صرف میڈیا ہی قصوروار نہیں - امجد طفیل بھٹی

ہمارے ہاں ایک خامی ہے کہ ایک بات یا ایک واقعہ کو اس قدر زیرِ بحث لایا جاتا ہے کہ پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا ہر طرف ایک ہی موضوع چل رہا ہوتا ہے۔ مسئلہ کسی بھی چیز پر بات کرنا نہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں موضوع کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات کسی بھی مسئلے پر جب کوئی بھی دینی یا سیاسی جماعت احتجاج کے لیے نکلتی ہے تو اس احتجاج میں شریک پچاس فیصد سے زائد لوگوں کو حقیقت کا پتہ نہیں ہوتا۔

مثال کے طور پہ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں مذہبی جماعتوں کی طرف سے ایک دھرنا دیا گیا لیکن یہ بات یقین سے کہہ سکتے ہیں اکثر لوگوں کو اس بات کا پتہ تک نہ ہوگا کہ کس حلف نامے میں تبدیلی کی گئی؟ خیر، یہ تو ایک احتجاج کی بات ہے اس کے علاوہ بھی کئی ایک واقعات ایسے ہیں کہ جس میں عوام کو پتہ تک نہیں ہوتا کہ آخر ہوا کیا ہے؟ لیکن پھر بھی جلسے جلوسوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ آج کل ہم ہر معاملے میں تمام ملبہ میڈیا پر ڈال دیتے ہیں کہ ہر بُرائی کی جڑ صرف میڈیا ہے، حالانکہ میڈیا کو پروموٹ کرنے والے عوام خود ہی ہیں۔

اب اصل موضوع پر آتے ہیں جو کہ آج کل الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے کہ فلاں چینل کے شو میں ڈانس کے نام پر فحاشی اور بے حیائی پھیلائی جارہی ہے۔کمسن لڑکیوں سے بے ہُودہ ڈانس کرایا جاتا ہے۔اخلاقیات سے عاری انڈین گانے چلائے جاتے ہیں اور اینکر بے تُکی اور ذو معنی باتیں کرتے ہیں۔ لیکن یہاں پر اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ ان پروگرامز میں شرکا کون ہوتے ہیں؟ ڈانس کرنے والی لڑکیاں اور چھوٹی بچیاں کہاں سے ان میں شامل ہوتی ہیں؟آخر ان کے ساتھ ان کے بہن بھائی یا والدین بھی تو شریک ہوتے ہوں گے اور ان کی “پرفارمنس“ سے خوش بھی ہوتے ہوں گے۔ جب تک ہم اپنی ذمہ داریوں کو خود سے نہیں پورا کرسکتے تو دوسروں سے گِلہ کیوں کرتے ہیں؟

ہمارے ہاں تنقید کلچر اس قدر پروان چڑھ چکا ہے کہ تنقید کے بغیر سیاست،صحافت کچھ بھی مکمل نہیں ہے۔ ہم ایک پروگرام یا ایک چینل پر تمام تر ذمہ داری نہیں ڈال سکتے کہ فلاں پروگرام یا فلاں چینل اس طرح بے حیائی یا غلط معلومات پروموٹ کر رہا ہے۔ اس وقت پاکستان میں سینکڑوں چینل ایسے ہیں کہ جن میں طرح طرح کے پروگرامز دکھائے جاتے ہیں اور ان تمام چینلز میں سے ہر ایک چینل کسی نہ کسی کا پسندیدہ ضرور ہوگا۔ اس سے پہلے بھی ہمارے مختلف چینلز پر چلنے والی رمضان ٹرانسمیشن کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ فنکار عوام کو دین کا درس دے رہے ہیں اور بڑے بڑے عالمِ دین ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف انہی پروگرامز میں شرکت کے لیے عوام بے تاب ہوتے ہیں کہ اس پروگرام میں شامل ہوا جائے تا کہ اپنے فیورٹ اداکاروں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے۔

اب اس ساری صورتحال میں ہم لوگ صرف ایک اینکر کو الزام نہیں دے سکتے کہ وہ کس قسم کے پروگرام کی میزبانی کر رہا ہے۔ یہاں ایک بات بہت ضروری ہے کہ تمام دنیا میں

چینلز ہمیشہ وہ پروگرام چلاتے ہیں جو زیادہ پسند کیے جاتے ہوں تا کہ چینل کی ریٹنگ میں اضافہ ہو۔ اور ظاہر ہے کسی بھی پروگرام کی ریٹنگ اس کے دیکھنے والوں کی تعداد سے نکالی جاتی ہے۔ میڈیا کی مجبوری ہے کہ انہوں نے وہی چیز نشر کرنی ہے جو زیادہ پسند کی جائے اور پسند کرنے والے عوام خود ہی ہیں۔

ہمارے سامنے بہت سے پروگرامز کی مثالیں موجود ہیں جو کہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچے مگر آہستہ آہستہ گمنامی میں چلے گئے۔جس کی وجہ صرف یہ تھی کہ عوام نے انہیں دیکھنا چھوڑ دیا۔ ان ساری باتوں کا مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی پروگرام عوام کی شرکت کے بغیر ادھورا ہے۔ جب بھی کوئی معاملہ، کوئی لڑائی، کوئی احتجاج یا پھر کوئی دھرنا حکومت کے کنٹرول سے باہر ہوجاتا ہے تو ناکامی کا سارا ملبہ میڈیا پر ڈال دیا جاتا ہے کہ میڈیا نے عوام کو احتجاج کے لیے اکسایا ہے۔

اس طرح کی کئی مثالیں ہیں جب حکومت کی ناکامی کا خمیازہ میڈیا کو بھگتنا پڑا۔ مثلاً جب اسلام آباد میں مذہبی جماعتوں کا احتجاج ہورہا تھا تو پیمرا کی طرف سے تمام چینلز بند کر دیے گئے کہ میڈیا عوام کو لائیو نشریات دکھا کر مشتعل کر رہا ہے۔ ایسے اقدامات خود حکومت کے خلاف نفرت کا باعث بنتے ہیں کیونکہ ملک میں جمہوریت کے ہوتے ہوئے اتنی پابندیاں زیب نہیں دیتیں۔

حال ہی میں قصور میں معصوم بچی کے قتل کے خلاف احتجاج کیا گیا اور تین افراد کو جان سے ہاتھ دھونے پڑ گئے تو بھی پنجاب حکومت نے میڈیا کو ہی موروالزام ٹھہرایا کہ وہ ایک واقعہ کو خواہ مخواہ اچھال رہا ہے۔ ہمارے ملک میں جو کام حکومت کے کرنے والے ہیں وہ بھی عدالت کو سوموٹو ایکشن لے کر کرانے پڑتے ہیں۔ میڈیا حکومت کی کوتاہیاں دکھاتا ہے اور حکمران نہیں چاہتے کہ ان کی کوئی بھی خامی یا کوتاہی منظر عام پر آئے۔ اس لیے میڈیا کو ہر مسئلے کی جڑ سمجھنا سراسر زیادتی ہوگی۔ کیونکہ کہیں نہ کہیں ہم عوام پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم لوگ بھی اپنی قومی اور مذہبی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔

Comments

Avatar

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */