کیا شیخ مجیب کو اقتدار دینے سے انکار کیا گیا ؟ آصف محمود

سانحہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے ہمارے ہاں رائج بیانیے کا ایک اہم اور بنیادی نکتہ یہ ہے کہ انتخابات میں عوامی لیگ کی کامیابی کے باوجود مغربی پاکستان کے فیصلہ ساز اس بات کو قبول کرنے پر تیار نہ ہوئے کہ کسی بنگالی کو اقتدار دیا جائے ، بھٹو اور یحیی مل کر اقتدار پر قبضے کی سازشیں کرتے رہے اور شیخ مجیب کو اقتدار دینے سے انکار کر دیا گیا چنانچہ رد عمل پیدا ہوا اور بغاوت پھوٹ پڑی ۔ بادی النظر میں یہ ایک معقول اعتراض ہے کہ جس جماعت نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اقتدار اسی کا حق تھا اور یہ حق کھلے دل کے ساتھ تسلیم کرنا چاہیے تھا۔ لیکن تاریخ کا معروضی طور پر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ ہر گز یہ نہ تھا کہ شیخ مجیب الرحمن کو اقتدار تک نہ پہنچنے دیا جائے ، معاملہ صرف اتنا تھا کہ شیخ مجیب الرحمن کو اقتدار دینے سے قبل کچھ چیزیں طے کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں ۔ وہ چیزیں کیا تھیں ؟ انہیں جاننے کے لیے ذرا تفصیل سے معاملے کو دیکھنا ہوگا۔

سب سے پہلے تو یہ بات اچھی طرح جان لی جانی چاہیے کہ کسی نے شیخ مجیب کو اقتدار دینے سے انکار نہیں کیا تھا۔ ہاں اس میں تاخیر ضرور ہوئی اور انتقال اقتدار کے عمل کو التوا میں ڈالا گیا ۔ اس التواء کے بارے میں دو آراء ہو سکتی ہیں کہ یہ درست تھا یا ایک بھیانک غلطی لیکن یہ بات بہر حال واضح ہے کہ اس تاخیر کی بہت ٹھوس وجوہات تھیں۔ کچھ ضمانتیں تھیں جو لینا مقصود تھا اور کچھ خدشات تھے شیخ مجیب کو اقتدار دینے سے پہلے جن پر بات کرنا ضروری خیال کیا گیا تھا۔ بطاہر یہ عجیب سی بات لگتی ہے کہ جیتنے والی جماعت سے کوئی ضمانت لی جائے تاہم تب کی صورت حال کو درست طور پر سمجھنے کے لیے تصویر کا دوسرا رخ دیکھ لینے میں کیا مضائقہ ہے؟

یہاں دو پہلو بہت اہم ہیں ۔ اول : یہ محض انتقال اقتدار نہیں تھا ۔ صورت حال کہیں زیادہ پیچیدہ تھی ۔ یہ ملکی تاریخ کے پہلے عام انتخابات تھے اور ان کے نتیجے میں جو پارلیمان وجود میں آنا تھی اس نے ملک کا آئین بھی تیار کرنا تھا ۔ دوسرا پہلو شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات تھے جو اس کے انتخابی منشور کا حصہ بھی تھے ۔ ان نکات پر مغربی پاکستان میں شدید تحفظات تھے ۔ اگر شیخ مجیب نیا آئین بناتے وقت ان نکات پر عمل پیرا ہو جاتا تو مشرقی پاکستان تو رہا ایک طرف مغربی پاکستان کو بچانا بھی مشکل ہو جاتا ۔ غلطی یہ ہوئی کہ شیخ مجیب کو ان نکات پر انتخابات میں حصہ لینے دیا گیا۔

ہمیں معلوم ہونا چاہیے یہ چھ نکات کیا تھے اور ان پر اتنے تحٖفظات کیوں پیدا ہوئے۔ کہنے کو یہ چھ نکات تھے لیکن ان میں جہان معنی پوشیدہ تھا ۔ مجیب کے چھ نکات میں سے چند چیزیں میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔

1۔ وفاقی حکومت کے پاس صرف دفاع اور امور خارجہ ہوں گے، ان دو امور کے علاوہ وفاق کے پاس کچھ نہیں ہوگا۔

2۔ مشرقی پاکستان کی کرنسی الگ ہوگی اور مغربی پاکستان کی کرنسی الگ ہوگی۔

3۔ مشرقی پاکستان کے بینکنگ ریزرو الگ ہوں گے اور مغربی پاکستان کے الگ۔

4۔ مشرقی پاکستان وفاق کی مالی پالیسیوں پر نہیں چلے گا بلکہ وہ اپنی مالی پالیسیاں خود بنائے گا ۔

