جنسی زیادتی اور علمِ جرم شناسی (1) - سید ابن حسن

مجموعی طور پر ہم ایک جذباتی قوم ہیں۔ ہم جذباتی سوچتے، جذباتی عمل کرتے اور نتائج کو جذبات پر ہی پرکھتے ہیں۔ سانحات ہر قوم کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ سنجیدہ قومیں سانحات کا علمی تجزیہ و تحلیل کرتیں، سانحات کے اسباب اور ان کا راہ حل تلاش کرتیں ہیں۔ ہم چند سلسلہ وار مضامین کے ذریعے سانحہ قصور اور اس جیسے دوسرے المناک سانحات کے مختلف پہلووں کو علمِ جرم شناسی (criminology) کی رو سے دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ کیا ان سانحات کے سدِباب میں علمِ جرم شناسی ہماری کوئی مدد کرسکتا ہے یا نہیں؟۔ ان تمام مضامین میں سانحہ قصور جنسی زیادتی کے جرم کے نمونے کے طور پر ہمارے مدنظر رہے گا۔ ہماری پوری کوشش ہو گی کہ ہماری تحاریر عام فہم ہوں اور ہم علمی اصطلاحات کو حتی الامکان سادہ انداز میں بیان کریں تاکہ علم ِجرم شناسی کا مطالعہ نہ رکھنے والے ہمارے عزیز قارئین کی دلچسپی کا پہلو بھی باقی رہے۔

۸۰ء کی دہائی میں امریکہ کے شہر نیویارک کے زیر زمین ٹرینوں کے اڈے جرائم کی آماجگاہ ہوا کرتے تھے۔ ان اڈوں پر دادگیری عروج پر تھی۔ لوگ ٹکٹ بوتھ لوٹ لیتے، جنگلے پھلانگ جاتے اوربغیر ٹکٹ کے سفر کرتے تھے۔ اوباش نوجوانوں کے جتھے اپنی طاقت کے اظہار کے لیے ان اڈوں کا انتخاب کرتے، یہاں منشیات فروخت ہوتیں، انسانی دنگل لگتے اور قتل ہوا کرتے تھے۔ ٹرینوں کی بوگیوں کی کھڑکیاں توڑ دی جاتیں اور ان پرکالک مل دی جاتی۔ اپنے جتھوں کی تشہیر کے لیے بوگیوں کے اندر باہر چاکنگ کی جاتی گویا ایک جنگل کا سا قانون تھا۔ امریکی فلم انڈسٹری کے شوقین قارئین اس منظر کو بہتر درک پائیں گے کیونکہ بعد والے سالوں میں امریکی فلم انڈسٹری نے ان واقعات کو اپنی فلموں کا حصہ بھی بنایا ہے۔

حکام نے ان جرائم کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا، حکم دیا گیا امریکہ کے تمام جرم شناسوں کی تحقیقات اور تصانیف کھنگالی جائیں اور اس مسئلے کا حل پیش کیا جائے۔ ان کے ہاتھ دو محققین کی ایک ایسی تحقیق لگی کہ جس نے جرم نامی اجتماعی phenomena کو ایک مختلف انداز سے موردِ توجہ قرار دے رکھا تھا۔ اس تحقیق کے مطابق اگر گھر کی ٹوٹی ہوئی کھڑکی کی بروقت مرمت نہ کی جائے تو کچھ عرصہ بعد راہ چلتے لوگ بھی کنکریاں مارنا شروع کردیتے ہیں۔ ان کا تصور یہ تھا کہ گھر کی زیادہ دیر ٹوٹی رہنے والی کھڑکی گھر کے لاوارث ہونے کا تاثردیتی ہے۔ زیادہ دیر ٹوٹی کھڑکی چلتے راہ لوگوں کو کنکریاں مارنے کی دعوت دے رہی ہوتی ہے اور یوں آہستہ آہستہ چلتے راہ لوگ بھی کنکریاں مارنا شروع کردیتے اور گھر کی بقیہ کھڑکیاں بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔ اگر مرمت کا کام اب بھی شروع نہ کیا جائے تو کچھ عرصے بعد بن بلائے مہمان اس گھر کا رخ کرنے لگتے اور آخر کار گھر میں ہی بسیرا کر لیتے ہیں۔ ان محققین کے نزدیک معاشرے کی مثال بھی اسی گھر کی ہے اور جرم کی مثال اس کھڑکی توڑنے والے چلتے راہ افراد کی کہ جو ٹوٹی کھڑکی سے گھر کے لاوارث ہونے کا تاثر لیتے اور آخر کار گھر کی دہلیز گزر آتے اور یوں معاشرہ جرائم کی آماجگاہ بن جاتا ہے لہٰذا جتنا جلدی ہو سکے معاشرے کی ٹوٹی کھڑکی کی مرمت کی جانی چاہیے۔

