رائو انوار بھی بھاگ جائے گا – یاسر محمود آرائیں

انگریزی زبان کا ایک محاورہ ہے No one would respond to person who is abusing on the other bank of river and disavow his sayings۔

یعنی دریا کے دوسری جانب کھڑے ہوکر گالی دینے اور اپنی بات سے مُکر جانے والے شخص کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ یہ مثال ہماری ریاست کی استعداد اور قوت پر بالکل صادق آتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی شاید یہ مثال سن رکھی ہے اور وہ اس پر مکمل یقین بھی رکھتے ہیں۔ اسی لیے وہ پاکستان کو آئے روز دھمکیاں اور گالیاں دیتے رہتے ہیں۔ کیونکہ انہیں علم ہے کہ وہ سات سمندر پار بیٹھ کر ایک مفلوج اور بے دست وپا ریاست کو دھمکیاں دے رہے ہیں جو اپنی سرزمین پر بھی مکمل عملداری نہیں رکھتی۔ لہٰذا ایسی ریاست کو دھمکیاں دیتے ہوئے انہیں کیا خطرہ ہوسکتا ہے؟ حقیقت بھی یہی ہے وہ جو مرضی کہتے رہیں ہم چار پانچ روز تک"پٹ سیاپا" کرنے کے علاوہ ان کا بال تک بیکا نہیں کرسکتے۔

افغانستان کی جنگ تاریخ کی مہنگی ترین جنگ ہے اور امریکا اس جنگ میں کئی ٹریلین ڈالرز کے اخراجات کے باوجود شکست سے دوچار ہوچکا ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے جہاں ایک طرف اس کی معیشت کا دیوالیہ نکل چکا ہے وہیں افغان کہساروں سے سترہ سال تک سر ٹکرانے کے بعد بھی امریکا کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اپنے مقاصد میں ناکامی کی وجہ سے اسے نہ صرف دنیا کے سامنے ہزیمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے بلکہ اندرونی طور پر بھی اپنی عوام کے سخت ردعمل کا سامنا ہے۔ یاد رہے کہ اسی افغان محاذ پر ناکامی کے بعد سویت یونین نے اپنی شکست کا برملا اعتراف کرلیا تھا بلکہ وہاں سے اپنی افواج کو بھی غیر مشروط طور پر واپس بلالیا تھا مگر امریکا کو اب تک اپنی ناکامی کے اعتراف کا حوصلہ نہیں ہورہا۔ اپنی شرمندگی کو دنیا سے چھپانے کے لیے امریکا اس وقت پاکستان پر الزام تراشی کررہا ہے اور اپنی افواج کی شکست کی وجہ پاکستان سے کی جانے والی مداخلت بتارہا ہے۔

تمام دنیا کو اصل صورتحال کا علم ہے کہ امریکا پاکستان پر کیوں دباؤ بڑھارہا ہے؟ لیکن پاکستان کی جانب سے ان دھمکیوں کا مناسب جواب نہ دیے جانے کی وجہ سے ہی اب امریکا نہ صرف اس جنگ میں پاکستان کی قربانیوں سے مکر گیا ہے بلکہ اس نے ہماری خدمات کو ڈالرز کے لالچ کا نتیجہ قرار دے دیا ہے۔ ماضی کی طرح اگر صرف الزام تراشی تک بات محدود رہتی تو بھی مسئلہ نہیں تھا۔ مگر امریکا نے اس بار واقعتاً پاکستان کی امداد تک بند کردی اور اسے کھلے عام سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں بھی دے رہا ہے۔ جس کے جواب میں قوم کو امید تھی کہ شاید ملک کی مزید توہین برداشت نہیں کی جائے گی۔ امریکا کی جانب سے ازخود تعلقات معطل کرنے کا فائدہ اٹھا کر ہماری حکومت بھی اپنی خدمات روک دے گی۔ کم از کم افغانستان کے لیے نیٹو سپلائی تو روک دی جائے گی۔ ملکی فضائی حدود کو بھی اتحادی افواج کے لیے بند کردیا جائے گا۔

لیکن ہمارے ریاستی آفیشلز نے ٹرمپ کی بدتہذیبی پر کرارا جواب دینے کے بجائے اپنی ہی قوم کو یہ باور کرانا شروع کردیا کہ امریکا ہم سے ہزاروں میل دور واقع ہے۔ اتنی دوری پر واقع ملک ہمارے خلاف کوئی جارحیت کرتا ہے تو ہم اس کا کیا بگاڑ سکتے ہیں؟ مزید یہ عذر پیش کیا گیا کہ امریکا ایک بہت بڑی طاقت ہے اور عالمی مالیاتی ادارے بھی اس کا دباؤ محسوس کرتے ہیں لہٰذا ہم اس کے ساتھ کسی محاذ آرائی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ نیٹو سپلائی بندش کے مطالبے پر یہ بہانہ بنا کر بات گھمادی گئی کہ امریکا اور پاکستان آپس میں اتحادی ہیں اور اتحادیوں کے درمیان اس طرح کی چھوٹے موٹے اختلافات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن ان اختلافات کو بنیاد بنا کر اتحادوں کے ساتھ تعلقات ختم نہیں کیے جاسکتے۔ عوام کو خوش کرنے کی خاطر یہ بڑھک ضرور سنائی گئی کہ آئندہ ہماری حدود میں کوئی ڈرون حملے کی نیت سے آیا تو ہم اسے مار گرائیں گے۔ گذشتہ روز امریکا نے دوبارہ ڈرون حملہ کرکے ہماری یہ بڑھک بھی ہمارے منہ پر ماردی ہے۔

