علم کاحصول - ام محمد عبداللہ

دلاور ایک نہایت ذہین، خوبصورت اور اپنے نام کی طرح ایک باہمت بچہ تھا۔ مہر اس کی نہایت معصوم اور گلاب کی کلی جیسی نازک چھوٹی بہن تھی۔ اماں اس کا بے حد خیال رکھتی تھیں مگر انہیں خود بھی کبھی اس کا صحیح اندازہ نہ ہو پاتا تھا کہ اس کا یہ خیال وہ اپنی ممتا سے مجبور ہو کر رکھتی ہیں یا دلاور کے ابا کی حد سے بڑھی ہوئی ہدایات کی وجہ سے، جو کبھی آرام سے یا کبھی غصےمیں دلاور کے حق میں دی جاتی تھیں۔

دلاور میں ایک خصوصیت حساس ہونے کی بھی تھی، وہ ہر چیز کو غور سے دیکھتا اور ہر رویے کو محسوس کرتا اور پرکھتا تھا۔

ابا مزدوری کر کے جب بھی گھر لوٹتے اس کے لیے پھل، دودھ یا مٹھائی لاتے جن پر ابا اور دلاور کا حق ہوتا۔ مہر اور اماں کے لیے یہ چیزیں گویا شجر ممنوعہ ہوتیں۔ اس پر وہ خود کو ایک اعلیٰ مخلوق سمجھتا، زیادہ معتبر اور زیادہ معزز۔ وہ دیکھتا تھا جب کبھی اماں گوشت پکاتیں، وہ زیادہ ابا کی پلیٹ میں جاتا اور پھر دلاور اس کا حقدار ٹھہرتا۔ کبھی کوئی بوٹی اماں مہر کے منہ میں بھی ڈال دیتی تھیں۔ اپنے آپ کو معتبر خیال کرنے کے باوجود اسے احساس ہوتا تھا کہ اعلیٰ نہ صحیح مگر مہر بھی ایک مخلوق ہے، انسان ہے، اس کی بہن ہے اور ابا کی بیٹی بھی، محبت اور پیار کی وہ بھی حقدار ہے۔

ابا کا اپنا الگ مزاج تھا۔ صبح سویرے مزدوری کو جاتے اور شام کو گھر لوٹتے۔ کبھی روٹی سالن پر برہم ہو جاتے تو کبھی گھر کی چیزوں کے اِدھر اُدھر پڑے ہونے پر اماں کو کاٹ کھانے کو دوڑتے۔ اگر کچھ اسے پرسکون کرتا تو وہ دلاور کا چہرہ تھا، جسے دیکھ کر وہ خوشی سے کھل اٹھتا تھا اور اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے۔ وہ کہتے تھے دلاور پڑھے گا، لکھے گا، جوان ہوگا، خوب کمائے گا، میرا بازو بنے گا، مجھے بھی سکھ ہوگا، میں آرام اور چین سے بیٹھ کر کھاؤں گا۔

وہ اماں کو دیکھتا، سارا دن کسی مشین کی طرح وہ گھر کے کاموں کو نمٹاتیں حتیٰ کہ آنے جانے والے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ بھی ان کا رویہ غیر جذباتی ساہوتا تھا لیکن وہ اماں کے چہرے پر عجب رنگ دیکھتا جب وہ کمرے میں پڑے تخت پوش پر نماز پڑھنے کے بعد چپکے چپکے اپنے اللہ سے کچھ مانگا کرتیں۔ کبھی اسے یہ خیال بھی گزرتا کہ اماں کی آنکھیں بھیگی ہوئی ہیں۔ ایک دن اس نے اماں کی دعائیں سننے کی کوشش کی۔ اسے اور تو کچھ سمجھ نہ آیا مگر کچھ الفاظ کی تکرار بہت واضح تھی اور وہ تکرار تھی۔

یا اللہ! میرا دلاور… یا اللہ! میری مہر……!

دلاور بہت پابندی سے سکول جایا کرتا تھا۔ اس کی کتابیں اور یونیفارم دیکھ کر مہر کا ننھا سا دل سکول جانے کو مچل مچل جاتا مگر جہاں اچھی خوراک پر اس کا حق نہیں تھا وہاں اس کی تعلیم کیا معنی رکھتی تھی؟ لیکن ایک روز جیسے دلاور کے دل و نظر کو ایک نئی روشنی عطا ہو گئی۔ ماسٹر صاحب بچوں کو پڑھا رہے تھے۔ پیارے بچو! ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم نے فرمایا "علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ نبی رحمت العالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ حکم مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے ہے۔"

"ماسٹر صاحب عورتوں کے لیےبھی ہے؟" دلاور حیران ہوا۔

"کیوں نہیں دلاور بیٹے! علم کا حاصل کرنا مرد اور عورت دونوں پر یکساں فرض ہے۔ "

"مگر مہر کیوں علم حاصل کرے؟ وہ تو بیاہ کر پرائے گھر چلی جائے گی؟" وہ جھنجھلا کر بولا

"مہر؟" ماسٹر صاحب نے پوچھا۔

" میری چھوٹی بہن ماسٹرصاحب، ابا کہتے ہیں اس کے پڑھنے کی ضرورت نہیں۔" دلاور نے ماسٹرصاحب کو بتایا۔

"دلاور بیٹے! مہر اور دلاور دونوں پر علم کا حصول فرض ہے۔" ماسٹر صاحب نے شفقت سے دلاور کے سر پر ہاتھ رکھا۔ پھر اپنی عینک درست کرتے ہوئے جیسے خود کلامی کے انداز میں گویا ہوئے۔ "میں، میرے والدین، میری اولاد، میرا سب کچھ میرے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قربان،، جب آپ نے حکم فرما دیا تو آپ کے حکم کے خلاف نہ ہم بادشاہ کو مانیں گے، نہ آقا کو، نہ حکمران کو اور نہ والدین کو۔ اگر مجبوری کی تحت والدین نہیں پڑھاتے تو الگ بات ہے لیکن اگر لڑکی ہونے کے تحت حقیر سمجھتے ہیں تو غلط ہے اللہ اسے پسند نہیں کرتا۔"

یہ بھی پڑھیں:   شعبۂ تعلیم اور نظام تعلیم ۔۔۔توجہ اور خاطر خواہ اقدامات کے منتظر - محمد ریاض

ٹن ٹن ٹن، چھٹی کی گھنٹی بج گئی۔ سب بچے تیزی سے دوڑتے سکول گیٹ سے باہر جانے لگے۔ دلاور بھی خاموشی سے آہستہ آہستہ قدم اٹھانے لگا۔ اس کے ذہن میں ماسٹر صاحب کا جملہ گونج رہا تھا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق مہر اور دلاور دونوں پر علم کا حصول فرض ہے۔

مہر تجھے بھی علم حاصل کرنا ہو گا۔ وہ سوچتا ہوا جب گھر آیا تو تھکا ہوا تھا۔ مہر کا معصوم سا مہکتا ہوا چہرا اسے بہت پیارا معلوم ہوا۔ اس نے اپنی کتاب کھول کر مہر کے آگے رکھی۔

"مہر! پڑھو۔" وہ محبت سے بولا۔

"میں؟" مہر نے حیران ہو کر پوچھا۔

"ہاں مہر!" دلاور نے ماسٹر صاحب کی بتائی ہوئی ساری بات مہر سے کہہ دی۔ "میں ابا سے کہوں گا وہ تجھے سکول بھی بھیجے گا۔ مہر ہم دونوں پڑھیں گے۔ مہر یہ میں نہیں کہہ رہا، یہ تو پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے۔" دلاور پرجوش ہوا۔

"ابا! مہر کو سکول داخل کروا دو نا؟" اس نے شام کو ڈرتے ڈرتے ابا سے بھی کہہ دیا مگر جواب میں ابا کا غصہ کہ الامان الحفیظ۔ اسے پھر یہ بات کہنے کی جرات نہ ہوئی مگر جو لگن دل میں لگی تھی وہ اور پختہ ہو گئی۔ وہ سکول سے آتا اور سکول کا سب ٹائم ٹیبل گھر میں دہرایا جاتا۔ فرق یہ ہوتا کہ گھر میں دلاور ماسٹر صاحب اور مہر طالب علم بن جاتی۔ وہ سکول میں سیکھے جانے والا ایک ایک لفظ مہر کو بتاتا جیسے یہ تمام الفاظ اس کی امانت تھے جنہیں وہ احتیاط سے اسے لوٹا رہا تھا اور ڈرتا تھا کہ کہیں وہ خیانت کا مرتکب نہ ٹھہرایا جائے۔

