بالاکوٹ حملے کے بعد چند سنگین سوالات - الطاف حسن قریشی

سنگین حالات نے انتہائی سنگین سوالات اُٹھائے ہیں، جن کے جوابات ہی سے مستقبل کی صورت گری ممکن ہوگی۔ بالاکوٹ پر بھارت کی دراندازی سے شروع ہونے والے سلسلۂ واقعات نے پاکستان کو جس فضائی اور اخلاقی فتح سے ہمکنار کیا اور کشمیر کا تنازع جس انداز سے عالمی اُفق پر جلوہ گر ہوا، اُس کے تناظر میں سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ کیا ہم نے آنے والے دنوں میں اِن مواقع سے پورا پورا فائدہ اُٹھایا۔ سول اور ملٹری قیادت میں کامل یکسوئی، قوم کے اندر زبردست اتحاد اور پارلیمنٹ میں بھارتی جارحیت کے خلاف متفقہ قرارداد نے ایک دنیا کو یہ تاثر دیا کہ پاکستان نے پائلٹ کو رہا کر کے اور مذاکرات کی دعوت دے کر بھارت کی شرانگیزی کا جواب بڑے تحمل اور تدبر سے دیا، لیکن بھارت نے اِس پیشکش کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔ تنے ہوئے ماحول میں بڑی تبدیلی اُس وقت رونما ہوئی جب پاک فضائیہ کے جے ایف تھنڈر طیارے نے بھارت کے دو طیارے مار گرائے اور ہم نے ایک بھارتی پائلٹ بھی گرفتار کر لیا۔ اِس بےمثال پیشہ ورانہ مہارت اور بےپایاں جذبۂ ایمانی نے پانسہ یکسر پلٹ ڈالا اور وہ عالمی طاقتیں جو بالاکوٹ پر بھارتی حملے کو اُس کا حقِ دفاع قرار دے رہی تھیں، بھارتی طیاروں کے ہِٹ ہو جانے سے اُن کے موقف میں نمایاں تبدیلی واقع ہوئی۔

سب سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کیا کہ میں بھارت اور پاکستان کے مابین کشیدگی کے حوالے سے جلد ایک اچھی خبر دینے والا ہوں۔ چین تو پہلے ہی پوری طرح مستعد تھا۔ روس نے بھی ثالثی کی پیشکش کر دی۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی طرف سے بھی خیرسگالی کے بیانات آئے۔ سعودی عرب اور امارت بھی کشیدگی کم کرنے کے سفر پر چل نکلے۔ بھارت نے بالاکوٹ کے قریب تین سو دہشت گردوں کی ہلاکت کے جو دعوے کیے تھے، اُنہیں بین الاقوامی میڈیا نے جھوٹ کا پلندا قرار دیا اور پاکستان کے ہر دعوے کی توثیق کی۔ اِس کے علاوہ بھارت میں بھی اپوزیشن کی 21سیاسی جماعتوں نے وزیرِاعظم نریندر مودی کو چیلنج کرنا شروع کر دیا اور بیشتر دانشوروں اور قلم کاروں نے اُن پر برملا الزام لگایا کہ بی جے پی نے آنے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے پلوامہ کا ڈرامہ رچایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   افغانستان کا مستقبل اور مفادات کی جنگ

بالاکوٹ پر حملے کے بعد بھارت نے عالمی طاقتوں کو یہ تاثر دیا کہ اُس نے پاکستان سے پلوامہ حملے کا انتقام لیا ہے۔ بعض بڑی طاقتیں اُس پروپیگنڈے کے سحر میں گرفتار ہو گئیں اور پاکستان کے خلاف متحرک نظر آئیں۔ اِس نازک موقع پر ہماری مسلح افواج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے اِن ممالک کے آرمی چیفس کے علاوہ اُن کے سفیروں سے بھی ملاقاتیں کیں اور حقائق اور دلائل سے پاکستان کا نقطۂ نظر پیش کیا۔ دریں اثنا ہماری پاک فضائیہ نے بھارت کے دو طیارے گرا کر دنیا کی سوچ میں ایک تغیر پیدا کر دیا جس پر پاکستان کی فوجی طاقت کی ہیبت قائم ہو گئی تھی۔ اِس ہیبت میں اُس وقت مزید اضافہ ہوا جب پاک فضائیہ نے جے ایف تھنڈر سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کیا اور اسے دن اور رات میں طویل فاصلے کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل ہو گئی ہے۔ اِس کے علاوہ ہماری بحریہ نے بھارتی ایٹمی آبدوز کا پاکستان کے پانیوں میں داخل ہوتے وقت سراغ لگا کر بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا۔

