جو اماں ملی تو کہاں ملی - محمد اقبال دیوان

شکاگو، امریکہ کی ایک محفل شبینہ کا احوال

شکاگو میں رات کا کھانا تھا۔ میزبان وہیں کی ایک گجراتی فیملی تھی۔ دولت قالین پر لوٹتی تھی۔رشتہ داریاں اور تعلقات نواز شریف کی آف شور کمپنیوں کی طرح ملکوں ملکوں پھیلے تھے مگر مزاج دھیما اور انسانی ہمدردی بہت۔

مہرو بھابھی سے کسی نے ہمارا ذکر کیا۔ اہل خانہ کی بھی آپس معاملہ فہمی تھی۔ ملنا جلنا، چھٹے چھ ماہے کی ملاقات بھی۔ سو ڈاکٹر پٹیل کو کہا ہمیں بھی لے آئیں۔ مہرو بھابھی پڑھتی بہت ہیں، لکھتی ذرا سا بھی نہیں۔ ہم نے پوچھا کہ ایسا کیوں؟ تو ہمیں مشہور فرینچ ڈرامہ نگار اور شاعر کا یہ قول سنا دیا کہ’ لکھنے لکھانے کا شوق بھی بالکل عصمت فروشی کے پیشے (Prostitution) کی طرح ہوتا ہے۔ پہلے عصمت پیار میں لٹائی جاتی ہے، پھر چند دوست فیض یاب ہوتے ہیں اور آخر کار یہی خدمات پیسے کے عوض سرانجام دی جاتی ہیں‘۔ اللہ میرے میاں کو سلامت رکھے۔ آپ کے بھائی (میمن گجراتی میں اپنے خاوند کی جانب یوں ہی اشارہ کیا جاتا ہے) اب بھی موقع ملے تو ہاتھ پیر مار لیتے ہیں۔ ہم یہ جواب سن کر سوالات کی مزید طلب سے محروم ہوگئے۔ یہ گجراتی حس مزاح ہے، کٹھور اور تیر بہدف۔ one shot kill والی۔

شام سے لانگ ویک اینڈ شروع ہوچکا تھا (ایک ساتھ کئی ایسی چھٹیاں جو ہفتے اتوار کی تعطیل سے جڑی ہوں)۔ امریکہ میں اگر رہنا ہے تو جیے امریکہ کہنا ہے کہ مصداق، امریکی ماحول کی مناسبت سے مہمان کھانا اور شراب ساتھ لائے تھے۔ شرکت کی شرائط سادہ تھیں۔ دین اور پاسپورٹ کی قید نہ تھی، ہندو، مسلمان، پارسی سبھی ہی مدعو تھے واحد پابندی یہ تھی کہ مہمان لازماً گجراتی بولنے والے ہوں گے۔ یہ اہتمام گجراتی بھی جاپانیوں کی طرح تارو مارو یعنی اسی تسی کے بہت شکار ہیں۔ جو ان جیسا نہیں وہ ان کی طرح سوچ بھی نہیں سکتا۔ وہ بہتر تو ہوسکتا ہے، ان جیسا نہیں۔ یوں یہ فلٹر گفتگو، لطائف اور آئندہ کاروباری اور سماجی روابط میں استحکام اور فروغ کے کوالٹی کنٹرول کے لیے تھا۔

آذربائیجان کی گل نارا جو نیویارک میں بیلی ڈانسر ہے اسے بلانے کی تجویز خاکسار کی تھی۔ وہ کم بخت ناچتی ہے تو دیدہ و دل اس کی حشر سامانیوں اور تھرکتے قدموں کے تلے مخملیں فرش ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹر پٹیل صاحب جو دعوت میں مدعو تھے انہیں کسی مریض کو دیکھنے کے لیے نیویارک سے شکاگو آنا تھا۔ مالدار مریض نے اپنا جہاز بھیجا تھا، یوں گجراتیوں کے دل و دماغ پر عیاشی کے لمحاتِ خود فراموشی میں بھی فضول خرچی کا جو کیلکویٹر آن رہتا ہے وہ اس فری رائیڈ کی وجہ سے بند رہا۔ ہمارے لیے تو اجازت یہ کہہ کر لی گئی کہ ہم پرسنل گیسٹ ہیں، ان کے گھر پر مقیم ہیں۔ گل نارا کو جہاز میں سوار کرانے کا سوانگ یوں رچایا گیا کہ اس خالی نجی جہاز میں گل نارا کو بٹھانے کے لیے مریض سے باقاعدہ اجازت یہ جھوٹ بول کر لی تھی کہ وہ ایک مطب شکاگو میں بھی قائم کرنا چاہتے ہیں لہٰذا وہاں کے لیے وہ اپنی ممکنہ سیکرٹری کو بھی ساتھ لائیں گے۔