"اماں مہر کو قرآن پاک پڑھاؤ نا!" ایک روز اس نے اماں سے فرمائش کی۔

"کیسے پڑھاؤں بیٹے؟ مجھے تو خود یہ کلام اللہ پڑھنا نہیں آتا" وہ دکھ سے بولیں۔ اب گویا دلاور کی ذمہ داری اور بھی بڑھ گئی۔ وہ قرآن پاک پڑھنے قریبی مسجد کو جایا کرتا تھا۔ اب تو وہ جو سبق مسجد سے یاد کر کے آتا وہ بھی مہر کو یاد کرواتا۔ ابا اسے جو جیب خرچ دیا کرتا تھا اب اس کی ریوڑیاں نہیں آتی تھیں بلکہ مہر کے لیے پنسلیں اور کاغذ خریدے جاتے۔ آج جب وہ مسجد سے درود پاک یاد کر کے آیا تو اماں کے تخت پوش پر بیٹھ کر مہر کو بتانے لگا۔

"پتہ ہے مہر؟ مولوی صاحب بتاتے ہیں کہ قرآن شریف کے بائیسویں پارہ کی سورۃ احزاب آیت 56 میں رب تعالیٰ نےخاص طور حکم فرمایا ہے کہ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا یعنی اللہ اور اس کے فرشتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں۔ تو اے مومنو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔"

"بھیا! درود کیسے بھیجتے ہیں؟" مہر نے استفسار کیا۔

"میں پڑھاتا ہوں تم بھی پڑھو۔" دلاور پڑھنے لگا۔ مہر دہرانے لگی۔

اللھم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی آل ابراھیم انک حمید مجید اللھم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم انک حمید مجید

اماں کے سلائی مشین پر چلتے ہوئے ہاتھ آہستہ ہوتے ہوتے رک سے گئے۔ وہ اپنے بچوں کو محویت سے دیکھنے لگیں۔ انہیں ایسے لگا جیسے مہر اور دلاور دو ننھے ننھے بے نور ذرّے ہیں اور جیسے جیسے یہ درود شریف پڑھتے ہیں، پڑھے جانے والے الفاظ سے نور کی شعاعیں نکل کر ان ذرّوں کو اپنے گھیرے میں لے رہی ہیں اور یہ چمکنے دمکنے لگے ہیں اور ان کی چمک دمک سے ان کا سیاہی میں ڈوبا ہوا گھر منور ہو کر جگ مگ جگ مگ کرنے لگا ہے۔

"یا اللہ! کیا میری دعا ئیں قبول ہو گئیں؟" ان کی خود کلامی میں تشکر ہی تشکر تھا۔ اپنے بچوں کے ہمراہ وہ بھی درود شریف پڑھنے لگیں۔

اللھم صل علی……!

دلاور اور مہر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے علم کے حصول میں سرگرداں تھے۔ بچپن کا معصوم دور گزرا تو لڑکپن کی حدود شروع ہو گئیں۔ دلاور نے اعلیٰ نمبروں سے میٹرک کی سند حاصل کی۔ ابا بہت خوش تھے، اسی خوشی میں انہوں نے مہر کا بوجھ اتارنے کا بھی فیصلہ کر ڈالا۔

یہ بھی پڑھیں:   آجکل کے پڑھے لکھے اور ماضی کے ان پڑھ - میر افسر امان

"میں نے مہر کی بات طے کر دی ہے۔ اگلے مہینے کے پہلے جمعے کو نکاح مقرر ہوا ہے۔ ساتھ ہی رخصتی بھی ہو جائے گی۔ تم اپنی تیاری کر لو۔" انہوں نے اماں کو فیصلہ سنایا۔

"ابا! مہر ابھی بہت چھوٹی ہے۔" دلاور تو جیسے تڑپ اٹھا تھا۔

ابا کا غصہ، سخت لہجہ اور اٹل فیصلہ۔ دلاور ابا کو نہیں بدل سکتا تھا۔ کچھ دیر تو وہ سکتے کے سے عالم میں رہا۔ پلٹ کر دیکھا تو مہر کا معصوم سا چہرہ ہراساں اور پریشان دکھائی دیا۔ میں تو اس کا حوصلہ اس کی ہمت ہوں۔ میں جو بے حوصلہ ہوا تو اس کو کون رستہ دکھائے گا؟ وہ اٹھا، مہرکا ہاتھ پکڑا اور اماں کے تخت پوش پر آن بیٹھا کہ گھر کا یہ حصہ ان کی جائے امان تھا۔ جہاں بیٹھ کر وہ پڑھا کرتے تھے۔

"مہر تجھے پتا ہے؟ ہمارے پیارے نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور سے پہلے کے دور کو "دورِ جاہلیت" کہا جاتا ہے۔ اس دور میں لوگ اپنی نومولود بچیوں کو زندہ گاڑ دیتے تھے۔" وہ گلو گیر ہو گیا۔ مہر کی آنکھوں میں بھی آنسو بھر آئے۔ "پھر جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے تو انہوں نے لوگوں کو اس ظلم سے روکا۔ مہر! ہم امتیوں پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بڑی رحمتیں ہیں۔ مہر اگر وہ بیٹیوں کو زندہ گاڑ دینے سے نہ روکتے تو میں تجھ جیسی پیاری بہن سے محروم ہوتا۔ تُو اس دنیا کو نہ دیکھ سکتی، علم حاصل نہ کر سکتی، اپنے رب کو نہ پہچان سکتی۔ مہر! میرے اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، رحمت العالمین نے ہم دونوں پر، ہر مسلمان پر، ہر مسلمان مرد، ہر مسلمان عورت پر علم حاصل کرنا فرض قرار دیا ہے۔ وعدہ کر کہ علم کی جستجو کا جو سفر ہم نے مل کر شروع کیا ہے تو اسے یہاں ختم نہیں ہونے دے گی۔ ہمارے دل و جان اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہیں۔ ہم ان کے فرمان کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانےکی سعی کریں گے۔ علم کے حصول کی کوشش ترک نہیں کریں گے۔ مہر تُو شادی کے بعد بھی اپنے سارے فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ جہاں جہاں سے اچھی بات سیکھ سکے گی سیکھے گی۔ جب اللہ تعالیٰ تجھ پر فضل کرے گا، تجھے بیٹی دے گا تو اس کے حصول علم کے لیے اپنے شوہر کو قائل کرے گی۔ تُو اس کے علم کے راستے ہموار کرے گی۔ مہر میں بھی تجھ سے وعدہ کرتا ہوں جب میں شادی کروں گا اور اللہ مجھے اپنی رحمت سے بیٹی دے گا تو میں اپنی بیٹی کےحصول علم کے لیے وہ سب کروں گا جو کر سکوں گا۔"

وہ بولتا جا رہا تھا مہر سن رہی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ اب جاننے لگی تھی۔ دورِ جاہلیت میں اس کا کوئی مقام نہ تھا مگر رحمت کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اشرف المخلوقات ٹھہرایا، اللہ کی رحمت گردانا، اسے زندہ گاڑے جانے سے روکا۔ اسے اچھا نام دینے کا حکم فرمایا۔ اس پر علم کا حصول فرض قرار دے کر اپنے خالق و مالک کے قرب کا حقدار ٹھہرایا۔ آنسو اس کی آنکھوں سے رواں تھے۔ اس کا ادنیٰ کمزور وجود تھا اور ان کی رحمتیں ہی رحمتیں تھیں۔ اس کے چہار جانب ہر طرف، ہر سمت۔

"میں وعدہ کرتی ہوں بھائی، میں علم حاصل کرنے کے فرض کو ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کروں گی۔" بات مکمل، مقصد واضح اور متعین ہو چکی تھی۔ دونوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور سرجھکا لیے۔ اپنے دلوں سے اٹھنے والی ایک ہی صدا پر لبیک کہتے ہوئے وہ درود پاک پڑھنے لگے تھے اور اس کائنات کا ہر ذرہ ان کے ساتھ آن شامل ہوا تھا۔

بلغ العلے بکمالہ کشف الدجے بجمالہ حسنت جمیع خصالہ صلو اعلیہ وآلہ

ٹیگز