واجب الوجود اور وحدت الوجود - محمد دین جوہر

جس روایتِ علم میں واجب الوجود کی بحث نہ صرف ختم ہو گئی ہو بلکہ اس کا سراغ بھی باقی نہ رہا ہو، اُس میں وحدت الوجود کی گفتگو دیومالائی توہم پرستی سے زیادہ کچھ ہو نہیں سکتی۔ ہماری روایت میں وحدت الوجود کے تصورات واجب الوجود کی بحث کے پس منظر میں بامعنی تھے۔ ہمارے عقلی اور عرفانی تناظر کی اہمیت بیک وقت اور ایک دوسرے سے مشروط تھی۔ واجب الوجود عقل اور تعقلات کا موضوع تھا، اور وحدت الوجود عرفانی تعمقاتِ خیال کا جائز اظہار۔ واجب الوجود ایک پوری عقلی، اور وحدت الوجود ایک پوری عرفانی تشکیل ہے، اور دونوں کا موضوع مشترک لیکن منہج مختلف ہے۔ دونوں کا مقصود ایک ہی تھا کہ ماورائے تہذیب سے در آنے والی نظری اور عرفانی تشکیلات کو شریعت کی حقانیت اور اوّلیت پر اثرانداز نہ ہونے دیا جائے، اور ایمانی شعور کے اگواڑے اور پچھواڑے میں کوئی ایسی ”جگہ“ خالی نہ رہنے پائے جہاں بنیادِ ایمان کو کھودنے والی فکر آ کر بسیرا کر سکے۔ یہ مباحث ضرورت سے پیدا ہوئے تھے اور گہری بصیرت اور اعلیٰ ترین صلاحیت سے نبھائے گئے تھے، اور ان میں بنیادی نکتہ یہ تھا کہ عقلِ فعال کے بغیر کوئی نظری اور عرفانی روایت نہ وجود میں آ سکتی ہے، اور نہ ہدایت کے منقول قضایا کو علی حالہٖ باقی رکھا جا سکتا ہے۔ اب ہم زبانِ حال سے یہ ارشاد فرما رہے ہیں کہ ہماری عقل کا تو خاتمہ ہو گیا ہے، لیکن عرفان کی ترقی بدستور ہے۔ یا للعجب! ہمارا آج کا ”عرفان“ ہماری عقلِ مردہ کا حنوط ہے۔

واجب الوجود اور وحدت الوجود کے مباحث ہماری پوری علمی اور دینی روایت کے بنیادی اجزائے ترکیبی رہے ہیں، اور آج بھی روایت کی معتبر اور مستند تفہیم ان کے بغیر ممکن نہیں۔ نئے عہد کے تاریخی حالات میں، جدید عقل اور علم نے وجود سے مظہرِ وجود کی طرف مراجعت کر کے ہمارا کیا کرایا سب صاف کر دیا۔ نہ صرف جدید عقل کا خود اپنا ادراک، اس کے موضوعات اور اسلوبِ کار بدل گیا بلکہ اس کا اکھاڑہ بھی ہمارے لیے ابھی تک ”نامعلوم جگہ“ پر منتقل ہو گیا ہے۔

ہماری علمی اور تہذیبی روایت میں غیرمعمولی اہمیت، افادیت اور مرکزیت کے باوصف، واجب الوجود اور وحدت الوجود کے روایتی مباحث ہمارے موجودہ ایمانی، شرعی، علمی اور تاریخی حالات سے بڑی حد تک غیرمتعلق ہو چکے ہیں۔ ان دونوں مباحث سے آگہی روایت سے زندہ تفہیماتی تعلق کے لیے تو یقیناً ضروری ہے، لیکن آج کی تبدیل شدہ تہذیبی صورت حال میں یہ دونوں نظام ہائے افکار ہمیں کوئی ایمانی اور علمی فائدہ نہیں دے سکتے۔ اس عدم فائدے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان مباحث میں اب ہر طرح کی فعال عقلیت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ دوسری وجہ ان مباحث کا آج کے انسانی شعور کے کسی بھی زندہ مسئلے سے براہ راست متعلق نہ ہونا ہے۔ وحدت الوجود کا موضوع کچھ نہ کچھ باقی ہے، اور اس پر کوئی نیم جاں گفتگو بھی چلتی رہتی ہے، لیکن واجب الوجود کی بحث مطلقاً ختم ہو چکی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ جدید عقل کی سمتِ فعلیت میں، اور جدید علم کے موضوعات میں تبدیلی اتنی مکمل تھی کہ واجب الوجود پر گفتگو کی تربیت اور استدلالی وسائل رکھنے والی عقل نئے موضوعات کے سامنے مبہوت ہو گئی، اور اسی سکتے میں دم توڑ گئی۔ عجیب بات ہے کہ ہاتھی سے لڑنے والے بڑمکھی کے ہاتھوں مارے گئے۔

جدید تہذیب کے ظہور اور عالمگیر غلبے سے انسانی حالات میں ایک ریڈیکل تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔ جدیدیت سے قبل، تبدیلی کی نوعیت بالعموم تاریخی تھی۔ یعنی زمین اور آسمان کے درمیان آباد معاشرہ اور جاری تاریخ بدلتی تھی۔ جدیدیت کے ساتھ زمین اور آسمان بھی بدل گئے اور تاریخی تبدیلی کو پہیے لگ گئے۔ یعنی تاریخ کے ساتھ، جسمی نیچر میں بھی تبدیلی آئی اور انسان کے مادی اور حیاتیاتی حالات بھی یکسر بدل گئے۔ تاریخ اور نیچر میں بیک وقت تبدیلی اصلاً احوالِ ہستی کی تبدیلی ہے۔ ہم اس تبدیلی کے فکری ادراک اور علمی معنویت سے یکسر غافل رہے ہیں اور بدستور ہیں۔ یہ تبدیلی (change) کم ہے اور تحول (transformation) زیادہ ہے، کیونکہ تبدیلی میں اصل شے کے کچھ نہ کچھ خدوخال باقی رہتے ہیں، جبکہ تحول ایک شے کا اپنی ہیئت کو ختم کر کے دوسری ہیئت اختیار کر لینا ہے۔ اسی اثنائے تحول میں جدید دنیا نے اپنے تمام فکری تصورات اور ادارے الوہی ہدایت سے مکمل اغماض یا انکار پر تشکیل دیے ہیں۔

یہاں ایک جملہ معترضہ کی اجازت چاہتا ہوں کہ واجب الوجود کے مبحث میں شامل عقل اور اس کا طریقۂ کار تھوڑے بہت فرق کے ساتھ وہی ہے جو جدید علوم میں عقلِ فعال کا ہے، لیکن موضوعات کا فرق بہت بڑا ہے۔ دونوں کا شجرہ نسب یونانی عقلیات سے جا ملتا ہے۔ عرفان کا مبحث بھی یونانی پس منظر کے بغیر قابل فہم نہیں۔ یونانی تہذیب میں عقل کے دو متوازی امکان ظاہر ہوئے۔ ایک یہ کہ عقل کو ”ایمان بالغیب“ کی ضرورت ہے، جیسا کہ افلاطون کے نظریۂ امثال سے ظاہر ہے۔ دوسرا یہ کہ عقل کو سیر آفاق کافی ہے، جیسا کہ ارسطو کی تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے۔ عرفانی علوم میں افلاطون اور عقلی علوم میں ارسطو کی حکمت سے آج بھی اغماض نہیں کیا جا سکتا۔ اس پس منظر میں یہ فرض کرنا ممکن نہیں کہ عقلِ انسانی ایمان دشمن ہے، اور نہ یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ یہ ایمان دوست ہے۔ اس میں دونوں امکان مساوی شرائط پر موجود ہیں۔

