صحافت کا معیار صرف کاروبار؟ - امجد طفیل بھٹی

گزشتہ چند سالوں میں پاکستان میں ذرائع ابلاغ نے جس تیزی سے ترقی کی ہے، شاید ہی کسی اور شعبے میں اتنی تیزی دیکھی گئی ہو۔ پرویز مشرف کے دور سے لے کر اب تک نئے اخبارات اور ٹی وی چینلوں کی تعداد میں اتنا ہوا ہے کہ ایک ایک میڈیا گروپ نے ایک سے زائد اخبارات اور ٹی وی چینل قائم کر لیے ہیں۔ اب میڈیا ایک انڈسٹری بن چکا ہے، جس سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے لیکن سچ یہ ہے کہ ہر چیز کا استعمال مثبت بھی ہوتا ہے اور منفی بھی۔ یہ تو استعمال کرنے والے پر ہے کہ وہ اس چیز کا صحیح استعمال کر رہا ہے یا کہ غلط؟

بالکل اسی طرح میڈیا بھی بذات خود اچھی چیز ہے جس سے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور بروقت معلومات ملتی ہیں۔ لیکن کچھ عوامل نے صرف اور صرف اس کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ چاہے وہ بحیثیت مجموعی کا ابلاغی ادارہ ہو یا پھر کوئی صحافی ، جس نے کمائی کو ہی اولین مقصد سمجھنا ہے، اس نے پھر ملک کا یا قوم کا فائدہ نہیں دیکھنا۔ اس کا مقصد صرف اور صرف مال بنانا ہے۔

پاکستان جیسے ''جمہوریت پسند'' ملک میں صحافت کرنا ایک مشکل کام ہے اور وجہ ہم لوگوں کے آمرانہ اور غیر جمہوری رویے ہیں، یہاں تنقید برائے تنقید تو کی جا سکتی ہے مگر تنقید برداشت نہیں کی جا سکتی۔ یہاں سب کو دوسروں کے منہ سے اپنی تعریف سننا تو بہت اچھا لگتا ہے مگر تنقید کرنے والا کسی کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک خاتون لکھاری کی پوسٹ پڑھی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ تمام بڑے اخبارات نے ان کے کالم لگانا بند کر دیے ہیں اور تمام چھوٹے اخبارات جو پہلے خود ان سے کالم مانگ کر لگاتے تھے، اب ان سے کترانے لگے ہیں۔ وجہ صرف اور صرف ایک ہی ہے یعنی تنقید۔

ہمارے ہاں لوگوں کی سوچ ایسی ہے کہ اگر کسی ایک سیاسی جماعت کے خلاف لکھا جائے تو اس کے کارکن یہ سمجھتے ہیں کہ اس کو اس کی مخالف پارٹی نے خرید لیا ہے۔ اگر حکومت کے حق میں لکھا جائے تو اپوزیشن پارٹیوں کے کارکن یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تو حکومت کے ہاتھوں بک گیا ہے۔ اگر فوج کے حق میں لکھا جائے تو تمام کے تمام سیاسی اور جمہوری لوگ اس پر آمریت پسندی کا الزام لگا دیتے ہیں۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر کوئی صحافی یا سیاست دان پاک فوج کے حق میں بولتا ہے تو اس میں برا کیا ہے؟ کیا اپنے ملک کی فوج کے حق میں بولنا غیر جمہوری رویہ ہے؟ کیا فوج کے حق میں بیان دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ بیان دینے والا ملک میں مارشل لاء کا حامی ہے؟ یہ سب باتیں ہیں جو کہ پاکستان میں صحافت کو آئے روز مشکل سے مشکل بناتی جا رہی ہیں۔

سب لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان میں حکومت وقت کے حق میں بولنے والا کتنی ترقی کر سکتا ہے؟ ہمارے سامنے بیسیوں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ صحافی ترقی کی منازل طے کرتے کرتے اقتدار کے ایوانوں تک اوراعلیٰ سرکاری عہدوں سے لے کر حکومتی مشیر تک جا پہنچے۔ خیر، یہ تو بات ہوئی تعریف کرنے والوں کی، جہاں تک تنقید کرنے والے صحافیوں اور لکھنے والوں کا سوال ہے تو اکثر اوقات وہ لوگ جو صرف اور صرف صحافت کو بطور پیشہ اپنائے ہوئے ہیں، بےروزگاری اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

