس نے مجھے سرشار کردیا اور مجھے دور سے ایک صاف اور روشن پاکستان نظر آنے لگا۔