گل نارا نے بھی حساب لگایا کہ وہ لوگ جن کا مبشر لقمان اور جہانگیر ترین کی طرح اپنا جہاز ہو وہ یقیناً پوتڑوں کے رئیس ہوتے ہیں۔ ایسی محافل شبینہ میں شرکت سے کبھی میاں تو کبھی اگلا پروگرام مل جاتا ہے۔ یوں اس نے اپنی فیس بھی کم کردی تھی۔

امریکہ میں اب ان کی اپنی سی-آئی-اے، پنجابیوں اور گجراتیوں کے علاوہ کوئی جھوٹ نہیں بولتا۔ عام امریکی سمجھ گیا ہے کہ جھوٹ بولنے میں نقصان زیادہ ہے اور فائدہ کم۔ مجرم پکڑے جانے پر اپنی وارداتوں کی تعداد اصل سے کم بتائے تو نئے شواہد سامنے آنے پر پہلے سے دی گئی سزا پر از سر نو عمل درآمد ہونا شروع ہوجاتا ہے، اہم عہدہ دار اپنی تقرری کے اعلان پر سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی کے سامنے اپنے بارے میں عائد کردہ کسی الزام کے بارے میں سچ نہ ظاہر کرے یا خاموشی سے اپنی نامزدگی کو مسترد نہ کرے تو اس کا حشر ہوجاتا ہے۔ امریکہ میں Zoë Baird کو صدر کلنٹن اٹارنی جنرل مقرر کرنا چاہتے تھے، موصوفہ نے ملک پیرو کے دو غیر قانونی تارکین وطن کو اپنے ہاں ڈرائیور اور بچوں کی آیا رکھا تھا۔ ان کا چھوٹا موٹا مقامی ٹیکسوں کا بھی قضیہ تھا۔ صدر کلنٹن کا خیال تھا یہ معمولی ایشوز ہیں لیکن اس پر میڈیا نے وہ طوفان کھڑا کیا کہ ان کی اپنی پارٹی نے بھی ان کی جانب سے آٹھ دن میں ہی دست تعاون کھینچ لیا۔ ایسا ہی معاملہ ان کے وکیل چارلس رف کے ساتھ ہوا جنہوں نے اپنی ملازمہ کے ٹیکس ادا نہیں کیے تھے۔ امریکہ میں اس طرح کے کیس نینی گیٹ کہلائے جن کی وجہ سے چند ذہین وکیل صاحبان اور صدر مملکت اپنے من پسند عہدوں سے محروم ہوگئے۔

خود کلنٹن کو امریکی عوام نے صدارت سے اس لیے محروم نہیں کیا تھا وہ عین ان نازک لمحات میں جب امریکی سینیٹران سے بوسنیا پر بمباری کے پلان اوول آفس کے فون پر شئیر کررہا تھا، امیر مقام اکیس برس کی مونیکا لیونسکی سے بوس و کنار میں مصروف تھے۔ انہیں صدارت کے عہدے سے اس لیے فارغ کردیا کہ انہوں نے امریکی عوام سے جھوٹ بولا تھا۔ ان کے آئین میں باسٹھ، تیرسٹھ والی شق بھی نہیں اس کے باوجود امریکی حکومت اپنے عوام سے اجتماعی معاملا ت میں تو کھل کے جھوٹ بولتی ہے لیکن ان کا کوئی لیڈر انفرادی سطح پر دروغ گوئی سے کام نہیں لیتا۔ مونیکا لیونسکی اب خیر سے پینتالیس برس کی ہیں۔ برسوں بعد انہوں نے زبان کھولی اور ایک ایسی تقریر کی جسے ہم بلاشبہ دنیا کی بہترین تقاریر میں سے ایک کہہ سکتے ہیںMonica Lewinsky: The price of shame | TED Talk - TED Talks۔ ایک جملہ حاضر خدمت ہے

At the age of 22, I fell in love with my boss, and at the age of 24, I learned the devastating consequences. (میں جب بائیس برس کی تھی تو مجھے اپنے باس (صدر بل کلنٹن) سے پیار ہوگیا جس کے بھیانک نتائج اس وقت ظاہر ہونا شروع ہوگئے جب میں چوبیس برس کی ہوگئی۔)

مونیکا لیونسکی

وہ آگے چل کر کہتی ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ غلط وقت پر غلط ہستی سے پیار کرتے ہیں مگر کوئی جی کڑا کرکے یہ تو سمجھائے کہ میری عمر میں کتنی لڑکیوں کو امریکی صدر سے پیار کا موقع ملتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو شہرت اور ساکھ کی گراوٹ کا Patient zero (اس اصطلاح کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں کسی معتدی بیماری کا پہلا رپورٹیڈ کیس ہے) کیس بتاتی ہے جس کا معاشقہ عالمی سطح پر وائرل ہوکر دنیا بھر میں تضحیک اور تمسخر کا نشانہ بنا۔ وہ انسانی کردار کی کمزوری کی سب سے بڑی عالمی علامت بن گئی۔

آپ اب بھی اس گل نارا والی دعوت سے جڑے ہیں۔ دعوت میں دو ایک پارسیوں کے علاوہ اکثریت گجراتی پٹیلوں کی تھی۔ یہ امریکہ اور برطانیہ میں بڑی کثیر تعداد میں آباد ہیں۔ پٹیل گجراتیوں کے ہاں وہی حیثیت رکھتے ہیں جو پنجاب میں چوہدری مگر ذہانت، کاروباری صلاحیت اور آنکھ میں کاجل بن کر رہنے کا جو فن ان گجراتی پٹیلوں کو آتا ہے چوہدری اس اسکول کی دیوار بھی چھو نہیں پائے۔

کھانے کے بعد گل نارا نے تو ایک گھنٹہ ناچ کر دھواں بنا کر مردوں کو فضا میں اڑا دیا اور رقص کے اختتام پر ڈاکٹر صاحب سے واپسی کا وقت طے کرکے کراچی کی زینب مارکیٹ والا کفتان پہن کر اپنی کسی عزیزہ کے ہاں سونے چلی گئی۔

میزبان خاتون نے ایک قصہ چھیڑ دیا۔ ذہین تھیں، واقعے کی مکمل جزئیات نوک زباں تھیں۔ ایسی دعوتوں میں دیس کی باتیں، وہاں کے قصے جان لیں کہ غالب کو بھی ایسے قصے سننے کا بہت شوق تھا جب ہی تو کہتے تھے کہ

کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں

اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے

دہلی کا چاندنی چوک

ان کی اردو اسپیکنگ سہیلی میمونہ کے بھائی کے خاندان کا قصہ تھا۔ میمونہ کے ابو نے دہلی سے ہجرت کی۔ پہلے وہ میرپور خاص آئے اور پھر پاپوش نگر کراچی میں بس گئے۔ میمونہ کے بھائی ظہیر کو پاپوش نگر کے نام سے چڑ تھی۔ پاپوش فارسی میں جوتے کو کہتے ہیں یہ نام ان کے ذوق طبع پر چھتر کی معنی برستا تھا۔ ان کا ایک بے لحاظ پنجابی دوست جس کا اردو ادب کا مطالعہ قابل رشک تھا، وہ کہا کرتا تھا کراچی پہنچے تو پاپوش نگر بسالیا یا کورنگی۔ اب جیسا بھی ہے گزارا کریں۔ مہاجروں کو جب دہلی میں چاندنی چوک جیسے نام رکھنے کی آزادی تھی تو وہاں طوائفیں آباد ہوگئیں۔

یہ وہی چاندنی چوک ہے جسے دارا شکوہ کی ہمشیرہ اور شاہ جہاں بادشاہ کی سب سے بڑی دختر جہاں آرا نے بسایا تھا۔ وہ بڑے کمال کی خاتون تھی۔ تصوف میں اپنا مقام رکھتی تھی اور ’مونس الارواح‘ نام کی کتاب لکھ کر اس کا اختتام یوں کیا کہ جہان آرا، خاک آستانۂ چشت۔ یہ تو آپ کو یاد ہے نا کہ سیدنا معین الدین چشتیؒ نے خود’ انیس الارواح ‘نامی کتاب لکھی تھی اور دارا شکوہ نے ’سفینتہ الاولیا‘ نامی کتاب لکھی تھی۔

قرآن مجید کا ایک سولہویں صدی کا نسخہ

ہم نے جب نیویارک کے عجائب گھر میں تیرھویں صدی کی یہودیوں کی کتاب المناجات اور سولہویں صدی کا قرآن الکریم کا نسخہ دیکھا تو ہمیں صوفی ملفوظات بہت یاد آئے۔ جانے یہ کہاں ہیں، محفوظ بھی ہیں کہ امتداد زمانہ اور ورثاء کی جہالت اور لاپرواہی کے ہاتھوں برباد ہوگئے؟

شہزادی جہاں آراء
شہزادی جہاں آراء کی 'مونس الارواح'

وہ تو خیر ہوئی کہ ظہیر بھائی نے اپنے ایک پڑوسی اور اردو کے بہترین افسانہ نگار غلام عباس کی کہانی ’’آنندی‘‘ نہیں پڑھی تھی۔ البتہ دونوں دوستوں نے شیام بنیگل کی شہر ہ آفاق ہندی فلم منڈی دونوں نے ضرور دیکھی۔ اس کی وجہ فنون لطیفہ سے رغبت کم اور آنجہانی سمیتا پاٹل کی روح کو نظروں سے ایصال ثواب پہنچانا زیادہ مطلوب و مقصود تھا۔

یہودیوں کی کتاب المناجات

پاپوش نگر کراچی کا یہ گھرانہ نیویارک سے جب بھی شکاگو آتا ہے ان ہی کا مہمان ہوتا ہے۔ کسی بھی گزرے ہوئے واقعے کی تحقیر آمیز تفصیلات یا تو شادی شدہ گھریلو عورتوں کو یاد رہتی ہیں یا میڈیا کے اینکرز کو یا پولیس کے ایس ایچ او صاحبان کو۔ اس واقعے کے بیانیے میں امریکہ اور برطانیہ میں بسنے والوں دیسی لوگوں کے چبھتے مسائل سمٹے ہوئے ہوئے ہیں۔

وہ سنارہی تھیں ـ’’جہیر (ظہیر) بھائی کے چھوٹے چھوکرے کے لیے ان لوگ کو پاکستانی بہو چاہیے تھی، چھوکرے کا برونکس (نیویارک) میں حلال جائرو فوڈ کارٹ (ٹھیلا) ہے۔ بہت چلتا ہے۔ چھوکرا تو بائیلوجی میں میجر ہے۔ گریڈز ٹھیک نہیں تھے تو آگے نئیں پڑھا۔ باپ سے جیادہ کماتا ہے حلال فوڈ میں انکم زیادہ ہے۔ باپ ادھر کسی میں بڑی لیب میں کام کرتا ہے۔

یہ لوگ سب کراچی گئے۔ پہلے سے اپنے رشتہ داروں کو بولے لا (کہہ رکھا) تھا کہ چھوکری لوگ کو لائین اپ (دکھاوے کے لیے چن کر) کرکے رکھو۔ ان لوگ کے بڑے بیٹے کی بیوی نے سب کو تپا مارا (تنگ کردیا) تھا۔ وہ چھوکری پنجاب کے کسی علاقے بھائی پھیرو کی فیملی تھی۔ فرسٹ جنریشن ایف-او-بی (فریشن آن بورڈ ان تارکین وطن کو کہا جاتا ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں امریکہ سمندری کشتیوں سے کسمپرسی کی حالت میں پہنچے ہوں)۔ لڑکے کی ماں میرے کو بولتی تھی میری بڑی بہو میرے ڈی کرے (بیٹے) فے جان (فیضان ) کے ساتھ یونی ورسٹی میں تھی۔ گڈ لکنگ (خوبصورت ) تھی مگر مزاج تو جیسے تیجاب میں ڈوبیلا (ڈوبا ہوا)۔

