رمضان کی آمد ، خیر کی آمد - الطاف جمیل ندوی

آمد رمضان کے ساتھ ہی لوگ یا تو خوشی و مسرت محسوس کررہے ہیں یا پھر اداس ہو رہے ہیں . ​کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو اس وجہ سے خوش ہورہے ہیں کہ رمضان کی سعادت نصیب ہوگی اور ہم رب کے حضور اپنا تعلق مزید مستحکم کرکے دارین کی سعادت حاصل کرنے کی سعی کریں گئے .

اسی طرح کتنے ایسے بھی برائی کے خوگر لوگ ہیں جو اس وجہ سے غمزدہ ہونا شروع ہوچکے ہیں کہ بھوک و پیاس کی شدت برداشت کرنی پڑے گی اور مختلف طریقے اختیار کرکے اس سعادت سے فرار اختیار کرنے پر اپنی صلاحیت استعمال کرتے ہیں . بعض لوگ اس طرح کے کام اختیار کرتے ہیں کہ اس میں روزہ رکھنا دشوار ہوتا ہے اور وہ دل ہی دل میں جھوم جاتے ہیں . پر کتنے ایسے بھی بدنصیب ملیں گے جو اس وجہ سے خوشی منارہے ہیں کہ انہیں روزہ داروں کے سامنے کھانے کو ملے گا اور وہ روزہ داروں کو چڑھاتے ہیں کہ کیا فائدہ تمہاری بھوک پیاس کا دیکھ لیں ہم کیسے زندگی کو مختلف لذیذ کھانے سےسنوار رہے ہیں . سوچنے کی بات ہے کہ ہم میں سے ہر کسی کو جائزہ لینا ہے کہ مذکورہ بالا کس قسم میں ہمارا شمار ہورہا ہے . ہیں اگر ہم پہلی قسم سے تعلق رکھتے ہیں تو قابل مبارک باد ہیں ، دعا ہے کہ اللہ پاک آپ کو رمضان المبارک کی ہرسعادت اور ہرخیر و برکت سے نوازے اور ہمیں بھی ان لوگوں میں سے بنائے جن کے منہ سے نکل رہی بو رب الکریم کو بہت پسندیدہ ہے . دوسری قسم کے لوگوں کے لئے صرف اور صرف محرومی ہے ، دنیا میں بربادی ہے اور آخرت میں رسواکن عذاب ہے یہ مسلم معاشرے میں رہ کر بھی رب الکریم کی رحمتوں سے محروم رہ جاتے ہیں ایسے لوگ از خود رب الکریم کے غضب کو دعوت دیتے ہیں .

اس لئے ایسے لوگوں کو اللہ تعالی سے سچی توبہ کرنی چاہئے اور رب الکریم کے حکموں پہ چلنا چاہئے تاکہ ان کی دنیا و آخرت سنور جائے . تیسری قسم کے لوگوں کو چاہئے کہ ایسا پیشہ اختیار کریں جس سے روزہ پر اثر نہ پڑے، یا کم از کم رمضان میں اپنے اس عمل سے رک جائیں جس سے روزہ پر اثر پڑتا ہو اور اللہ سے امید وابستہ رکھنی چاہئے ، کہ وہی روزی دینے والا ہے اور ممکن ہے کہ رب آپ کی تلاش حق کی راہ میں ایسی دستگیری فرمائے کہ آپ بے نیاز ہوجائیں اس رزق کی تلاش سے یہ سب اسی رب کے ہاتھ میں ہے . چوتھی قسم کے لوگ پرلے درجے کے بدنصیب ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو کفار کی روش اختیار کرتے ہیں اور ان کی تقلید میں اہل ایمان کو کوستے اور ان کی استہزاء کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنی گھناؤنی حرکتوں سے باز آنا چاہئے اور قہر الہی سے پناہ مانگنی چاہئے رمضان المبارک کی ان مبارک ساعتوں کا کیا کہنا جن کے آنے پے رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم اپنی عبادات میں لذت و چاشنی کے شوق میں اضافہ کرتے اور شوق محبت میں رب کے حضور اپنا تعلق بناتے رب کی بارگاہ میں راز و نیاز کی باتیں کرتے رحمتوں کو سمیٹنے کے لئے اپنے مبارک ہاتھ بلند کرتے سحر ہو کہ افطار رب سے فریاد کرتے .