واجب الوجود اور وحدت الوجود کے مباحث کی ہمارے ایمانی شعور، موجودہ علوم اور تاریخی حالات سے غیرمتعلق ہو جانے کی وجہ ہمارے ہاں عقلیت کا ہر معنی میں خاتمہ اور جعلی علوم کا غلبہ ہے۔ عقلیت روایتِ علم اور ہم عصر دنیا سے زندہ تعلق کی شرط اول ہے۔ یہ عقلیت کے خاتمے ہی کا نتیجہ ہے کہ ہم مذہبی متون کو ”سائنس“ سمجھ کر پڑھنا چاہتے ہیں، اور سائنسی علوم حاضرہ کو ”وحی“ کی طرح اپنانا چاہتے ہیں۔ ہمارا یہ رویہ ایک ”خبر“ سے بنا ہے جسے اب ایک تہذیبی اصول کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے کہ مغرب نے اپنے علم، معاشرتی تنظیم اور ترقی یافتہ نظام کے اصول قرآن مجید سے ہی اخذ کیے ہیں۔ ہماری پوری تاریخ کا شاید یہ پہلا اور آخری علمی اصول ہے جو ہمارے ہاں ان پڑھ مزدور کو بھی معلوم ہے، مذہبی عالم بھی یہی بتاتا ہے، اور یونی ورسٹی پروفیسر کی کل متاع بھی یہی ہے۔ بلکہ اس اصول کے بعد عالم اور جاہل کا فرق ہی ختم ہو گیا ہے کیونکہ علم کا ارادی خاتمہ اس اصول کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ یہ اصول ہماری موجودہ تہذیب کی اساس اور ہمارے ذہن کا کلبوت ہے۔ قرآن مجید حق اور ہدایت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اہل مغرب نے قرآن مجید سے ایمان اخذ کیا ہے؟ یہ بات درست نہیں ہو سکتی کیونکہ ان معاشروں میں لوگوں کی اکثریت عیسائی، نیم عیسائی، سیکولر، نیم سیکولر، ملحد یا لاادری ہے۔ تو کیا مغرب نے ترقی کا عمل قرآن مجید سے اخذ کیا ہے؟ لیکن ترقی کا یہ عمل داخلی طور پر سرمایہ داری نظام ہے جو سود پر مبنی ہے، اور ریاست کا سیاسی نظام ہے جس نے خدا کی جگہ لی ہے۔ مغرب سے باہر یہ ترقی یافتہ عمل صدیوں کا استعمار ہے، اور باقی دنیا کی طرح مسلم دنیا کی غلامی اور تاراج ہے۔ اس میں دوسرا موقف یہ ہے کہ مغرب نے قرآن مجید سے اصول اخذ کر کے جو انسان تشکیل دیا ہے، وہ ہم سے بہتر ”مسلمان“ ہے، اور صرف کلمے کی ”کسر“ رہ گئی ہے۔ ان دو اصولوں پر ہدایت کا یہی مصرف رہ جاتا ہے کہ اسے ان تمام علوم کے جواز کے لیے برتا جائے جن کے بنیادی قضایا اس کی عین ضد ہیں۔ اب ہمارے ہاں شریعت اور قرآنی علوم کا منتہا یہ ہے کہ ان سے مغرب کے تمام علوم اور اجتماعی اداروں کو نہ صرف جواز بخشا جائے بلکہ انہیں عینِ دین ثابت کیا جائے۔ ہمارے ہی ہاتھوں ہدایت سے یہ سلوک ممکن نہیں تھا اگر عقلی اور عرفانی علوم کسی پست ترین درجے ہی میں باقی ہوتے۔ علوم کا مطلب فعال عقل کا باقی ہونا ہے اور عقلِ فعال میں آدمی ایسی ہفوات کو قبول نہیں کر سکتا۔ ہم نے ارادتاً ایک ایسی مذہبی ذہنیت کو فروغ دیا ہے جو ہدایت کے معاون علم اور عرفان کو کفر ثابت کر دے اور انکاری علوم کو عینِ دین ثابت کرے۔ یہ ہماری تہذیب کی موت کا آخری مرحلہ ہے اور ہم خود اس کے عینی شاہد ہیں۔

گزارش ہے کہ واجب الوجود کے تحت عقلی مباحث اور علوم کا انتہائی نکتہ یہ تھا کہ عقل اپنی ہی طے کردہ استدلالی شرائط پر وجود کی بحث کو فیصل کر کے کسی حتمی موقف پر نہیں پہنچ سکتی، اور نہ ظاہر وجود کی شرائط ہستی کا کوئی ایسا ثقہ (valid) علم رکھتی ہے جس سے اس کا قائم بالذات اور خود مکتفی ہونا ثابت ہو سکے۔ ظاہر وجود کا قائم بالغیر ہونا عقل کے تجربے اور علم دونوں میں ہے، اور اسی کا عنوان واجب الوجود ہے۔ عقل سے غیب کا کوئی مقدمہ نہ ثابت ہوتا ہے اور نہ رد۔ واجب الوجود اصلاً عقل کی ایسی تحدیدات قائم کرنے کی بحث ہے جو خود عقل کے لیے بھی قابل قبول ہوں، تاکہ وحی پر اس کی جارحانہ پیش رفت کو روکا جا سکے۔ واجب الوجود کی بحث کا ایسا کوئی مقصد نہیں ہے کہ ایمانی قضایا کو عقل کے ذریعے سے ثابت کیا جا سکے۔ واجب الوجود کی بحث وحی کی عقلی تشکیل کا مکمل رد ہے اور ایک طرح کی دفاعی اور سلبی کاوش ہے، جس نے وجود باری اور وحی کی حقانیت کے ایجابی امکان کو کھلا رکھا ہے۔ واجب الوجود کی عقلی روایت میں جو بنیادی نقطہ طے پایا وہ عقل اور وحی کا باہمی تعلق ہے، جس میں عقل کے وحی پر حکم ہونے کا موقف بالکل رد ہو گیا۔

وحدت الوجود میں تشکیلِ عرفان کا مقصد بھی خالص دینی اور ایمانی تھا۔ عقیدۂ توحید کی مرکزیت اور اہمیت واضح ہے۔ عقیدۂ توحید، باری تعالیٰ کا تعارف اور خالق و مخلوق کے تعلق کا بیان ہے۔ لیکن عقیدۂ توحید کا بیان اور خالق و مخلوق کا باہمی تاریخ کے پیدا کردہ فکری مؤثرات کی زد میں ہوتا ہے۔ ان اثرات سے دو مسائل پیدا ہوتے ہیں: ایک حلول اور دوسرے سریان۔ یہ دونوں موقف وجودِ باری کے عقیدے سے تنزیہہ مطلق کا خاتمہ کر دیتے ہیں، اور جس کے بغیر عقیدۂ توحید کا کوئی معنی نہیں ہے۔ وحدت الوجود نے مخلوق کی حقیقت کا درجاتی اور اعتباری اثبات کرتے ہوئے تنزیہہ مطلق کے تصور کو انتہائی محکم بنیادوں پر باقی رکھا ہے۔ عصر حاضر میں مسلمانوں کے عقیدۂ توحید کو ایک بالکل ہی نئی قسم کا خطرہ لاحق ہوا جو شہودیت/اثباتیت (positivism) ہے، اور جو وہابیت کی صورت میں سامنے آیا۔ اسی شہودیت/اثباتیت کی وجہ سے وہابیت اور داعشی وہابیت مغرب پرست اور مسلم دشمن ہے، اور وحدت الوجود کو کفر سمجھتی ہے۔ وحدت الوجود کے خلاف جو ”عوام اور خواص کی توحید“ میں فرق کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے، وہ بھی بالکل لغو ہے اور جہالت پر مبنی ہے۔ اس کا اصل مطلب عقیدۂ توحید میں تنزیہہ مطلق کو ہر حال میں باقی رکھنا ہے۔ وحدت الوجود نے ذات باری اور کون کے تعلق کو عرفانی تناظر میں مفصل کیا ہے اور تنزیہہ مطلق کی شرائط پر حل کیا ہے۔