اِس قدر شان دار کامیابیوں کے پسِ منظر میں کچھ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہماری مقتدر سیاسی جماعتیں بنیادی معاملات پر توجہ دینے کے بجائے پیچیدہ مسائل میں اُلجھتی جا رہی ہیں۔ حکومت میں کچھ ایسے افراد غیرمعمولی اہمیت اور اثر و رُسوخ کے مالک دکھائی دیتے ہیں جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر نااہلی اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اربابِ اقتدار کی بےبصیرتی نے سابق وزیرِاعظم جناب نوازشریف کی علالت کو ایک بہت بڑا مسئلہ بنا دیا ہے۔ ہم سب نے دیکھا کہ حکومتِ پنجاب نے اُنہیں مختلف اسپتالوں میں دربدر کر کے اُن کی عزتِ نفس کو بہت ٹھیس پہنچائی اور انتہائی غیرسنجیدگی اور بےپروائی کا مظاہرہ کیا۔ اب وزیرِاعظم کی طرف سے جناب شاہ محمود قریشی کو جیل میں جا کر نوازشریف سے ملنا اور اپنے رس بھرے ملتانی لہجے میں اُن سے معذرت کے ساتھ اُنہیں علاج کے لیے قائل کرنا چاہئے۔ ہم سب اُن کی شفایابی کی دعا مانگ رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے وزیرِخارجہ اِس محاذ پر یقیناً کامیاب رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   ابن مریم نہیں، دکھ کی دوا چاہیے - حبیب الرحمن

سفارت کاری کے میدان میں البتہ اُن کو سنگین سوالات کا سامنا ہے۔ پہلا سوال او آئی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس کے حوالے سے ہے جو امارات میں منعقد ہوا۔ اُس میں بھارتی وزیرِ خارجہ سشما سوراج کو مہمانِ خصوصی کے طور پر دعوت دی گئی۔ حددرجہ حیرت اِس پر ہے کہ ہمارے سفارتی عملے کو اِس دعوت کی خبر کیوں نہ ہوئی اور اِسے روکنے کی مؤثر کوششیں کیوں بارآور ثابت نہ ہوئیں۔ اختتامی اجلاس میں پاکستان کی قرارداد منظور ہوئی جس میں مقبوضہ کشمیر کے اندر بھارتی درندگی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی تھی اور عالمی برادری پر زور دیا گیا تھا کہ وہ تنازع کشمیر کے تصفیے میں بھرپور کردار ادا کرے۔ پاکستانی قرارداد کے یہ الفاظ مشترکہ اعلامیے سے نکال دیے گئے۔ اُس کے علاوہ امارات کے حکمرانوں کی طرف سے یہ پیغام بھی دیا گیا کہ وہ او آئی سی میں بھارت کی شمولیت کے لیے کوشاں رہیں گے۔

ہمارے وزیر خارجہ جو اپنے الفاظ کے سحر میں رہتے ہیں، اُنہوں نے بیان دیا کہ کشیدگی کم کرنے میں امریکہ نے پرائیویٹ ڈپلومیسی سے کام لیا ہے۔ اِنہی دنوں نیویارک ٹائمز نے اپنے طویل اداریے میں امریکہ پر الزام لگایا کہ اُس نے کشیدگی کم کرانے میں کوئی حصہ نہیں لیا۔ اِس پوری کہانی کا کلائمکس یہ ہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے بھارتی سیکرٹری خارجہ دمے گھوکلے سے واشنگٹن میں دورانِ ملاقات کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کی کارروائیاں روکے اور ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھارت کے ساتھ ہیں۔ غالباً اِسی ملاقات کے بعد پاکستان نے کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا اور مناسب منصوبہ بندی کے بغیر اپنے آپ کو خطرات میں ڈال دیا ہے اور یہ تاثر قائم ہوا ہے کہ یہ سب کچھ بھارتی اور امریکی دباؤ پر کیا جا رہا ہے۔ قانونی اور پبلک سفارت کاری میں نئی روح پھونکنے کے لیے ایک مضبوط ٹیم تیار کرنا ہو گی اور حکمرانوں کو حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی سے باہر آنا ہو گا، جس نے قومی معیشت، ملکی وحدت اور قومی مفاہمت کے لیے سنگین سوالات پیدا کر دیے ہیں۔