عبادت اور حسد - رومانہ گوندل

پچھلی تحریر میں بات ہو رہی تھی حسد پہ۔ حسد جو منفی جذبات میں سب سے زیادہ تباہ کن ہے اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی اور یہ بات بظاہر ہم سب مانتے بھی ہیں۔ اس کے باوجود ہم حسد اور بہت سے منفی جذبات اور عادات سے پیچھا اس لیے نہیں چھوڑا پاتے کیونکہ ہم یہ قبول ہی نہیں کرتے کہ یہ ہمارے اندر ہو سکتی ہیں۔ کیونکہ ہم سب اپنے بارے میں اچھائی اور عظمت کے و ہم میں مبتلا ہوتے ہیں اور ہمارے پاس اپنے اچھے کاموں، علم اور عبادات کی ایک لمبی لسٹ ہوتی ہے، اس لیے یہ سوچنا اور یقین کرنا کہ ہم اس منفی سوچ کا شکار ہو سکتے ہیں، کچھ مشکل سا لگتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اچھے کام اور عبادات، برائیوں کو ختم کرتے ہیں لیکن یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ علم اور عبادت میں کمی عزازیل بھی نہیں کرتا تھا بلکہ اپنی عبادت کی وجہ سے اتنا مقرب ہو گیا تھا کہ اسے فرشتوں کی صحبت مل گئی، لیکن شاید اس کے ساتھ اس کے اندر کہیں اپنی برتری کی سوچ بھی پل رہی تھی اور پھر ایک لمحہ لگا اور وہ سیدھے راستے سے بھٹکا اور عزاریل سے ابلیس بن گیا۔ بس ایک سجدے کے ا نکار سے! وہ دوسروں کے ساتھ بھی یہی کرتا ہے۔ عبادات اور نیکیوں کے ساتھ وہ ایک منفی سوچ اور وسوسہ انسان کے دل میں ڈال دیتا ہے اور پھر وہ سوچ، حسد بن جاتی ہے اور انسان کو بھی ابلیس کی طرح نیچے گرا دیتی ہے۔

میرا اس شہر عداوت میں بسیرا ہے جہاں

لوگ سجدوں میں بھی لوگوں کا برا سوچتے ہیں

جب انسان کی تخلیق ہوئی لیکن وہ اس زمین پہ نہیں اترا تھا۔ فرشتوں جیسی معصوم مخلوق اطاعت و فرمانبرداری میں لگی ہوئی تھی، برائی کا ہر تصور جس ابلیس سے جڑا ہے وہ تب عزازیل تھا وہ عزازیل جو عبادت گزار تھا۔ اس وقت پہلا گناہ حسد نے ابلیس سے کروایا اور اس کے بعد وہ پھسلتا چلا گیا۔ پھر شیطان کو جس انسان سے حسد تھا انہی سے خیر خواہی کا دعویٰ کیا لیکن در حقیقت مقصد جنت سے نکلوانا تھا، سو اس میں کامیاب ہو گیا۔ انسان تو جنت سے نکالا گیا لیکن شیطان کی حسد اور دشمنی کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوئی لیکن شیطان کے اپنے سیٹیس میں کیا فرق ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ وہ تو مردود تھا اور وہی رہا۔ اسی طر ح انسانوں کے لیے بھی اکثر حسد سب سے بنیادی مسئلہ بن جاتا ہے، جو عباداتوں کے باوجود (دل کی صفائی پہ توجہ نہ دی جائے تو) دل میں پیدا ہو جاتا ہے اور پھر باقی ہر گناہ اس سے خو بخود جنم لیتا جاتا ہے۔ قتل، غیبت، چوری، ڈاکے ان سب کے پیچھے بنیاد تو یہی ہوتی ہے کہ دوسرے کے پاس جو ہے وہ برداشت نہیں ہو رہا ہوتا اور چاہتے ہیں وہ کسی طرح سے چھن جائے۔ اس لیے کبھی جسمانی، کبھی مالی نقصان دیتے ہیں اور یہ نہیں ہو پاتا تو زبان سے ضرور ہی یہ فریضہ سر انجام دیتے ہیں اور خاص طور پہ تب، جب کسی کو تکلیف دینے اور کچھ چھنینے کا کام خیر خواہی کے دعوے دار ہو کے کرتے ہیں، جیسے شیطان نے کیا تھا۔ ہم بھی بعض اوقات حسد کی آگ دل میں رکھ کے دوسرے کے خیر خواہ ہونے کا دعویٰ کر رہے ہوتے ہیں لیکن اندر سے دوسروں کو نقصان دے رہے ہوتے ہیں تو اس بات کو سمجھیں کہ اس سے دوسرے کا نقصان ہو بھی گیا تو ہمیں کچھ نہیں ملے گا، سوائے اس کے کہ ہم مزید تباہی کی طرف بڑھتے جائیں گے۔