شادی ہوئی تو اس کو گھسیٹ کے لا جویا (ریاست ٹیکساس کا قصبہ جو میکسیکو کی سرحد کے قریب واقع ہے اور نیویارک سے تین ہزار میل دور) وہاں لے گئی۔ ادھر اس کے باپ کا گیس اسٹیشن ہے۔ ماں باپ کی اکیلی بیٹی تھی۔ کہتی تھی فیجان، باپ کی بزنس میں ہیلپ (مدد) کرے گا۔ باپ گلہ کرنے لگا کہ اب ایسا ہوگیا ہے کہ ہمارا بیٹا آدھے گھنٹے کے لیے بس فیس ٹائم کرتا ہے۔ اس میں بھی کھُد (خود) آگے پیچھے ہوتی رہتی ہے۔ کیا خاک بات ہوسکتی ہے۔

’’ تو پھر آپ لوگ نے عپھان (عفان) کا کیا بندوبست کیا؟‘‘ انہوں نے اپنے مہاجر مہمانوں سے پوچھا۔ وہ بولے ہم لوگ نے تین کنڈیشنز (شرائط) اپنے رشتہ داروں کو بتائے تھے: ہر حال میں مہاجر فیملی ہو مگر مہاجر لوگ میں روہینگیا یا کرد نہیں چلے گی۔ شدھ مہاجر، اردو بولنے والی، میاں بھائی، پہلے آپ والی: دوسری گوری اور حسین ہو، تیسری ادھر شادی رجسٹری سے پہلے پری نیپوٹل Pre Nupital (وہ معاہدہ جس میں شادی سے پہلے شرائط طے ہوجاتی ہیں) سائین کرے گی۔ بھائی، بوڑھے ماں باپ کے لیے گرین کارڈ کی خاطر پنچات (مسئلہ) کھڑی نہیں کرے گی۔ وقفے کے خاطر گجراتی خاتون اپنی شفون سلک کی ساڑھی سنبھال کر اٹھیں اور اس کی ہم رنگ شراب ڈال کر واپس آن کر گاؤ تکیے سے ٹیک لگا کر دوبارہ گویا ہوئیں۔ اب کی دفعہ پہلے گھونٹ سے ہی شرارت ان کی آنکھوں سے چھلکتی تھی۔ میرے میاں نے بولا ’یہ مہاجر لوگ بھی کبھی کبھی ہتھے سے اکھڑ جاتے ہیں دوسری کنڈیشن ایک دم گیر واجبی ہے (غیر واجبی، نامناسب)۔ رشّو (خاتون کا گھریلو نام) میں ان لوگ سے پوچھتا تم لوگ کی پانچ جنریشن میں دو سو سال تک کوئی ایسا نہیں جس کو آپ گورا اور خوب صورت بولو۔ اپنی بیٹی کو انصاف سے دیکھ لو تو دوسرے کی بیٹی میں یہ کھوج کیوں؟ میاں کی بات سن کر خاتون نے انہیں مصنوعی غصے سے ٹوکا Darling don't be a racist. You know its a crime to utter such things in USA. (ڈارلنگ نسلی تعصب کی باتیں مت کرو یہ امریکہ میں جرم تصور کی جاتی ہیں)۔

جہیر بھائی اب کی دفعہ پاکستان سے آکر بہوت دکھی تھے۔ کہہ رہے تھے سالا نائن الیون تو ادھر امریکہ میں ہوا ہماری عجت (عزت) ادھر کے علاوہ، پاکستان میں بھی کم ہوگئی۔ ایک دوست سے گاڑی مانگی تو بولا پاپوش نگر کے پاس چوک پر بہت سستا پٹھان لوگ کا رینٹ-آ-کار ہے۔ وہاں سے لے لو۔ تم لوگ تو سالا ام کو امریکہ میں ائیر پورٹ بھی لینے نہیں آتا ویک اینڈ پر بھی رو رو کر لفٹ کراتا ہے۔ یہاں ہر سال دسمبر میں امریکی پاوندوں (پاوندے افغان خانہ بدوش جو سردیوں میں پاکستان آجاتے ہیں) کی طرح پاکستان شادیوں کے کھانے اور کپڑوں چادروں پردوں کی سیل لوٹنے آجاتے ہو۔ ہمارے سے جہاز سے اتر کر پروٹوکول مانگتے ہو۔ دوست کوئی بیوروکریٹ ہے۔

