مراقبہ اور اللہ کا اسم مبارک "الرقیب" - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس حسین بن عبد العزیز آل شیخ حفظہ اللہ نے "مراقبہ اور اللہ کا اسم مبارک "الرقیب"" کے عنوان پر 04 محرم الحرام 1440 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا ، جس میں انہوں نے کہا کہ "الرقیب" اللہ تعالی کا نام ہے اور اس نام کے تقاضوں کو پورا کرنا مراقبہ کہلاتا ہے، یعنی یہ نظریہ رکھنا کہ چونکہ اللہ تعالی ہمارے اعمال تو کیا دل کے بھید بھی جانتا ہے اور وہ ہماری ہر وقت رقابت اور نگرانی کر رہا ہے اس لیے کوئی بھی کام کرنے سے پہلے یہ سوچ لیا جائے کہ اللہ دیکھ رہا ہے؛ مراقبہ کہلاتا ہے۔ اسی مراقبے کے نتیجے میں ہر فرد گناہوں سے بچے گا جس سے ایسا معاشرہ تشکیل پائے گا جو ہمہ قسم کی برائیوں سے محفوظ ہو گا، دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے مراقبہ مجرب عمل ہے؛ کیونکہ محاسبہ نفس مراقبے کا نتیجہ ہے اور جہاں محاسبہ ہو وہاں کامیابی ہوتی ہے۔ مراقبہ انسان کو عمل کی ترغیب دلاتا ہے۔ اس کی وجہ سے حقوق العباد کے ساتھ حقوق اللہ کو بھی تحفظ ملتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ: اہل علم افراد فتوی صادر کرتے ہوئے اللہ کو اپنا نگران سمجھیں اور اجتماعی مسائل میں انفرادی فتوی بازی سے گریز کریں، یہی اللہ کی دی ہوئی امانت کا تقاضا ہے، اسی طرح فتوی صادر کرنے سے پہلے متعلقہ معاملے کا ہر اعتبار سے جائزہ لیں۔ دوسرے خطبے میں انہوں نے کہا کہ دس محرم کو عاشورہ کہتے ہیں اور اس دن کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے، نیز ماہ محرم میں نفل روزے سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں، روزے کے علاوہ عاشورہ کے دن کوئی عمل نبی ﷺ سے ثابت نہیں ہے۔

عربی خطبہ کی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں

پہلا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس کے سامنے آسمان و زمین کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، دنیا ہو یا آخرت اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے چنیدہ نبی ہیں، یا اللہ! ان پر، ان کی آل، اور تمام وفا دار اور متقی صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! میں آپ سب کو تقوی الہی اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں؛ کیونکہ تقوی میں دنیا اور آخرت کی تمام مصائب سے خلاصی کا راستہ ہے۔

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی کے اسما میں "الرقیب"  بھی شامل ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا} بیشک اللہ تعالی تم پر نگہبان ہے۔ [النساء: 1] اور اسی طرح اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ رَقِيبًا} اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح نگران ہے۔ [الأحزاب: 52] تو اللہ سبحانہ و تعالی سینوں کے بھیدوں سے باخبر اور ان کی نگرانی فرما رہا ہے، ہر نفس کی کارکردگی پر نگہبان ہے، وہ ایسا یاد رکھنے والا ہے کہ کوئی چیز اس سے مخفی نہیں، وہ تمام مخلوقات کے حالات دیکھ رہا ہے، وہ ان کے ہر کام کو محفوظ بھی کر رہا ہے، ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:

وَهُوَ الرَّقِيْبُ عَلَى الْخَوَاطِرِ وَاللَّوَا

حِظِ كَيْفَ بِالْأَفْعَالِ بِالْأَرْكَانِ

وہ تو دل کے خیالات اور کنکھیوں تک کو جانتا ہے تو بدنی افعال کا کیا حال ہو گا!

