دینی اسناد اور پنجاب حکومت – حافظ مزمل بلوچ

پنجاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں ایجوکیٹرز کی بھرتی کا عمل آخری مراحل میں جاری ہے۔سال 2017 اور 2018 کے لیے نئی پالیسی تیار کی گئی تھی جس میں سائنس اور آرٹس مضامین کو نظر انداز کردیا گیا ہے اور بہت سے ایسے مضامین کو تسلیم ہی نہیں کیا جارہا جو مطلوبہ پوسٹ کے عین مطابق ہیں۔ اس میں سب سے زیادہ توجہ کن بات یہ ہے کہ دینی بورڈز کی جاری کردہ "الشھادۃ العالمیۃ" جو کہ مجسمہ اسلامیات اور عربی ہے اور مزید یہ کہ اس کو "ہائر ایجوکیشن کمیشن" ایم اے عربی اور اسلامیات دونوں کے برابر مانتا ہے اور اسی ڈگری کی بنیاد پر ملک کی بڑی بڑی یونیورسٹیز ایم فل اور پی ایچ ڈی کروارہی ہیں بھی شامل ہے۔ مگر پنجاب حکومت ایلیمینٹری اسکول لیول تک بھی اس کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے اور مزید برآں اس میں متعلقہ Recruitment committees اعلی حکام کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کا بہانہ پیش کرکے ہزاروں ڈگری ہولڈرز کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ میں شریک ہیں۔

اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ اور مشائخ علماء پنجاب حکومت کی مسلسل دین مخالف سرگرمیوں سے پہلے ہی نالاں ہیں۔ جس کی واضح اور زندہ مثال لاہور میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں مذہبی جماعتوں کی ووٹ سکورنگ ہے جوکہ آنے والے دنوں میں بھاری اکثریت کی روشن علامت ہے۔ مدارس بورڈز کے چیئرمین قاری حنیف جالندھری اس ضمن میں کے پی کے حکومت کی جانب سے علماء کرام کے ساتھ بھرپور تعاون کا ذکر کرکے پنجاب حکومت کو اشارتا پیغام بھی دے رہیں ہیں۔ اور اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کا بیشتر ووٹ مذہبی طبقے کا ہی ہے۔اہل رائے پہلے کئی بار اس بات کا خیال پیش کر چکے ہیں کہ اگر پنجاب حکومت مسلسل مذہبی طبقات سے یہی رویہ اختیار کرتی رہی تو آنے والا الیکشن اس کے لیے ایک کڑا امتحان ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   مدرسہ ڈسکورسز اور علم الکلام کے جدید مباحث - ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل

خیر اس موضوع پر ایک طویل گفتگو کی ضرورت ہے مگر اس وقت میرا مقصد دینی اسناد کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرنا ہے اور اس میں سیکرٹری ایجوکیشن کی یقین دہانی کے باوجود ابھی تک کوئی آفیشل نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوسکا۔ اس سلسلے میں اہل رائے کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور دینی بورڈز بھی اب ہائی کورٹ کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ جس میں کچھ امید کی صورت بن سکتی ہے اور اس کام میں ہائی کورٹ پہلے بھی دلچسپی لے رہی ہے اور مزید اقدامات کر کے اس Recruitment کے process کو حتمی فیصلہ آنے تک stay کرایا جائے تاکہ اس نئی پالیسی کو نافذ نہ ہونے دیا جاسکے۔ خدانخواستہ ایسا نہ ہوا تو ان اسناد کی کوئی دستاویزی حیثیت نہ رہے گی جوکہ طلباء مدارس دینیہ کے مستقبل کے لیے ایک تاریک پہلو ثابت ہوگا۔