ارشاد باری تعالی ہے کہ مومنوں پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے سابقہ امتوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقوی شعار بن جاؤ ،
سوچنے کی بات ہے کہ رمضان المبارک اس سے پہلی امتوں پر بھی فرض ہی تھا اب جو ہم پر فرض کیا گیا تسلی بھی دی گئی کہ یہ صرف آپ کا امتحان نہیں ہورہا ہے بلکہ ایسا سابقہ امتوں سے بھی معاملہ کیا گیا تاکہ کھرے کھوٹے کو پرکھا جائے کہ تم میں سے رب سے کس کا کیا تعلق ہے کتنا مستحکم ہے اس میں کتنی اللہ کی محبت و اطاعت موجود ہے دنیا کی مختلف اقوام ایسا کرتے ہیں کہ مختلف دن مقرر کر کے دن میں کھانے پینے سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں پر ان کے اس عمل پر ان کے لئے کوئی پابندی نہیں کہ یہ کس طرح کی بھوک پیاس کی شدت کو سہہ لیتے ہیں پر مومنین پر قوانین نافذ ہیں کہ ایسا کرے ایسا نہ کریں یہ روزہ میں بہتر کام ہے پر اس کام سے روزے برباد ہوجاتے ہیں مطلب یہ کوئی اچانک والا طریقہ نہیں ہے بلکہ یہ الہی حکم ہے اور اس کے کرنے کے طریقے بھی بتائے گئے ہیں جسے اب رب کی رضا مطلوب ہے وہ بڑا حساس بن کر پورے دن اپنے جسم کے اعضاء کی رکھوالے بھی کریں کہ کہیں کوئی حصہ یا عضو کسی غلطی کا ارتکاب نہ کر بھیٹے اور میری دن کی مشقت برباد ہو جاۓ یہ اخلاقیات کی تعلیم بھی دیتا ہے تو وہیں درس مساوات بھی یہ اتحاد و اتفاق کی ترغیب بھی دیتا ہے تو وہیں محبت و خلوص کا درس بھی انسان دوستی کا سبق بھی دیتا ہے .

یہ بھی پڑھیں:   رمضان المبارک اور اس کے تقاضے - بنت طاہر قریشی

کچھ کام کی باتیں : ۱۔۔۔ روزہ دار کو افطار کرانا چاہئے ایک کجھور ہو کہ پانی کا ایک گھونٹ ، اس سے آپسی میں محبت و اخوت کا تعلق بنے گا اصل یہی ہے ورنہ ایک گھونٹ پانی سے کیا ہوتا بس اسلام چاہتا ہے کہ امت مسلمہ آپس میں بھائی چارے کی مثالیں قائم کریں اور اسے فروغ دینے کا سنہری موقعہ رمضان المبارک کے مبارک ایام ہیں .
۲۔۔ گالی گلوچ سے پرہیز : یہ بھی ایک ایسا کام ہے جس کو اب ہم مذاق مذاق میں مختلف بہانے بنا کر صحیح بنانے کی تک و دو میں رہتے ہیں پر ہے یہ ایک غلیظ عادت جس سے پرہیز کی تعلیم دی گئی ہے پر رمضان المبارک میں آسانی سے اپنی زبان کو بدی کی باتوں سے روکا جا سکتا ہے
۳۔۔ صبر کرنے کا کام یہ بھی ہے کہ بھوک پیاس کی شدت کا شکوہ بہ کریں کسی بھی سے کیونکہ یہ بھوک پیاس جس محبت و عقیدت کے لئے آپ سہہ رہے ہیں اس کی تا قیامت بدر میں اصحاب نبوی علیہ السلام نے مثال پیش کی انہوں نے کسی سے اپنی بے بسی بیان نہ کی سوائے رب الکریم کے
۴۔۔۔ ذکر الہی : گر چہ پورے سال کرنے کا کام ہے پر رمضان المبارک میں اس کی لذت و چاشنی کا الگ ہی لطف ہے کہ آپ بھوک محسوس کر رہے ہیں اپنی بھوک کی شدت سے بچنے کے لئے آپ قرآن مجید اٹھا کر اس کی تلاوت شروع کرکے خود کو رب سے جوڑ رہے ہیں تو رب بھی آپ کو راندہ درگاہ نہ کرے گا بلکہ آپ کی بھوک جنت کے باغیچوں میں مٹانے کا وعدہ دے کر نوید فلاح سنائے گا.

