جب سارا ہنزہ سوتا تھا۔ - وارث اقبال

میں کروٹیں بدل بدل کر تھک چکا تھا۔ اندر ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ اس بے چینی کی کوئی وجہ اور کوئی جواز بھی نہیں تھا۔ ناسازئ طبیعت کا کوئی شائبہ بھی نہیں تھا۔ پھر نیند کی دیوی مجھ پر مہربان کیوں نہ تھی؟ جانے کیا شے تھی جو مجھے تڑپا رہی تھی؟ میں نے اس الجھن سے نکلنے کا یہی حل نکالا کہ بستر سے نکل آؤں اور کچھ لکھوں۔

لکھنے والے کا یہی المیہ ہوتا ہے کہ جب وہ لکھنا چاہتا ہے اور لکھ نہیں پاتا تو وہ ایک عجیب اذیت سے گزر رہا ہوتا ہے۔ میں ہنزہ کی رات کی تنہائی کو اپنی ڈائری میں رقم کرنا چاہتا تھا۔ کچھ خیالات کا بہاؤ تھا اور یہی، یقیناً یہی میری بے چینی کی وجہ تھی۔ جسے میں تسلیم کرنے سے انکاری تھا۔ چنانچہ میں جیکٹ پہن کر کھڑکی کے پاس کھڑا ہو گیا مگر تسلی نہ ہوئی۔ باہر جانے کے ارادے سے دروازہ کھولا تو سرد ہوا کا جھونکا ایسے میرے چہرے سے ٹکرایا کہ لگا جیسے کسی نے مذاق ہی مذاق میں میرے چہرے پر برف دے ماری ہو۔ اس حملے کا پہلا نشانہ میری ناک ہی بنی جس کی حفاظت کا میں بہت خیال رکھتا ہوں۔ ناک میں کھجلی کے ڈر سے میں نے اپن امنہ ناک تک جیکٹ کے کالر میں چھپا لیا۔ اب تو میں ضرور باہر جاؤں گا میں نے خود سے کہا اور اور باقی ساتھیوں کی نیند میں دخل اندازی کیے بغیر دروازہ کھول کر دھیرے سے باہر قدم رکھا۔ ٹھنڈی ہوا نے حملہ میری جیکٹ پر کیا تھا لیکن میری آنکھیں خوامخواہ پانی پانی ہو گئی تھیں۔

میں ٹیرس میں رکھی ایک ٹھنڈی برف کرسی پر جا بیٹھا۔ سامنے ایک چھوٹی سی عمارت کے قمقموں کی روشنی چیری کے دو پودوں میں سے گزر کر مجھ تک پہنچتی تھی۔ جہاں جہاں سے وہ گزرتی پتوں اور شاخوں کا حصہ نارنجی ہوجاتا۔ ہنزہ کے پاپولر کے پیڑوں میں جھانکتی روشنیاں جھلمل جھلمل کرتی تھیں۔ سیب کے ایک درخت پر درجن بھر کچے سیب سنگترے دکھائی دیتے تھے۔ پودوں کی خوشبو میں گلاب کی خوشبو نے سارے ماحول پر قبضہ کر رکھا تھا۔ چہار سُو خاموشی نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے لگتا تھا سارا ہنزہ نیند کی آغوش میں تھا۔

لاہور میں بھی رات کو رات ہی ہوتی ہے لیکن ہم دعویٰ نہیں کر سکتے کہ سارا لاہور سوتا ہے۔ لیکن یہاں ایسا نہیں تھا یہاں دعویٰ کیا جاسکتا تھاکہ سارا ہنزہ سوتا ہے۔ نہ شادیوں کے پٹاخوں کی آوازیں، نہ پولیس اور ایمبولینس کی دل دہلا دینے والی پُر شور صدائیں۔ بس خاموشی اور سکون کیونکہ سارا ہنزہ سوتا تھا۔ سارے دن کی مشقت کے بعد رات کو وہ سوتا تھا۔ آسمان کی نیلگوں چادر زمین کے قریب جھک آئی تھی۔ اس پر مکیش کے چھینٹوں جیسے تارے یوں تھے کہ بس ابھی اتریں گے اور میری مٹھی میں بند ہو جائیں گے۔ یہ تارے بھی کیا شے ہیں؟ ہم جیسے حسن پرست پہلے ان کی جھلک کو ترستے ہیں اور جھلک پا کر انہیں مٹی میں بند کرنا چاہتے ہیں مگر ہم جتنی اونچی چھلانگ لگاتے ہیں یہ اتنا ہی ہم سے دور ہو جاتے ہیں۔

خوشیاں بھی ستاروں کی مانند ہی ہوتی ہیں۔ کبھی یہ ہمارےنصیب کی چھت پر بارش بن کر برستی ہیں اور کبھی صحرا کی بوندیں بن جاتی ہیں۔ کبھی یہ بھی نہیں بس ہم چھلانگیں ہی لگاتے رہتے ہیں۔ جب خوشیاں ہماری دہلیز کو چھوتی ہیں تو ہم فخر سے آسمان چھونے لگتے ہیں اور جب یہ ہمارے نصیب کی دہلیز کا رخ نہیں کرتیں تو ہم نصیب کا گلہ کر کے بونے جتنے چھوٹے ہو جاتے ہیں۔ جب دکھوں کا زہر ہمارے اوپر جون کی دھوپ کی طرح گرتا ہے تو ہم پانی کو ترستی کڑکتی مٹی بن جاتے ہیں اور خوشیوں کا مشروب غٹا غٹ پی جاتے ہیں۔ یہی زندگی ہے۔

میں سامنے کے منظر میں کھویا ہوا تھا کہ میں نے کچھ گرنے کی آواز سنی۔ یہ پتے پر بارش کے پہلے قطرے کے گرنے کی آواز تھی۔ بڑی کومل آواز جیسے ذہن کے قرطاس پر پہلا خیال گرتا ہے پھر بارش کے کچھ اور قطروں نے پتوں کو چھونا شروع کر دیا۔ پتے جھرجھری لیتے تھے اور سی سی کرتے تھے۔ کچھ ہی دیر میں بارش کسی رقاصہ کی طرح ترنگ میں آکر ناچنے لگی۔ اُس کے گھنگروؤں کی آواز سوئے ہوئے ماحول کو جگانے کے لیے کافی تھی۔ بارش کی آواز میں ایک بکری کے منمنانے کی آواز بھی شامل ہو چکی تھی۔ کسی گھر سے ایک بوڑھے نے کھانس کھانس کر اپنی موجودگی کا احساس دلانا شروع کر دیا مگر کچھ ہی دیر میں ایک مرغ نے اُس کی آواز کو دبا دیا۔ چند لمحوں میں کئی مرغ ایک دوسرے کے ساتھ بانگوں کا مقابلہ کرنے لگے۔ بارش کی چھم چھم اور مرغوں کی بانگوں کی آوازیں ماحول کو عجب ہی رنگ میں رنگ رہی تھیں۔ لگتا تھا کہ مرغ گا رہے تھے اور بارش سازینہ موسیقی کے سارے آلات بجا رہی تھی۔ سردی جب میری رگ رگ میں اترنے لگی تو میں نے کمرے میں جانے کا فیصلہ کیا۔ پھر بس بستر تھایا میں تھا۔

ٹیگز