انسان کے دل میں یہ عظیم مفہوم جا گزین ہو کر یقینی طور پر بندے کو اس بات کا قائل بنا دیتا ہے کہ اللہ تعالی اس کے ظاہر اور باطن کو ہر وقت جانتا ہے، تو اس کے نتیجے میں بندے کو یقینی علم حاصل ہوتا ہے کہ اللہ تعالی اس کی نگرانی کر رہا ہے، اسے دیکھ رہا ہے، اس کی باتیں سن رہا ہے، اس کے اعمال دیکھ رہا ہے، ہر لمحہ اور ہر آن اس کے کردار سے باخبر ہے۔

تو - اللہ کے بندو!- مراقبہ یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالی کے نام: الرقیب[نگہبان] کے ذریعے بندگی کرے جو کہ الحفیظ[محافظ]، العلیم[علم رکھنے والا]، المحیط[احاطہ کرنے والا]، الخبیر[باخبر]، اللطیف[باریکیاں جاننے والا] اور المہیمن [ہر طرح کا تسلط رکھنے والا] ہے، وہ ہر چیز کے راز اور سینوں کے بھید جانتا ہے۔ الشہید یعنی اللہ تعالی کی ذات ہر چیز پر گواہ ہے، وہ السمیع یعنی ہلکی اور تیز تمام آوازیں سنتا ہے۔ وہ البصیر یعنی باریک، موٹی، چھوٹی اور بڑی تمام موجودات کو دیکھ رہا ہے، وہ القریب یعنی اللہ تعالی اپنے علم، تجربہ، نگرانی، نگہبانی، اور پاسبانی کے اعتبار سے ہر چیز کے قریب ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص ان اسمائے حسنی کو اچھی طرح سمجھ لے، اور ان کے تقاضوں کو پورا بھی کرے تو حقیقی مراقبہ حاصل ہوتا ہے جو کہ دل کو ہر خیال اور عملی اقدام سے پہلے حق سبحانہ و تعالی کا لحاظ کرنے کا پابند کر دیتا ہے۔

اس زندگی میں انسان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کا دل ہمیشہ الرقیب عز و جل کی نگہبانی کا خیال رکھے؛ لہذا امید رکھے تو اسی سے، خوف کھائے تو اسی سے ۔ تو اس کے نتیجے میں انسان دائمی طور پر اللہ تعالی کے اوامر اور نواہی کا پابند ہو گا، اس کی ساری کد و کاوش اللہ کی رضا اور قرب کے تلاش کے لیے ہو گی۔

چنانچہ جب کوئی انسان پروردگار کو اپنا رقیب سمجھے تو انسان اپنے خالق سے حیا کرنے لگتا ہے، وجود بخشنے والے کی عظمت اور جلال کا اقرار کرتا ہے، اللہ سے محبت کے ساتھ خشیت بھی اپناتا ہے۔ اللہ کی جانب انابت اور اسی پر توکل کرتا ہے، اپنے موجد کے سامنے خضوع اور کامل انکساری اختیار کرتا ہے۔

اس لیے دونوں جہانوں کی بہتری اور کامیابی مراقبہ اور حصولِ رضائے الہی میں ہے ، سنت نبوی کے مطابق اللہ کی بندگی میں ہے، اس کے ساتھ دل میں اس شخص کی طرح اخلاص پیدا کرے جو یہ جانتا ہے کہ اگر لوگ ظاہری طور پر اس کی نگرانی اور رقابت کر رہے تو اللہ تعالی صرف ظاہری ہی نہیں باطن کی بھی نگرانی فرما رہا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنَّ اللَّهَ لَا يَخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ} بلا شبہ اللہ تعالی پر کوئی چیز زمین یا آسمان میں بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ [آل عمران: 5] اسی طرح اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ} اور یہ جان لو کہ اللہ تعالی تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے بھی جانتا ہے، لہذا اس سے ڈرو۔[البقرة: 235]

یہ بھی پڑھیں:   آیت الکرسی کا مفہوم اور افواہوں کے متعلق ہدایات - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

مسلمانو!

 مراقبہ یعنی اللہ تعالی کو اپنا رقیب اور نگران سمجھیں تو انسان محاسبہ نفس کے لیے تیار ہوتا ہے؛ اور اللہ تعالی کے اس فرمان کو عملی شکل دے دیتا ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ} اے ایمان والو! تم اللہ سے ڈرو اور ہر شخص دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا پیش کیا ہے، اور تقوی الہی اختیار کرو، بیشک اللہ تعالی تمہاری کارکردگی سے باخبر ہے۔ [الحشر: 18] ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: "تو بندے کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے آخرت کے لیے کیا پیش کیا ہے؟ نجات دہندہ نیکیاں یا تباہ کنندہ گناہ؟" پھر آگے چل کر کہا کہ: " مطلب یہ ہے کہ دل کی اصلاح محاسبہ نفس سے ہو گی اور اگر دل پر توجہ نہ دی جائے یا دل میں آنے والی ہر بات مان لی جائے تو اس سے دل خراب ہو جاتا ہے" ختم شد

مسلم اقوام!

حقیقی مراقبہ بندے کو اطاعت گزاری اور خالق ارض و سماوات کے احکامات کی تعمیل پر ابھارتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ} بیشک وہ فوری نیکیاں کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف سے پکارتے تھے اور وہ ہمارے ہی لیے عاجزی کرنے والے تھے۔ [الأنبياء: 90]

اس لیے مومن کو ہر وقت مراقبے میں ہونا چاہیے، ہر وقت مخلص ہو کر اطاعت کرے اور کامل طور پر احکامات کی تعمیل کرے۔ اسی طرح ممنوعہ امور سے مکمل طور پر دور ہو جائے، پھر اسی روش پر قائم دائم رہے؛ کیونکہ خوف الہی، مراقبہ، اللہ سے امید اور خوف ایسی چیزیں ہیں کہ حدود اللہ کے تحفظ سمیت قربِ الہی پانے میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے؛ اللہ تعالی ہم سب کو خوف اور امید کرنے والوں میں شامل فرما لے۔ فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ} اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، دو جنتیں ہیں۔ [الرحمن: 46] اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا: {وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى (40) فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى} اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا۔[40] تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے۔ [النازعات: 40، 41]

ابن جوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "حق تعالی اپنے بندے کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے" آگے چل کر یہ بھی کہا کہ: "تو جاہلوں کے دل یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالی دور ہے، اس طرح ان سے گناہ سر زد ہو جاتے ہیں؛ کیونکہ اگر وہ حاضر و ناظر ذات الہی کو اپنا نگران سمجھ لیتے تو گناہوں سے اپنے ہاتھ کھینچ لیتے"

سلف میں سے کسی سے کہا گیا: " نگاہوں کی حفاظت کے لیے کیسے معاونت مل سکتی ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہ ذہن نشین کر لو کہ تمہاری نگہبان ذات کی تم پر نگاہ تمہاری اپنی نگاہوں سے زیادہ تیز ہے"

اسی مفہوم کو تازہ کرنے کے لیے نبی ﷺ نے سات طرح کے لوگوں کا تذکرہ فرمایا کہ : (جن کو اللہ اس دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا۔ جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ 1)انصاف کرنے والا حکمران۔ 2) وہ نوجوان جو اپنے رب کی عبادت میں پروان چڑھا۔ 3) ایسا شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہتا ہے۔ 4) دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے باہمی محبت رکھتے ہیں اور ان کے ملنے اور جدا ہونے کی بنیاد یہی للہیت ہے۔ 5) وہ شخص جسے کسی جاہ و جمال والی عورت نے ( برے ارادہ سے ) بلایا لیکن اس نے کہہ دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ 6) وہ شخص جس نے صدقہ کیا، مگر اتنے پوشیدہ طور پر کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہوئی کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔ 7) وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور ( بے ساختہ ) آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے) متفق علیہ

اللہ تعالی کو اپنا رقیب سمجھنے سے لوگ گناہوں اور حرام کاموں سے دور رہتے ہیں، اللہ تعالی کی نگرانی کا نظریہ دلوں کو میلا اور خراب کرنے والی چیزوں سے رکھتے ہیں، جس کی بدولت ایسا معاشرہ تشکیل پاتا ہے جو اللہ تعالی کے اس فرمان میں مقصود ہے: {وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ إِنَّ اللهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ} مومن مرد و عورت آپس میں ایک دوسرے کے مدد گار و معاون اور دوست ہیں وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرتے ہیں، اللہ اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالی بہت جلد رحم فرمائے گا، بلاشبہ اللہ سب پر غالب اور حکمت والا ہے ۔ [التوبة: 71]

