’تم جانتے نہیں میں کون ہوں‘‘ انصار عباسی

مری سے تعلق رکھنے والا میرا ایک عزیز اسلام آباد میں کمپیوٹر و موبائل کے بزنس سے منسلک ہے۔ جب مجھے کمپیوٹر یا موبائل خریدنا ہو یا اس حوالے سے کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اُسی سے میرا رابطہ رہتا ہے۔ گزشتہ روز اُس سے ملاقات ہوئی تو ایک بڑے‘ بلکہ بڑے ٹی وی چینل کے ایک رپورٹر کا نام لیتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا کہ آپ اُس شخص کو جانتے ہیں؟ میں نے کہا:ہاں میں جانتا ہوں۔ پھر اس نے پوچھا کہ وہ کیسا آدمی ہے؟ میں نے جواباً کہا کہ کیوں پوچھ رہے ہو؟ اس پر میرے عزیر نے بتایا کہ ایک بینک منیجر کے ریفرنس سے وہ صاحب میرے پاس آئے کہ لیپ ٹاپ لینا ہے۔ جو لیپ ٹاپ اُنہیں پسند آیا، اُس پر جس قدر ممکن تھی، رعایت کر دی۔ جب پیسے دینے کی باری آئی تو انہوں نے دس ہزار روپے کم دیئے۔ دکاندار نے اُن رپورٹر صاحب کو بتایا کہ بحیثیت ملازم یہ ممکن نہیں اور جتنی رعایت دی جا سکتی تھی، وہ پہلے ہی دے دی گئی ہے۔

اس پر رپورٹر صاحب نے دکاندار کو کہا کہ وہ وزیر اعظم عمران خان کے بہت قریب ہیں بلکہ ابھی وہ بنی گالہ ہی جا رہے ہیں، جہاں اُن کی وزیراعظم سے میٹنگ ہے۔ دکاندار کو رپورٹر صاحب نے یہ بھی بتایا کہ وہ بہت بااثر اور کام کے آدمی ہیں اور یہ کہ آپ کو کوئی کام ہو تو میں کروا سکتا ہوں۔ دکاندار بیچارا یہ سب سن کر رپورٹر صاحب سے شاید امپریس ہو جاتا لیکن اُس کی مجبوری تھی کہ وہ اپنی جیب سے دس ہزار نہیں بھر سکتا تھا۔ اُس نے پھر زور دیا کہ دس ہزار کی مزید رعایت نہیں دی جا سکتی۔ اسی دوران رپورٹر صاحب کو کوئی فون آیا، جس پر اُنہوں نے ٹی وی آن کرنے اور اُس چینل کو‘ جس سے اُن کا تعلق تھا، لگانے کا کہا۔ دکاندار نے بتایا کہ اُسی دوران اُن رپورٹر صاحب کی کوئی خبر چینل پر نشر ہوئی۔ چونکہ مزید رعایت نہیں دی جا رہی تھی تو رپورٹر صاحب نے دس ہزار روپے بعد میں دینے کا کہا اور لیپ ٹاپ لے گئے۔

دوسرے دن دکاندار کو انہی رپورٹر صاحب کا وٹس ایپ (Whatsapp) پیغام آیا کہ لیپ ٹاپ کے لیے اُن کے بیٹے کو ایک Accessory چاہئے۔ اُنہیں بتایا گیا کہ مطلوبہ چیز دکان میں موجود ہے، جس کی تصویر اور قیمت رپورٹر صاحب کو بھجوا دی گئی۔ اس پر دکاندار کو انگریزی میں رپورٹر صاحب نے یہ لکھا "I will visit you tomorrow to collect your gift for nephew" (میں کل آپ کے بھتیجے کے لیے آپ کا تحفہ لینے آئوں گا)۔ دکاندار سمجھدار تھا، اس نے وٹس ایپ پیغام سنبھال کر رکھے ہوئے تھے جو مجھے بھی دکھائے۔ دوسرے دن جب رپورٹر صاحب آئے تو دکاندار نے مطلوبہ چیز دیتے ہوئے کہا کہ مہربانی کر کے دس ہزار پرانے اور ساڑھے سات ہزار نئی خریداری کے ادا کر دیں۔ اس پر رپورٹر صاحب نے کہا کہ دس ہزار روپے تو اُنہوں نے دکاندار کے اکائونٹ میں پہلے ہی ٹرانسفر کر دیئے ہیں۔ دکاندار نے اُنہیں بتایا کہ کوئی پیسہ ٹرانسفر نہیں کیا گیا۔ دکاندار کے مطابق اس پر رپورٹر صاحب کافی ناراض ہوئے اور میری کلاس لیتے ہوئے کہا ’’ تم مجھے جانتے نہیں، میں کون ہوں، اگر میں چاہوں تو دس منٹ میں تمہاری دکان بند کروا سکتا ہوں‘‘۔

دکاندار بیچارا ڈرا تو ضرور لیکن وہ اپنی جیب سے اتنی رقم نہیں بھر سکتا تھا۔ اُس نے رقم کی ادائیگی پر پھر زور دیا اور یہ بھی کہا کہ اُن کے گاہکوں میں اُسی میڈیا گروپ (جس سے رپورٹر صاحب کا تعلق ہے) کے کچھ اور صحافی بھی شامل ہیں۔ دکاندار نے دو ایک نام بھی لیے، جس پر رپورٹر صاحب وہاں سے Accessoryلے کر چلے گئے اور دس ہزار روپے دکاندار کو ٹرانسفر بھی کر دئیے مگر Accessory کے پیسے نہیں دئیے کیونکہ دکاندار کے مطابق‘ وہ رپورٹر صاحب کے بیٹے کے لیے زبردستی کا تحفہ تھا، جس کے پیسے اُس غریب نے اپنی جیب سے بھرے۔

دکاندار نے مجھے یہ بھی بتایا کہ ان ملاقاتوں کے دوران رپورٹر صاحب نے اسے اپنے امریکہ کے دورے کی کہانی بھی سنائی اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا کہ اُن رپورٹر صاحب کے پاس کون سی گاڑی ہے۔ یہ قصہ سناتے ہوئے دکاندار نے کہا کہ اُس کا دل چاہا کہ متعلقہ چینل کے مالکان کو شکایت کرے لیکن پھر اس نے سوچا نجانے اس کا کوئی فائدہ بھی ہو گا یا نہیں۔ پھر خود ہی بولا کہ صحافت میں بلیک میلرز بھی تو ہوتے ہیں۔ میں نے اُس بیچارے کو بتایا کہ وہ شکایت کرے گا بھی تو رپورٹر صاحب کا کچھ نہیں بگڑنا۔ میڈیا کے ادارے، مالکان، صحافتی تنظیموں نے اگر اپنی خود احتسابی کا کوئی سسٹم بنایا ہوتا تو ایسے واقعات کیوں ہوتے اور صحافیوں کو بلیک میلنگ اور کرپشن سے کیونکر جوڑا جاتا؟