تنقید کی چار سطحیں - محمد زاہد صدیق مغل

تنقیدی مطالعہ میرا ذوق ہے۔ اب تک کے مطالعے سے مجھ پر واضح ہوا ہے کہ کسی فکر، نظریے یا روایت پر تنقید کی چار سطحیں ممکن ہیں، ان میں سے اول الذکر دو کا تعلق داخلی نقد جبکہ موخر الذکر دو کا تعلق خارجی نقد سے ہے، ہر ایک کے ذیل میں مختلف طرق آتے ہیں۔

1) منطقی ہم آہنگی (internal coherence):
کسی فکر یا نظریے کے درست ہونے کی کم از کم علمی سطح یہ ہے کہ وہ داخلی طور پر ہم آہنگ دعووں پر مبنی ہو، یعنی اس کے دعووں میں تضاد نہ ہو۔ مثلا اگر کوئی کہے کہ (الف) "عام کی دلالت اپنے تمام افراد پر قطعی ہوتی ہے" نیز "(ب) خبر واحد ظنی ہوتی ہے" اور پھر یہ بھی کہے کہ (ج) "خبر واحد سے عام کی تخصیص ہوسکتی ہے" تو یہ داخلی طور پر متضاد بات ہے۔ چنانچہ کسی فکر کے تنقیدی مطالعے کی ایک سطح یہ ہے کہ اس کے دعووں میں تضاد (internal incoherence) ثابت کیا جائے۔

2) داخلی علمی پیمانے پر پورا اترنا (Living to own standard):
منطقی ہم آہنگی سے ماسوا ہر فکر و نظریہ اپنے دعووں و نتائج کی صحت ثابت کرنے کے لیے علمی پیمانہ رکھتا ہے جس کی پابندی اس پر لازم ہوتی ہے۔ مثلا ایک شخص کہتا ہے کہ خبر واحد میرے ماخذات علم میں شامل نہیں لیکن پھر وہ ادھر ادھر متعدد مقامات پر یا تو خبرواحد سے استدلال کرلے اور یا پھر ایک ایسا دعوی کرے جس کی صحت خبر واحد کو درست مانے بغیر ممکن ہی نہ ہو وغیرہ۔ چنانچہ تنقید کی دوسری سطح یہ دکھانا ہوتا ہے کہ کسی فکر کے حامل افراد کی فکر خود ان کے اپنے طے کردہ پیمانوں پر بھی پورا نہیں اترتی، یعنی it does not stand against its own standards

3) علم و حقیقت کے کسی خارجی پیمانے پر پورا اترنا (satisfying some external epistemic criterion):
اس سطح پر کسی فکر یا نظریے کو اس طور پر جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آیا وہ فکر خود اپنے سے باہر حقیقت کے کسی خارجی تصور پر پورا اترتی ہے یا نہیں۔ اس درجے میں پہلے یہ طے کیا جاتا ہے کہ حقیقت کو جانچنے کا مطلوب اصول کیا ہے اور پھر یہ دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کون کون سے دعوے اس پر پورا اترتے ہیں۔ مثلا پہلے میں یہ طے کرلوں کہ وہی دعوی علم ہے جو حواس کی گرفت میں آسکے اور پھر اس کے بعد مذہبی دعووں کو جانچ کر فیصلہ کرنے لگوں کہ آیا وہ علم ہیں یا نہیں۔ چنانچہ عین ممکن ہے کہ ایک دعوی جو علم کے کسی ایک داخلی یا خارجی پیمانے پر پورا اترے، کسی دوسرے خارجی پیمانے پر پورا نہ اتر سکے۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلمان کی عقل سے دوری کا علاج کیا ہے - محی الدین غازی

4) اخلاقی طور پر قابل قبول ہونا (Desirability):
عین ممکن ہے کہ ایک فکر منطقی طور پر ہم آہنگ، خود اپنے پیمانوں پر پورا اترنے والی نیز اپنے سے بیرون حقیقت و علم کے کسی تصور پر بھی پورا اترتی ہو، لیکن اس سب کا ہرگز خود بخود یہ مطلب نہیں نکلتا کہ وہ "مطلوب و قابل قبول" بھی ہو۔ ان تمام صفات کی حامل فکر بھی اس بنیاد پر ناقابل قبول ہوسکتی ہے کہ وہ کسی شخص کی ایمانیات، اقداری ترتیب یا علمی پیمانے پر پورا نہ اترتی ہو۔ مثلا عین ممکن ہے کہ نیوکلاسیکل (یا مارکسسٹ) اکنامکس میں کیے جانے والے تمام دعوے منطقی طور پر ہم آہنگ ہوں، خود اپنے طے کردہ کسی داخلی پیمانے (مثلا predictability) پر پورا اترتے ہوں نیز کسی بیرونی پیمانے کے مطابق بہت سی حقیقتوں کو بیان کرنے والے بھی ہوں لیکن اس سب کے باوجود بھی یہ نظریات ایک مسلمان کے لیے ناقابل قبول ہوسکتے ہیں۔

اگر یہ تقریر و ترتیب ذہن نشین رہے تو ان شاء اللہ بہت سی الجھنیں سلجھ جاتی ہیں۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے وجود کو مشکوک بتانے والی الحادی تنقید کا تعلق تیسری سطح سے ہے۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.