کیا تنقید سائنسی ترقی میں رکاوٹ ہے؟ - محمد طاہر مرسلین

ہمارے ملک میں چند دانشوروں نے اسلام اور سائنس کو خوامخوا دو متضاد اکائیاں ثابت کرنے کی جدوجہد شروع کر رکھی ہے، جس کا مقصد پڑھے لکھے لوگوں کو دین سے بیزار کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ چونکہ سائنس کی تھیوریز اور قانون کو سمجھا ہی مشاہدے کی قوت سے گیا ہے تو اس کو دنیا کے قوانین کے مطابق سمجھناآسان ہے جبکہ دین نہ صرف دنیاوی زندگی کے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ اس کی بنیاد ایسی باتوں پر بھی ہوتی ہے، جن پر صرف ایمان لایا جا سکتا ہے اور منطق سے کسی حد تک سمجھا جا سکتا ہے لیکن مشاہدہ کرنا ممکن نہیں۔ اسی وجہ سے نوجوان طبقہ جو سائنس سے رغبت رکھتا ہے، اس کے دماغ میں ان عقائد کے متعلق شکوک پیدا کرنا آسان ہوجاتا ہے اور یہ افراد پھر یہ سوچنے لگتے ہیں کہ دین ہی سائنس کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دوسری طرف مذہب سے رغبت رکھنے والوں میں ایسے لوگوں سے نفرت پیدا ہوتی ہے، جس کا نتیجہ نفرتیں بڑھنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔

اس بحث میں پڑے بغیر کہ کیا واقعی ہی دین اسلام سائنس سے متصادم ہے؟ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا تنقید سے کبھی کسی ایسی نظریے، سوچ، خیال اور حقیقت کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے جو ایسی قوت والی ہو جیسے کہ سائنس ہے، تو جواب نفی میں ملے گا۔ اسلام کا آغاز دیکھ لیں چند نادار اور غلاموں سے شروع ہونے والے دین نے کس قوت سے خود کو منوایا۔ ساری دنیا میں آج بھی اسلام کے خلاف ایک مکمل تحریک چل رہی ہے لیکن اسلام پھر بھی دنیا میں تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے۔ اسی طرح سائنس کو عیسائیت سے شدید مخالفت کا سامنا رہا۔ سائنسدانوں کو تشدد کا سامنا کرنا پڑا لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائیت سے لوگ دستبردار ہوگئے اور یورپ نے سائنس ہی کو دین کا درجہ دے دیا۔ اسی طرح کمیونزم، سوشلزم اور اسی طرح کے نظریات تمام تر مخالفت کے باوجود اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:   فواد چوہدری، خالی نقشے اور نیپال میں خودکشی - محمد عرفان ندیم

اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو اسلام اور سائنس کبھی اس طرح سے دست و گریبان نہیں رہے جیسے عیسائیت اور سائنس، لیکن ملحدین اور لبرل دانشور اسلام کو ویسے ہی سائنس مخالف ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے عیسائیت تھی۔ آج بھی اسلام کی تعلیات جاننے اور سمجھنے والے کثیر تعداد میں موجود ہیں لیکن سائنس مخالف کسی تحریک کا وجود آپ اہل اسلام میں نہیں پائیں گے۔ چند سائنسی تھیوریز کے خلاف اسلام پسند علمی بنیادوں پر اختلاف کرتے ہیں تو اس میں اتنا خوف و ہراس پھیلانے کی کیا ضرورت ہے؟ سائنس کی بہت ساری تھیوریز کے خلاف خود سائنسدان لکھتے ہیں۔ سائنس میں کوئی بھی بات حتمی نہیں ہوتی اور سب سے مستند سائنسی تھیوری کو غلط ثابت کرنے کو ایک کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ تو جب یہ تنقید اسلام پسند کرتے ہیں تو اس کو اتنا بڑا مسئلہ بنانے کی کیا ضرورت ہے؟

اگر یہ احتجاج اس لیے ہے کہ سائنس پر مذہب کو کیوں ترجیح دی جاتی ہے تو یہ بھی بے جا ہے۔ سائنس اور مذہب کا موازنہ کرنا ہی لغو بات ہے۔ مذہب میں عقائد اور معلومات حتمی ہوتی ہیں ان کو من و عن تسلیم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جبکہ سائنس ایک علم ہے جو ہر وقت تغیر اور ارتقا میں رہتا ہے۔ آج جو بات حقیقت کا درجہ رکھتی ہے سائنس شاید نئے تجربات کی روشنی میں اس کو غلط ثابت کردے اور ایک نئی تھیوری کو اپنا لیا جائے جبکہ مذہب میں ایسا نہیں ہوتا۔ سائنس مادّی دنیا کا علم ہے جبکہ مذہب کا تعلق مادی دنیا سے کم اور اخروی زندگی سے زیادہ ہے۔

اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ ہی اسلام اور سائنس کا موازنہ کیا جائےاور نہ ہی سائنس کے قوانین اور تھیوریز کو ایمان کا درجہ دیا جائے کیونکہ سائنس میں کچھ بھی حتمی نہیں اور سائنس کی کسی تھیوری پر تنقید کو اتنا بڑا مسئلہ نہ بنایا جائے اور اس کو سائنس کی ترقی میں رکاوٹ ثابت نہ کیا جائے کیونکہ اس سے اسلام پسندوں اور سائنس کو دین کا درجہ دینے والوں میں صرف نفرت پیدا ہوگی اور کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   فواد چوہدری، خالی نقشے اور نیپال میں خودکشی - محمد عرفان ندیم

دنیا کے سب سے عظیم سائنسدان البرٹ آئن سٹائن نے کوانٹم فزکس (Quantum Physics) کی تھیوری کو یہ کہ کر مسترد کردیا تھا کہ "خدا پانسے نہیں کھیلتا"۔ اتنے بڑے سائنسدان کی جانب سے مذہبی بنیاد پر ایک تھیوری کا انکار تھیوری کو ختم نہیں کر سکا۔کسی نے تحریک نہیں چلائی کہ آئن سٹائن ایک ملا ہیں جو سائنس کی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ بلکہ آئن سٹائن کو صحٰیح سمجھنے والے کولمبیا یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی سکالر جوہن کلوزر(John Clauser) نے تجربات کیے جن کا مقصد کوانٹم تھیوری کو غلط ثابت کرنا تھا وہ اپنے تجربات کی روشنی میں اس نتیجے پر پہنچے کے آئن سٹائن غلط تھے اور کوانٹم تھیوری صحیح ہے۔کوانٹم تھیوری کو غط سمجھتے ہوئے تجربات کرنے سے بھی وہ سائنس کی ترقی میں اہم کردار ادا کر گئے۔ اسی طرح مسلمان سائنسدان اس غلط نظریہ پر ایک طویل عرصے تک کام کرتے رہے کہ کم قیمت دھاتوں کو سونے میں بدلہ جا سکتا ہے، وہ سونا تو نہ بنا سکے لیکن ان تجربات کی روشنی میں اور بہت سی ایجادات کرگئے۔

ان واقعات سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ سائنس کی کسی تھیوری کو غلط کہنا سائنس کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بلکہ سائنس کو ترک کر دینا سائنس کی ترقی کی موت کا باعث ہوتا ہے۔ آپ سائنس سے محبت رکھتے ہیں اس کے لیے محنت کریں اور اس میں کمال حاصل کریں، تنقید کا علمی جواب دیں، کسی تھیوری سے اختلاف رکھنے والوں تجربات سے اس کو غلط ثابت کرنے کی طرف راغب کریں لیکن سائنس کی آڑ میں معاشرے میں دراڑ پیدا نہ کریں اس کو اسلام کے خلاف استعمال نہ کریں۔