بے روزگاری کا یہ خوف صرف اور صرف صحافیوں تک محدود نہیں ہے، یہ خوف بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز کو کہیں زیادہ ہے جو کہ حکومت وقت سے کروڑوں روپے کمرشلز کے بدلے وصول کر رہے ہوتے ہیں اور ظاہر ہے حکومت کے خلاف اگر خبریں چھاپنے کی بنیاد پر ان کی کمائی کم ہو جائے تو وہ کیسے یہ نقصان برداشت کر سکتے ہیں؟ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چھری ان صحافیوں اور لکھاریوں پر پھر جاتی ہے جو کہ حکومت وقت کی خامیوں اور کوتاہیوں کو عیاں کر رہے ہوتے ہیں۔ یہاں اپنے ملک میں ''بڑے لوگوں'' کے خلاف لکھنے والوں کو ہر وقت عدم تحفظ کا سامنا ہے، سینکڑوں صحافی اپنی جان قربان کر چکے ہیں۔ اس میں سارے کا سارا قصور حکومت کا یا پھر سیاستدانوں اور میڈیا ہاؤسز کا نہیں بلکہ بہت سے ایسے صحافی اور لکھنے والے بھی موجود ہیں جو کہ صرف اور صرف اپنے ذاتی مفاد کے لیے کام کرتے ہیں۔ انہیں بس پیسہ کمانا ہے چاہے کسی کو بلیک میل کر کے کمائیں یا پھر کسی کی تعریف کر کے کمائیں۔ اب چونکہ بلیک میلنگ میں تو طرح طرح کے خطرات بھی موجود ہوتے ہیں اس لیے ہمارے بہت سارے ''ذہین'' صحافیوں اور لکھاریوں نے بھی سیاست سیکھ لی ہے اور وہ صرف اور صرف بڑے بڑے کاروباری اشخاص اور نامی گرامی سیاستدانوں اور سرکاری عہدیداروں کے ساتھ بیٹھنا پسند کرتے ہیں، کہ ایک تیر سے دو شکار یعنی نہ تو جان کی فکر اور نہ ہی فکر معاش۔ ایک کہاوت مشہور ہے کہ ''ضرورت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنایا جا سکتا ہے'' تو یقیناً بہت سارے بڑے لوگ یہی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں کیونکہ نہ تو ضرورتیں پوری ہونی ہے اور نہ ہی گدھوں نے ختم ہونا ہے۔ یہاں پیسوں سے کچھ بھی حاصل کیا سکتا ہے، اپنی تعریف سے لے کر دوسروں کے سکینڈلز نکالنے تک ہر قسم کا کام باآسانی اور کم قیمت پر کرایا جا سکتا ہے۔

اس اندھے پن کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب صحافت کو ایک معزز پیشہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ صحافی کا نام سننے کے ساتھ ہی عام آدمی کے ذہن میں پہلا خیال یہی آتاہے کہ اس کے پاس ''بڑا مال'' ہو گا۔ یعنی کہ اب صحافت کو صرف اور صرف کمائی کا ذریعہ سمجھا جانے لگا ہے۔ ہر نوجوان خواہ لڑکی ہو یا لڑکا، میڈیا کی رعنائیوں سے اس قدر متاثر ہے کہ اسے نہ تو اپنے پیسے کی فکر ہے اور نہ ہی اپنی عزت کی، اسے فکر ہے تو صرف اور صرف ٹی وی اسکرین کی زینت بننے کی چاہے اسے جو بھی قربانی دینی پڑے۔

ایسا نہ ہو کہ میڈیا اور صحافت کے کچھ عناصر کی اوپر بیان کردہ خامیوں اور غلطیوں کا خمیازہ پوری کی پوری میڈیا انڈسٹری کو بھگتنا پڑ جائے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو گا کہ لاکھوں لوگ جو اس انڈسٹری سے منسلک ہیں، کہیں بےروزگاری کا شکار نہ ہو جائیں، جب تک ہمارا میڈیا اور صحافی برادری بشمول کالم نگاروں کے اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کریں گے مسائل بڑھتے چلے جائیں گے اور اگر اسی سمت چلا جائے گا یعنی صحافت کو محض کمائی کا ذریعہ بنایا جائے گا، اور ملک و قوم کے مفادات کو پس پشت ڈال دیا جائے گا تو یہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہو گا۔

Comments

Avatar

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.