نیویارک کے حکام کو یہ زاویہ نگاہ اچھا لگا۔ انہوں نے ایک بجٹ معین کیا۔ پولیس کی سربراہی اس شخص کو دی جسے ان محققین کی یہ علمی بات سمجھ آگئی تھی۔ حکام نے انہی محلّوں میں سے ایک کا کہ جہاں سے میٹرو گزرتی تھی، انتخاب کیا، وہاں بوگیوں کی مرمت اور تزئین و آرائش کی ورکشاپ قائم کی۔ مجرموں کے جتھے دن میں جن ٹرینوں کے شیشے توڑتے، یہ لوگ انہیں رات میں مرمت کرتے، جن بوگیوں پر کالک ملی جاتی انہیں رات میں رنگ روغن کر کے صبح دوبارہ آمادۂ حرکت بنا دیا جاتا۔ یہ پہلا پیغام تھا مجرموں کو کہ گھر کا کوئی وارث آ گیا ہے۔ اڈوں پر پولیس کی نفری دوگنی کر دی گئی۔ آہستہ آہستہ دنگا فساد کرنے والوں کو پکڑا جانے لگا اور انہیں اڈوں کے دروازوں کے سامنے باندھ کر کھڑا کر دیا جاتا کہ عام لوگوں کو نظر آئیں۔ یہ دوسرا پیغام تھا کہ نہ صرف وارث ہے بلکہ اب وہ کھڑکی بھی نہیں توڑنے دے گا۔ بظاہر یہ ایک کہانی لگتی ہے لیکن ایک حقیقت ہے۔ اس حقیقی کہانی نے جرم شناسی کے علم میں ایک نئے اور اہم نظریے کو وجود بخشا۔ ان دو محققین کو دنیا جیمز ولسن (James Wilson) اور جارج کلنگ (George Kelling) کے نام سے جانتی ہے۔ ان کا یہ نظریہ Broken Window Theory کہلایا۔

ہم بعنوان قوم (بشمول عوام اورحکام) علمی نظریات کے برعکس عمل کرتے ہیں۔ ہمارے گھر کی ایک کھڑکی اگر مجرم توڑتا ہے تو اسے مرمت کی بجائے بقیہ دو ہم عوام خود توڑ دیتے ہیں۔ بن بلائے مہمان تو ٹوٹی کھڑکیوں کی تلاش میں ہوتے ہیں اور لاوارث ہونے میں تو ہمارے شک ہی نہیں ہے۔ ایسے میں اگر کوئی بن بلائے مہمان آئے اور لاوارث دِکھنے والے گھر کی کسی زینب کی عصمت تار تار کر جائے تو ہمیں گھر کی بقیہ کھڑکیاں توڑنے کی بجائے خود کو نوچنا چاہیے۔

علمِ جرم شناسی کے ایک دانشور کے بقول جرم ایک فطری phenomena ہے جو ایک طاقتور عنصر کے طور پر ہر وقت ہر معاشرے میں موجود ہے اور جہاں اسے موقع ملتا ہے، بقول جیمز ولسن اور جارج کلنگ کہ کسی گھر کی کھڑکی ٹوٹی نظر آتی ہے تو یہ وہاں حملہ آور ہوجاتا ہے۔ اوپر سے گھر کا کوئی وارث بھی نہ ہو تو اس کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔ علم ِجرم شناسی ہر جرم کی طرح جنسی زیادتی کے جرم کے ساتھ بھی تین مختلف مرحلوں پر نمٹتا ہے۔ علمِ جرم شناسی پہلے مرحلے پر جرم کی نوعیت اور اقسام کی پہچان کرتا ہے تو دوسرے مرحلے پر اس کے اجتماعی اسباب تلاش کرتا ہے اور تیسرے مرحلے پر اس کے سدباب کی کوشش کرتا ہے۔

علمِ جرم شناسی جنسی زیادتی کی تعریف کو تقریباً علم ِقانون سے مستعار لیتا ہے اور مختلف معاشروں کے علم قانون میں جنسی زیادتی کی مختلف قانونی تعاریف بیان کی گئی ہیں ان سب میں ایک چیز جو مشترک ہے وہ جنس مخالف کی مرضی کے خلاف اس کے ساتھ جنسی عمل انجام دیا جانا ہے۔ علمِ جرم شناسی کے دانشوروں کی تحقیقات کے مطابق جنسی زیادتی کا جرم مجموعی طور پر دو قسم کا ہے:

