امن و پہچان بذریعہ ماہ صیام. - شہباز رشید بہورو.

دنیا میں ہر ایک انسان پہچان اور امن کی تلاش میں ہمہ تن محو کار رہتاہے.پہچان اور امن کی اس تحریک تلاش میں انسان ہمیشہ ایک خاص ضابطہ اور طریقہ کار کے تحت اپنی توانئیاں اپنے متعین نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے صرف کرتا ہے. دنیا میں اللہ تعالی نے انسانوں کو اپنی ضروریات پورا کرنے اور مقاصد حاصل کرنے کے لیے دو قسم کے طریقہ کار یا دو قسم کے راستوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ صاف صاف وضاحت بھی کی ہے .

ایک طریقہ کار اس کی طرف سے تفویض کردہ ہے اور دوسرا شیطان کا سجایا ہوا خواہشات کی تسکین کا راستہ ہے. اول الذکر طریقہ اختیار کرکے جس راستےکاانسان مسافر بنتا ہے اسے قرآن مجید صراط المستقیم کے نام سے موسوم کرتا ہے اور دوسرا طریقہ اختیار کرنے سے جس راستے کاانسان مسافر بنتا ہے اسے ساءالسبیل کے نام سے موسوم کیا گیا ہے.انسان کو اختیار ہے کہ وہ دو میں کسی بھی راستے کو اپنائے . معاشرے میں اپنی پہچان اور ساخت قائم کرنے کے لیے انسان لاز ماً مزکورہ بالا دو راستوں میں سے ایک راستے کا انتخاب کرتا ہے. اللہ کا راستہ اختیار کرکے انسان جس پہچان کا مالک بنتا ہے اس کو قرآن نے تقوی کہا ہے اور اس پہچان کے مالک کو متقی کہا ہے. درحقیقت اگر ایک انسان اپنی نفسانی خواہشات اور شیطان کی طرف سے سجائ ہوی دنیا کے تمام پردوں کو چاک کر کے حقائق کا براہ راست دیدار کرے تو اسے اپنی اصلی وحقیقی پہچان اسی تقوی کی صفت میں نظر آئے گی.ورنہ گر اس نے ان پردوں کو چاک کئے بغیر اپنی پہچان کی تلاش دنیا کے رنگین وچکا چوند پردوں پر ہی جاری رکھی تب تو اس کو اپنی حقیقی پہچان شیطان کے جعلی جینٹلمین میں ہی نظر آیے گی. پہلی قسم کی پہچان ایک ایسا مقام عظمت ہے جس میں ایک انسان کو مادی پاکیزگی کے ساتھ روحانی ترفع حاصل ہوتا ہے. اسی پہچان کا حامل انسان فرشتوں کی تعریف اور اللہ تعالی کی سلامتی کا حقدار بنتا ہے.

"جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہو تم پر سلامتی ہے.........." الانعام 54
انہی متقین کا معاشرے میں ایک مقام ہوتا ہے لوگ بڑی گہری عقیدتمندی کے ساتھ ان سے وابسطہ ہوتے ہیں. وہ مادی دنیا کی تمام مصنوعات سے بلند ہو کر اپنا ایک غیر معمولی مقام رکھتے ہیں. اصل کامیابی اور حقیقی کامرانی کے حقدار یہی لوگ ہوتے ہیں.
اولئک علی ھدی من ربھم واولئک ھم المفلحون . ایسے لوگ اپنے رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور وہی فلاح پانےوالے ہیں. (البقرہ 6 )
جو انسان جتنا متقی ہے وہ اتنا ہی اصلی پہچان اور عظمت کا حامل ہے.اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو اس مقام عظمت سے سر فراز کرنے کے لیے بہت سارے مواقع فراہم کیے ہیں ان میں سے سب سے طویل ،برکتوں اور رحمتوں سے بھرا موقع ماہ رمضان کا مہینہ ہے اس مہینے میں جو انسان جتنی اپنی اصلی اور حقیقی پہچان ، متقیانہ ساخت اور روحانی اقبال حاصل کرنا چاہتا ہے کر سکتا ہے . لیکن ماہ مبارک کے ان مبارک اور رحمت والے لمحات سے مستفید ہونے کے لئے ایک بندہ مومن کو اپنے دل کی دنیا کو ایک خاص نقش میں ڈھالنے کے ساتھ ساتھ ایک خاص اور پاک رنگ میں رنگنا بھی شرط کے زمرے میں آتا ہے . وہ رنگ اللہ کی خشیت و معرفت کا رنگ ہے.جب تک نہ بندہ مومن کی دنیائے قلب بدل جایے تب تک ان لمحات سے فائدہ اٹھانا محال ہے. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دل کی دنیا بدلنے اور صبغتہ اللہ میں رنگنے سے کیا مراد ہے؟ان دونوں چیزوں سے مراد ایک مصمم ارادہ اور نیت خالص ہے.

جب تک ان دو روحانی ورزشوں سے ایک انسان اپنے آپ کو تیار نہ کرے تب تک ایک مسلمان ماہ مبارک کی اس ٹریننگ سے حقیقی معنوں میں فائدہ نہیں اٹھا سکتا ہے . بظاہر تو وہ روزہ سے ہوگا لیکن اسے ایک حدیث کی رو سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکتا ہے.کیونکہ وہ جس قسم کا مزاج اور طبیعت ماہ صیام سے پہلے لے کر آیا تھا اور عین اسی قسم کا مزاج اور طبیعت لے کر ماہ صیام سے رخصت ہوا . اس کے اندر کوئی بھی متقیانہ تبدیلی پیدا نہ ہوئی. جیسے قرآن نے ایک مقام پر اھل کتاب کا نقشہ یوں کھینچا ہے. : قد دخلو بالکفر وھم قد خرجو بہ..... وہ کفر کے ساتھ داخل بھی ہوے تھے اور کفر کے ساتھ رخصت بھی ہوے....
جب تک ایک مسلمان کا روزہ رکھنے کی یہ نیت نہ ہو کہ وہ اپنے آپ کو اس روزے کے ذریعے ہر ایک قسم کی معصیت سے زبردستی اجتناب نہ کرائے تب تک اس کے اندر کوئی بھی روحانی تبدیلی نہیں ہو سکتی ہے.جن لوگوں کا مصمم ارادہ خلوص نیت کے ساتھ ملتاہے وہ روزہ واقعتاً اس بندہ مومن کے لیے ایک ڈھال بنتا ہے.
اس کے برعکس دنیاوی جاہ و حشمت کے مالک افراد ،لوگوں کے دلوں میں اپنی قبولیت کو بزور بٹھاتے ہیں. لوگ ان کے شر کی بنیاد پر ان سے ہمسلام وہمکلام ہوتے ہیں . ان کی پہچان ایک معاشرے میں نہایت کمزور اور غیر حقیقی بنیادوں پر ہوتی ہے .

وہ اپنی پہچان اپنے نفس کا مطیع و فرماں بردار بندہ بن کر قائم کرتے ہیں . لوگوں کی جانوں اور عزتوں پر ڈاکہ ڈال کر اپنی ایڈینٹیٹی یا پہچان بناتے ہیں . وہ اپنا منصب ،اپنا مرتبہ ومقام ،اپنی عزت وعظمت اللہ کا باغی بن کر حاصل کرتے ہیں. وہ غیر اسلامی نظام کے اندر چین کی سانس لےکر چین کی نید سوتے ہیں. ان جیسے افراد کو قرآن ناکام ونامراد قرار دیتا ہے گر چہ کہ پوری دنیا انھیں کامیاب متصور کرتی ہو.ان کا اللہ کے ہاں کوئی بھی مقام نہیں ہوتا ہے. ان جیسے لوگوں کے لیے بھی ماہ رمضان ایک خوشخبری لے کر آتا ہے. وہ بھی ماہ صیام میں اپنی زندگی کو بدلنے کا ایک نادر موقع پاتے ہیں. نہایت خوش قسمت ہوں گےوہ لوگ جو ماہ صیام میں اپنی مغفرت کروائیں. جہاں تک امن کی تلاش کا تعلق ہے وہ ہر اس انسان کو حاصل ہوتا ہے جو متقیانہ صفات کا حامل ہو. اگر پوری دنیا میں متقی افراد کی اکثریت ہو گی تو پوری دنیا میں امن کا پھیلنا ایک ناگزیر واقع ہوگا. کیونکہ سکون اور امن کا تعلق نیکی اور اچھائی کے ساتھ ہے جو انسان نیکی کے کا م سر انجام دیتا ہے اس کے دل میں چین کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، وہ قلبی مسرت کو محسوس کرتا ہےاور آخرکار ایک دائمی امید لے کر اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہتا ہے ۔ وہ دائمی امید اس کی مرنے کے بعد آخرت میں کامیابی کا گہرا یقین ہوتا ہے.تقوی اختیار کرنے کا تقاضا ہی یہی ہے کہ انسان خیر کے کاموں میں اس قدر جھٹ جائے کہ خیرکے کام اس کی آن و بان اور آخرکار پہچان بن جائے.