عصر جدید کے مغربی اور عالمی انسان کا اولین ادراک یہ ہے کہ غیب و شہود دونوں اس کی وجودی تکمیل میں رکاوٹ ہیں۔ اس کا نتیجہ غیب کا ایمانی انکار ہے، اور شہود کا فطری انکار۔ یعنی جدید انسان صرف غیب ہی کا منکر نہیں ہے بلکہ وہ ارضی شہود ’جیسے وہ ہے‘ کا بھی قطعی منکر اور اس کے خلاف جنگ آزما ہے۔ غیب سے انکار نے نیا انسان تخلیق کیا ہے اور ارضی شہود علی حالہٖ سے انکار اور بغاوت نے نئی دنیا تخلیق کی ہے۔ مغربی تہذیب اصلاً انسان کی وجودی بغاوت کی حیرت انگیز تشکیل ہے۔ جدید انسان کو اب ان سوالات میں کوئی دلچسپی نہیں رہی کہ وہ کون ہے؟ کدھر سے آیا ہے؟ کیوں آیا ہے؟ کہاں جائے گا وغیرہ؟ ایٹمی بھاڑ جھونکنی ہو تو ایسے سوال باقی نہیں رہتے۔ جدید انسان کو اب صرف اس امر میں دلچسپی ہے کہ تاریخ کی کلائی مروڑنے کے لیے اس کے پاس بے انتہا طاقت ہونی چاہیے، اور نیچر کا بھرکس شیک بنانے کے لیے اس کے پاس علم کا گرائنڈر ہونا چاہیے۔ طاقت اور علم کا مقصود سرمایہ ہے، جو انسان کی راحتِ ارضی کا واحد ذریعہ مانا گیا ہے۔

واجب الوجود اور وحدت الوجود کے مباحث نہ صرف عالمگیر انسانیت بلکہ مسلمانوں کے موجودہ تاریخی اور نیچری حالات سے غیرمتعلق ہیں۔ یہ علوم جن اقدار کا نطق ہیں، آج انہی کی طرح خاموش اور اجنبی ہیں۔ عقل جدید نے جن چیزوں کو اپنا موضوع بنایا ہے ان کا تعلق آفاق سے ہے، یعنی میکانکی اور حیاتیاتی فطرت اور تاریخ۔ جدید انسان نے فطرت اور تاریخ کے تمام مظاہر کو نئی نظری تشکیلات میں دیکھا، ان کی یکسر نئی تعبیر کی، اور اس تعبیر پر نئے علوم کو کھڑا کر کے ایک نئی دنیا کی تخلیق کی ہے۔ یہ صرف سائنسی علم کا مسئلہ نہیں ہے، پورے علم کا ہے۔ اور صرف علم ہی کا نہیں ہے بلکہ انفرادی اور اجتماعی عمل کا بھی ہے۔ مغربی علم جن موضوعات پر عقلی فعلیت پیدا ہوا ہے وہ کبھی بھی ہمارا موضوع نہیں رہے، بلکہ ہم ان سے ابھی تک ناواقف ہیں۔ ہم چیزوں کو دم سے پکڑنے کے عادی ہو گئے ہیں اس لیے سینگوں سے نجات نہیں مل رہی۔