اب امریکا جیسے سمند پار طاقتور ملک کے خلاف ہم بڑھکوں سے زیادہ کر بھی کیا سکتے ہیں؟ بطور ریاست ہماری قوت اور استعداد کا یہ عالم ہے کہ قانون شکنی میں مطلوب ہمارے اپنے ہی شہری کسی طرح بیرون ملک فرار ہوجائیں تو ریاست ان کے سامنے بھی بالکل بے بس ہوجاتی ہے۔ پھر ہماری عدالتوں کی جانب سے روز ان کی طلبی کے سمن اور وارنٹ گرفتاری جاری ہوتے ہیں مگر ان مفروروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ وہ بیرون ملک بیٹھ کر ہمارے اداروں کی اتھارٹی کو کھلے عام چیلنج کرتے ہیں بلکہ ملک کو گالیاں تک دیتے نظر آتے ہیں۔ الطاف حسین، حسین حقانی اور پرویز مشرف سمیت مطلوب افراد کی ایک طویل فہرست ہے جن کے خلاف محظ اس وجہ سے قانونی کاروائی ممکن نہیں کیونکہ وہ بیرون ملک بیٹھے ہیں۔ ایسے تمام مجرم جب تک ملک میں ہوتے ہیں اس وقت تک خود پر عائد الزامات سے انکار نہیں کرتے لیکن جیسے ہی وہ یہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوتے ہیں اپنے تمام جرائم سے مکرنے کے ساتھ ساتھ ملکی اداروں پر تعصب اور انتقام کے تحت مقدمات قائم کرنے کے الزامات لگانا شروع کر دیتے ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے ادارے ایسے مفروروں کو واپس ملک میں لانے اور ان کا ٹرائل مکمل کرنے میں اکثر ناکام ثابت ہوتے آئے ہیں۔ اسی وجہ سے تمام ملزمان کو یقین ہوچکا ہے کہ اگر وہ ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تو انہیں سزا سنانا اس ملک کے اداروں کے لیے ممکن نہیں رہے گا۔ روز بروز ہماری ریاست کی یہ کمزوری واضح ہوتی جارہی ہے کہ یہاں اپنے جرم سے مکر جانے اور سرحد پار جاکر بیٹھ جانے والے کسی شخص کے مواخذے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ شاید اسی لیے روپوش راؤ انوار بھی اپنے بیانات سے مکرنے کے ساتھ بیرون ملک فرار ہونے کی سرتوڑ کوشش میں لگا ہوا ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ اس وقت تک وہ بیرون ملک فرار کی دو بار کوشش کرچکا ہے جو اس کی بد قسمتی سے ناکام ہوچکی ہیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ملک کی ایک بڑی سیاسی اور ایک کاروباری شخصیت اسے فرار کرانے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہیں۔

متذکرہ بڑی شخصیات کو حمایت پر مائل اور ان کی چھتر چھایاں کو اپنے سر پر قائم رکھنے کے لیے ہی راؤ انوار اپنے بیانات تبدیل کررہا ہے۔ نقیب اللہ قتل کیس کی ابتدا سے اب تک کئی بار تبدیل ہونے والے راؤ انوار کے بیانات سے صاف ظاہر ہے کہ وہ کس کس کو بلیک میل کرنے میں مصروف ہے اور اپنی اس کوشش میں وہ کتنا کامیاب رہا ہے۔ راؤ انوار کی جانب سے آئی جی سندھ کے خلاف بیان کا اصل مقصد بھی اپنی سرپرست سیاسی شخصیت کو پیغام دینا تھا کہ وہ اب تک ان کا وفادار ہے اور اس نے جو کچھ بھی کیا ان کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے ہی کیا ہے۔ لہٰذا انہیں بھی ہر صورت اس کا ساتھ دینا پڑے گا۔ اسی طرح اپنے خلاف تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی کے قیام کے مطالبے سے وہ یہ تاثر دینا چاہتا ہے اس کے تمام جرائم کسی غیر اعلانیہ ریاستی پالیسی کا نتیجہ ہیں۔

یہ بات واقعی سوچنے والی ہے کہ ایک معمولی ایس ایس پی تین سو سے زائد افراد کو کسی سرپرستی کے بغیر ماورائے عدالت قتل کرنے میں کیسے کامیاب ہوسکتا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ ہر زبان پر اس وقت راؤ انوار کے ممکنہ دیدہ ونادیدہ سرپرستوں کا نام لیا جارہا ہے اور ملکی اداروں کی نیک نامی کو برقرار رکھنے کے لیے ان الزامات کی تحقیقات نہایت ضروری ہیں۔ لیکن یہ تحقیقات اس وقت تک ہی ممکن ہوں گی جب تک راؤ انوار ملک میں موجود رہے گا۔ ایک بار وہ یہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تو ہمیشہ کی طرح اس کے خلاف بھی ہماری ریاست بے بس ثابت ہوگی۔ مگر جس تیزی کے ساتھ اس کے فرار کی کوشش جاری ہے اس سے نظر یہی آرہا ہے کہ وہ بھی جلد سمند پار بیٹھ کر ہماری ریاستی قوت کا مذاق اڑا رہا ہوگا اور ہمارے ادارے اپنا منہ دیکھ رہے ہوں گے۔

Comments

یاسر محمود آرائیں

یاسر محمود آرائیں

یاسر محمود آرائیں "باب الاسلام" اور صوفیوں کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں۔حافظ قرآن ہیں اور اچھا لکھنے کی آرزو میں اچھا پڑھنے کی کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */