نواز شریف سے 10 سوالات - آصف محمود

نواز شریف علیل ہیں، اللہ انہیں صحت دے۔ جیل کی تنہائی اہلِ سیاست کو وہ فرصت مہیا کرتی ہے جو لکھنے پڑھنے پر آمادہ کرتی ہے۔ نواز شریف البتہ ایسے تردد میں نہیں پڑیں گے۔ ان کے ذوق کے بارے میں کرسٹینا لیمب کی گواہی ہے کہ جب وہ نواز شریف کا انٹرویو کرنے ان کے گھر گئیں تو وہاں صرف ایک کتاب پڑی تھی؛ فون ڈائرکٹری ۔ فرصت کے اس ماحول میں، نواز شریف صاحب کی خدمت میں چند سوال البتہ ضرور رکھنے چاہییں۔ کیا معلوم جیل کی تنہائی میں عرفان ذات کا کوئی لمحہ انہیں ان سوالات پر غور فرمانے پر مجبور کر دے۔

1۔ نواز شریف صاحب آج جیل میں ہیں۔ وہ واحد قیدی نہیں ہیں ۔ ان کی صاحبزادی بھی جب جیل گئیں تو واحد خاتون قیدی نہیں تھیں ۔ ان سے پہلے تین ہزار چار سو ننانوے خواتین جیلوں میں تھیں ۔ میاں صاحب اور ان کی صاحبزادی کو تو عزت سے باقی قیدیوں سے الگ رکھا گیا ۔ کیا ان ایام میں کبھی میاں صاحب کو خیال آیا کہ باقی قیدیوں پر کیا بیتتی ہو گی ؟ اپنے لیے اچھی سہولیات ضرور مانگیے لیکن اتنا بتا دیجیے کیا آپ دل ہی دل میں کبھی اس بات پر نادم ہوئے کہ جب اقتدار آپ کے پاس تھا توآپ جیل کے قیدیوں کی حالت زار پر کوئی توجہ نہ دے سکے؟ بطور وزیر اعظم جب آپ کے سامنے یہ رپورٹ پیش کی گئی کہ جیل میں خواتین قیدیوں سے جنسی بیگار تک کی شکایات موجود ہیں تو کیا آپ نے کوئی قدم اٹھایا ؟ کیا دکھ اور تکلیف کا احساس صرف آپ کو ہوتا ہے اور جیلوں میں پڑے باقی تمام قیدی جانور ہیں جن کا کوئی انسانی حق نہیں؟

2 ۔ آپ کے دور اقتدار کے صرف ایک سال میں صرف پنجاب کی جیلوں میں دل جگر اور دیگر امراض کی وجہ سے 145 قیدی جاں بحق ہوئے ۔ راولپنڈی میں ان امراض سے مرنے والے قیدیوں کی تعداد27 تھی ۔ کیمپ جیل لاہور میں 14 اور ڈسٹرکٹ جیل میں 13 لوگ مختلف امراض سے مر گئے؟ آپ کی حکومت نے کہا ہم تحقیقات کروا رہے ہیں ، وہ تحقیقات کیا ہوئیں ؟ کیا آپ نے بطور وزیر اعظم کسی ایک شخص کی موت پر بھی کوئی کارروائی کی؟

3 ۔ یہ آپ ہی کا دور تھا جب سینیٹ نے قومی اسمبلی کو زیر حراست عصمت دری اور تشدد کے خلاف ایک بل بھیجا تھا ۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں قومی اسمبلی اس بل کو ایک سال دبا کر کیوں بیٹھی رہی ؟ کیا آپ کو کبھی ایک دن بھی خیال آیا کہ جیلوں میں عصمت دری کتنا بڑا جرم ہے اور اس کو روکنا بطور وزیر اعظم آپ کی ذمہ داری ہے؟ کیا آپ اس ذمہ داری سے غفلت برتنے پر شرمندہ ہیں ؟

یہ بھی پڑھیں:   فیصلہ سازوں کا امتحان - عاصمہ شیرازی

4 ۔ آپ کو جیل میں الگ کمرہ دیا گیا ہے اور آپ خفا ہیں ۔ کیا آپ کو معلو م ہے جیل میں قیدی کس حال میں رہتے ہیں؟ کیا آپ کو معلوم ہے جس کمرے میں دس کی گنجائش ہو وہاں چالیس بندے ٹھونسے جاتے ہیں ۔ جیلوں میں گنجائش سے دو گنا زیادہ قیدی ہیں ۔ چھیالیس ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے اور چوراسی ہزار قیدی موجود ہیں ۔ اڈیالہ جیل انیس سو قیدیوں کے لیے بنی تھی وہاں پانچ ہزار سے زیادہ قیدی ہیں ۔ کسی ایک کو متعدی بیماری لاحق ہو جائے تب بھی اسے الگ رکھنے کی گنجائش نہیں ۔ اکبر صدیقی کی ’ پرزن ریفارم‘ بھی آپ ہی کے دور حکومت میں سامنے آئی تھی جس میں بتایا گیا کہ حاملہ خواتین کے لیے بھی الگ سے کوئی کمرہ دستیاب نہیں ہوتا نہ ہی ضروری سہولیات اوادویات دستیاب ہوتی ہیں ۔ جیلوں میں کوئی گائنا کالوجسٹ نہیں ہوتی جو ان کو دیکھ سکے۔ کیا یہ سب کچھ پرزن رولز کے ضابطوں کی خلاف ورزی نہیں؟ کیا یہ رپورٹ آپ نے پڑھی؟ کیا آپ کے خیال میں ان عوام کا کوئی حق نہیں؟ حقوق صرف آپ کے ہیں؟

5 ۔ پرزن ایکٹ کی دفعہ 39 کے تحت ہر جیل میں ایک ہسپتال ہونا چاہیے ۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں آپ نے اپنے دور حکومت میں جیلوں کو کیا طبی سہولیات فراہم کیں؟کیا یہ انصاف پر مبنی رویہ ہے کہ جب تک آپ کی حکومت تھی آپ ، آپ کے بھائی اور آپ کے وزیر جیل خانہ جات کے مطابق جیلوں میں طبی سہولیات کا جال بچھا دیا گیا تھا اور جیسے ہی آپ قیدی بنے تو وہی جیلیں آپ کو بھوت بنگلہ لگنے لگیں؟

6 ۔ فیڈرل شریعت کورٹ نے حکم دیا تھا کہ جیلوں کی حالت بہتر بنائی جائے اور میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلقات تک کی سہولت فراہم کی جائے؟ کیا آپ نے اس حکم پر عمل کیا ؟ ہائی کورٹ نے ایک کمیشن بنایا تھا اور اس کی رپورٹ کی روشنی میں حکومت کو جیلوں کی حالت میں بہتری کے لیے اقدامات تجویز کیے تھے۔ کیا آپ نے کسی ایک سفارش پر بھی عمل کیا ؟

یہ بھی پڑھیں:   ہر لفظ کے آئینے میں ہے چہرہ اپنا - حبیب الرحمن

7۔ آپ جیل تشریف لے گئے تو شور مچ گیا وہاں سیلن ہے اور اے سی کی سہولت موجود نہیں ۔ کیا آپ کو معلوم ہے نصف سے زیادہ جیلوں میں پنکھے تک نہیں اور چالیس درجہ حرارت میں قیدیوں کو صرف کراس وینٹی لیشن پر گزارا کرنا ہوتا ہے؟

8. آپ کا واش روم صاف نہیں تھا تو طوفان اٹھ کھڑا ہوا، کیا آپ نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رمل کی وہ رپورٹ پڑھی جس میں بتایا گیا کہ گیارہ جیلوں میں قیدیوں کو ایک دوسرے کے سامنے رفع حاجت کرنا پڑتی ہے یا پھر کپڑے تان کر پرائیویسی قائم کی جاتی ہے؟

9 ۔ آپ کے لیے تو ملک بھر کے بہترین ہسپتال حاضر ہیں۔ جیل میں بھی ایک سپیشل ہیلتھ یونٹ قائم کر دیا گیا ہے، لیکن کیا آپ کو معلوم ہے باقی قیدی کس حال میں ہیں؟ پاکستان میڈیکل اینڈ ریسرچ کونسل کی یہ رپورٹ بھی آپ ہی کے دور میں آئی تھی کہ پنجاب کی 32 میں سے 22 جیلوں میں ای سی جی تک کی سہولت نہیں ہے اور ایکس رے کی سہولت بھی صرف 4 ہسپتالوں میں موجودہے۔ کیا آپ نے اس رپورٹ پر کوئی کارروائی کی؟ کیا بیرون ملک علاج پر اصرار اس بات کا اعتراف نہیں کہ آپ تین بار وزیر اعظم رہ کر بھی ایک ایسا ہسپتال نہ بنوا سکے جہاں سے علاج کروا سکیں ؟ یہاں کاروبار ہو سکتا ہے نہ علاج، کیا یہ ملک ایک چراگاہ ہے جہاں صرف حکومت کی جاتی ہے؟

10۔ بلاول بھٹو آپ سے ملنے آئے۔شنید ہے کہ انسانی جذبے کے تحت آئے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان کی جیلوں میں مرنے والے قیدیوں کا 80 فیصد کراچی اور حیدر آباد کی جیلوں میں مرتا ہے؟کبھی ان سے پوچھیے تو سہی ان کا جذبہ انسانیت وہاں کیوں نہیں جاگتا، وہ وہاں کیوں نہیں جاتے؟

اللہ میاں صاحب کو صحت دے، ان سوالات کا جواب ان پر قرض ہے۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.