مسالہ کے لیے مسالہ استعمال کریں- ڈاکٹر اعجاز علی

سارے براد روطن ہمارے دشمن نہیں ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ زیادہ تر پچھڑے و دلت تو ہمارے خونی بھائی ہیں۔ منووادی نظام کے پیروکار برہمن اور ان کے دو حمایتی طبقات ہی دراصل اسلام کے دشمن ہیں کیونکہ اسلام بنیادی طور پر مساوات میںیقین رکھتا ہے اور بھید بھاؤاونچ نیچ کو سرے سے خارج کرتا ہے۔

یہ ہی وہ مذہب واحد ہے جو ذات بات اور چھواچھوت کے نظام کو قطعی پسند نہیں کرتا ہے۔ ساتھ ہی ہاتھ جوڑنے اور پاؤں چھونے کی بھی اجازت نہیں دیتا کیونکہ یہ بھید بھاؤ اونچ نیچ و چھوا چھوت کی علامت ہے جبکہ منو وادی نظام میں تو ذات پات، چھوا چھوت، بھید بھاؤ، اونچ نیچ، ہاتھ جوڑو پیر چھُونا جیسے طریقوں کودل و جان سے پسند کیا جاتا ہے۔ اس پسند کی وجہ بھی صاف ہے کہ اس نظام میں بنیادی طورپر برہمن کو مالک اور مول واسیوں ( پچھڑوں اور دلتوں کو) کو غلام بناکر رکھنا ہے ۔ ہندوستانی مسلم سماج دراصل انہیں مول واسیوں کی وہ آبادی ہے جن کے آباو اجداد نے اسلام قبول کر برہمزم کے چنگل سے آزادی پائی اور ہر قسم کی غیر برابری سے فری ہو گئے۔

تبدیلئ مذہب کے اچھے اثرکو دیکھ کرہمارے باقی بھائی بھی کہیں برہمنزم کے چنگل سے آزادی کی طرف رخ نہ کر لیں اسی وجہ کر یہ اسلام مخالف ہیں اور مسلمانوں کے دشمن ۔ لہٰذا اس کی ہمیشہ یہ حکمت رہی ہے کہ پچھڑے و دلتوں کو اپنے میں سٹائے رکھنے کے لئے اسلام اور مسلمان کو نشانہ بناتے رہنا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا ہے کہ یہ قوم قتل وغارت گری میں یقین رکھنے والی ہے و اسلام مار پیٹ والا مذہب ہے۔ اس سے بچ کر رہو۔اس کا م کے لئے وہ خود سامنے نہیں آتے بلکہ شروع سے ہمارے خونی بھائی کو ہی ہم سے لڑا دینے کا کام کرتے ہیں جبکہ پچھڑے و دلت ہمارے پڑوس میں رہتے ہیں اور لڑنا نہیں چاہیے ۔

انسانیت کا پیروکا رمذہب اسلام کو بد نام کرنے کے لئے حکمت کے تحت ایسے خود ساختہ مسئلے کو اُٹھاتے ہیں تاکہ مسلمان جذبات میں کھڑے کر دیئے جائیں اور پھر قتل و غارتگری شروع ہوجائے ۔

اس طرح اسلام ومسلمان مخالف مہم و ہ شروع سے جاری رکھے ہوئے ہیں جسے ہمارے سربراہوں نے عقلمندی سے ڈیل نہیں کیا بلکہ اُلٹے ان ایشوز پر مسلمانوں کو صرف جذباتی بناکر اپنا مفاد سادھنے کا کام کیا۔ مسجد پرسنل لاء ، گؤ کشی اور370جیسے جذباتی مدووں کو چھیڑ کر دراصل یہ ملک کا ماحول اس طرح کا بنا کر رکھتے ہیں تاکہ یہ ان پڑھ، غریب برادر وطن ( پچھڑے و دلت ہندو) مسلمانوں اور ان کے ماحول سے دور رہیں اور برہمنوں کے غلام بن کر غیر انسانی زندگی گذارتے رہیں لیکن انہیں کے ساتھ جڑے رہیں تاکہ جمہوری نظام میں بھی وہ اقتدار پر قابض رہیں۔ ایودھیا، یونیفارم سول کوڈ، گؤ کشی یہ سب دراصل مسئلہ نہیں بلکہ سنگھ پریوار کا مسالہ رہا ہے جس کے آڑ میں پچھڑے ودلتو ں اور برہمنوں کی قطب بندی کر اب یہ بڑی سیاسی طاقت بن کر سامنے آگئے ہیں۔

ایودھیا میں مسجد کی جگہ پر مندربنا نا، یا یونیفارم سول کوڈ قائم کرنا،گؤ کشی پر روک لگانا،370کو ہٹانا یہ کبھی ان کے خواب وخیال میں بھی نہیں رہا ہوگا۔ ان مسالوں کو تو وہ صرف اقتدار میں آنے کا ذریعہ بنائے تھے تاکہ مسلمانوں سے پچھڑوں و دلتوں کے بیچ دوری بنی رہے او ہندو ازم کے نام پر ان کا دبدبہ غیر مساوی بھارتیہ سماج پر بنا رہے۔ہمارے سربراہوں سے یہ غلطیاں ہوتی رہی کہ وہ ان کی چالوں کو نہیں سمجھ سکے اور ان کے مسالوں کی اندیکھی کرنے کے بجائے مزید نمک مرچ لگاکر مسلمانوں کے سامنے اس طرح پیش کیا کہ قوم نے انہیں اپنا سب سے بڑا مسئلہ سمجھ لیا اور سب کچھ داؤوں پر لگانے کو تیار ہوگئے۔

اس طرح جیسے برہمنوں نے ا ن مسالوں کے آڑ میں اپنی قوم کو مرغابنالیا ہے ویسے ہی مسلم سربراہوں نے بھی اس قوم کو انہیں مسالوں پر مرغا بنا لیا ہے اور موقع بموقع دونوں’’ مرغوں کو لڑاکر اپنا سیاسی مفاد پورا کرتے چلے آرہے ہیں۔ سازش کے تحت جاری ا ن مرغوں کی لڑائی میں سنگھی طاقتیں کتنی مضبوط ہوگئیں اور مسلم قوم کتنی حا شیئے پر پہنچ گئی یہ آج ہمارے سامنے ہے لیکن برہمن اور مسلم سربراہ ابھی بھی مسالوں اور مسئلوں کے آڑ میں مرغوں کو لڑانا نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ اب تو شک ہونے لگا ہے کہ ملک و ملت کو تہس نہس کر دینے کی میچ فکسنگ تو ان دونوں کے بیچ نہیں ہوگئی ہے ۔

لہٰذا ملک و ملت کے مفاد اب ان روایتی سربراہوں سے دامن بچاتے ہوئے عام مسلمانوں کو کھڑا ہونا ہوگا اور نئی سربراہی پیدا کرنی ہوگی۔ اب ہمیں جذباتی مددوں پر طیش دکھانے کے بجائے اپنے کانوں میں اس طرح تیل ڈال لینی ہوگی مانو سُناہی نہیں۔ لیکن سونا بھی نہیں ہے بلکہ ایسے موقعوں پر بھوک مری،بے روزگاری اور بھرشٹاچار کے مسئلہ کو طول دینے کی مہم چلانا چاہئے۔

اپنے مسائل کو دباکر دلتوں کے مسائل پر زور دینا چاہئے کہ آج بھی وہ طبقاتی کشمکش کے شکار کیوں ہور ہے ہیں، ان کو ریزرویشن میں پرموشن کیوں نہیں دیا جاتا ہے۔ اُسی طرح پچھڑے طبقات کو عدلیہ، پرائیویٹ سیکٹر اور سرکاری فنڈوں میں حصے داری کیوں نہیں ملتی ہے۔ملک میں بے تحاشہ پھیلی ہوئی مافیا گیری کیسے ختم ہوگی۔

مہنگائی، محرومیت اور مافیا گیری(3M) وہ مسئلے ہیں جن کا حل فی الحال تو فوراً ممکن نہیں ہے لیکن یہ وہ مسالے ثابت ہونگے جو برہمنوادی قلعے کی چول ہلاکر رکھ دینگے۔ ملک کا اصل مسئلہ تو یہی ہے جسے سنگھ پریوار کسی بھی حالت میں حل نہیں کرنا چاہتے کیونکہ یہ ان کے خمیر میں نہیں ہے جبکہ ملک کی زیادہ ترآبادی انہیں مسائل کا مار قدم قدم پر جھیل رہی ہے۔ انہیں اصلی مسائل سے پچھڑے ودلتوں کے رُ خ کو پھیرنے کے لئے وہ کبھی بابری مسجد کی طرف ڈھیلا پھنکتے ہیں تو کبھی باڈر( ہند ۔ پاک) کی طرف دیکھتے ہیں اور ان سب سے کام نہیں چلتا ہے تو بیاہ( طلاق،شادی،نان و نفقہ) کی طرف اتر جاتے ہیں۔

ان کے پیدا کردہ ان B 3 مسالوں کا جواب ہمیں اسی میں الجھ کر نہیں دینا ہے ورنہ ہار جائیں گے جیسا کہ اب تک شاہ بانو اور بابری مسجد کے مسئلے پر ہو چکا ہے، بلکہ 3B مسالے کا جواب 3M مسالہ سے دیجئے تاکہ وہ اپنے مقصد میں ناکام بھی ہو جائیں اور ملک کے باشندوں کو 3Mکے مسئلے سے نجات بھی مل سکے۔شاہ بانو کیس اور بابری مسجد کے ایشوز پر اگرہم سڑک پر اُترنے کے بجائے عدلیہ کا سہارا لئے ہوتے تو شاید ان دونوں مسالوں کے آڑ میں ہماری وہ حالت نہیں ہوتی جو آج ہو چکی ہے، بلکہ اس کے بدلے مہنگائی ، بے روزگاری، غریبی، شراب بندی کے لئے بحث مُباحثہ ،جلسے جلوس اور دستخطی مہم چلانے کا کام کرتے تو ہمارے برادر وطن ( پچھڑے دلت) بھی ہمارے کاندھے سے کاندھا ملاکر چلے ہوتے اور برہمنزم کی طاقت کمزور رہتی۔

لیکن ہمارے سربراہان نے اپنی حرکتوں سے مسلم قوم کو ایسا جذباتی بناکر رکھ دیا ہے کہ وہ مذہبی ایشوز پر بغیر سوال جواب کئے ایک پیر پر کھڑے ہوتے ہیں، جس کا ناجائز فائدہ اٹھاکر یہ سربراہاں بھی اپنا مفاد حاصل کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس سلسلے پر بریک لگانے کے لئے ہمیں نئی نسل کے درمیان سربراہی کو جنم دینا ہوگا جو عام مسلمانوں کے درمیان جذباتی ایشوز پر رد عمل دکھانے کے بجائے بنیادی ایشوز پر کھڑا ہونے کی مہم چلائے اور برادران وطن کے کمزور و برہمن مخالف طبقات کو اپنے ساتھ جوڑکر چلنے کی حکمت لگائے۔

اس معاملے میں ایک بات غور کرنے کی ہے کہ عیسائیوں نے مذہبی معاملات میں ہمیشہ عدالت کا رُخ کیا کبھی وہ سڑک پر نہیں اترے جبکہ بی بی مریم اور عیسیٰؑ کے تعلق سے مخالفین کی فحش باتیں کئی بار دنیا بھر میں پھینکی گئیں۔سڑک پر اُترنے کے بدلے اس قوم نے بنیادی مسائل کے حل پر زیادہ زور دیا آج ان کا دبدبہ ساری دنیاپر ہے ۔

ہماری غلبہ پوری دنیا پر ہوتا اوران سے زیادہ ہوتا و انسانی سماج کے لئے زیادہ بہتر ہوتا اگر ہم بھی ان کے حکمت کو اپنا کر چلتے لیکن تب ہے کہ اپنی اس حکمت کے لئے عیسائیوں نے پہلے اپنے علماء حضرات کو عزت کے ساتھ مذہبی اداروں اور عبادت گاہوں میں Confinedکرانے کا کام کیا اور سماجی و سیاسی آندولنوں کے لئے دانشورو نوجوان گروہ کو سامنے لایا۔کیا ہمیں بھی اس حکمت کو نہیں اپنا نا چاہئے؟