پٹاخے یا قاتل - محمد اسمٰعیل بدایونی

"پلیز! یہ پٹاخے اس بچے کو نہ دلاؤ۔" اس نے میرے بچے کے ہاتھ سے پٹاخے چھین کر پھینک دیے۔ ایک عجیب کیفیت طاری تھی اس عورت پر، میں بہت حیرت سے اس عورت کو دیکھ رہی تھ۔ لباس اور گفتگو سے وہ بہت پڑھی لکھی معلوم ہوتی تھی۔

میں نے اس کو تسلی دی اور پوچھا "آخر کیوں؟ کیا ہو گیا؟"

پھر اس نے قریب میں موجود ایک ریسٹورینٹ میں مجھے بیٹھنے کی دعوت دی جو میں نے قبول کر لی۔

"وہ زندگی کی سب خوفناک رات تھی میرے اور میرے اہل خانہ کے لیے، وہ رات ہم سے کیا کچھ چھین کے لے گئی میں بتا نہیں سکتی۔" وہ میرے سامنے بیٹھی تو اس کی پلکوں نے آنسوؤں کےموتی چننا شروع کر دیے۔

"پانی پیو" میں نےپانی کا گلاس اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا۔

"میں اپنے گھر میں بہت خوش وخرم زندگی گزار رہی تھی۔ کون سی شے تھی جو میری دسترس میں نہیں تھی۔ ایک بیٹا، ایک بیٹی، محبت کرنے والا شوہر، پیسوں کی فروانی، کیا چیز تھی جو میرے پاس نہیں تھی؟ ایسی ہی ایک شب تھی وہ شب، جب بچے شوق سے پھلجڑی جلا رہے تھے، چھوٹے چھوٹے بم پھاڑرہے تھے، میرے بچے بھی دوسرے بچوں کی طرح ضد کرنے لگے کہ انہیں بھی پٹاخے دلائے جائیں۔ میرے شوہر خالصتا ًمذہبی آدمی تھے وہ اسے فضول خرچی سمجھتے تھے اور بھی بہت سی باتیں کرتے تھے لیکن میں ان کی تمام باتوں کو زیادہ اہمیت نہ دیتی۔ وہ مجھ سے کہتے ان پٹاخوں سے بڑے حادثات ہو جاتے ہیں یہ نہیں دلایا کرو۔ لیکن نہ جانے کیوں میں ان کی اس بات کو نظر انداز کر گئی اور بچوں کی ضد کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ شہروز نے جب مجھ سے پٹاخوں کی ضد کی تو میں منع نہ کر سکی اور اس کو پٹاخوں کے لیے پیسے دے دیے۔

"ادھر میں کسی کام میں مصروف تھی اور وہ دونوں بہن بھائی معلوم نہیں کب پٹاخے پھوڑنے کے لیے پیچھے گیلری میں چلے
گئے، جہاں جنریٹر رکھا ہوا تھا اور ساتھ ہی پیٹرول کا بھرا ہوا کین بھی۔ وہاں جا کر انہوں نے پٹاخے جلائے اور اسی وقت ایک زور دار دھماکے کی آواز آئی۔ میں نے اندازہ لگایا کہ یہ دھماکہ نیچے گیلری میں ہو اہے جیسے ہی میں گیلری میں پہنچی اپنے دونوں بچوں کو میں نے خون اور شعلوں کے درمیان پایا۔ میں دیوانہ وار ان کی اس آگ کو بجھانے لگی۔ میرے شوہر بھی فوراً آگئے۔ جلدی جلدی دونوں بچوں کو ہسپتال پہنچایا لیکن افسوس میری گود اجڑ چکی تھی اور میری دنیا ویران ہو گئی۔" وہ عورت ایک مرتبہ پھر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ "میں نے اپنے بچوں کو خود پیسے دیے تھے جاؤ اور اپنی موت خرید لاؤ ان پیسوں سے اور میرے بھولے بھالے ناسمجھ بچے اپنی ماں سے پیسے لے کر اپنی موت خرید لائے۔

"پلیز! اللہ کا واسطہ اپنے بچوں کو ان شعلوں کے کھیل تماشے سے دور رکھو، پلیز!" اس عورت نے میرے سامنے ہاتھ جوڑ دیے

میں نے اسے سینے سے لگا کر تسلی دی اور کہا کہ میں تم سے وعدہ کرتی ہوں کہ نہ صرف اپنے بچوں کو بلکہ خاندان اور محلے کے بچوں کو بھی اس خونی شعلوں کے قریب نہیں جانے دوں گی۔ میں عہد کرکے اٹھی تو اس کی آنکھوں میں تشکر کی مسکراہٹ تھی۔

آئیے ہم اور آپ بھی ان شعلوں کے خلاف اپنا حصہ ڈالیں تاکہ پھر کوئی اور کمسن شہروز اور اس کی کمسن بہن ان شعلوں کی بھینٹ نہ چڑھے۔ نہ اپنے بچوں کو پٹاخوں کے لیے پیسے دیجیے نہ ان کی اس کام میں حوصلہ افزائی کیجیے۔ ایسی ہر رسم کی حوصلہ شکنی کیجیے زبان سے بھی اور ہاتھ سے بھی ایسا کوئی کاروبار اپنے علاقے میں ہوتا دیکھیں تو ایسے شخص کو پیار محبت سے سمجھائیں کہ یہ کیا کررہے ہو اور نہ مانے تو پولیس کے حوالے کر دیں۔ شب برأت سے پہلے اس پیغام کو عام کرنے کی بہت ضرورت ہے۔