5۔ نظام زر اور بجٹ سے متعلق پالیسی بھی مشرقی پاکستان اپنی الگ سے طے کرے گا اور وفاق کی پالیسی اختیار نہیں کی جائے گی۔

6۔ وفاق کو ٹیکس اکٹھا کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ مشرقی پاکستان اپنا ٹیکس اور ریونیو الگ اکٹھا کرے گا۔ البتہ وفاق کو نظام چلانے کے لیے اس میں سے ایک حصہ دیا جائے گا۔

7۔ وفاق کو یہ اختیار نہیں ہوگا کہ وہ زر مبادلہ کے محصولات کا اکاؤنٹ رکھ سکے۔ مشرقی پاکستان کا اپنا الگ اکاؤنٹ ہوگا اور مغربی پاکستان کا الگ۔

8۔ دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت کے معاملات وفاق نہیں دیکھے گا۔ آئین میں یہ بات شامل کی جائے گی کہ مشرقی پاکستان کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ براہ راست تجارت کا اختیار رکھتا ہے۔

9۔ مشرقی پاکستان کی اپنی الگ فوج ہوگی۔ A separate military کے الفاظ استعمال کیے گئے۔

اب آپ خود فیصلہ کر لیجیے کہ پاکستان کا نیا آئین اگر ان نکات کی روشنی میں تشکیل پاتا تو پیچھے کیا بچتا؟ چنانچہ فطری طور پر شدید تحفظات پیدا ہوئے اور شیخ مجیب کو اقتدار سونپنے سے پہلے ان سے کچھ ضمانتیں لینا ضروری سمجھا گیا۔

ان چھ نکات کا ایک پس منظر بھی تھا جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یہ نکات بعد میں سامنے آئے اس سے پہلے شیخ مجیب کے بھارت سے خفیہ معاملات سامنے آ چکے تھے اور ان کے خلاف اگر تلہ سازش کیس چل چکا تھا۔ ہمارے ملک میں احباب بڑے مزے سے کہہ دیتے ہیں کہ اگرتلہ ساز ش کیس ایک آمر ایوب خان کا بنایا ہوا جھوٹا مقدمہ تھا لیکن حقائق اس سے مختلف ہیں۔ آئن ٹالبوٹ نے اپنی کتاب ’’پاکستان : اے ماڈرن ہسٹری‘‘ میں لکھا ہے کہ شیخ مجیب 1962ء سے بھارت کے ساتھ خفیہ رابطوں میں تھا اور 1965ء کے دوران میں بھارت اور مجیب کے یہ رابطے قائم رہے اور عوامی لیگ کے رہنما بھارتی اہلکاروں کے ساتھ خفیہ مقامات پر ملاقاتیں کرتے رہے۔ یہ نکات انھی میٹنگز کا شاخسانہ تھے۔ چنانچہ ایوب خان نے تو شواہد کے باوجود مفاہمت کے تحت اگرتلہ سازش کا یہ مقدمہ واپس لیا، گول میز کانفرنس بلا لی اور شیخ مجیب کو بھی مدعو کر لیا لیکن شیخ مجیب نے کیا کیا؟ انھی چھ نکات پر زور دیا اور واک آؤٹ کر گئے۔

اب تو بات مزید واضح ہو چکی ہے کہ اگر تلہ سازش کیس ایک حقیقت تھی۔ اگر تلہ سازش کیس کا ایک کردار شوکت علی تھا جو بعد میں بنگلہ دیش کاا ڈپٹی سپیکر بنا۔ شوکت علی نے 2011ء میں ڈھاکہ میں اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہا کہ اگر تلہ کیس ایک حقیقت تھی اور ہم پاکستان توڑنے کے لیے 60 کی دہائی سے بھارت سے رابطے میں تھے۔ پوائنٹ آف آرڈر پر عوامی لیگ کے سینیئر رہنما طفیل احمد نے شوکت علی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہ آپ تحسین کے مستحق ہیں۔

اس پس منظر میں انتقال اقتدار میں تاخیر ہوئی۔ کوشش کی گئی کہ شیخ مجیب کو اقتدار دینے سے پہلے چھ نکات کے حوالے سے اور آئین سازی کے باب میں کچھ ضمانتیں لے لی جائیں اور صدارت کا منصب مغربی پاکستان کے پاس رکھ کر توازن پیدا کرنے کی کوشش کر لی جائے۔ اب آپ چاہیں تو اس تاخیر کو محض بھٹو اور یحیی کی ہوس اقتدار کا نام دے لیں اور چاہیں تو معاملے کو سیاق و سباق میں دیکھ لیں ۔ لیکن یاد رکھیے معاملہ اتنا سادہ نہ تھا جتنا بیان کیا جاتا ہے۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */