کیا یہ انصاف ہے؟ - حبیب الرحمٰن

میدان حشر آخر کیوں لگے گا؟

اللہ جس کو چاہتا اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں پکڑا کر جنت کے دروازے کھول دیتا اور جس کو چاہتا اس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں تھما کے دوزخ میں دھکیل دیتا ہے۔

کیا اس کے فیصلے پر شک کی کوئی گنجائش نکالی جا سکتی تھی؟ کیا نعوذ بااللہ، ایسا کرنے پر اللہ کو قدرت حاصل نہیں تھی؟یہ سب کچھ اس کے اختیار میں تھا اور ہے، لیکن عدل اور انصاف کا ایک تقا ضہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جس پر فرد جرم عائد کی جائے اس کو اس بات پر مطمئن کر دیا جائے کہ اس کو جو کچھ بھی سزا دی جارہی ہے وہ اسی کے اعمال کا سبب ہے۔۔۔ اور۔۔۔ یہی کمال انصاف ہے۔

عدالت میں اس لیے مقدمات نہیں چلائے جاتے کہ ایک شریف آدمی سے بس یہ کہ دیا جائے کہ تو مجرم ہے، بلکہ مجرم پر یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ وہ واقعی مجرم ہے اور اب جو کچھ بھی اسے سزا دی جارہی ہے اس میں زیادتی کا کوئی شائبہ بھی نہیں۔

عدل کا تقاضہ تو یہی ہے۔۔۔ اب۔۔۔ اس معیار پر ہماری عدالتیں پوری اترتی ہیں یا نہیں؟کیا عدالتیں لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں سے پوچھ رہی ہیں کہ تم ان افراد کو کیسے پکڑ لیتے ہو جن کے خلاف نہ تو کوئی ایف آئی آر پہلے سے درج ہوتی ہے اور نہ ان کے جرم کا تم کو پہلے سے کوئی علم ہوتا ہے۔پھر یہ کہ وہ تمہاری تحویل میں آنے سے سے قبل ”سالم“ ہوتے ہیں۔۔ لیکن۔۔ بغیر قصور ان کو چھوڑنا بھی پڑ جائے تو وہ ”ٹوٹ پھوٹ“ کیسے جاتے ہیں؟

ٹوٹ پھوٹ جانے کے علاوہ ان میں سے اکثر ندی نالوں، جھاڑیوں، ہسپتالوں اور سرد خانوں سے کیسے برآمد ہوتے ہیں؟وہ افراد جن کے خلاف ایف آئی آر درج ہے وہ سلاخوں سے باہر کیوں ہیں؟عدالت نے جن کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں وہ اپنے اپنے گھروں، عہدوں، کرسیوں اور مساجد میں عیش کیسے کر رہے ہیں، لہٰذا، توہین عدالت کے جرم میں کیوں نہ تمہارے (لاءانفورسمنٹ ایجنسیوں) خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے؟۔

یہ بھی پڑھیں:   یہی انصاف ترے عہد میں ہے اے شہ حسن - فضل ہادی حسن

مارا جاتا ہے غریب کا بال۔۔۔ یا۔۔۔ وہ جس کے دائیں بائیں کوئی سفارش نہیں ہے۔نجانے پھانسی کی سزا بحال ہونے کے بعد سے اب تک کتنے لٹکا دیے گئے، مانا وہ سب جرائم میں ملوث ہی تھے، لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ سوائے معدودِے چند، وہ سب بہت ہی نچلے طبقے کے تھے اس لیے ان کی موت کے پروانے جاری کرنے میں نہ تو کسی جج کا ہاتھ کانپا اور نہ ہی کسی جلاد کا کلیجہ پھٹا۔

کراچی میں بیسیوں نقاب پوش پولیس اہل کاروں نے عدالت کے احاطے میں گھس کر جو کمینی اور ذلالت بھری کاروائی کی اس پر اعلیٰ پولیس افسران کے خلاف عدالت نے توہین عدالت کا فیصلہ اب تک صرف محفوظ رکھا ہوا ہے۔ اصغر خان کے کیس پر کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی۔فوجی اور فوری عدالتوں کا فیصلہ بھی (نعوذ با اللہ) ”لوح محفوظ“ کی طرح قیامت تک کے لیے محفوظ کر لیا گیا ہے۔

پرویز مشرف پہلے بھی فوج کے حصار میں رہا اور اب بھی افواج پاکستان کی محافظت میں ہے۔

ایسے سارے فیصلے ” غریبوں کے بال“ کے ہوتے تو نہ صرف سنادیے گئے ہوتے بلکہ وہ لوگ اپنی اپنی سزا کو بھی پہنچ چکے ہوتے۔120گز کے مکانوں والی بستی پر ہر آٹھ دس دن بعد چرھائی کی خبریں ملتی رہتی ہیں، بلاول ہائوس جاتے ہوئے، لاءانفورسمنٹ ایجنسیوں کا نہ جانے کیا کیا کچھ خطاء ہونے لگتا ہے۔غریبوں کے بال (بچے) ہر 90 دن کے بعد پھر 90 دن کے لیے اندر ہوجاتے ہیں،۔۔ لیکن۔۔ ملک کو لوٹنے والے ملک سے باہر جائیدادوں پر جائیداد بنائے جارہے ہیں۔

کراچی میں کوئی قتل ہو جائے تو ”بھائی“ ذمہ دار، راولپنڈی میں ایان علی کو پکڑنے والا انسپکٹر گھر کے دروازے پر مار دیا گیا، ایسا لگ رہا ہے وہ کوئی انسان نہیں تھا کاکروچ یا جھینگر“ تھا لہٰذا ماردیا گیا۔نہ میڈیا پر بحث اور نہ صوبے کی حاکم پارٹی ذمہ دار“

یہ بھی پڑھیں:   یہی انصاف ترے عہد میں ہے اے شہ حسن - فضل ہادی حسن

آرمی چیف صاحب! جج صاحبو! کیا ساری دھونس دھاندلیاں، اور بندوقوں کی نالیاں کمزوروں کے لیے ہی ہوتی ہیں؟