ہماری فوری ضرورت اب مغربی علوم ”حاصل“ کرنا نہیں ہے، بلکہ علم پیدا کرنا ہے۔ اس کی ایک ہی صورت ہے کہ ہم متداول علوم کے مباحث میں، انہی علوم کی نظری اور استدلالی شرائط پر شریک ہوں جو اس وقت اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہی اقداری شرائط پر شریک ہوں۔ علوم، اقدار کا نطق ہیں۔ اور اقدار سے نطق کی طرف اور نطق سے اقدار کی طرف علمی حرکت ممکن ہے۔ علم کا یہی سلیقہ ہے اور اس سلیقے کو اپنائے بغیر علم کا کوئی خواب پورا نہیں ہوتا۔

میری رائے میں ہمارے معاشروں پر جو علوم طاقت اور سرمایہ بن کر غالب ہوئے ہیں، وہ سیاسی اور معاشی نوعیت کے ہیں۔ ان کی حیثیت اول ہے کیونکہ مغرب کا پورا تہذیبی تناظر بھی انہی سے تشکیل پایا ہے۔ ہمیں بھی انہی کو موضوع بنانا چاہیے۔ جو علوم ہمارے ایمانی احوال پر اثرانداز ہوئے ہیں اور جو مغرب کے معاشی اور سیاسی نظام کے عقب میں قوت محرکہ کا کام کرتے ہیں، وہ سائنسی علوم ہیں۔ اول الذکر علوم معاشروں، معاشی اداروں اور ریاست اور ریاستی اداروں کی تشکیل کے لیے ضروری ہیں۔ جبکہ سائنسی علوم فطرت اور تاریخ کے وسائل پر غلبے کے ضروری ہیں۔ مستحکم معاشرے کی تشکیل اول ہے اور جامعہ اور لیبارٹری کی تشکیل اسی پر منحصر ہے۔ ناچیز کی رائے میں نئے علوم کی تشکیل میں ذیل کی ترتیب کو ملحوظ رکھنا مفید ہو سکتا ہے:

(۱) سیاسی علوم، جو مسلم معاشرے میں سیاسی طاقت کی وجودیات، اس کے مقاصد، وسائل اور ذرائع کی تصریح اور وضاحت کر سکیں۔ جدید سیاسی علوم مغرب کی جس بنیادی تہذیبی قدر کا نطق ہیں وہ انسان کی sovereignty ہے، جس پر کوئی سوال بھی نہیں اٹھایا جا سکتا۔ ریاست سے ووٹ تک اسی ایک پیکج کا اظہار ہے۔ ہم نے ابھی تک ساورنٹی کا انکار ہی کیا ہے، رد نہیں کر سکے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہم اپنے تمام ”سیاسی علوم“ کو جعلسازی کا شاہکار بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔ سلبی اقدار پر تہذیبیں قائم نہیں ہوتیں اور نہ جعلی علوم سے معاشرے چلتے ہیں۔

(۲) معاشی علوم، جو مسلم معاشرے میں عدل کا کوئی تصور سامنے لا سکیں۔ جدید معاشی علوم کی بنیادی اقدار سود اور محنت کا استحصال ہے۔ یہاں کھلواڑ ناگفتہ بہ ہے۔ ہمیں یہ امر علوم میں لانے کی ضرورت ہے کہ ہماری بنیادی معاشی قدر کیا ہے، اور جدید عہد میں محنت کا تصور کیا ہے؟ ہم نے مبہم مذہبی تصورات کو سرمایہ داری کی جوازسازی کے لیے نہایت جسارت سے بھرتی کیا ہے۔ دنیا کے محکوم معاشروں اور پوری ملت کا تاراج بھی ہم میں کوئی علمی حرکت پیدا نہیں کرتا۔

(۳) سائنسی علوم، جو اپنے منشائی مفروضات (originary hypothesis) کی بجائے ہماری دینی اقدار سے ہم آہنگ ہوں۔ منشائی مفروضات سائنسی علوم کی وجودیات ہے۔ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ایسی سائنس کا کوئی فکری امکان ہے جو ہماری ایمانی وجودیات اور شہودی فطرت سے ہم آہنگ ہو؟

واللہ اعلم بالصواب