انسان کو جس چیز نے سب سے پہلے نقصان دیا تھا وہ ابلیس کا حسد تھا جس نے اسے جنت سے نکلوا دیا اور یہ بات انسان کو اس وقت بھی جانتا تھا جب وہ اس دنیا میں زمین پر اتارا گیا اور آج بھی جانتا ہے لیکن پھر بھی انسان خود کو اس کے اس وار سے بچا نہیں سکا بلکہ اس کا شکار ہوا اور اس طرح ہوا کہ دنیا کا پہلا قتل جو انسان کے ہاتھوں ہو ا اس کی وجہ حسد ہی تھی۔ قابیل کے دل میں حسد کی آگ بھڑکی اور اپنے بھائی کا قتل کر دیا۔

بعض اوقات ایک گھر کے باسیوں یا قریبی رشتوں میں یہ شکوہ پایا جاتا ہے کہ دوسرے ان سے حسد کرتے ہیں کیونکہ کوئی کسی کے اچھے کام کو سراہتا نہیں ہے بلکہ تنقید کی جاتی ہے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ قریب کے لوگوں میں حسد کے چانسز زیادہ پائے جاتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات مسئلہ حسد نہیں ہوتا بلکہ ا یک دوسرے کے اچھے کاموں کو سراہنے اور تعریف کرنے کا رواج ہی کم ہوتا ہے۔ تو اس سے بچنے کے لیے اپنے رویے میں تھوڑی سی تبدیلی کریں دوسروں کے چھوٹے چھوٹے کاموں کی تعریف کرنے کی عادت ڈالیں۔ آہستہ آہستہ دوسرے بھی آپ کی یہ عادت اپنا لیں گے اور حالات بہترین ہوتے جائیں گے۔ اور دوسرا دل میں کسی غلط خیال کا آ جانا، کوئی غیر فطری بات نہیں ہے لیکن اپنے آپ سے جھوٹ نہ بولیں۔ پہلے قبول کر لیں کہ اندر کسی غلط چیز نے جڑ پکڑ لی اور اور پھر اسے ختم کرنے کی کوشش کریں۔ہمیں تب تک کامیابی نہیں ملے گی جب تک ہم اپنے اندر کو صاف نہیں کریں گے۔ اس لیے اپنے دل کی صفائی پہ ہمیشہ توجہ رکھیں۔ کیونکہ کسی کے خلاف برے جذبات رکھنا انتہائی غلط ہے لیکن یہ زیادہ مضحکہ خیز بات ہے کہ ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھر کے اس ٹینشن میں بیٹھے رہیں کہ دوسرے ہم سے حسد کر رہے ہیں۔ دوسرا جو کر رہا ہے اس سے بے نیاز ہو جائیں کیونکہ ہمارا عروج اور زوال ہمارے اپنے عمل سے مشروط ہے کیونکہ دوسرے کے ہاتھ کا انگارے کی تپش ہم تک پہنچ سکتی ہے، جھلسا سکتی ہے لیکن جلے گا وہی جس کے ہاتھ میں ہے اس لیے خود کو ان لوگوں میں شامل نہ ہونے دیں جو دوسروں کو جلانے کی آرزو میں اپنے ہاتھوں میں انگارے پکڑ لیتے ہیں۔

ٹیگز

Comments

رومانہ گوندل

رومانہ گوندل

اقتصادیات میں ایم فل کرنے والی رومانہ گوندل لیکچرر ہیں اور "دلیل" کے علاوہ جریدے "اسریٰ" کے لیے بھی لکھتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.