سندھ میں آخر شہداد پور کی ایک لڑکی پسند آئی تو اس کو شیپرنڈ ڈیٹ Chaperoned Date (ایسی ملاقات جس میں کوئی بڑا نگرانی کے لیے موجود ہو) کے لیے کراچی بلوایا گیا۔ عپھان (عفان) کی ضد تھی کہ رشتہ سے پہلے ایک دفعہ اس سے اکیلا ڈائیلاگ کرے گا۔ وہی پاپوش نگر کے چوک سے سستی کار ڈرائیور رینٹ ہائر کی۔ کلفٹن کباب تکے کی ریستوران لے گیا۔ لڑکی کے رشتہ دار بھی سالے لوگ کوئی موساد کے ماموں لگتے تھے۔ ایک علیحدہ سوزوکی میں پہنچے اور دوسری ٹیبل پر بیٹھ گئے۔ ذرا کنزرویٹیو (قدامت پسند) فیملی تھی۔

اب اپن لوگ کا عپھان تو بائیلوجی کا میجر تھا ہلکی پھلکی بات کے بعد اس نے لڑکی کو پوچھا کہ ’’آپ Theory of Evolution (ڈارون کا نظریہ ارتقا کا انسان بندر کی ترقی یافتہ صورت ہے) کو مانتی ہیں یا بائبل کی Genesis Story (انسانی تخلیق) والی بات کو؟‘‘

شہداد پور کے گرلز کالج کی گریجویٹ لڑکی نے پوچھاــ’’ یہ Theory of Evolution کیا ہے؟‘‘

عپھان بولا ’’ڈارون کا نام سنا ہے آپ نے؟‘‘

لڑکی بولی ’’ ہمارے گھر میں انگلش فلمیں دیکھنے کی اجازت نہیں۔‘‘

یہ ڈنر ڈیٹ ویسے تو رینٹ آ کار کے حساب سے چھ گھنٹے کے لیے تھی مگر عپھان میاں اتنے بور ہوئے کہ کل تین گھنٹے میں ہی سب گھر واپس آگئے۔ کار والا پورے چھ گھنٹے کے پیسے مانگتا تھوڑی منہ ماری بھی ہوئی۔ ابھی یہ لوگ پھر دسمبر میں پاکستان جائیں گے۔ چھوکری دیکھنے۔

اس پر وہاں ایک اور گجراتی ماں سے چپکی اور ٹیکلا کی چسکی لیتی لڑکی نے آہستہ سے انگریزی میں پوچھا Auntie Rashoo and this Dodo is he going to repeat the same question with new beauty? (اور یہ بے وقوف اب کی مرتبہ بھی اس نئی حسینہ سے وہی پرانا سوال دہرائے گا؟)

Comments

اقبال دیوان

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان صوبائی سیکریٹری کے طور پر ریٹائر ہوئے اور سندھ سول سروسز اکیڈمی کے بانی ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں۔ آپ پانچ کتابوں کے مصنف ہیں اور آپ کے افسانے ادبی جرائد میں بھی شائع ہوتے ہیں۔ مطالعہ، مصوری اور سفر کے شوقین ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • دیوان اقبال کلاسک، کا ایک اور ہنگامہ خیز شاہکار : ایک اختصاریہ، ملاحظہ ہو:
    شرکت کی شرائط سادہ تھیں۔ دین اور پاسپورٹ کی قید نہ تھی، ہندو، مسلمان، پارسی سبھی ہی مدعو تھے واحد پابندی یہ تھی کہ مہمان لازماً گجراتی بولنے والے ہوں گے۔ یہ اہتمام گجراتی بھی جاپانیوں کی طرح تارو مارو یعنی اسی تسی کے بہت شکار ہیں۔ جو ان جیسا نہیں وہ ان کی طرح سوچ بھی نہیں سکتا۔ وہ بہتر تو ہوسکتا ہے، ان جیسا نہیں۔ یوں یہ فلٹر گفتگو، لطائف اور آئندہ کاروباری اور سماجی روابط میں استحکام اور فروغ کے کوالٹی کنٹرول کے لیے تھا۔