بیٹی کے سوال، والد کے جواب - احسن سرفراز

چھوٹی بیٹی منیبہ جو پریپ میں پڑھتی ہے، اکثر بڑے باریک سوالات کرتی ہے۔ کل کہنے لگی کہ کیا قیامت کے دن ساری دنیا ختم ہو جائے گی اور سارے انسان مر جائیں گے؟ میں نے جواب دیا جی ختم ہو جائے گی۔

پھر کہنے لگی کہ اگر سارے انسانوں نے مر جانا ہے تو اللہ نے انھیں پیدا ہی کیوں کیا؟ میں نے جواب دیا کہ بیٹا دنیا اللہ نے ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں بنائی، بلکہ ہمیشہ رہنے کے لیے اللہ نے جنت اور جہنم بنائے ہیں، یہ دنیا تو محض امتحان کی جگہ ہے جو انسان اس دنیا میں اللہ کا کہنا مانیں گے، انھیں مرنے کے بعد جنت ملے گی جہاں وہ خوب مزے سے رہیں گے، جبکہ جو اللہ کی نافرمانی کریں گے وہ مرنے کے بعد جہنم میں جائیں گے جہاں ان کو بدترین سزا ملے گی۔

کہنے لگی کہ بابا کیا ہندوؤں اور مسلمانوں کے الگ الگ اللہ تعالیٰ ہیں، ہندو ہم سے الگ طریقے سے اللہ کی عبادت کیوں کرتے ہیں؟

میں نے جواب دیا کہ بیٹا ساری مخلوق کے ایک ہی اللہ تعالیٰ ہیں اور ہر چیز کو اللہ نے بنایا ہے اور اللہ نے اپنی پہچان کروانے اور دنیا میں رہنے کا طریقہ بتانے کے لیے نبیوں کو بھیجا۔ آج اکثر انسان ان نبیوں کی باتیں بھول کر اپنی مرضی کر رہے ہیں اور انھوں نے اللہ کو راضی کرنے کے لیے اپنی مرضی کے طریقے خود سے نکال لیے ہیں۔ اسی طرح ہندوؤں نے بھی اللہ کو راضی کرنے کے لیے یہ سمجھ لیا ہے کہ ان بتوں کو پوجنے سے ہم اللہ کو راضی کر رہے ہیں۔ اللہ کو خوش کرنے کا جو طریقہ خود اللہ نے اپنے کلام قرآن پاک میں یا اپنے آخری نبی کے ذریعے بتایا، بس اس پر عمل کرنے سے ہی اللہ کو راضی کیا جا سکتا ہے، باقی سب طریقے غلط ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   تین بیٹے جو والد کو ساتھ نہ رکھ سکے - بشری نواز

کہنے لگی کہ بابا ایک بات میں بہت سوچتی ہوں لیکن سمجھ نہیں آتی کہ اتنی بڑی دنیا اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے تو آخر اللہ تعالیٰ کو کس نے بنایا ہے؟

میں نے جواب دیا کہ بیٹا بہت سی باتیں ہیں کہ جو آپ کو اس عمر میں سمجھ نہیں آئیں گی لیکن جب آپ بڑی ہو جاؤ گی تو سمجھ آنے لگیں گی، اور بہت سی باتیں ایسی ہیں جو شاید آپ ساری عمر سمجھ نہ پاؤ گی، اس لیے ضروری نہیں ہر سوال کا جواب ہر شخص کو مل جائے۔ جو سوال آپ نے پوچھا ہے اس کا جواب خود اللہ نے قرآن پاک میں دیا ہے کہ اللہ کو کسی نے نہیں بنایا، وہ سب سے بڑا ہے، وہ ہمیشہ سے تھا اور ہمیشہ رہے گا اور اسے کسی نے نہیں پیدا کیا اور نہ ہی اس کی کوئی اولاد ہے۔

کہنے لگی کہ بابا کیا میں جنت میں اللہ کو دیکھ پاؤں گی اور کیا میں یہ سوال جنت میں اللہ سے پوچھ پاؤں گی؟

میں نے جواب دیا کہ بیٹا جنت میں سب سے بڑا انعام ہر جنتی کو اللہ کا دیدار اور اللہ سے ملاقات ہی ہوگا، وہاں آپ اللہ سے سارے سوالات کر لینا۔

کہنے لگی کہ بابا یہ چوہے سانپ اور انسان کو نقصان پہنچانے والی دوسری چیزیں آخر اللہ نے بنائی ہی کیوں ہیں؟

میں نے جواب دیا کہ بیٹا کہ اللہ نے جو کچھ بھی بنایا، اس کا ایک مقصد ہے، اور ضروری نہیں کہ ہر چیز کا مقصد ہمیں سمجھ آ جائے۔ اب آپ نے سانپ اور چوہوں کا ہی ذکر کیا تو جہاں یہ جانور نقصان پہنچاتے ہیں اور ان کے نقصان کی وجہ سے آپ ان سے ڈرتی ہو، ان سے محفوظ رہنے کے لیے اللہ سے دعا بھی کرتی ہو تو ایک مقصد تو یہی سمجھ آگیا کہ بہت سی نقصان پہنچانے والی چیزیں ہمیں اللہ کی یاد دلاتی رہتی ہیں، اسی طرح چوہے اور سانپ بہت سے نقصان دہ کیڑے مکوڑوں کو بھی کھاتے ہیں، چوہوں پر تجربات کر کے انسان نے بہت سی دوائیاں بھی بنائی ہیں، سانپوں کے زہر سے بھی کئی دوائیاں بنتی ہیں جو بہت سی بیماریوں میں کام آتی ہیں۔ اسی طرح اگر ان نقصان پہنچانے والی مخلوق سے جو بیماریاں وغیرہ پھیلتی بھی ہیں تو ہم ان کے نقصان سے بچنے کے لیے دوائیوں کی فیکٹریاں لگاتے ہیں، بڑے تعلیمی ادارے بنا کر وہاں ڈاکٹر بنتے ہیں، بہت سے ہسپتال اور سٹور چلاتے ہیں تو اس طرح کتنے ہی لوگوں کو کمانے کا ذریعہ بھی تو ملتا ہے۔ اس لیے ہر چیز کا کوئی نہ کوئی فائدہ ہے اور جس کا کوئی نقصان ہے تو اس نقصان سے بھی کوئی فائدہ ہی جڑا ہوتا ہے جو کہ ضروری نہیں ہمیں فوراً سمجھ آ جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   بچے دو ہی اچھے - قدسیہ ملک

الغرض اس ننھی پری کے سوالات تو چلتے ہی رہتے ہیں اور میں بھی اپنے تئیں اس کے سوالات کا قابل تشفی جواب دینے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔ اللہ ہمارے اہل خانہ کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے اور انھیں دنیا و آخرت کی بھلائیوں سے نوازے۔ آمین یا رب العالمین

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.