تو مراقبہ ایک ایسے معاشرے کو وجود دیتا ہے جو گھٹیا حرکتوں اور جرائم سے خالی ہو، نیز اس معاشرے کے افراد ہمہ قسم کی مثبت صفات سے متصف ہوں، جو پر سکون زندگی گزاریں، نیکی اور تقوی کے کاموں پر ایک دوسرے کی مدد کریں، اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامیں، کلمۃ اللہ پر متحد رہیں، ہر قسم کی حزبیت اور تشتت کو اکھاڑ پھینکیں، غلو اور انتہا پسندی سے یکسر دور رہیں، دینی اقدار کی روشنی میں زندگی گزاریں۔ عدل، وسعت قلبی، آسانی، اعتدال، نرمی، رفق اور محبت کو اپنی زندگی میں جگہ دیں، جیسے کہ اللہ تعالی نے مومنین کی صفات ذکر کرتے ہوئے فرمایا: {أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ} مومنوں کے حق میں نرم دل اور کافروں کے حق میں سخت ہیں۔ [المائدة: 54]

اہل ایمان استقامت اور اصلاح کے لیے اپنے پروردگار کی نگرانی میں زندگی گزارتے ہیں، پر امن اور استحکام کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اپنے خالق کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اہل ایمان اپنی صفوں میں ایمانی محبت اور اسلامی مودت کے زیر سایہ اتحاد قائم رکھتے ہیں، ان کا شعار اللہ تعالی کا یہ فرمان ہوتا ہے: {إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ} بیشک اہل ایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ [الحجرات: 10] اور اسی طرح آپ ﷺ کا فرمان ہے: (ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، دھوکے سے قیمتیں نہ بڑھاؤ، باہمی بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور اللہ کے بندے بن جاؤ جو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ مسلمان ، مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یارو مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اس کی تحقیر کرتا ہے۔۔۔ الحدیث) مسلم

یہ بھی پڑھیں:   آیت الکرسی کا مفہوم اور افواہوں کے متعلق ہدایات - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں اللہ کو اپنا نگران سمجھو تو تم کامیاب و کامران ہو جاؤ گے اور سعادت پاؤ گے۔

مسلم اقوام!

ہم اللہ تعالی کی رقابت کے متعلق گفتگو کر رہے ہیں تو یہاں ایک انتہائی ضروری بات پر توجہ دلانا بھی لازمی ہے، جو کہ واعظین اور علمائے کرام کی حتمی ذمہ داری بھی ہے کہ لوگوں کو کچھ بھی بتاتے ہوئے اللہ سے ڈریں، اور ذہن نشین کر لیں کہ فتوی صادر کرنا بہت حساس معاملہ ہے، اس میں اللہ کے لیے اخلاص اور صدق انتہائی ضروری ہیں، نیز خلوت و جلوت میں اللہ کے نگران ہونے کا نظریہ بھی۔ اللہ تعالی نے امت اسلامیہ کے علمائے کرام کو اس امانت کی ذمہ داری سونپی ہے۔

اس لیے سب لوگوں پر لازمی ہے کہ امت کے اجتماعی معاملات میں انفرادی فتاوی سے بچیں، امت کے معاملات میں جلد بازی اور عجلت بالکل روا نہیں، بلکہ ان مسائل میں ٹھہراؤ کے ساتھ اللہ تعالی کے سامنے صدق دل کے ساتھ گڑگڑا نا بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالی صحیح فیصلے الہام فرما دے۔

اسی طرح مجوزہ فیصلے کے نتائج کو سامنے رکھیں، شرعی قواعد اور مقاصد شریعت کے ساتھ ساتھ بہ نظر دقیق یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اس فیصلے کا فائدہ زیادہ سے زیادہ ہو اور منفی اثرات کم سے کم ہوں، مکمل طور پر یہ کوشش رہے کہ امت کا اتحاد اور یگانگت قائم رہے، کسی معمولی سی سرگرمی سے بھی دور رہیں جو اتحاد امت کو گزند پہنچائے۔

حساس فتاوی کے لیے راسخ علمائے کرام سے رجوع لازمی ہے؛ کیونکہ ان کا تجربہ طویل بھی ہوتا ہے اور گہرا بھی، اس لیے حساس فتاوی کے لیے ضروری ہے کہ اس میں بہتر سے بہترین رائے اپنائی جائے، جن سے حالات سنور جائیں اور معاملات بہتری کی جانب گامزن ہوں۔

ان امور کا خیال رکھے بغیر فتوی نویسی کی وجہ سے امت میں فکری انتشار پھیلے گا جس کے نتائج بہت ہی المناک ہوں گے، انہی برے نتائج سے رسول اللہ ﷺ نے خبردار کرتے ہوئے فرمایا: (یہاں تک کہ جب کوئی عالم نہیں بچے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سربراہ بنا لیں گے، جب ان سے پوچھا جائے گا تو وہ علم کے بغیر ہی فتوے صادر کریں گے، وہ خود تو گمراہ تھے ہی لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔) اللہ تعالی ایسی صورتحال سے ہمیں محفوظ فرمائے۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ ہم سب کو صرف وہی اقدامات کرنے کی توفیق دے جو رضائے الہی کا موجب ہیں، بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

دوسرا خطبہ

ڈھیروں، پاکیزہ، اور بابرکت تعریفیں اللہ کیلیے ہیں ، جیسے ہمارے پروردگار کو پسند ہوں اور جن سے وہ راضی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، یا اللہ! اُن پر، اُن کی آل، اور تمام متقی صحابہ کرام پر رحمتیں، سلامتی، اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

مسلمانو! تقوی الہی اختیار کرو، یہ اللہ تعالی کی گزشتہ اور پیوستہ تمام لوگوں کو تاکیدی نصیحت ہے۔

اللہ کے بندو!

آپ اس وقت اللہ تعالی کے مہینے محرم الحرام میں ہو، یہ ایک عظیم مہینہ ہے، اللہ تعالی کو اپنی بھلائی دکھلاؤ، جیسے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: (رمضان کے بعد افضل ترین روزے اللہ کے مہینے ماہ محرم کے ہیں۔) مسلم

عاشورہ کا روزہ رکھنا مستحب اور مسنون ہے، عاشورہ محرم کا دسواں دن ہے، ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے عاشورہ کے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: (سابقہ ایک سال کے گناہ مٹا دیتا ہے) ایک روایت کے مطابق ، آپ ﷺ نے فرمایا: (مجھے اللہ تعالی سے امید ہے کہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا) مسلم

نیز مسلمان کے لیے عاشورہ کے ساتھ نو محرم کا روزہ رکھنا بھی مسنون عمل ہے؛ کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا: (اگر میں آئندہ سال تک رہا تو نو تاریخ کا بھی روزہ رکھوں گا) مسلم

اور محقق اہل علم کے مطابق اس کے علاوہ جتنے بھی کام عاشورہ کے دن کے حوالے سے ذکر کئے جاتے ہیں ان کے متعلق نبی ﷺ سے کچھ بھی ثابت نہیں ہے۔

 اللہ تعالی نے ہمیں ایک عظیم کام کا حکم دیا ہے اور وہ ہے نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود و سلام،   اللهم صل وسلم وبارك على نبينا وحبيبنا محمد ، یا اللہ! خلفائے راشدین، اہل بیت ،صحابہ کرام ، تابعین عظام اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہو جا۔

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکوں کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کی حفاظت فرما۔ یا اللہ! ان کی پریشانیاں ختم فرما دے۔ یا اللہ! ان کے دکھ درد مٹا دے، یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! مسلمان مرد و خواتین کی بخشش فرما دے، یا اللہ! مومن مرد و خواتین کی بخشش فرما دے، یا اللہ! زندہ اور فوت شدگان سب کی مغفرت فرما دے۔

یا اللہ! حجاج اور معتمرین کو ان کے مقاصد میں کامیاب فرما، یا اللہ! تمام حجاج کرام کو صحیح سلامت اپنے اپنے گھروں میں باحفاظت واپس پہنچا۔

یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین اور ان کے ولی عہد کی حفاظت فرما، انہیں کامیاب فرما، یا اللہ! ان دونوں کی دین و دنیا کے معاملات میں مدد فرما، یا ذالجلال والا کرام!

اللہ کے بندو!

اللہ کا ڈھیروں ذکر کرو، اور صبح و شام اسی کی تسبیح بیان کرو ، اور ہماری آخری دعوت بھی یہی ہے کہ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔

پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ / پرنٹ کرنے کیلیے کلک کریں۔

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.