غداری کے الزام کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے؟ - یاسر محمود آرائیں

میاں نواز شریف ایک بار پھر قومی سلامتی کے حوالے سے تنازع کا باعث بنے ہیں۔ اس سے قبل ڈان لیکس کی صورت میں بھی وہ اسی قسم کا تنازع بھگتا چکے ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ڈان لیکس اور میاں نواز شریف کا حالیہ متنازع انٹرویو کرنے میں، جس کی وجہ سے تمام قضیہ کھڑا ہوا ایک ہی صحافی سیرل المیڈا کا کردار ہے۔ اس کے علاوہ دونوں بار ایک ہی معاصر روزنامے کو پنڈورا بکس کھولنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اسے محض اتفاق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیونکہ قرائن اور شواہد بتاتے ہیں کہ مذکورہ انٹرویو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دیا گیا اور اس میں میاں صاحب کی بھرپور منشا شامل تھی۔ ایسا اگر نہ ہوتا تو قواعد و ضوابط بالائے طاق رکھتے ہوئے مذکورہ صحافی کو کبھی ایئرپورٹ ایپرن تک رسائی دے کر انٹرویو کی سہولت نہ ملتی۔

چند روز قبل نیب کی جانب سے ایک گمراہ کن اخباری کالم کی بنیاد پر نواز شریف کے خلاف تحقیقات کا اعلان ہوا۔ جس کے مطابق نواز شریف نے مبینہ طور پر چار ارب نوے کروڑ ڈالر کے قریب رقم منی لانڈرنگ کر کے دشمن ملک بھارت بھجوائی، جس کے باعث قومی خزانے کو بھاری نقصان ہوا جبکہ بھارتی زر مبادلہ کو اس سرگرمی سے تقویت پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ نیب کی اس پریس ریلیز کے بعد ورلڈ بنک کی جانب سے وضاحت سامنے آئی کہ یہ رپورٹ اصل میں دنیا بھر کے تارکین وطن کی جانب سے اپنے اصل وطن کو بھیجے جانے والے زر مبادلہ کی رقم کا محدود تخمینہ تھا۔ جس میں تقسیم کے وقت ہندوستان چھوڑ کر پاکستان آنے والے تارکین وطن کی آمدن کا بھی فرضی جائزہ تھا کہ اگر وہ اپنے سابقہ وطن زر مبادلہ بھجوائیں تو اندازا اس ہندسے کے مساوی رقم بن سکتی ہے۔ چونکہ آج کل ہر کردہ نا کردہ گناہ نواز شریف کے سر منڈھنے کا رواج چل رہا تھا لہذا، یار لوگوں کی اس کہانی کے تانے بانے بھی نواز شریف سے جا ملے۔ بعد میں جب معمولی تحقیقات سے یہ فرضی کہانی جھوٹی ثابت ہوئی تو میاں صاحب کو ملنے والی عوامی ہمدردی کا گراف اچانک بڑھ گیا۔ جس تاثر کو قائم کرنے میں وہ پچھلے آٹھ ماہ سے مسلسل ناکام تھے وہ ازخود جڑ پکڑنا شروع ہوا کہ حالیہ احتساب کا مقصد صرف ان کی سیاست اور شہرت کو نقصان پہنچانا ہے۔ اس کے بعد ان کے بد ترین مخالف بھی کسی حد تک یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ملک میں احتساب کے نام پر بھونڈا مذاق جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان ناکام ہوگا - تصوّر حسین خیال

نواز شریف کی جان بوجھ کر سینگ پھنسانے کی خواہش رکھنے والی نفسیات سے واقف ہر شخص مگر جانتا تھا کہ وہ تا دیر یہ ایڈوانٹیج برقرار نہیں رکھ پائیں گے۔ اپنی اسی دائمی عادت سے مجبور ہو کر انہوں نے ایک انٹرویو دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر اب تک ممبئی حملوں کی تحقیقات کے لیے پاکستان کی عدالتوں میں چلنے والا ٹرائل مکمل کیوں نہیں ہو سکا؟ان کا مزید کہنا تھا کہ کیا اس چیز کی اجازت دی جانی چاہیے کہ یہاں سے لوگ جائیں اور سرحد پار کر کے قتل و غارت گری کرتے پھریں؟حسب توقع اس انٹرویو کے شائع ہونے کے بعد ملک بھر میں ان کے خلاف طوفان مذمت اٹھ کھڑا ہوا۔ ملک بھر کی نمایاں اور چنیدہ شخصیات کی جانب سے انہیں غدار ٹھہرانے اور آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت ان کے خلاف کاروائی کے مطالبے ہونے لگے۔ ایسے میں مسلم لیگ کے نئے صدر شہباز شریف، مسلم لیگ ہی سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی اور اسی جماعت کے دیگر رہنماؤں کے بیک فٹ پر چلے جانے اور وضاحت انگیز بلکہ مدافعانہ بیانات نے ایک بار پھر ذہن کے پردے پر بائیس اگست کے بعد کے واقعات تازہ کر دیے۔ کچھ وقت کے لیے گویا یوں محسوس ہوا کہ یہ سب گراؤنڈ نواز شریف کو الطاف حسین کی مانند ماضی کی بھول بھلیوں میں دفن کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

حقیقت لیکن یہ ہے کہ بیشک اس وقت نواز شریف کے خلاف سازشیں عروج پر ہیں مگر، اس انٹرویو پر بہرحال انہیں کسی نے مجبور نہیں کیا۔ ان کا خود بھی کہنا ہے کہ وہ اپنے الفاظ پر قائم ہیں یعنی انہیں انٹرویو کی صداقت، صحت اور ترتیب پر کسی قسم کا اعتراض نہیں لہذا اب وہ اپنے کہے الفاظ کے ذمہ دار ہیں۔ اس وقت پوری دنیا کے علم میں یہ بات آ چکی ہے کہ ممبئی حملہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کا اسٹنگ آپریشن تھا۔ بھارت کی جانب سے یہ ڈرامہ پاکستان کو دباؤ میں لینے اور بعض اندرونی مقاصد کے تحت چند قوانین پاس کروانے کے لیے رچایا گیا تھا۔ اس کی تصدیق خود بھارتی اور عالمی محقیقین کے لکھے گئے تحقیقی مقالوں سے کی جا سکتی ہے۔ اس کے باوجود پاکستان نے ان حملوں کی تحقیقات کے لیے بھرپور سرگرمی دکھائی مگر، انڈیا نے پاکستان کے پر زور مطالبے کے بعد بھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا جس کی بنیاد پر اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جاتا۔ اس کے علاوہ اس کیس کے واحد ملزم اجمل قصاب کو بھارت نے عجلت میں پھانسی دے کر کیس کے حل کی واحد امید بھی ختم کر دی۔

یہ بھی پڑھیں:   لڑائی کے بعد والے مکے یا اقدار کی سیاست - یاسر محمود آرائیں

میاں صاحب تین بار وزیراعظم رہ چکے ہیں اور وہ یقیناً ان حقائق سے لا علم نہیں ہوں گے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ پھر انہیں یہ بیان دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟عمران خان صاحب اس کے جواب میں دو وجوہات بیان کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یا تو میاں صاحب عالمی اسٹبلشمنٹ کو اپنی مدد پر مائل کرنے کے لیے یہ سب کر رہے ہیں یا پھر ان کی جانب سے یہ اسٹروک ملکی اداروں کو دباؤ میں لینے کی خاطر کھیلا گیا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ سیاست کی وادی میں چار دہائیاں گزارنے کے بعد بھی میاں صاحب یہ اندازہ لگانے میں ناکام ہوں گے کہ اب عالمی اسٹبلشمنٹ(امریکا) اس پوزیشن میں نہیں کہ ان کو کسی قسم کا ریلیف دلا سکے۔ عمران خان کی دوسری بات زیادہ قرین قیاس ہو سکتی ہے۔ پھر بھی مگر سوچنا پڑے گا کہ کیا اس مقصد کے لیے نواز شریف کے پاس صرف یہی ایک آپشن باقی بچا تھا؟اداروں کو اگر دباؤ میں لینا ہی مقصود تھا تو اپنی حکومت کے خلاف ہونے والے دھرنوں کے پس پردہ محرکات اور اسپانسرز کے نام قوم کے سامنے رکھے جا سکتے تھے۔ یہ سوال اٹھایا جا سکتا تھا آخر وہ کون سی قوت ہے اور اس کے پیش نظر کیا مقاصد ہیں جس کے تحت ہر چند ماہ بعد کسی مسلح جتھے کو وفاقی دارلحکومت پر قبضہ دیا جاتا ہے۔

نواز شریف نے اپنے تئیں اداروں کو دباؤ میں لینے کے لیے جو ماسٹر اسٹروک کھیلا ہے وہ باؤنڈری لائن پر کیچ ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ انہیں سوچنا چاہیے تھا کہ ان کا ووٹ بنک پنجاب میں موجود ہے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے تمام لوگ بھارت کے بارے میں سخت سوچ رکھتے ہیں۔ سو اس کو مدنظر رکھتے ایسے تمام الیکٹیبلز جو باد مخالف کے باوجود محض لوٹا ہونے کی چھاپ سے بچنے کے لیے اب تک مسلم لیگ کے عرشے سے چمٹے تھے، وہ اب حب الوطنی کی ڈور کا سہارا ملتے ہی اس ڈوبتی ناؤ کو چھوڑتے دیر نہیں لگائیں گے۔ لیکن یاد رکھیں کہ نواز شریف پر اس سے قبل چوری، کرپشن، مذہب دشمنی اور قادیانیت نوازی کے الزام بھی لگتے رہے ہیں۔ کسی طور اگر وہ غداری کے آخری الزام سے بھی بچ نکلے، اور ان کا یہ کیچ بھی ڈراپ ہو گیا تو پھر وہ ایسی عصبیت حاصل کر جائیں گے، جس کا مقابلہ کسی بھی زمینی اور خلائی مخلوق کے بس سے باہر ہوگا۔