پورے سال گر چہ کم قلیل تلاوت ہوتی رہتی ہے اب پر رمضان المبارک میں اس کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنے کی کوشش کریں بیشک قرآن مجید آپ کے دلوں کو منور کرے گا
۵۔۔ آپسی رنجش یا حسد بغض سے حتی الامکان بچیں نفرت و کدورت بھرے قلب کی صدائیں ضائع ہوا کرتی ہیں .
۶۔۔ مساجد میں شور غل مچانے سے احتیاط کرنی لازم ہے فضول کے مسائل اٹھا کر ضد نہ کریں کہ یہ صحیح پے یہ غلط ہے بلکہ اپنے معاملات اللہ تعالی و رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کریں نہ کہ اپنی ضد اور انا کو بچانے کے لئے جگڑا کریں اعتدال کی راہ کا انتخاب سب سے بہتر طریقہ ہے اصلاح کا . آئے میرے عزیزان گرامی یہ چند گزارشات آپ کے لئے لکھ دی ہیں امید ہے کہ یہ رمضان ہمارے لئے رحمت ربی کا پیغام بن کر ہماری زندگیوں کو منور کریں شعبان کے آخری ہفتہ میں کیسا بہترین پیغام ہمارے لئے کتب احادیث میں موجود ہے آئے اس کا مطالعہ بھی کریں کہ ہم کیسے اس ماہ میں اپنے اوقات کو صرف کریں کیسے اپنی ایمانی لذت و چاشنی میں مزید اضافہ کرائیں کتب احادیث بتاتی ہیں کہ شعبان کا آخری دن ہوتا تو آپﷺ مسجد نبوی میں صحابہ کرام کو جمع فرما کر خطبہ ارشاد فرماتے جس میں رمضان المبارک کے فضائل و وظائف اور اہمیت کو اجاگر فرماتے تاکہ اس کے شب و روز سے خوب فائدہ اٹھایا جائے اور اس میں غفلت ہرگز نہ برتی جائے، اس کے ایک ایک لمحہ کو غنیمت جانا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   گرمی کا موسم ، رمضان اور بادام کی سردائی

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے فرمودہ خطبہ کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ٔاکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہم کو شعبان کے آخری دن خطبہ دیا، فرمایا: اے لوگو! ایک بہت ہی مبارک ماہ تم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔ اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے روزوں کو فرض اور رات کے قیام کو نفل قرار دیا ہے۔ جو شخص کسی نیکی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف قرب چاہے اس کو اس قدر ثواب ہوتا ہے گویا اس نے دوسرے ماہ میں فرض ادا کیا۔ جس نے رمضان میں فرض ادا کیا اس کا ثواب اس قدر ہے گویا اس نے رمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں ستر فرض ادا کئے۔ وہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے۔ وہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کا مہینہ ہے۔ اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جو اس میں کسی روزہ دار کو افطار کرائے اس کے گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں اور اس کی گردن آگ سے آزاد کر دی جاتی ہے اور اس کو بھی اسی قدر ثواب ملتا ہے اس سے روزہ دار کے ثواب میں کچھ کمی نہیں آتی۔

اس پر صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیک و سلم ! ہم میں سے ہر ایک میں یہ طاقت کہاں کہ روزہ دار کو سیر کر کے کھلائے۔ اس پر آپ نے فرمایا: یہ ثواب تو اللہ اسے بھی عطا فرمائے گا جو ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی یا ایک گھونٹ دودھ پلا دے . جس نے کسی روزہ دار کو افطاری کے وقت پانی پلایا اللہ تعالیٰ (روزِ قیامت) میرے حوضِ کوثر سے اسے وہ پانی پلائے گا جس کے بعد دخولِ جنت تک پیاس نہیں لگے گی۔ یہ ایسا مہینہ ہے جس کا اول رحمت ہے، اس کے درمیان میں بخشش ہے اور اس کے آخر میں آگ سے آزادی ہے۔ جو شخص اس میں اپنے غلام کا بوجھ ہلکا کرے اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے اور آگ سے آزاد کر دیتا ہے . یہ وہ تعلیمات نبوی علیہ السلام ہیں جنہیں گر ہم رمضان المبارک کے مبارک ایام میں عمل میں لائیں تو یقینا رب الکریم کی رحمتیں ہمارے لئے وا ہوں گئیں آئے امت مسلمہ کے عظیم کارواں کے ساتھیو آو مل کر اپنی زندگیوں کے ان مبارک اوقات کو اپنے لئے رحمتوں کا سایہ تلاش کریں میں صرف کریں اور بقاء امت کے لئے اپنی دعاؤں میں امت کے کرب کا رب سے خاموشی سے اظہار کریں