1.آشناؤں یا اجنبیوں کی طرف سے زیادتی: عام طور پر آشناؤں کو جنسِ نازک کا محافظ سمجھا جاتا ہے لیکن دنیا میں ہونے والی تحقیقات بتاتی ہیں کہ ۵۰ فیصد جنسی زیادتی کے جرائم تقریباً وہ لوگ انجام دیتے ہیں جو کسی نہ کسی طریقے سے زیادتی کا نشانہ بننے والے کو پہلے سے جانتے ہیں۔ یہ آشنا رشتہ دار بھی ہو سکتے ہیں اور دوست بھی۔ بعض تحقیقات کے مطابق یہ تعداد دنیا کے کل جنسی زیادتی کے جرائم کے ۸۸ فیصد تک ہے۔ انگریزی میں اسے Acquaintance Rape کہتے ہیں۔ بقیہ بچ جانے والے جنسی زیادتی کے جرائم اجنبی لوگ انجام دیتے ہیں۔ انگریزی میں انہیں Stranger Rapeکے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔

2.اجتماعی زیادتی: ایک ہی جگہ پر ایک ہی وقت یا تھوڑے تھوڑے وقفے کے ساتھ چند لوگوں کا ملکر ایک یا چند افراد کے ساتھ جنسی زیادتی کا عمل جرم شناسوں کی زبان میں اجتماعی زیادتی یا Gang Rapeکہلاتا ہے۔ اس طرح کی زیادتی عام طور پر تشدد کے ساتھ ہوتی ہے اور زیادتی کرنے والوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ تشدد کی شدت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

A.N Growthکی تحقیق کے مطابق جنسی زیادتی کے جرم میں تین مختلف عنصر پائے جاتے ہیں اور ان عناصر کی بنیاد پر ان جرائم کو تین مختلف قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

1.جنسی زیادتی میں غصے کا عنصر: اس طرح کے جرائم میں زیادتی کرنے والے پر شدید غصے کی کیفیت طاری ہوتی ہے اور وہ اپنا غصہ نکالنے کے لیے جنسی زیادتی کو ذریعہ قرار دیتا ہے۔ ایسے میں وہ تشدد سے کام لیتا اور تشدد کے اثرات زیادتی کا نشانے بننے والے کے جسم پر چھوڑ جاتا ہے۔ جنسی خواہشات کی تسکین اس قسم میں ایک ثانوی ہدف ضرور ہوتا ہے لیکن اصل ہدف زیادتی کرنے والے کے غصے کا اظہار ہوتا ہے۔ اس طرح کے جرائم میں زیادتی کا نشانہ بننے والا باقی اقسام کی نسبت کم نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوتا اور اس کی بنیادی وجہ تشدد کا نشانہ بننے پر ملنے والی اجتماعی ہمدردی ہے۔ جنسی زیادتی کے تقریباً ۴۰فیصد کیسز اس قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں انگریزی میں Anger Rape کہا جاتا ہے۔

2.جنسی زیادتی میں طاقت کا عنصر: اس قسم کے جرائم میں زیادتی کرنے والے کا بنیادی مقصد زیادتی کرنے والے پر جنسی تسلط یا غلبہ پانا ہوتا ہے۔ ان جرائم میں زیادتی کرنے والے کا اصل ہدف جنسی خواہشات کی تسکین نہیں بلکہ جنس مخالف پر جنسی غلبہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ایسے جرائم عام طور پر ان معاشروں میں ہوتے ہیں کہ جہاں کی ثقافت اور تعلیمی و تربیتی نظام میں عورت کو مرد کی ملکیت تصور کیا جاتا ہے اور معاشرے میں مرد ہمیشہ اپنی طاقت اور مردانگی کو ثابت کرنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں مرد محور معاشرے عام طور پر جنسی زیادتی کے ان جرائم کی زد میں آتے ہیں۔ زیادتی کرنے والا ان جرائم میں نسبتاً کم تشدد کرتا ہے۔ ان جرائم کا شکار لوگ عام طور پر بہت زیادہ نفسیاتی دباؤ اور مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ بعض تحقیقات کے مطابق ۵۵ فیصد جنسی زیادتی کے جرائم کو یہ قسم تشکیل دیتی ہے۔ انگریزی میں ان جرائم کو Power Rapeکہا جاتا ہے۔

3.Sadistic Rape: اس قسم میں تشدد اور جنسی خواہشات کی تکمیل ہر دو زیادتی کرنے والے کا ہدف ہوتے ہیں اور وہ جنس مخالف سے ایک طرح کی نفرت رکھتا ہوتا ہے۔ بعض ماہرین اسے ایک نفسیاتی بیماری قرار دیتے ہیں اور اس بیماری کے حامل لوگ دوسروں کے لیے آزار و اذیت کا باعث بنتے ہیں کہ جن میں سے ایک نمونہ جنسی زیادتی ہے۔ جرم شناسی کی تحقیقات کے مطابق صرف ۵ فیصد جنسی زیادتی کے جرائم اس قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔

جنسی زیادتی کے جرائم کے بارے ہمارے معاشرے میں چند غلط فہمیاں رائج ہیں جبکہ جرم شناسوں کی تحقیقات اور جنسی زیادتی کے جرائم کے اعدادوشمار ان غلط تصورات کے برعکس ہیں۔

1.عام طور پر خیال یہ کیا جاتا ہے کہ جنسی زیادتی صرف جنسی خواہشات کی تسکین کا ایک عمل ہے جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے بلکہ جنسی زیادتی تشدد کا ایک عمل ہے کہ جنسی اعمال جس میں ایک ٹول کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

2.تصور یہ ہے کہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے اکثر اجنبیوں کی ہوس کی بھینٹ چڑھتے ہیں جبکہ تحقیقات کے مطابق اکثر وہ لوگ جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں جو جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے کے جاننے والے ہوتے ہیں یہ آشنائی رشتہ داری کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے اور دوستی کی صورت میں بھی۔

3.خیال یہ کیا جاتا ہے کہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے اکثر نفسیاتی مریض ہوتے ہیں جبکہ علمِ جرم شناسی کی تحقیقات ہمیں بتاتی ہیں کہ پیشہ، صحت، تعلیم یا اجتماعی مقام جنسی زیادتی کے جرائم میں زیادہ اثرانداز نہیں ہوتے ہیں۔

4.عام تصور یہ ہے کہ صرف مخصوص عورتیں جیسے بن سنور کر رہنے والی یا بے پردہ عورتیں ہی جنسی زیادتی کا نشانہ بنتی ہیں جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے، علمِ جرم شناسی کی تحقیقات کے مطابق ہرعورت بننے سنورنے یا بے پردگی سے قطع نظر جنسی زیادتی کا شکار بن سکتی ہے۔

علمِ جرم شناسی کی روش کے مطابق ہم نے پہلے مرحلے یعنی جنسی زیادتی کے جرم کی نوعیت اور چند ایک اہم اقسام کو اپنے معزز قارئین کے لیے اجمالاً بیان کیا ہے۔ اگر ہم سانحہ قصور یا پاکستان میں ہونے والے اس جیسے کسی بھی دوسرے سانحہ کی تفصیلات اٹھا کر دیکھ لیں تو وہ انہی اقسام میں سے کسی ایک قسم کا واقعہ ہو گا۔

قصورکا چھوٹا سا شہر جنسی زیادتی کے جرم کی آماجگاہ تب بنا، جب ہم نے پہلی ٹوٹی کھڑکی کی مرمت کو نظر انداز کیا تھا اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیوز کے سکینڈل کو اداروں کی نااہلی سے تعبیر کر کے دفنا دیا تھا۔ راہ چلتوں نے بقیہ کھڑکیاں تب توڑیں جب پہلی زینب، پھر دوسری زینب، پھری تیسری زینب اور یوں یہ شہر راہ چلتوں کے لیے مستقل ٹھکانہ بنتا گیا۔ ہم تب متوجہ ہوئے جب گھر میں ٹوٹے کانچ کا فرش بچھا ہے اور اب کسی معصوم زینب کے آزادانہ اچھلنے کودنے کی کوئی جگہ نہیں۔ اے کاش پہلی ٹوٹی کھڑکی بروقت مرمت کی ہوتی!

(جاری ہے)

Comments

سید ابن حسن

سید ابن حسن

سید ابن حسن یونیورسٹی آف تہران، ایران میں قانون کے طالب علم ہیں۔ شرعی سزاؤں کی افادیت اور نفاذ کے امکانات کے موضوع پر پی ایچ ڈی مقالہ لکھ رہے ہوں۔ ایم فل کا مقالہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے رکن ممالک کے وظائف اور اختیارات کے موضوع پر لکھا۔ دین و دنیا میں تفریق کے تصور کو رد کرتے ہیں۔ قانون کی حکمرانی، مساوات اور آزادی پر یقین رکھتے ہیں مگر یہ کہ آزادی پر قدغن کی کوئی واضح دلیل موجود ہو تو۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.